Pushto شنواری قبیلے کے گاؤں چمر کنڈ کے نام کی لغوی تحقیق

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
9:52 PM
Threads
199
Messages
581
Reaction score
941
Points
460
Gold Coins
407.98
ضلع مومند میں موجود "شنواری" قبیلے کے کچھ لوگ چمر کنڈ نامی گاؤں میں بھی موجود ہیں چمر کنڈنامی گاؤں دو حصوں میں تقسیم ہے ایک کو کوز چمر کنڈ اور دوسرے کو بر چمر کنڈ کہاجاتا ہے واضع کی طرف سے اس گاؤں کے اس نام کی وجہ کیا ہے؟ تواس میں اہل علم کا بہت اختلاف ہے چنانچہ :۔اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں ثمر قند تھا برصغیر میں قابض انگریز کے زمانے میں بنگال سے مجاہدین کا ایک گروپ اس گاؤں میں آیا تھا جو یہاں آکررہائش پذیر ہوگیا تھا چونکہ اس گروپ کا نام ثمر قند تھا جس کی وجہ سے اس علاقے کا نام ثمر قند پڑا پھر کثرت استعمال سےثمر سے چمر بنا اور قند سے کنڈ بنا ۔ مگر یہ بات کئی اعتبار سے محل نظر ہے۔
نمبر ایک: کیا مجاہدین کے گروپ کی آمد سے پہلے یہ علاقہ بے نام تھا ؟ یعنی بنگالی مجاہدین گروپ کی آمد زیادہ سے زیادہ سو دو سال پرانی بات ہوگی جب کہ یہ علاقہ بہت پرانا آباد ہے تو کیا ایک آباد علاقہ گروپ کی آمد تک بے نام رہاہے۔
نمبر دو : اگراس گروپ کا نام ثمرقند تھا تو لامحالہ اپنے گروپ کا یہ نام بنگالیوں نے خود رکھا ہوگا اگر ایسی بات ہے تو یہ چیز معلوم ہونی چاہیے کہ بنگالی قوم حرف(ق) کی ادائے گی پر قادر نہیں وہ حرف(ق)کو حرف (ک)پڑھتے ہیں اسی طرح حرف (ث) کی دائے گی پر بھی مکمل قدرت نہیں رکھتے ہیں لہذا اس اعتبار سے بھی یہ دعوی درست نہیں لگتا ہے ۔
نمبر تین :بنگالی قوم کی زبانوں پر حروف (ق)اور حرف ( ث) کے ثقیل ہونے کی وجہ سے اور اس نام کی بنگالی قوم کے علاقوں میں تاریخی پس منظر نہ ہونے کی وجہ سے یہ چیز انتہائی بعید نظر آتی ہے کہ انھوں نے اپنے گروپ کا نام ثمر قند رکھا ہوگا۔
نمبر چار : مقامی لوگوں کے لیے ثمر قند نام میں کوئی حرف ثقیل نہیں یعنی جس طرح ان کے لیے چمر کنڈ کہنا خفیف ہے اسی طرح ان کے لیے ثمر قند کہنا بھی خفیف ہے لہذا ثمر سے چمر کی حد تک تو بات درست تسلیم کرلی جاتی مگر قند سے کنڈ تک کا سفر درست نہیں لگتا ہے ۔
نمبر پانچ : مقامی لہجے میں لفظ ثمر قند سے چمر کنڈ تک کے سفر کے حوالے سے ایسا کوئی قانون قلبی موجود نہیں کہ جس کی بنیاد پر یہ دعوی کیا جاسکے (کہ ایک مرکب لفظ میں تین حروف کے اندر اس طرح قلب مکانی ہوئی ہے کہ وہ تینوں حروف اہل زبان کے لیے ادائے گی میں خفیف ہیں) یعنی ثمر قند میں حرف(ث) حرف (چ) سے ،حرف (ق) حرف (ک) سے اور حرف (د) حرف (ڈ) سے اس قانون کی وجہ سے بدلا ہے۔ اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ مجاہدین کا گروپ نہیں آیا ہوگا بلکہ گروپ تو آیا ہے مگر چمر کنڈ نام کا تاریخی پس منظر یہ بتانا اور سمجھنادرست نہیں لگتا ہے ۔
اہل علم کا ایک دوسرا طبقہ بھی چمر کنڈ کی اصل ثمر قند ہی بتاتے ہیں مگر ان کے نزدیک اس کے پس منظر میں بنگالی مجاہدین کی آمد کا واقعہ نہیں بیان کیا جاتا ہے بلکہ ان کے نزدیک ثمر ایک شخص کا نام تھا اورقند کامعنی ہے ایک خاص قسم کا مسالا(مصالحہ) جو گلاب کے پتوں اور چینی سے بنتا ہے یعنی ثمر قند کا معنی ہوگا ثمر نامی شخص کا گلاب کے پتوں اور چینی سے تیار کردہ مسالا۔ ممکن ہے اس جگہ کوئی ثمر نامی شخص اس قبیل کا کام کرتا رہاہوں جس کی وجہ سے اس علاقے کا نام ثمر قند پڑا ہو پھر کثرت استعمال سے ثمر سے چمراور قند سے کنڈ بن گیا ہو۔
اسی طرح ایک تیسرا طبقہ بھی چمر کنڈ کی اصل ثمر قند بتاتے ہیں مگر ان کے نزدیک ثمر سے مرادپھل میوہ جات وغیرہ ہے اور قند سے مراد میٹھاس تو اس صورت میں اس کا معنی ہوگا میوے کی مٹھاس ۔ ممکن ہے پرانے دور میں اس علاقے میں ایسے پھل دار درخت پائے جاتے ہوں جس کے پھلوں کی مٹھاس کی وجہ سے اس علاقے کا نام ثمر قند پڑا ہو پھر کثرت استعمال سے ثمر سے چمر اور قند سے کنڈ بن گیا ہو۔
نوٹ :ثمر قند کے مرکب نام پرلغوی اعتبار سے یہاں پر بھی ماقبل کے پانچ اعتراضات میں آخری دواعتراض وارد ہوں گے۔
بعض اہل علم کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں ثمر کنڈ تھا ثمر تو کسی شخص کا نام تھااور کنڈ ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں پانی کا چشمہ، تالاب، باولی، کنواں ، حوض ، گڑھا، غار نیز وہ گڑھا جس میں مقدس آگ دبا کر رکھے یعنی اگن کنڈ ۔ چونکہ اہل ہند کا ایک طبقہ حرف(ث) کی ادائے گی پر مکمل قادر نہیں ہے جس کی وجہ سے ثمر نام چمر بنا ہوگا اور کنڈ اس پانی کے چشمے ، تالاب، کنویں اور حوض کا نام ہے جس سے اہل ہند پانی لاتے تھے۔اور یہ بات بھی درست ہے کہ اس علاقے میں ایک زمانہ اہل ہند رہے ہیں ۔
ایک اور طبقے کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں ثمر کنډ( کنڈ) تھا ۔ پشتو زبان میں دیار کی طرح کے ایک درخت کو کنډ (کنڈ)کہا جاتا ہے اور ثمر کسی شخص یعنی اس درخت کے مالک کا نام تھا تواس صورت میں ثمر کنډ (کنڈ) کامعنی ہوگا ثمر کا درخت پھر کثرت استعمال کے قانون کی وجہ سے ثمر سے چمراورکنڈ برحال رہا۔ ممکن ہے پرانے وقتوں میں اس علاقے میں سر راہ کوئی کنڈ کادرخت ہو اور یہ بھی ہو کہ اس درخت کے مالک کا نام ثمر ہو۔
اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں ثمر کنډر(کنڈر )تھا کنڈر کا معنی ہے ویران گھراور ثمراسی شخص کا نام تھا جس کا یہ ویران گھر تھا پھر قانون اختصار اور کثرت استعمال کی وجہ سے ثمر سے چمر اور کنډر(کنڈر ) سے کنډ ( کنڈ) بنا ۔
اہل علم کی ایک دوسری جماعت کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں ثمر کنډغر (کنڈغر)تھا ثمر کسی شخص کا نام تھا اور کنډغر(کنڈغر)جس کا معنی ہےویران آبادی تو اس صورت میں اس کا معنی ہوگا ثمر کی ویران آبادی پھر کثرت استعمال یا قانون اختصار سے اختصار آیا یعنی لفظ غر حذف ہوا اور ثمر سے چمر بنا اور کنڈ برحال رہا ۔
اہل علم کی ایک تیسری جماعت کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں ثمرکنډؤ(کنڈَو)تھا ثمر کسی شخص کا نام تھا اور کنډؤ(کنڈَو) کے معنی ہیں دو پہاڑوں کے بیچ میں ویران آبادی یا جگہ تو اس صورت میں معنی ثمر نامی شخص کی دو پہاڑوں کے بیچ ویران آبادی یا جگہ پھر کثرت استعمال اور قانون اختصار کی وجہ سے ثمرکنډؤ(کنڈَو) سے ثمرکنډ(کنڈ) بن گیا ۔
اہل علم کی ایک چوتھی جماعت کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں څه د مرګ کنډوتھا جس کا معنی ہے کیسی موت کی بری ویران جگہ ہے ممکن ہے کسی دور میں یہ جگہ سخت ویران ہوئی ہوگی جسے دیکھ کر واضع نے یہ نام دیا ہوگا پھر قانون اختصار ، کثرت استعمال اور قلب مکانی کی وجہ سے ہوتے ہوتے یہ جملہ صرف چمر کنڈ بنا بچ گیا ہو۔
اہل علم کی ایک پانچویں جماعت کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں څه د مارانوں کنډوتھا جس کامعنی ہے کیسی سانپوں کی بری ویران جگہ ہے پھر قانون اختصار ، کثرت استعمال اور قلب مکانی کی وجہ سے ہوتے ہوتے یہ جملہ چمر کنڈ بنا ہوگا ۔ممکن ہے کسی دور میں یہ جگہ سانپوں کی آماجگاہ ہو۔
نوٹ : چوتھی اور پانچویں قسم میں کنډوکی جگہ کنډر بھی مستعمل ہے یعنی اس صورت میں دو اور نئی رائے اہل علم کی اور بھی ہیں بس ان میں اور ان میں کنډر کا فرق ہے یعنی چوتھی اور پانچویں قسم میں کنډو ذکر ہے اور ان دو نئی اراء میں کنډر کا ذکر ہےاور کنډر کا معنی ہے ویران گھر
اہل علم کی ایک چھٹی جماعت کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں ثمر کرکنډه(کرکنڈہ) تھا ثمر کسی شخص کا نام تھا اور کرکنډه(کرکنڈہ) کےمعنی ہیں بڑا بھاری پتھر یا ایک خاص قسم کاکانٹوں والا درخت پھر اس لفظ میں قلب مکانی ہوئی اور ثمرکرکنډه(کرکنڈہ) سے ہوتے ہوتے چمر کنڈ بنا ۔
اہل علم کی ایک ساتویں جماعت کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں ثمرکنډ(کنڈ)تھا مگر یہ کنڈ پشتو والا ہے اور اس کےمعنی ہیں : چیونگم ، گوند اور ثمر کا معنی ہے میوہ جات مطلب میوہ جات کا گوند باقی ثمر سے چمر کیسے بنا یہ بحث ہوچکی ہے ۔
اہل علم کی ایک آٹھویں جماعت کے نزدیک ساتویں جماعت ہی کا موقف ہے مگر فرق اتنا ہے کہ یہاں ثمر سے مراد میوہ جات نہیں بلکہ ثمر نامی انسان مراد ہے ۔
اہل علم کی ایک نویں جماعت کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں چمیر یا چمیارکنډ (کنڈ)تھا جس کی توجیہ خلاصہ کلام میں بیان کردی جائے گی۔
اہل علم کی ایک دسویں جماعت کے نزدیک چمر کنڈ اصل میں ثمر کنډ(کنڈ) تھا مگر یہ کنڈ بھی پشتو والا ہے نہ کہ ہندی والا اور اس کی کی توجیہ بھی خلاصہ کلام میں بیان کردی جائے گی۔ تلک عشرۃ کاملہ
خلاصہ کلام یہ ہے کہ : کہ مقامی اور غیر مقامی دونوں لہجوں میں چمر نام دو لفظوں کے قریب ہے یا تو اس کی اصل ثمر ہے یا چمیر (مقامی لہجہ ) یا چمیار(غیر مقامی لہجہ ) میں ۔ اور لفظ کنڈ اصل حالت میں موجود ہے لہذا اسے بغیر کسی توجیہ کے برحال رکھا اور مانا جائے تو اس صورت میں معمولی سی تبدیلی کو قانون کثرت استعمال کی بنیاد پر ماننا ہوگا اوروہ یہ ہے کہ لفظ ثمر کنڈ میں حرف (ث) کو حرف (چ) سے تبدیل مانا جائے جس کے بعد ثمر کنڈ سے چمر کنڈ بن جائے گا۔ اور لفظ چمیر کنڈ میں بھی لفظ چمیر میں قانون کثرت استعمال کی بنیاد پر حرف (ی) کے حذف کے ساتھ چمر کنڈ بنتا ہے ۔
اب اس پر اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ چمر کنڈ کی اصل ثمر کنڈ زیادہ صحیح ہے یا چمیر کنڈ ۔ تو میرا خیال یہ ہے کہ ثمرکنڈ زیادہ صحیح ہے اس کی وجہ یہ ہے کیوں کہ ثمر کا معنی ہے میوہ جات اور کنڈ کا معنی ہےمٹھاس یعنی میوے کی مٹھاس جب کہ چمیر کا معنی ہے موچی تو چمیراور کنڈ کے معنی میں قرب کے بجائے بعدآرہی ہے اور یہ چیز ثابت کررہی ہے کہ چمرکنڈ کی اصل ثمر کنڈ ہے نہ کہ چمیر کنڈ
نیز پشتو لہجہ چاہے مقامی ہو یا غیر مقامی اس کی کسی لغت میں لفظ چمر کا وجود نہیں ہے جو اس بات کی مضبوط دلیل بن رہی ہے کہ چمر یا تو ثمر ہے یا پھر چمیر /چمیار ہے۔​
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
1:52 AM
Threads
834
Messages
11,713
Reaction score
13,878
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,317.03
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:kia-baat:
:10xbvw3:
:nicepost:

ایسے ہی مفید اشتراک کا سلسلہ جاری رکھیں
:goodpost:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks