مساجد کے فضائل ، آداب اور احکام قسط چہارم

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
5:54 AM
Threads
206
Messages
593
Reaction score
956
Points
460
Gold Coins
420.37
مسجد میں تجارت یا گم شدہ اشیاء کا اعلان نہ کرنا:۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ:جب تم دیکھو کہ کوئی شخص مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہے تو کہو کہ اللہ تمھیں تجارت میں فائدہ نہ دے۔اور جب کوئی گمشدہ چیز کا اعلان کر رہا ہو تو کہو کہ اللہ تمہیں نہ لوٹائے۔
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِی َاللہ عَنہُ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: إِذَا رَأَیْتُمْ مَنْ یَبِیعُ أَوْ یَبْتَاعُ فِی الْمَسْجِدِ، فَقُولُوا: لاَ أَرْبَحَ اللَّہُ تِجَارَتَکَ، وَإِذَا رَأَیْتُمْ مَنْ یَنْشُدُ فِیہِ ضَالَّۃً، فَقُولُوا: لاَ رَدَّ اللَّہُ عَلَیْکَ
سُنَن التِرمِذِی أَبْوَابُ الْبُیُوعِ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺبَابُ النَّہْیِ عَنِ البَیْعِ فِی الْمَسْجِدِ
نوٹ: مسجد، مدرسہ کی تعمیر، فوتگی، انسانی گم شدگی، وعظ و نصیحت یا کسی فلاحی کام کے لیے اعلان کی گنجائش ہے۔
مسجد میں اونچی آواز سے تلاوت نہ کرنا:۔
ایک دفعہ حضور ﷺ نے مسجد میں اعتکاف کیا، آپ ﷺ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو پردہ اٹھا کر فرمایا: تم میں سے ہر ایک اپنے پروردگار کو پکارتا ہے لہذا کوئی دوسرے کو ایذاء نہ دے اور نہ اپنی آواز قرآن پڑھتے ہوئے دوسرے کے مقابلے میں بلند کرے۔
عَنْ أَبِی سَعِیدٍ رَضِی َاللہ عَنہُ قَالَ: اعْتَکَفَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺَ فِی الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَہُمْ یَجْہَرُونَ بِالْقِرَاءَۃِ، فَکَشَفَ السِّتْرَ، وَقَالَ: أَلَا إِنَّ کُلَّکُمْ مُنَاجٍ رَبَّہُ، فَلَا یُؤْذِیَنَّ بَعْضُکُمْ بَعْضًا، وَلَا یَرْفَعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الْقِرَاءَۃِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سُنَن اَبِی داؤد أَبْوَابُ قِیَامِ اللَّیْلِ بَابٌ فِی رَفْعِ الصَّوْتِ بِالْقِرَاءَۃِ فِی صَلَاۃِ اللَّیْلِ
مسجد میں آواز اونچی کرناجائز نہیں ہے۔
حضرت سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں کھڑا تھا تو کسی نے مجھے کنکری ماری میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے (چنانچہ انھوں نے مجھ سے) فرمایا کہ جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کو میرے پاس لاؤ (جو مسجد میں اونچی آواز سے بول رہے تھے) میں ان دونوں کو لے آیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں کون ہوں؟ یا شاید یہ پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہوں؟ تو انہوں نے کہا ہم طائف کے باشندے ہیں (اس پر) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا: اگر تم مدینہ منورہ کے شہری ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا کہ تم مسجد رسول ﷺ میں آوازاونچی کرتے ہو۔
عَنِ السَّاءِبِ بْنِ یَزِیدَ رَضِی َاللہ عَنہُ قَالَ: کُنْتُ قَاءِمًا فِی المَسْجِدِ فَحَصَبَنِی رَجُلٌ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الخَطَّاب رَضِی َاللہ عَنہُ ِ، فَقَالَ: اذْہَبْ فَأْتِنِی بِہَذَیْنِ، فَجِءْتُہُ بِہِمَا، قَالَ: مَنْ أَنْتُمَا - أَوْ مِنْ أَیْنَ أَنْتُمَا؟ - قَالاَ: مِنْ أَہْلِ الطَّاءِفِ، قَالَ: لَوْ کُنْتُمَا مِنْ أَہْلِ البَلَدِ لَأَوْجَعْتُکُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَکُمَا فِی مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ
صَحِیح البُخَارِی کِتَابُ الصَلاۃ بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ فِی المَسَاجِدِ
مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا گناہ ہے:۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ: لوگوں پر عنقریب ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ اپنی دنیا داری کی باتیں مسجدوں میں کیا کریں گے لہٰذا تم ان کے پاس بھی نہ بیٹھنا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔
عَنِ الْحَسَن ِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ:یَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُونُ حَدِیثُہُمْ فِی مَسَاجِدِہِمْ فِی أَمْرِ دُنْیَاہُمْ. فَلَا تُجَالِسُوہُمْ فَلَیْسَ لِلَّہِ فِیہِمْ حَاجَۃٌ
مِشکوۃ المصابیح کتاب الصَّلَاۃ بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاۃ الْفَصْل الثَّالِث
بدبودار چیز(پیاز، لہسن)کھاکر مسجد جانے سے روکا گیا ہے:۔
حضورﷺ نے فرمایا کہ :جس شخص نے لہسن یا پیاز کھایا وہ ہم سے اور ہماری مسجدوں سے دور رہے اور اپنے گھر بیٹھے۔
عَن جَابِر بْنَ عَبْدِ اللہِ رَضِی َاللہ عَنہُ قَال۔۔۔۔۔۔۔۔۔َ رَسُولَ اللہِ ﷺ، قَالَ: مَنْ أَکَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا، فَلْیَعْتَزِلْنَا أَوْ لِیَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْیَقْعُدْ فِی بَیْتِہِ
صَحِیح مُسلِم کِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاۃَ بَابُ نَہْیِ مَنْ أَکَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ کُرَّاثًا أَوْ نَحْوَہَا
نوٹ:اس میں ہر قسم کی وہ بدبودار چیز داخل ہے کہ جس کی بوسے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے خواہ نسواراور سگریٹ کی بو کیوں نہ ہو اس لیے ایسے لوگ اپنے منہ کی صفائی کا خصوصی خیال رکھا کریں اورمنہ کی صفائی کے بعد دو چار دانے الائچی یا کوئی بھی ایسی چیز (جو منہ کے بدبو کو ختم کرکے خوش بو میں تبدیل کرے)ضرور استعمال کریں۔اسی طرح بدن اور کپڑوں سے پسینے کی بو کابھی یہی حکم ہے۔
مسجدمیں تھوکنا گناہ ہے:۔
حضور ﷺ نے فرمایاکہ:مسجد میں تھوکنا گناہ ہے۔۔۔۔
عَن أَنَس بْنَ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ البُزَاقُ فِی المَسْجِدِ خَطِیئَۃٌ۔۔۔۔
صَحِیح البُخَارِی کِتَابُ الصَّلاَۃ ِبَابُ کَفَّارَۃِ البُزَاقِ فِی المَسْجِد
مسجد میں انگلیاں چٹخانے سے منع کیا گیا ہے:۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ:جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرکے مسجد کے ارادے سے نکلے تو وہ اپنے ہاتھوں سے تشبیک (یعنی انگلیاں چتخانا)نہ کرے کیوں کہ وہ گویا نماز کی ہی کی حالت میں ہے۔
إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَہُ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَی الْمَسْجِدِ فَلَا یُشَبِّکَنَّ یَدَیْہِ فَإِنَّہُ فِی صَلَاۃٍ
سُنَن اَبِی داؤدکتاب الصَّلَاۃ بَابُ مَا جَاءَ فِی الْہَدْیِ فِی الْمَشْیِ إِلَی الصَّلَاۃ
مسجد میں ان امور سے بھی بچنا:۔
حضور ﷺ نے فرمایاکہ: اپنی مسجدوں کو بچوں، مجنونوں، خرید و فروخت کرنے والوں اور اپنے جھگڑوں، زور زور سے بولنے، حدود قائم کرنے اور تلواریں (کسی بھی قسم کا اسلحہ) کھینچنے سے محفوظ رکھو۔ مساجد کے دروازاوں پر طہارت خانے بناؤ اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو چھڑکا کرو۔
عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَنِّبُوا مَسَاجِدَکُمْ صِبْیَانَکُمْ، وَمَجَانِینَکُمْ، وَشِرَاءَکُمْ، وَبَیْعَکُمْ، وَخُصُومَاتِکُمْ، وَرَفْعَ أَصْوَاتِکُمْ، وَإِقَامَۃَ حُدُودِکُمْ، وَسَلَّ سُیُوفِکُمْ، وَاتَّخِذُوا عَلَی أَبْوَابِہَا الْمَطَاہِرَ، وَجَمِّرُوہَا فِی الْجُمَعِ
سُنَن اِبنِ مَاجہ کِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَالْجَمَاعَاتِ بَابُ مَا یُکْرَہُ فِی الْمَسَاجِد
نوٹ: اس حدیث میں ان بچوں کی طرف اشارہ ہے جوچھوٹے ہیں اور پیشاب وغیرہ کے حوالے سے شعور نہیں رکھتے ہیں یا سرسرپرست کی موجودگی میں بھی چیختے چلاتے اور شرارت کرتے ہیں ایسے بچوں کو مسجد سے دور رکھیں اور جو بچے شریف الطبیعت ہیں یا شرارتی تو ہیں مگر سرپرست کی موجودگی میں چیختے چلاتے اورشرارت نہیں کرتے ہیں اور پیشاب وغیرہ کے حوالے سے باشعور ہیں تو انھیں مسجد ساتھ لانا چاہیے۔
مسجد کی تعمیر کا مقصد:۔
مسجد کی تعمیر کا مقصد اس میں اللہ تعالی کی عبادت کرنا ہے لہذا اس میں معتکف کے سوا باقی ہر ایک کے لیے کھانا، پینا، سونا اور رہنا درست نہیں اور معتکف کے لیے مسجدمیں ان امور کو کرنا مجبوری ہے کیوں کہ معتکف مسجد سے باہر نہیں جاسکتا ہے۔
عَنِ ابن عمر قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا تَتَّخِذُوا الْمَسَاجِدَ طُرُقًا إِلَّا لِذِکْرٍ أَوْ صَلَاۃٍ
اَلمُعجَم الکَبِیر لِلطبِرَانِی بَاب ُالعَینِ سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَر
عَن عائشہ رَضِیَ اللہ عَنہ السُّنَّۃُ فِی الْمُعْتَکِفِ أَنْ لَا یَخْرُجَ إِلَّا لِلْحَاجَۃِ الَّتِی لَا بُدَّ مِنْہَا وَلَا یَعُودُ مَرِیضًا وَلَا یَمَسُّ امْرَأَۃً وَلَا یُبَاشِرُہَا وَلَا اعْتِکَافَ إِلَّا فِی مَسْجِدِ جَمَاعَۃٍ، وَالسُّنَّۃُ فِیمَنِ اعْتَکَفَ أَنْ یَصُومَ
السُنَن الکُبری کِتَابُ الصِّیَامِ بَابُ الِاعْتِکَافِ فِی الْمَسْجِد
 
Last edited:

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
9:54 AM
Threads
844
Messages
12,160
Reaction score
14,156
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,356.05
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:masha-allah:
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے
:jazak-allah:
ایسی ہی اچھی باتوں کا اشتراک جاری رکھیں
:goodpost:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks