کامیاب کاروباری کیسے بناجائے

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
9:03 AM
Threads
205
Messages
592
Reaction score
953
Points
460
Gold Coins
418.61
:ایک غریب نوجوان نے ایک پروفیسر صاحب سے پوچھا
پروفیسر صاحب:کیا میں ایک باعزت اور بڑا کاروباری آدمی بن سکتاہوں؟
پروفیسر صاحب نے جواب دیا: دنیا کا ہر انسان ایک باعزت اور بڑا کاروباری آدمی بن سکتا ہے:
نوجوان نے پوچھا: کیسے؟
پروفیسر نے جواب دیا:جب انسان کامیاب کاروباری بننے کے تین زینوں پر چلے
نوجوان نے پوچھا: وہ کونسے تین زینے ہیں؟
پروفیسر صاحب نے قلم نکالا اور ایک کاغذ پر دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں، پہلی لکیر پر محنت، محنت اور محنت لکھا، دوسری لکیر پر ایمانداری، ایمانداری اور ایمانداری لکھا اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر لکھا
نوجوان پروفیسر صاحب کو چپ چاپ دیکھتا رہا،پروفیسر صاحب لکھنے کے بعد نوجوان کی طرف مڑا اور کہنے لگا
یاد رکھو آپ سمیت کوئی بھی انسان جب ان تین زینوں پر چلنا شروع کریں تو وہ کامیاب کاروباری بن سکتا ہے
ان میں پہلا زینہ محنت کا ہے
آپ جو بھی ہیں، اگر آپ صبح، دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب کاروباری بن سکتے ہیں
یعنی اگر آپ کی دکان، فیکٹری، دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلے اور رات کو سب سے آ خر میں بند ہو، تو آپ کوکاروبار میں تیس فیصد کامیابی سے کوئی شئے نہیں روک سکتی ہے۔
پروفیسر صاحب نے مزید کہا ہمارے ارد گرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں، یہ محنت نہیں کرتے، جب آپ محنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں گے تو آپ نوے فیصد سست اور کاہل لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آجائیں گے یعنی آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگیں گے
دوسرا زینہ ایمانداری کا ہے
اور ایمانداری چار عادتوں کا مرکب ہے
وعدے کی پابندی
جھوٹ سے نفرت
زبان سے نکلی بات پر قائم رہنا
اپنی غلطی کا اعتراف کرنا

آپ اگر محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو، وعدہ کرو تو پورا کر و، جھوٹ نہ بولو‘ زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو اس پر قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی، کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو، اگر آپ ان عادتوں کو اپنانے میں کامیاب ہوگئے، تو سمجھیں کہ آپ ایمان دار ہوگئے
اور جب آپ ایماندار ہوگئے تو یہ یاد رکھیں کسی بھی کاروبار کی کامیابی میں ایمانداری کی شرح پچاس فیصد فیصد ہوتی ہے، تیس فیصد کامیابی کی شرح آپ نے محنت کرکے حاصل کی اور پچاس فیصد ایمان داری کے ذریعے حاصل ہوگی ترقی کے ان دو زینوں پر چڑنے کے بعد آپ اسی فیصد کامیاب کاروباری بن جائیں گے۔اب صرف رہ گئی بیس فیصد کامیابی تو وہ آپ کو اآپ کا ہنر دے گا اور ہنر کوئی بھی ہو لیکن محنت اور ایمان داری اس کے ساتھ لازمی ہونی چاہئے جس کے بعد آپ سو فیصد ایک کامیاب کاروباری بن جائیں گے
:نوجوان نے پوچھا
پروفیسر صاحب ایک کامیاب کاروباری بننے کے لیے ہنر کی صرف بیس فیصد شرح سے تو ہنر کی حیثیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی کیا واقع کاروبار میں ہنر کی اتنی سی حیثیت ہے:؟
پروفیسر صاحب نے کہا:اگر آپ کے پاس ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے اسیفیصد کامیاب ہو سکتے ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا آپ بے ایمان اور سست ہو اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائے، آپ کو ایک کامیاب کاروباری بننے کے لیے محنت ہی سے شروع کرنا ہوگا او ر ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا جس سے آپ کو کسی بھی کاروبار میں اسی فیصد کامیابی مل سکتی ہے یعنی ایک عام سے کاروبار میں بھی اسی فیصد کامیابی کے لیے جن دو چیزوں کی بہت ضرورت ہے، ان کا حصول کسی کے لیے بھی مشکل نہیں ہے ہر انسان ان کو اپنا سکتا ہے اور ناہی کسی کاروبار میں اسی فیصد تک کامیابی کے لیے ہنر کی ضرورت ہے کیوں کہ ہنر کی باری اسی فصد کامیابی کے بعد آخر میں آتی ہے او ر اگر آپ کے پاس ہنر ہے تو وہ پھر آپ کو سو فیصد کامیاب کاروباری بنائے گا
میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا ہے پتا ہے کیوں؟
کیوں کہ وہ بے ایمان، سست اور کاہل تھے اور میں نے دنیا کے بے شمار بے ہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا ہے پتا ہے کیوں؟
کیوں کہ انہوں نے محنت اور ایمان داری کو اپنا شعار بنالیا تھا اس لیے آپ ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دیں تو آپ آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگو گے​
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks