سورۃ البقرۃ پارہ 2 رکوع 24 آیات 197 تا 210

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
8:20 AM
Threads
308
Messages
761
Reaction score
1,240
Points
591
Location
karachi
Gold Coins
951.27
Permanently Change Username Color & Style.


سورہ البقرۃ آیت نمبر 197

اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوۡقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یَّعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕؔ وَ تَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوۡنِ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۷﴾۔
ترجمہ
حج کے چند متعین مہینے ہیں۔ چنانچہ جو شخص ان مہینوں میں (احرام باندھ کر) اپنے اوپر حج لازم کرلے تو حج کے دوران نہ وہ کوئی فحش بات کرے نہ کوئی گناہ نہ کوئی جھگڑا۔ اور تم جو کوئی نیک کام کرو گے اللہ اسے جان لے گا، اور (حج کے سفر میں) زاد راہ ساتھ لے جایا کرو، کیونکہ بہترین زاد راہ تقوی ہے (١٣٠) اور اے عقل والو ! میری نافرمانی سے ڈرتے رہو
تفسیر
130: بعض لوگ حج کو روانہ ہوتے وقت اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان ساتھ نہیں رکھتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہوئے حج کریں گے، لیکن جب راستے میں کھانے کی ضرورت پڑتی توبسا اوقات وہ لوگوں سے مانگنے پر مجبور ہوجاتے تھے، اس آیت کریمہ نے یہ بتلایا کہ توکل کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے، بلکہ اسباب کو اختیار کرنا شریعت کا تقاضا ہے، اور بہترین زاد راہ تقوی ہے، یعنی وہ زاد راہ جس کے ذریعے انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 198

لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ فَاِذَاۤ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَرَامِ ۪ وَ اذۡکُرُوۡہُ کَمَا ہَدٰٮکُمۡ ۚ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿۱۹۸﴾۔
ترجمہ
تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم (حج کے دوران تجارت یا مزدوری کے ذریعے) اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو (١٣١) پھر جب تم عرفات سے روانہ ہو تو مشعر حرام کے پاس (جو مزدلفہ میں واقع ہے) اللہ کا ذکر کرو، اور اس کا ذکر اسی طرح کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت کی ہے (١٣٢) جبکہ اس سے پہلے تم بالکل ناواقف تھے
تفسیر
131: بعض حضرات حج کے سفر میں کوئی تجارت کرنے کو ناجائز سمجھتے تھے، یہ آیت ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اور اس نے بتادیا کہ سفر حج میں روزی کمانے کا کوئی مشغلہ اختیار کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس سے حج کے ضروری کام متاثر نہ ہوں۔ 132: وَاذْكُرُوْهُ کَمَا هَدَاكُمْ : حج کے دوران عرفات سے آکر مزدلفہ میں رات گزاری جاتی ہے اور اگلی صبح طلوع آفتاب سے پہلے پہلے وقوف کیا جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور دعائیں مانگی جاتی ہیں، جاہلیت میں بھی اہل عرب اللہ کا ذکر تو کرتے تھے، مگر اس کے ساتھ اپنے دیوتاؤں کا ذکر بھی شامل کرلیتے تھے، بتایا جارہا ہے کہ مومن کا ذکر خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہونا چاہیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 199

ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسۡتَغۡفِرُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۹﴾۔
ترجمہ
اس کے علاوہ ( یہ بات بھی یاد رکھو کہ) تم اسی جگہ سے روانہ ہو جہاں سے عام لوگ روانہ ہوتے ہیں (١٣٣) اور اللہ سے مغفرت مانگو، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے
تفسیر
133: جاہلیت میں اہل عرب نے یہ طریقہ مقرر کر رکھا تھا کہ تمام انسان نو ذوالحجہ کو عرفات کے میدان میں وقوف کرتے تھے مگر قریش اور بعض دوسرے قبائل جو حرم کے قریب رہتے تھے اور خمس کہلاتے تھے، عرفات جانے کے بجائے مزدلفہ میں رہتے تھے اور وہیں وقوف کرتے تھے ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم حرم کے مجاور ہیں اور عرفات چونکہ حدود حرم سے باہر ہے اس لئے ہم وہاں نہیں جائیں گے، نتیجہ یہ کہ عام لوگوں کو نویں تاریخ کا دن عرفات میں گزارنے کے بعد رات کو مزدلفہ کے لئے روانہ ہونا پڑتا تھا، اس آیت نے یہ رسم ختم کردی اور قریش کے لوگوں کو بھی یہ حکم دیا کے وہ عام لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف کریں اور انہی کے ساتھ روانہ ہو کر مزدلفہ آئیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 200

فَاِذَا قَضَیۡتُمۡ مَّنَاسِکَکُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَذِکۡرِکُمۡ اٰبَآءَکُمۡ اَوۡ اَشَدَّ ذِکۡرًا ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ﴿۲۰۰﴾۔
ترجمہ
پھر جب تم اپنے حج کے کام پورے کرچکو تو اللہ کا اس طرح ذکر کرو جیسے تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ ذکر کرو (١٣٤) اب بعض لوگ تو وہ ہیں جو (دعا میں بس) یہ کہتے ہیں کہ :“ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما ” اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
تفسیر
134: جاہلیت میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ حج کے بنیادی ارکان سے فارغ ہو کر جب منی میں جمع ہوتے تو بعض لوگ ایک پورا دن اپنے آباؤ اجداد کی تعریفیں کرنے اور ان کے کارنامے بیان کرنے میں گزارا کرتے تھے، یہ اشارہ اس رسم کی طرف ہے اور بعض لوگ دعائیں تو مانگتے مگر چونکہ وہ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لئے ان کی دعا صرف دنیا کی بہتری تک محدود ہوتی تھی اگلے جملے میں بتایا گیا ہے کہ ایک مومن کو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہیے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 201

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۲۰۱﴾۔
ترجمہ
اور انہی میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ :“ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے

سورہ البقرۃ آیت نمبر 202

اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ نَصِیۡبٌ مِّمَّا کَسَبُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۲۰۲﴾۔
ترجمہ
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے اعمال کی کمائی کا حصہ (ثواب کی صورت میں) ملے گا، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 203

وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۚ وَ مَنۡ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰی ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۰۳﴾۔
ترجمہ
اور اللہ کو گنتی کے (ان چند) دنوں میں ( جب تم منی میں مقیم ہو) یاد کرتے رہو۔ پھر جو شخص دو ہی دن میں جلدی چلا جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے اور جو شخص (ایک دن) بعد میں جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں (١٣٥) یہ (تفصیل) اس کے لیے ہے جو تقوی اختیار کرے اور تم سب تقوی اختیار کرو، اور یقین رکھو کہ تم سب کو اسی کی طرف لے جا کر جمع کیا جائے گا۔
تفسیر
135: منیٰ میں تین دن گزارنا سنت ہے اور اس دوران جمرات پر کنکریاں مارنا واجب ہے، البتہ ١٢ تاریخ کے بعد منی سے چلا جانا جائز ہے، ١٣ تاریخ تک رکنا ضروری نہیں، اور اگر کوئی رکنا چاہے تو ١٣ تاریخ کو بھی رمی کرکے واپس جاسکتا ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 204

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾۔
ترجمہ
اور لوگوں میں ایک وہ شخص بھی ہے کہ دنیوی زندگی کے بارے میں اس کی باتیں تمہیں بڑی اچھی لگتی ہیں اور جو کچھ اس کے دل میں ہے اس پر وہ اللہ کو گواہ بھی بناتا ہے، حالانکہ وہ ( تمہارے) دشمنوں میں سب سے زیادہ کٹر ہے

سورہ البقرۃ آیت نمبر 205

وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الۡاَرۡضِ لِیُفۡسِدَ فِیۡہَا وَ یُہۡلِکَ الۡحَرۡثَ وَ النَّسۡلَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡفَسَادَ ﴿۲۰۵﴾۔
ترجمہ
اور جب اٹھ کرجاتا ہے تو زمین میں اس کی دوڑ دھوپ اس لئے ہوتی ہے کہ وہ اس میں فساد مچائے، اور فصلیں اور نسلیں تبارہ کرے، حالانکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا (١٣٦)۔
تفسیر
تشریح : بعض روایات میں ہے کہ اخنس بن شریق نامی ایک شخص مدینہ منورہ آیا تھا، اور اس نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بڑی چکنی چپڑی باتیں کیں، اور اللہ کو گواہ بناکر اپنے ایمان لانے کا اظہار کیا ؛ لیکن جب واپس گیا توراستے میں مسلمانوں کی کھیتیاں جلادیں اور ان کے مویشیوں کو ذبح کرڈالا، یہ آیات اس پس منظر میں نازل ہوئیں تھیں، البتہ ہر قسم کے منافقوں پر پوری اترتی ہیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 206

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتۡہُ الۡعِزَّۃُ بِالۡاِثۡمِ فَحَسۡبُہٗ جَہَنَّمُ ؕ وَ لَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۲۰۶﴾۔
ترجمہ
اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کا خوف کرو، تو نخوت اس کو گناہ پر اور آمادہ کردیتی ہے۔ چنانچہ ایسے شخص کو تو جہنم ہی راس آئے گی اور یقین کرو یہ بہت برا بچھونا ہے

سورہ البقرۃ آیت نمبر 207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡرِیۡ نَفۡسَہُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۲۰۷﴾۔
ترجمہ
اور (دوسری طرف) لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جان کا سودا کرلیتا ہے، (١٣٧) اور اللہ ( ایسے) بندوں پر بڑا مہربان ہے ،۔
تفسیر
137: یہ ان صحابہ کرام کا ذکر ہے جنہوں نے اپنی جانیں اسلام کے مقاصد کے لیے کھپا رکھی تھیں۔ ایسے کئی صحابہ کے واقعات مفسرین نے ذکر کیے ہیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 208

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۰۸﴾۔
ترجمہ
اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

سورہ البقرۃ آیت نمبر 209

فَاِنۡ زَلَلۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡکُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۰۹﴾۔
ترجمہ
پھر جو روشن دلائل تمہارے پاس آچکے ہیں، اگر تم ان کے بعد بھی ( راہ راست سے) پھسل گئے تو یاد رکھو کہ اللہ اقتدار میں بھی کامل ہے، حکمت میں بھی کامل ( ١٣٨)۔
تفسیر
138: ان دو صفتوں کو ساتھ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ اس کا اقتدار کامل ہے اس لیے وہ کسی وقت بھی تمہاری بد عملی کی سزا دے سکتا ہے، لیکن چونکہ اس کی حکمت بھی کامل ہے، اس لیے وہی اپنی حکمت سے یہ طے کرتا ہے کہ کس کو کب اور کتنی سزا دینی ہے۔ لہذا اگر ایسے کافر فوری طور سے عذاب میں پکڑے نہیں جارہے تو اس سے یہ سمجھ بیٹھنا حماقت ہے کہ وہ سزا سے ہمیشہ کے لیے بچ گئے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 210

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیۡ ظُلَلٍ مِّنَ الۡغَمَامِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۲۱۰﴾۔
ترجمہ
یہ (کفار ایمان لانے کے لیے) اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ خود بادل کے سائبانوں میں ان کے سامنے آموجود ہو، اور فرشتے بھی ( اس کے ساتھ ہوں) اور سارا معاملہ ابھی چکا دیا جائے ؟ (١٣٩) حالانکہ آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف تو لوٹ کر رہیں گے۔
تفسیر
139: مختلف کفار اور خاص طور پر یہود مدینہ اس قسم کے مطالبات کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ براہ راست ہمیں نظر آکر ہمیں ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا ؟ یہ آیت اس قسم کے مطالبات کا جواب دے رہی ہے، اور وہ یہ کہ یہ دنیا آزمائش کے لئے بنائی گئی ہے کہ انسان اپنی عقل استعمال کرے اور کائنات میں پھیلے ہوئے واضح دلائل کی روشنی میں اللہ کی توحید اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اسی لئے اس آزمائش میں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے، اگر اللہ تعالیٰ براہ راست نظر آجائیں تو آزمائش کیا ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب غیب کی چیزیں انسان کو آنکھوں سے نظر آجائیں تو پھر ایمان معتبر نہیں ہوتا اور ایسا اسی وقت ہوگا جب یہ کائنات ختم کرکے سزا اور جزاء کا مرحلہ آجائے گا۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Joined
Apr 25, 2018
Local time
8:20 AM
Threads
854
Messages
12,714
Reaction score
14,529
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,413.72
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:masha-allah:
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے
:jazak-allah:
ایسی ہی اچھی باتوں کا اشتراک جاری رکھیں
:goodpost:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks