سورۃ البقرۃ پارہ 2 رکوع 27 آیات 212 تا 228

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
6:42 AM
Threads
257
Messages
630
Reaction score
1,138
Points
541
Location
karachi
Gold Coins
885.86
Permanently Change Username Color & Style.

سورہ البقرۃ آیت نمبر 222

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡمَحِیۡضِ ؕ قُلۡ ہُوَ اَذًی ۙ فَاعۡتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الۡمَحِیۡضِ ۙ وَ لَا تَقۡرَبُوۡہُنَّ حَتّٰی یَطۡہُرۡنَ ۚ فَاِذَا تَطَہَّرۡنَ فَاۡتُوۡہُنَّ مِنۡ حَیۡثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ ﴿۲۲۲﴾۔
ترجمہ
اور لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ وہ گندگی ہے لہذا حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو، اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان سے قربت (یعنی جماع) نہ کرو، ہاں جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس اسی طریقے سے جاؤ جس طرح اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی طرف کثرت سے رجوع کریں اور ان سے محبت کرتا ہے جو خوب پاک صاف رہیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 223

نِسَآؤُکُمۡ حَرۡثٌ لَّکُمۡ ۪ فَاۡتُوۡا حَرۡثَکُمۡ اَنّٰی شِئۡتُمۡ ۫ وَ قَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ مُّلٰقُوۡہُ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۲۳﴾۔
ترجمہ
تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں لہذا اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو جاؤ (١٤٥) اور اپنے لئیے (اچھے عمل) آگے بھیجو، اللہ سے ڈرتے رہو، اور یقین رکھو کہ تم اس سے جاکر ملنے والے ہو، اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو ۔
تفسیر
145: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک لطیف کنایہ استعمال کرکے میاں بیوی کے خصوصی ملاپ کے بارے میں چند حقائق بیان فرمائے ہیں، پہلی بات تو یہ واضح فرمائی ہے کہ میاں بیوی کا یہ ملاپ صرف لذت حاصل کرنے کے مقصد سے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے انسانی نسل کی بڑھوتری کا ذریعہ سمجھنا چاہیے، جس طرح ایک کاشتکار اپنی کھیتی میں بیج ڈالتا ہے تو اس کا اصل مقصد پیداوار کا حصول ہوتا ہے اسی طرح یہ عمل بھی دراصل انسانی نسل باقی رکھنے کا ایک ذریعہ ہے، دوسری حقیقت یہ بیان فرمائی ہے کہ جب اس عمل کا اصل مقصد یہ ہے تو یہ عمل نسوانی جسم کے اسی حصہ میں ہونا چاہیے جو اس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے، پیچھے کا جو حصہ اس کام کے لئے نہیں بنایا گیا، اس کو فطرت کے خلاف جنسی لذت کے لئے استعمال کرنا حرام ہے، تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ نسوانی جسم کا جو اگلا حصہ اس غرض کے لئے بنایا گیا ہے اس تک پہنچنے کے لئے راستہ کوئی بھی اختیار کیا جاسکتا ہے، یہودیوں کا خیال یہ تھا کہ اس حصے میں مباشرت کرنے کے لئے بس ایک ہی طریقہ جائز ہے یعنی سامنے کی طرف سے، اگر مباشرت آگے ہی کے حصے میں ہو لیکن اس تک پہنچنے کے لئے راستہ پیچھے کا اختیار کیا جائے تو وہ کہتے تھے کہ اولاد بھینگی پیدا ہوتی ہے، اس آیت نے یہ غلط فہمی دور کردی۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 224

وَ لَا تَجۡعَلُوا اللّٰہَ عُرۡضَۃً لِّاَیۡمَانِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ تُصۡلِحُوۡا بَیۡنَ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۲۴﴾۔
ترجمہ
اور اللہ ( کے نام) کو اپنی قسموں میں اس غرض سے استعمال نہ کرو کہ اس کے ذریعے نیکی اور تقوی کے کاموں اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے سے بچ سکو (١٤٦) اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔
تفسیر
146: بعض مرتبہ انسان کسی وقتی جذبے سے مغلوب ہو کر قسم کھالیتا ہے کہ فلاں کام نہیں کروں گا، حالانکہ وہ نیک کام ہوتا ہے، مثلاً ایک مرتبہ حضرت مسطح (رض) سے ایک غلطی ہوگئی تھی تو حضرت صدیق اکبر (رض) نے یہ قسم کھالی تھی کہ آئندہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے، یا جیسے روح المعانی میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے اپنے بہنوئی کے بارے میں قسم کھالی تھی کہ وہ ان سے بات نہیں کریں گے، اور نہ ان کی بیوی سے ان کی صلح کرائیں گے، یہ آیت ایسی قسم کھانے سے منع کررہی ہے، کیونکہ اس طرح اللہ کا نام ایک غلط مقصد میں استعمال ہوتا ہے، اور صحیح حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی نامناسب قسم کھالے تو اسے توڑ دینا چاہیے اور اس کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 225

لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا کَسَبَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۲۲۵﴾۔
ترجمہ
اور اللہ تمہاری لغو قسموں پر تمہاری گرفت نہیں کرے گا (١٤٧) البتہ جو قسمیں تم نے اپنے دلوں کے ارادے سے کھائی ہوں گی ان پر گرفت کرے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا بردبار ہے۔
تفسیر
147: لغو قسم سے مراد تو وہ قسم ہے جو قسم کھانے کے ارادے سے نہیں بلکہ تکیہ کلام کے طور سے زبان پر آجائے، خاص طور پر عربوں میں اس کا بہت رواج تھا کہ بات بات میں وہ واللہ کہہ دیتے تھے، اسی طرح بعض اوقات انسان ماضی کے کسی واقعے پر قسم کے ارادے ہی سے قسم کھاتا ہے، لیکن اس کے اپنے خیال کے مطابق وہ قسم صحیح نہیں ہوتی ہے، جھوٹ بولنے کا ارداہ نہیں ہوتا، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جو بات قسم کھاکر کہی تھی وہ حقیقت میں صحیح نہیں تھی، ان دونوں طرح کی قسموں کو لغو کہا جاتا ہے، اس آیت نے بتایا کہ اس پر گناہ نہیں ہوتا، البتہ انسان کو چاہیے کہ وہ قسم کھانے میں احتیاط سے کام لے اور ایسی قسم سے بھی پرہیز کرے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 226

لِلَّذِیۡنَ یُؤۡلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمۡ تَرَبُّصُ اَرۡبَعَۃِ اَشۡہُرٍ ۚ فَاِنۡ فَآءُوۡ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲۶﴾۔
ترجمہ
جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں (یعنی ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھالیتے ہیں) ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے (١٤٨) چنانچہ اگر وہ (قسم توڑ کر) رجوع کرلیں تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
تفسیر
تشریح : عربوں میں یہ ظالمانہ طریقہ رائج تھا کہ وہ یہ قسم کھابیٹھتے تھے کہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائیں گے، نتیجہ یہ کہ بیوی غیر معین مدت تک لٹکی رہتی تھی، نہ اسے بیوی جیسے حقوق ملتے تھے اور نہ وہ کہیں اور شادی کرسکتی تھی، ایسی قسم کو ایلاء کہا جاتا ہے، اس آیت نے یہ قانون بنادیا کہ جو شخص ایلاء کرے وہ یا تو چار مہینے کے اندر اندر اپنی قسم توڑ کر کفارہ ادا کرے اور اپنی بیوی سے معمول کے ازدواجی تعلقات بحال کرلے، ورنہ چار مہینے تک اگر اس نے اپنی قسم نہ توڑی تو بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی، آیت میں جو کہا گیا ہے کہ “ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو ” اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ چار مہینے قسم توڑے بغیر گزاردیں تو نکاح خود بخود ختم ہوجائے گا۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 227

وَ اِنۡ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۲۷﴾۔
ترجمہ
اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو تو ( بھی) اللہ سننے جاننے والا ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 228

وَ الۡمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیۡۤ اَرۡحَامِہِنَّ اِنۡ کُنَّ یُؤۡمِنَّ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَ بُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ اِنۡ اَرَادُوۡۤا اِصۡلَاحًا ؕ وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۲۸﴾۔
ترجمہ
اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہو وہ تین مرتبہ حیض آنے تک اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں ( ١٤٩) اور اگر وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں تو ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ ( حمل یا حیض) پیدا کیا ہے اسے چھپائیں، اور اس مدت میں اگر ان کے شوہر حالات بہتر بنانا چاہیں تو ان کو حق ہے کہ وہ ان عورتوں کو (اپنی زوجیت) میں واپس لے لیں۔ اور ان عورتوں کو معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے (مردوں کو) ان پر حاصل ہیں۔ ہاں مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت ہے ( ١٥٠) اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے ،۔
تفسیر
149: یہ مطلقہ عورتوں کی عدت کا بیان ہے، یعنی طلاق کے بعد انہیں تین مرتبہ ایام ماہواری پورے ہونے تک عدت گزارنی ہوگی، جس کے بعد وہ کہیں اور نکاح کرسکیں گی، لیکن سورة احزاب (٣٣: ٤٩) میں واضح کردیا گیا ہے کہ عدت گزارنا اسی وقت واجب ہے جب میاں بیوی کے درمیان خلوت ہوچکی ہو، اگر اس سے پہلے ہی طلاق ہوگئی تو عدت واجب نہیں، نیز سورة طلاق (٦٥: ٤) میں بتایا گیا ہے کہ جن عورتوں کو حیض ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہو یا ابھی آنا شروع نہ ہوا ہو ان کی عدت تین مہینے ہے، اور اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہوجائے گی۔ 150 : جاہلیت کے دور میں عورت کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، اس آیت نے بتایا کہ شوہر اور بیوی کے حقوق ایک دوسرے کے برابر ہیں البتہ اتنا ضرور ہے کہ زندگی کے سفر میں اللہ تعالیٰ نے مرد کو امیر اور نگران بنایا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے سورة نساء (٤: ٣٤) میں واضح فرمایا ہے، اس لحاظ سے ایک کو ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
6:42 AM
Threads
842
Messages
12,145
Reaction score
14,152
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,353.43
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:masha-allah:
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے
:jazak-allah:
ایسی ہی اچھی باتوں کا اشتراک جاری رکھیں
:goodpost:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks