سورۃ البقرۃ پارہ 2 رکوع 26 آیات 217 تا 221

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
12:58 AM
Threads
204
Messages
547
Reaction score
1,056
Points
489
Location
karachi
Gold Coins
968.59
Permanently Change Username Color & Style.


سورہ البقرۃ آیت نمبر 217

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الشَّہۡرِ الۡحَرَامِ قِتَالٍ فِیۡہِ ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِیۡہِ کَبِیۡرٌ ؕ وَ صَدٌّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ کُفۡرٌۢ بِہٖ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ٭ وَ اِخۡرَاجُ اَہۡلِہٖ مِنۡہُ اَکۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ الۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ ؕ وَ لَا یَزَالُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ؕ وَ مَنۡ یَّرۡتَدِدۡ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتۡ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۱۷﴾۔
ترجمہ
لوگ آپ سے حرمت والے مہینے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس میں جنگ کرنا کیسا ہے ؟ (١٤١) آپ کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے، مگر لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا، اس کے خلاف کفر کی روش اختیار کرنا، مسجد حرام پر بندش لگانا اور اس کے باسیوں کو وہاں سے نکال باہر کرنا اللہ کے نزدیک زیادہ بڑا گناہ ہے، اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین چیز ہے، اور یہ (کافر) تم لوگوں سے برابر جنگ کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو یہ تم کو تمہارا دین چھوڑنے پر آمادہ کردیں، اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا دین چھوڑ دے، اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہوجائیں گے، ایسے لوگ دوزخ والے ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
تفسیر
تشریح : سورة توبہ (٩: ٣٦) میں چار مہینوں کو اشہر حرم کہا گیا ہے، یعنی حرمت والے مہینے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چار مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں، ان مہینوں میں جنگ منع ہے، البتہ اگر کوئی دشمن حملہ کردے تو اپنا دفاع کیا جاسکتا ہے، ایک مرتبہ ایک سفر کے دوران چند صحابہ کی کچھ مشرکین سے جھڑپ ہوگئی اور مشرکین میں سے ایک آدمی عمرو بن ضمری مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا، یہ واقعہ جمادی الثانیہ کی ٢٩ تاریخ کی شام کو واقع ہوا، لیکن اس شخص کے قتل ہوتے ہی رجب کا چاند نظر آگیا، اس پر مشرکین نے مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان مچادیا کہ یہ لوگ حرمت والے مہینوں کا بھی پاس نہیں کررہے ہیں، یہ آیت اس پروپیگنڈے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اول تو عمرو بن امیہ کا قتل غلط فہمی میں ہوا جان بوجھ کر حرمت والے مہینے میں قتل نہیں کیا گیا، لیکن جو لوگ اس واقعے پر طوفان کھڑا کئے ہوئے ہیں، بلکہ جو لوگ حقیقۃً مسجد حرام میں عبادت کے اہل ہیں، ان کے لئے زندگی اجیرن بناکر انہیں یہاں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔
سورہ البقرۃ آیت نمبر 218

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۱۸﴾۔
ترجمہ
(اس کے برخلاف) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، تو وہ بیشک اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
سورہ البقرۃ آیت نمبر 219

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِؕ قُلۡ فِیۡہِمَاۤ اِثۡمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثۡمُہُمَاۤ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِہِمَا ؕ وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلِ الۡعَفۡوَؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱۹﴾ۙ۔
ترجمہ
لوگ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ بھی ہے، اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ بڑھا ہوا ہے۔ (١٤٢) اور لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ ( اللہ کی خوشنودی کے لیے) کیا خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیجیے کہ “ جو تمہاری ضرورت سے زائد ہو ” (١٤٣) اللہ اسی طرح اپنے احکام تمہارے لیے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم غورو فکر سے کام لو۔
تفسیر
142: چونکہ اہل عرب صدیوں سے شراب کے عادی تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حرمت کے اعلان میں تدریج سے کام لیا، پہلے سورة نحل (١٦: ٦٧) میں ایک لطیف اشارہ دیا کہ نشہ لانے والی شراب اچھی چیز نہیں ہے، پھر سورة البقرۃ کی اس آیت میں قدرے وضاحت سے فرمایا کہ شراب پینے کے نتیجے میں انسان سے بہت سی ایسی حرکتیں سرزد ہوجاتی ہیں جو گناہ ہیں اور اگرچہ اس میں کچھ فائدے بھی ہیں، مگر گناہ کے امکانات زیادہ ہیں، پھر سورة نساء (٤: ٤٣) میں یہ حکم آیا کہ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو بالاآخر سورة مائدہ (٥: ٩٠۔ ٩١) میں شراب کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے مکمل پرہیز کرنے کا صاف صاف حکم دے دیا گیا۔ 143: بعض صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے صدقہ کا ثواب سن کر اپنی ساری پونجی صدقہ کردی یہاں تک کہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ نہ چھوڑا اور گھر والے بھوکے رہ گئے، اس آیت نے بتلایا کہ صدقہ وہی درست ہے جو اپنے گھر والوں کی ضرورت پوری کرنے کے بعد کیا جائے، چنانچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد احادیث میں اس پر زور دیا ہے کہ صدقہ اتنا ہونا چاہیے کہ گھر والے محتاج نہ ہوجائیں۔
سورہ البقرۃ آیت نمبر 220

فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡیَتٰمٰی ؕ قُلۡ اِصۡلَاحٌ لَّہُمۡ خَیۡرٌ ؕ وَ اِنۡ تُخَالِطُوۡہُمۡ فَاِخۡوَانُکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَاَعۡنَتَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۲۰﴾۔
ترجمہ
دنیا کے بارے میں بھی اور آخرت کے بارے میں بھی۔ اور لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ ان کی بھلائی چاہنا نیک کام ہے، اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو (کچھ حرج نہیں کیونکہ) وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ کون معاملات بگاڑنے والا ہے اور کون سنوارنے والا، اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشکل میں ڈال دیتا۔ (١٤٤) یقینا اللہ کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔
تفسیر
144: جب قرآن کریم نے یتیموں کا مال کھانے پر سخت وعید سنائی ( سورة نساء ٤: ١۔ ٢) تو بعض صحابہ جن کی سرپرستی میں کچھ یتیم تھے، اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا الگ پکواتے اور انہیں الگ ہی کھلاتے، یہاں تک کہ اگر ان کا کچھ کھانا بچ جاتا تو خراب ہوجاتا، اس میں تکلیف بھی تھی اور نقصان بھی، اس آیت نے واضح کردیا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ یتیموں کی مصلحت کا پورا خیال رکھا جائے، سرپرستوں کو مشکل میں ڈالنا مقصد نہیں ہے، لہذا ان کا کھانا ساتھ پکانے اور ساتھ کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ معقولیت اور انصاف کے ساتھ ان کے مال سے ان کے کھانے کا خرچ وصول کیا جائے، پھر اگر غیر ارادی طور پر کچھ کمی بیشی ہو بھی جائے تو معاف ہے، ہاں جان بوجھ کر ان کو نقصان نہ پہنچایا جائے، رہی یہ بات کہ کون انصاف اور اصلاح سے کام لے رہا ہے اور کس کی نیت خراب ہے، اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
سورہ البقرۃ آیت نمبر 221

وَ لَا تَنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکٰتِ حَتّٰی یُؤۡمِنَّ ؕ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤۡمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکَۃٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ ۚ وَ لَا تُنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤۡمِنُوۡا ؕ وَ لَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ یَدۡعُوۡنَ اِلَی النَّارِ ۚۖ وَ اللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلَی الۡجَنَّۃِ وَ الۡمَغۡفِرَۃِ بِاِذۡنِہٖ ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۲۱﴾۔
ترجمہ
اور مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ یقینا ایک مومن باندی کسی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے، خواہ وہ مشرک عورت تمہیں پسند آرہی ہو، اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور یقینا ایک مومن غلام کسی بھی مشرک مرد سے بہتر ہے خواہ وہ مشرک مرد تمہیں پسند آرہا ہو۔ یہ سب دوزخ کی طرف بلاتے ہیں جبکہ اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنے احکام لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
12:58 AM
Threads
834
Messages
11,700
Reaction score
13,870
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,315.64
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:masha-allah:
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے
:jazak-allah:
ایسی ہی اچھی باتوں کا اشتراک جاری رکھیں
:goodpost:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks