سورۃ البقرۃ پارہ 2 رکوع 29 آیات 232 تا 235

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
12:53 PM
Threads
255
Messages
628
Reaction score
1,135
Points
541
Location
karachi
Gold Coins
883.79
Permanently Change Username Color & Style.


سورہ البقرۃ آیت نمبر 232

وَ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحۡنَ اَزۡوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَیۡنَہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ ذٰلِکَ یُوۡعَظُ بِہٖ مَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکُمۡ اَزۡکٰی لَکُمۡ وَ اَطۡہَرُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۲﴾۔
ترجمہ
اور جب تم نے عوررتوں کو طلاق دے دی ہو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ( اے میکے والو) انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ اپنے ( پہلے) شوہروں سے ( دوبارہ) نکاح کریں، بشرطیکہ وہ بھلائی کے ساتھ ایک دوسرے سے راضی ہوگئے ہوں۔ (١٥٣) ان باتوں کی نصیحت تم میں سے ان لوگوں کو کی جارہی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ یہی تمہارے لیے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ طریقہ ہے، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
تفسیر
153: بعض مرتبہ طلاق اور اس کی عدت گذرنے کے بعد میاں بیوی کو سبق مل جاتا اور وہ از سر نو نئی زندگی شروع کرنے کے لیے آپس میں دوبارہ نکاح کرنا چاہتے تھے، چونکہ طلاقیں تین نہیں ہوئی ہوتی تھیں، اس لیے شرعاً نیا نکاح جائز بھی تھا اور عورت بھی اس پر راضی ہوتی تھی، لیکن عورت کے میکے والے خود ساختہ غیرت کی بنا پر اسے اپنے پہلے شوہر سے نکاح کرنے سے روکتے تھے۔ یہ آیت اس غلط رسم کو ناجائز قرار دے رہی ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 233

وَ الۡوَالِدٰتُ یُرۡضِعۡنَ اَوۡلَادَہُنَّ حَوۡلَیۡنِ کَامِلَیۡنِ لِمَنۡ اَرَادَ اَنۡ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ؕ وَ عَلَی الۡمَوۡلُوۡدِ لَہٗ رِزۡقُہُنَّ وَ کِسۡوَتُہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ لَا تُکَلَّفُ نَفۡسٌ اِلَّا وُسۡعَہَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌۢ بِوَلَدِہَا وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ ٭ وَ عَلَی الۡوَارِثِ مِثۡلُ ذٰلِکَ ۚ فَاِنۡ اَرَادَا فِصَالًا عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡہُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا ؕ وَ اِنۡ اَرَدۡتُّمۡ اَنۡ تَسۡتَرۡضِعُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اِذَا سَلَّمۡتُمۡ مَّاۤ اٰتَیۡتُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۳۳﴾۔
ترجمہ
اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں، یہ مدت ان کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں، اور جس باپ کا وہ بچہ ہے اس پر واجب ہے کہ وہ معروف طریقے پر ان ماؤں کے کھانے اور لباس کا خرچ اٹھائے، (١٥٤) ۔ (ہاں) کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی، نہ تو ماں کو اپنے بچے کی وجہ سے ستایا جائے، اور نہ باپ کو اپنے بچے کی وجہ سے (١٥٥) اور اسی طرح کی ذمہ داری وارث پر بھی ہے (١٥٦) پھر اگر وہ دونوں ( یعنی والدین) آپس کی رضا مندی اور باہمی مشورے سے ( دو سال گزرنے سے پہلے ہی) دودھ چھڑانا چاہیں تو اس میں بھی ان پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور اگر تم یہ چاہو کہ اپنے بچوں کو کسی انا سے دودھ پلواؤ تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں، جبکہ تم نے جو اجرت ٹھہرائی تھی وہ ( دودھ پلانے والی انا کو) بھلے طریقے سے دے دو ، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے سارے کاموں کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔
تفسیر
154: طلاق کے احکام کے درمیان بچے کو دودھ پلانے کا ذکر اس مناسبت سے آیا ہے کہ بعض اوقات یہ مسئلہ ماں باپ کے درمیان جھگڑے کا سبب بن جاتا ہے، لیکن جو احکام یہاں بیان کئے گئے ہیں وہ طلاق کی صورت کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں، بلکہ تمام حالات کے لئے ہیں، پہلی بات تو اس میں یہ واضح کی گئی ہے کہ دودھ زیادہ سے زیادہ دو سال تک پلایا جاسکتا ہے، اس کے بعد ماں کا دودھ چھڑانا ہوگا، دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اگر ماں باپ بچے کی مصلحت سمجھیں تو پہلے بھی دودھ چھڑاسکتے ہیں، دو سال پورے کرنا شرعاً واجب نہیں ہے، تیسری بات یہ کہ دودھ پلانے والی ماں کا خرچ اس کے شوہر یعنی بچے کے باپ پر واجب ہے، اگر نکاح قائم ہو تب تو یہ خرچ نکاح کی وجہ سے واجب ہے اور اگر طلاق ہوگئی تو عدت کے دوران دودھ پلانا مطلقہ ماں پر واجب ہے اور اس دوران اس کا نفقہ طلاق دینے والے شوہر پر ہے، عدت کے بعد نفقہ تو ختم ہوجائے گا ؛ لیکن مطلقہ عدت کے بعد دودھ پلانے کی اجرت کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ 155: ماں اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے دودھ نہ پلائے تو اسے مجبور نہ کیا جائے، دوسری طرف اگر بچہ ماں کے سوا کسی اور کا دودھ نہ لیتا ہو تو ماں کے لئے انکار جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں یہ انکار باپ کو بلا وجہ ستانے کے مرادف ہے۔ 156: اگر کسی بچہ کا باپ زندہ نہ ہو تو دودھ پلانے کے سلسلے میں جو ذمہ داری باپ کی ہے وہ بچے کے وارثوں پر عائد ہوگی، یعنی جو لوگ بچے کے مرنے کی صورت میں اس کے ترکے کے حق دار ہوں گے انہی پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ اس بچے کو دودھ پلانے اور اس کا خرچ برداشت کرنے کی ذمہ داری اٹھائیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 234

وَ الَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَ یَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا یَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرۡبَعَۃَ اَشۡہُرٍ وَّ عَشۡرًا ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا فَعَلۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۳۴﴾۔
ترجمہ
اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں، اور بیویاں چھوڑ کر جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن انتظار میں رکھیں گی، پھر جب وہ اپنی ( عدت کی) میعاد کو پہنچ جائیں تو وہ اپنے بارے میں جو کاروائی (مثلا دوسرا نکاح) قاعدے کے مطابق کریں تو تم پر کچھ گناہ نہیں، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا عَرَّضۡتُمۡ بِہٖ مِنۡ خِطۡبَۃِ النِّسَآءِ اَوۡ اَکۡنَنۡتُمۡ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ سَتَذۡکُرُوۡنَہُنَّ وَ لٰکِنۡ لَّا تُوَاعِدُوۡہُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ۬ؕ وَ لَا تَعۡزِمُوۡا عُقۡدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبۡلُغَ الۡکِتٰبُ اَجَلَہٗ ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ فَاحۡذَرُوۡہُ ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۲۳۵﴾۔
ترجمہ
اور (عدت کے دوران) اگر تم ان عورتوں کو اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دو یا ( ان سے نکاح کا ارادہ) دل میں چھپائے رکھو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، اللہ جانتا ہے کہ تم ان (سے نکاح) کا خیال تو دل میں لاؤ گے، لیکن ان سے نکاح کا دو طرفہ وعدہ مت کرنا، الا یہ کہ مناسب طریقے سے کوئی بات کہہ دو (١٥٧) اور نکاح کا عقد پکا کرنے کا اس وقت تک ارادہ بھی مت کرنا جب تک عدت کی مقررہ مدت اپنی میعاد کو نہ پہنچ جائے، اور یاد رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے، لہذا اس سے ڈرتے رہو، اور یاد کھو کہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا بردبار ہے۔
تفسیر
157: جو عورت عدت گزاررہی ہو اس کو صاف لفظوں میں نکاح کا پیغام دینا اور یہ بات پکی کرلینا جائز نہیں ہے کہ عدت کے بعد تم مجھ سے نکاح کروگی، البتہ اس آیت نے کوئی مناسب اشارہ دینے کی اجازت دی ہے، جس سے وہ عورت سمجھ جائے کہ اس شخص کا ارادہ عدت کے بعد پیغام دینے کا ہے، مثلاً کوئی اتنا کہلوادے کہ میں بھی کسی مناسب رشتے کی تلاش میں ہوں۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
12:53 PM
Threads
842
Messages
12,137
Reaction score
14,138
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,352.86
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:masha-allah:
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے
:jazak-allah:
ایسی ہی اچھی باتوں کا اشتراک جاری رکھیں
:goodpost:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks