سورۃ البقرۃ پارہ 2 رکوع 30 آیات 236 تا 242

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
3:03 PM
Threads
252
Messages
625
Reaction score
1,130
Points
541
Location
karachi
Gold Coins
879.29
Permanently Change Username Color & Style.


سورہ البقرۃ آیت نمبر 236

لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اِنۡ طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوۡہُنَّ اَوۡ تَفۡرِضُوۡا لَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ۚۖ وَّ مَتِّعُوۡہُنَّ ۚ عَلَی الۡمُوۡسِعِ قَدَرُہٗ وَ عَلَی الۡمُقۡتِرِ قَدَرُہٗ ۚ مَتَاعًۢا بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ حَقًّا عَلَی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۲۳۶﴾۔
ترجمہ
تم پر اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم عورتوں کو ایسے وقت طلاق دو جبکہ ابھی تم نے ان کو چھوا بھی نہ ہو، اور نہ ان کے لیے کوئی مہر مقرر کیا ہو، اور (ایسی صورت میں) ان کو کوئی تحفہ دو (١٥٨) ، خوشحال شخص اپنی حیثیت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی حیثیت کے مطابق بھلے طریقے سے یہ تحفہ دے۔ یہ نیک آدمیوں پر ایک لازمی حق ہے۔
تفسیر
158: یہ وہ صورت ہے جس میں دونوں مرد و عورت نے نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہیں کیا تھا اور پھر دونوں کے درمیان خلوت کی نوبت آنے سے پہلے ہی طلاق ہوگئی، اس صورت میں شوہر پر مہر واجب نہیں ہوتا، لیکن کم از کم ایک جوڑا کپڑا دینا واجب ہے، اور کچھ مزید تحفہ دیدے تو زیادہ بہتر ہے (اس تحفہ کو اصطلاح میں متعہ کہا جاتا ہے) اور اگر نکاح کے وقت مہر کی مقدار طے کرلی گئی تھی، پھر خلوت سے پہلے ہی طلاق ہوگئی تو اس صورت میں آدھا مہر واجب ہوگا۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 237

وَ اِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡہُنَّ وَ قَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَہُنَّ فَرِیۡضَۃً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ یَّعۡفُوۡنَ اَوۡ یَعۡفُوَا الَّذِیۡ بِیَدِہٖ عُقۡدَۃُ النِّکَاحِ ؕ وَ اَنۡ تَعۡفُوۡۤا اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ؕ وَ لَا تَنۡسَوُا الۡفَضۡلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۳۷﴾۔
ترجمہ
اور اگر تم نے انہیں چھونے سے پہلے ہی اس حالت میں طلاق دی ہو جبکہ ان کے لیے ( نکاح کے وقت) کوئی مہر مقرر کرلیا تھا تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا تھا اس کا آدھا دینا (واجب ہے) الا یہ کہ وہ عورتیں رعایت کردیں ( اور آدھے مہر کا بھی مطالبہ نہ کریں) یا وہ (شوہر) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، رعایت کرے ا ( اور پورا مہر دیدے) اور اگر تم رعایت کرو تو یہ تقوی کے زیادہ قریب ہے، اور آپس میں فراخ دلی کا برتاؤ کرنا مت بھولو۔ جو عمل بھی تم کرتے ہو، اللہ یقینا اسے دیکھ رہا ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 238

حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الۡوُسۡطٰی ٭ وَ قُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ ﴿۲۳۸﴾۔
ترجمہ
تمام نمازوں کا پورا خیال رکھو، اور (خاص طور پر) بیچ کی نماز کا (١٥٩) اور اللہ کے سامنے باادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو۔
تفسیر
159: آیت نمبر : ١٥٣ سے اسلامی عقائد اور احکام کا جو بیان شروع ہوا تھا وہ اب ختم ہورہا ہے، آیت نمبر : ١٥٣ میں یہ بیان نماز کی تاکید سے شروع ہوا تھا اب آخر میں دوبارہ نماز کی یہ اہمیت بیان کی جارہی ہے کہ جنگ کے شدید حالات میں بھی امکان کی آخری حد تک اس کا خیال رکھنا ضروری ہے، بیچ کی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے، اس کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ عام طور سے اس وقت لوگ اپنا کاروبار سمیٹنے میں مشغول ہوتے ہیں اور اس مشغولیت میں بےپروائی ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 239

فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُکۡبَانًا ۚ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۹﴾۔
ترجمہ
اور اگر تمہیں ( دشمن کا) خوف لاحق ہو تو کھڑے کھڑے یا سوار ہونے کی حالت ہی میں ( نماز پڑھ لو) (١٦٠) پھر جب تم امن کی حالت میں آجاؤ تو اللہ کا ذکر اس طریقے سے کرو جو اس نے تمہیں سکھایا ہے جس سے تم پہلے ناواقف تھے۔
تفسیر
160: جنگ کی حالت میں جب باقاعدہ نماز پڑھنے کا موقع نہ ہو اس بات کی اجازت ہے کہ انسان کھڑے کھڑے اشارے سے نماز پڑھ لے البتہ چلتے ہوئے پڑھنا جائز نہیں اگر کھڑا ہونے کا بھی موقع نہ ہو تو نماز قضا کرنا بھی جائز ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 240

وَ الَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَ یَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا ۚۖ وَّصِیَّۃً لِّاَزۡوَاجِہِمۡ مَّتَاعًا اِلَی الۡحَوۡلِ غَیۡرَ اِخۡرَاجٍ ۚ فَاِنۡ خَرَجۡنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡ مَا فَعَلۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ مِنۡ مَّعۡرُوۡفٍ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۴۰﴾۔
ترجمہ
اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جایا کریں کہ ایک سال تک وہ ( ترکے سے نفقہ وصول کرنے کا) فائدہ اٹھائیں گی اور ان کو (شوہر کے گھر سے) نکالا نہیں جائے گا (١٦١) ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو اپنے حق میں قاعدے کے مطابق وہ جو کچھ بھی کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اور اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔
تفسیر
161: آخر میں طلاق کے جو مسائل چل رہے تھے ان کا ایک تکملہ ضمنی طور پر بیان ہوا ہے جو مطلقہ عورتوں کے حقوق سے متعلق ہے، زمانہ جاہلیت میں بیوہ عورت کی عدت ایک سال ہوتی تھی ؛ لیکن اسلام نے پیچھے آیت نمبر : ٢٣٤ میں عدت کی مدت گھٹا کر چار مہینے دس دن مقرر کردی، جس وقت زیر نظر آیت نازل ہوئی ہے اس وقت تک میراث کے احکام نہیں آئے تھے اور جیسا کے اوپر آیت نمبر : ١٨٠ میں گزرا لوگوں پر یہ واجب تھا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے حق میں وصیت کیا کریں کہ ان کے ترکے سے کس کو کتنا دیا جائے، لہذا اس آیت میں اسی اصول کے تحت یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگرچہ بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہے، لیکن اس کے شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے حق میں یہ وصیت کرجائے کہ اسے سال بھر تک اس کے ترکے سے نفقہ بھی دیا جائے اور اس کے گھر میں رہائش بھی فراہم کی جائے، البتہ وہ خود اپنا یہ حق چھوڑدے اور چار مہینے دس دن کے بعد شوہر کے گھر سے چلی جائے تو کچھ حرج نہیں، ہاں چار مہینے دس دن سے پہلے اس کے لئے بھی شوہر کے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، اگلے جملے میں جو کہا گیا ہے کہ ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو اپنے حق میں قاعدے کے مطابق وہ جو کچھ بھی کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، اس میں قاعدے سے مراد یہی ہے کہ وہ عدت پوری کرنے کے بعد نکلیں، پہلے نہیں، لیکن یہ سارا حکم میراث کے احکام آنے سے پہلے تھا، جب سورة نساء میں میراث کے احکام آگئے اور بیوی کا حصہ ترکے میں مقرر کردیا گیا تو سال بھر کے نفقے اور رہائش کا یہ حق ختم ہوگیا۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 241

وَ لِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲۴۱﴾۔
ترجمہ
اور مطلقہ عورتوں کو قاعدے کے مطابق فائدہ پہنچانا متقیوں پر ان کا حق ہے۔ (١ٍ ٦٢)۔
تفسیر
162: مطلقہ عورتوں کو فائدہ پہنچانے کا لفظ بڑا عام ہے اس میں عدت کے دوران کا نفقہ بھی داخل ہے اور اگر ابھی مہر نہ دیا گیا ہو تو وہ بھی داخل ہے نیز اوپر آیت نمبر : ٢٣٦ میں جس تحفے کا ذکر ہے وہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ تحفہ اس صورت میں بھی مستحب ہے کہ مطلقہ عورت کو مہر کے علاوہ یہ تحفہ بھی دیا جائے ان تمام احکام سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اول تو طلاق کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اقدام اسی وقت کرنا چاہیے جب کوئی اور صورت باقی نہ رہی ہو، دوسرے جب یہ اقدام کیا جائے تو نکاح کے تعلق کا اختتام بھی شرافت فراخ دلی اور احترام سے خوشگوار ماحول میں ہونا چاہیے، دشمنی کے ماحول میں نہیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 242

کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۴۲﴾۔
ترجمہ
اللہ اپنے احکام اسی طرح وضاحت سے تمہارے سامنے بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ داری سے کام لو۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
3:03 PM
Threads
841
Messages
12,100
Reaction score
14,116
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,349.82
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:masha-allah:
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے
:jazak-allah:
ایسی ہی اچھی باتوں کا اشتراک جاری رکھیں
:goodpost:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks