شوال المکرم کی خصوصیات قسط دوم

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
11:25 AM
Threads
199
Messages
581
Reaction score
941
Points
460
Gold Coins
407.98
ایک اعتراض اور اس کے جوابات
ایک اعتراض کیا جاتاہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے شوال کے چھ روزوں کو مکروہ کہا ہیں
شوال کے چھ روزوں کو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے مکروہ سمجھنے کے جوابات
فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شوال کے چھ روزوں کو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مکروہ کہاہے
وَیُکرَہُ صَومُ سِتَّۃٍ مِن شَوَّالٍ عِندَ أَبِی حَنِیفَۃَ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی مُتَفَرِّقًا کَانَ أَو مُتَتَابِعًا
الفتاوی الہندیۃ کِتَابُ الصَّومِ وَفِیہِ سَبعَۃُ أَبوَابٍ البَابُ الأَوَّلُ فِی تَعرِیفِہِ وَتَقسِیمِہِ وَسَبَبِہِ وَوَقتِہِ وَشَرطِہِ
علماء کرام نے اس کے کئی جوابات لکھے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں
پہلا جواب یہ ہے کہ
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ شوال کے چھ روزوں کو مکروہ سمجھنا امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔
لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اس قول کی سند امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ کیوں کہ امام حنیفہ رحمۃ اللہ نے ان روزوں کو فی الحقیقت مکروہ کہا ہے اور یہ فقہ کی کتابوں میں مذکورہے
وَیُکرَہُ صَومُ سِتَّۃٍ مِن شَوَّالٍ عِندَ أَبِی حَنِیفَۃَ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی مُتَفَرِّقًا کَانَ أَو مُتَتَابِعًا
الفتاوی الہندیۃ کِتَابُ الصَّومِ وَفِیہِ سَبعَۃُ أَبوَابٍ البَابُ الأَوَّلُ فِی تَعرِیفِہِ وَتَقسِیمِہِ وَسَبَبِہِ وَوَقتِہِ وَشَرطِہِ
دوسرا جواب یہ ہے کہ

چونکہ شوال کے روزوں کو ما ہ رمضا ن کے روزوں کے ساتھ ملا کر رکھنے کو زما نہ بھر کے روزوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور زمانہ بھر کے روزوں کے بارے میں حدیث میں منقول ہے،عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ﷺ فلاں شخص کبھی دن کو افطار نہیں کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا، نہ افطار کیا
عَن عِمرَانَ قَالَ: قِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ فُلَانًا لَا یُفطِرُ نَہَارًا الدَّہرَ قَالَ: لَا صَامَ وَلَا أَفطَرَ
سنن النسایئی کتاب الصِّیَامِ النَّہیُ عَن صِیَامِ الدَّہرِ وَذِکرُ الِاختِلَافِ عَلَی مُطَرِّفِ بنِ عَبدِ اللَّہِ فِی الخَبَرِ فِیہِ
تو جب ماقبل کے حدیث میں زمانہ بھر کے روزے رکھنے سے منع کیا گیا تو چونکہ شوال کے روزوں کو بھی زمانہ بھر کے روزوں کی مانند کہا گیا توممکن ہے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس وجہ سے مکروہ کہا ہو
لیکن یہ جواب بھی درست نہیں کیوں کہ ما ہ شوال کے روزوں کو حقیقت کے اعتبا ر سے نہیں بلکہ اجر و ثو اب کے لحا ظ سے زمانہ بھر کے روزوں کی مانند کہا گیا ہے اور یہ اس طرح ہے کہ جیسا کہ ہر ماہ کے تین روزے رکھنے کے متعلق حدیث میں ہے
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے مہینے کے تین دن روزہ رکھے تو گویا اس نے زمانہ بھر کے روزے رکھے
عَن أَبِی ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ: مَن صَامَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ مِنَ الشَّہرِ فَقَد صَامَ الدَّہرَ کُلَّہُ ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ مَن جَاءَ بِالحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشرُ أَمثَالِہَا
سنن النسایئی کتاب الصِّیَام ذِکرُ الِاختِلَافِ عَلَی أَبِی عُثمَانَ فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیرَۃَ فِی صِیَامِ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ مِن کُلِّ شَہرٍ
اور ان تین روزوں کے متعلق نسائی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) دو رکعتیں پڑھنے کا، اور بغیر وتر پڑھے نہ سونے کا، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
عَن أَبِی ہُرَیرَۃَ قَالَ: أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ بِرَکعَتَیِ الضُّحَی وَأَن لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَی وِترٍ وَصِیَامِ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ مِن کُلِّ شَہرٍ
سنن النسایئی کتاب الصِّیَام صَومُ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ مِنَ الشَّہرِ
تیسرا جواب یہ ہے کہ
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے جو ان روزوں کو مکروہ کہا ہے تو انھیں محسوس ہوا تھا کہ ان پر مد اومت کر نے سے عوام النا س میں یہ اعتقاد ابھر نے کا اند یشہ ہے کہ شا ید یہ بھی ضروری ہیں۔چنانچہ کتابوں میں ہے کہ ہے بعض حضرات نے عید الفطر کے فورا بعد ان چھ روزوں کو رکھ کر ساتویں شوال کی شام کو ایک تقریب کی صورت بنانی شروع کر دی تھی ممکن ہے اسی اہتما م اور اندیشے کی وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان روزوں مکرو ہ لکھا ہو
حالانکہ یہ بھی درست نہیں کیوں کہ اس طرح تو عاشورا وغیرہ کے روزے بھی اس قاعدے کے ضدمیں آئیں گے
چوتھاجواب یہ ہے کہ
امام ابوحنیفۃ رحمۃ اللہ نے اس اندیشے کے پیش نظر مکروہ کہا ہے کہ کہیں ان روزوں کو رمضان کا حصہ نہ سمجھا جائے کیوں کہ عوام الناس میں ان روزوں کو رکھنے کا ایک خاص اہتمام کیا جاتا تھا
پانچواں جواب یہ ہے کہ
عین ممکن ہے کہ امام حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تک مذکو رہ احا دیث نہ پہنچی ہو ں یا پہنچی تو ہوں مگر وہ انہیں صحیح نہ سمجھتے ہو یا صحیح تو سمجھتے ہو مگر ان کے نزدیک استدلال کے درجہ میں ثابت نہ ہوسکی ہوں۔جس کی وجہ سے پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ان روزوں کو مکروہ کہا ہو اور یہی جواب سب سے زیادہ درست ہے کیوں کہ جب آپ کے شاگردوں کو اس بابت صحیح اور درجہ استدلال میں ثابت ہوانی والی حدیثیں پہنچی تو انہوں نے اس کومستحب لکھا ہے اور اب اسی پر تمام احناف کا فتوی ہے کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہے​
 

Mr. A

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Champion
Expert
Popular
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے
دین خیرخواہی کا نام ہے
نماز مومن کا نور ہے
بیشک دین آسان ہے
نیکی اچھّے اخلاق کا نام ہے
Master Blaster
Gentleman
Joined
Apr 25, 2018
Local time
3:25 PM
Threads
649
Messages
1,327
Reaction score
1,868
Points
910
Gold Coins
2,588.72
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks