روزے کے مسائل

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
1:08 PM
Threads
205
Messages
592
Reaction score
953
Points
460
Gold Coins
418.61
روزے کے مسائل
روزہ ترک کر نا

شرعی عذر کے بغیر روزہ تر کر نا،نا جا ئز حرام اور سخت گناہ ہے۔
اگر کسی آدمی نے بلا عذر رمضان کے روازے نہ رکھے بعد میں افسوس ہوا اور اس نے قضا روزے رکھ لئے تو فرض تو ادا ہو جائے گا لیکن رمضان میں روزے رکھنے کا جتنا ثواب ملتا تھا وہ نہیں ملے گا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فر مایا
من افطر یوما من رمضان من غیر رخصۃ والا مر ض لم یقض عنہ صوم الدھر کلہ وان صامہ
مشکوٰۃ باب الکبائر

جس آدمی نے عذر اور بیماری کے بغیر رمضان کا ایک روزہ چھو ڑ دیا تو عمر بھر روزہ رکھنے سے بھی ایک روزہ کی تلافی نہ ہو گی۔اگر چہ قضا کے طور پہ عمر بھر بھی روزے رکھ لے۔
روز ہ تو ڑنا
اگر رمضان کا روزہ رکھ کر بلا عذر توڑدیا تو قضا اور کفارہ دونو ں لازم ہیں۔کفارہ یہ کہ مسلسل ساٹھ روزے رکھے جا ئیں در میان میں ایک روزے کا بھی ناغہ نہ کیا جا یئے۔اگر در میان میں ایک روزہ چھو ڑ دیا تو دوبارہ نئے سرے سے ساٹھ روزے رکھنا لازم ہونگے۔اگر روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں ہے تو ساٹھ مسکینو ں کو دو وقت کھانہ کھلا یا جا ئے۔
اور اگر رمضان کے علاوہ کو ئی دوسرا روزہ تو ڑ دیا تو اس کی جگہ ایک روز قضا کر نا لازم ہو گا۔
اگر رمضان شریف میں کسی کا روزہ ٹوٹ گیا تو روزہ ٹوٹنے کے بعد بھی دن میں کچھ کھانا پینا اور جماع(بیوی سے ہمبستری) کر نا جا ئز نہیں۔سارا دن روزہ دارو ں کی طرح رہنا واجب ہے۔
روزہ تو ڑنا کب جا ئز ہو تا ہے؟
روزہ دار اچا نک ایسا بیمار ہو گیا کہ اگر روزہ نہ تو ڑے گا تو موت کا خطرہ ہے یا بیماری بڑھ جا ئے گی۔تو روزہ تو ڑدینا بہتر ہے۔مثلا اچانک پیٹ میں شدیددرد شروع ہو گیا برداشت سے با ہر ہو گیا،دوالینا ضروری ہے۔یا سانپ اور بچھو وغیرہ نے کاٹ لیا تو ایسی صورت میں دوا پی لینا اور روزہ توڑدینا درست ہے۔
حاملہ عورت کو کوئی ایسی بات پیش آگئی کہ اس سے اپنی جان یا بچے کی جان کا ڈر ہے تو روزہ تو ڑنا نہ صرف جا ئز ہے بلکہ بہتر ہے۔
کھانا وغیرہ پکانے کی وجہ سے بے حد پیاس لگی اور اتنا ذیادہ بے تاب ہو گیا کہ جان کا خوف ہے تو روزہ تو ڑدینا جا ئز ہے لیکن اگر روزہ دار نے خود قصداً اتنا کام کیا جس سے ایسی حالت ہو گئی تو گناہ گار ہو گا اور روزہ تو ڑنا حرام ہو گا۔
روزہ رکھنے سے بیمار ہوجانا
ایساآدمی جو روزہ رکھنے سے ایسا بیمار ہو جاتا ہے کہ قریب المرگ ہو تا ہے اور روزہ رکھنے پر قادر نہیں ہو تا اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے تو وہ شخص روزہ نہ رکھے بلکہ روزے کے بدلے میں فدیہ دیں۔ہا ں اگر فیہ دینے کے بعد تندرست ہو گیا اور روزہ رکھنے کے قابل ہو گیا تو اس صور ت میں فدیہ با طل ہو جا ئے گا۔اور فوت شدہ روزو ں کی قضا کر نا لازم ہو گا۔
روزے سے بچنے کیلئے سفر کر نا
اگر واقعی مسافر ہے تو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہو گی۔لیکن روزہ سے بچنے کے لئے حیلہ کر نا(سفر کر کے روزہ سے بچنا) مزموم اور بری بات ہے
رمضان المبارک کے روزے فر ض عین ہے ان کی فرضیت کتاب اللہ سنت رسول ؐاور اجماع امت سے ثابت ہے۔
رمضان المبارک کے روزو ں کی فر ضیت کا انکار کر نے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور فر ضیت کو ماننے کے باوجود روزہ نہ رکھنے والا فاسق اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے اور روزہ کا مذاق اڑانے والا بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
آنسو
اگر روزہ دار کے منہ میں آنسو دا خل ہو تو اگر تھوڑے ہو جیسے ایک دو قطرے تو روزہ فاسد نہ ہو گا۔اور اگر بہت ذیادہ آنسو منہ میں جمع ہو گئے اور ان کو نگل لیا تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔
آنکھ
روزے کی حالت میں دن میں سر مہ لگا نا جا ئز ہے اس سے روزے پر کو ئی اثر نہیں پڑتا یہاں تک کہ سر مہ لگانے کے بعد تھوک یا ناک کی رطوبت میں سرمے کا اثر دکھا ئی دے تو بھی روزہ فاسد یا مکروہ نہیں ہو تا۔
اسی طرح دوائی ڈالنے سے بھی روزہ فاسد نہ ہو گا۔
غرغرہ کا حکم
روزے کی حالت میں غسل کرتے وقت غرغرہ کر نے اور ناک کے نرم حصے میں پانی پہنچا نے کا حکم نہیں ہے تاکہ روزہ ٹوٹنے کا اندیشہ نہ ہو لھٰذا دن میں غسل کرتے وقت غرغرہ نہ کریں
اگر غرغرہ کرنے میں پا نی حلق سے اتر گیا تو روزہ فا سد ہو جائے گا قضا لازم ہو گی کفارہ نہیں۔
روزے کی حالت میں وضو اور غسل کے دوران غرغرہ نہیں کرنا چا ہئے۔
غروب سے پہلے آذان پر افطار
اگر مؤذن نے آفتاب غروب ہو نے سے پہلے مغرب کی آذان دے دی اور لوگوں نے مؤذن کی آذان سن کر افطار کر لیا تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔ قضا واجب ہو گی کفارہ نہیں۔
اگر مؤذن کی آذان سننے کے بعد افطار کا وقت ہو نے پر یقین نہیں بلکہ شبہ ہو گیا تھا کہ وقت ہوا یا نہیں اس صورت میں افطار کرنے کی صورت میں قضا بھی لازم ہو گی اور کفارہ بھی۔
غسل کرنا
روزے میں غسل کر نا جا ئز ہے اس سے روزے میں کچھ فرق نہیں آتا چا ہئے ایک دفعہ غسل کرے یا بار بار غسل کر ے اس سے کو ئی فرق نہیں پڑتا۔
اگر غسل کرتے ہو ئے پانی حلق میں چلا گیا تو روزہ فاسد ہو جائیگا۔قضالازم ہو گی کفارہ نہیں۔
غسل جنابت
رمضان میں غسل جنابت صبح صادق کے بعد کرنے سے روزہ فاسد نہیں ہو تا اور روزے میں خرا بی لازم نہیں آتی۔البتہ فجر کی نماز کے بعد کر لیا کریں تاکہ نماز قضا نہ ہو البتہ غسل جنابت میں اتنا تاخیر کرنا کہ نماز فجر قضا ہو جائے سخت گناہ ہے۔
قے ہو نا
اگر روزے کے دوران بلا اختیار اور بلا قصد خود بخود قے ہو گئی تو وہ روزہ فاسد نہیں ہوگا۔چاہے قے تھو ڑی سی ہو یا زیادہ دونو ں صورتو ں میں روزہ بر قرار رہے گا۔
اگر اپنے اختیار سے قے کی اور منہ بھر کر قے ہو گئی تو روزہ فاسد وہو گیا۔
اگر اپنے اختیار سے قے کی اور منہ بھر کر قے نہیں ہو ئی تو روزہ فاسد نہیں ہو گا۔
اگر اچانک تھو ڑی سی قے آئی پھر بلا اختیار خود بخود حلق میں واپس چلی گئی تو روزہ فاسد نہ ہو گا۔ہا ں اگر قصداًلو ٹا لی تو روزہ فاسد ہو گا۔
اگر قے منہ بھر کر آئی اور چنے کے برابر یا اس سے زائد جان بو جھ کر اپنے اختیار سے واپس لو ٹا لی تو روزہ فاسد ہو جا ئے گا۔قضا لازم ہو گی،کفارہ نہیں۔
کان
کان کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کان کے پردے میں سوراخ ہوتو پھر پانی،دوائی اور تیل وغیرہ ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا کیوں کہ اس صورت میں وہ چیز کان کے اندر سے ہوکر حلق میں چلی جاتی ہے اور اگر کان کے پردے میں سوراخ نہیں تو پھر روزہ نہیں ٹوٹے گا کیوں اس صورت میں کان کے اندر سے کوئی چیز بھی حلق تک نہیں پہنچتی ہے اگر چہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو۔
کلی کر نا
روزے میں بھی و ضو کے دوران کلی کر نا درست ہے اور غسل جنابت میں فر ض ہے۔ لیکن غرارہ نہ کریں
روزے میں و ضو اور غسل کے بغیر صرف گر می کی وجہ سے کلی کر نا بھی جا ئز ہے اس سے روزہ فاسد نہیں ہو تا۔
کلی کر تے وقت پانی حلق میں چلا گیا اور کلی کرتے وقت روزہ یاد تھا تو روزہ فاسد ہو گیا،قضا واجب ہے،کفارہ واجب نہیں اور اگر کلی کے دوران روزہ یاد نہیں تھا تو روزہ فاسد نہیں ہو گا
کلی کرنے کے بعد منہ میں پانی کے اثرات رہ جانا
و ضو،غسل،یا کلی کے بعد منہ میں پانی کی جو تر ی باقی رہ جاتی ہے اس کو نگل جانے سے روزہ فاسد نہیں ہو تا،مگر اس میں یہ شرط ہے کلی کرنے کے بعد کچھ پانی با قی رہ جاتا ہے لھذا ایک دو مرتبہ تھوک دینے کے بعد پانی باقی نہیں رہتا،ہلکی سی تری رہ جاتی ہے۔
مستحبات روزہ
سورج ڈوبتے ہی نماز سے پہلے افطار کر نے میں جلدی کر نا۔
کھجور یا چھوارے سے افطار کر نا اس کے بعد پانی سے۔
جس چیز سے افطار کیا جا ئے وہ طاق عدد ہو،مثلاً تین،پانچ،سات وغیرہ۔
افطار کے بعد دعا پڑھنا مثلا ً،اللھم لک صمت و علی رزقک افطرت۔
سحری میں کچھ نہ کچھ کھانا۔
سحری کرنے میں وقت کے اندرآذان فجر سے پہلے پہلے روزہ بند کر کے منہ کو صاف کرنا)تا خیر کر نا۔
زبان کو نا جا ئز با تو ں سے اور اعضاء کو نا جا ئز کامو ں سے باز رکھنا۔
رشتہ دارو ں،محتا جو ں،اور مسکینو ں کو صدقہ و خیرات سے نوازنا اور حصول علم میں مشغول رہنا،قرا ٓن شریف کی تلا وت کر نا،درود شریف، استغفار اور ذکر و اذکار میں لگے رہنا، اور اعتکاف کر نا،۔
درج ذیل چیزیں روزے کے لیے مفسد اور مضر نہیں
مسواک کرنا
سر یا موچھوں پر تیل لگانا
3آنکھوں میں دوا یا سرمہ ڈالنا
خوشبو سونگھنا
گرمی یا پیا س کی وجہ سے غسل کرنا
کسی قسم کا بھی انجکشن یا ٹیکہ لگوانا
بھول کر کھانا پینا
حلق میں بلا اختیار دھواں گرو غبار یا مکھی وغیرہ کا چلا جانا
کان میں پانی کا چلا جانا
خود بخود قے آنا
نیند میں احتلام ہونا
دانتوں سے خون آنا اس شرط کے ساتھ کہ حلق میں نہ جائے
مکروہات روزہ
منہ میں تھوک جمع کر کے نگلنا روزے کی حالت میں مکروہ ہے اگر چاچہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا
فتاوی ھندیہ
بلا عذر کسی چیز کا چھکنا چبانا
بلا عذر کسی چیز کے چھکنے اور چبانے سے روزے میں کرا ہت آجا تی ہے۔
نو ٹ؛اس کی کراہت عدم عذر پر موقوف ہے لھذا اگر کو ئی عذر ہو مثلا ً کسی عورت کا شوہر بد مزاج ہے اور کھانا خراب ہو نے پر اس کے غصہ ہو نے کا اندیشہ ہے تو اسے کھانے کا نمک زبان پر رکھ کر چکھنے کی اجازت ہو گی اور ایسی صورت میں روزہ مکروہ نہ ہو گا۔اسی طرح اگر چھو ٹے بچے کو روٹی چبا کر کھلانے کی ضرورت ہو اور روزہ دارعو رت کے علاوہ وہا ں کو ئی اس ضرورت کو پورا کرنے والا نہ ہو تو اسے چبا کر دے سکتی ہے لیکن یہ خیال رہے چھکنے یا چبانے میں کو ئی حصہ حلق سے نیچے نہ اترے ورنہ روزہ جاتا رہے گا۔
فتاوی شامی
ٹوتھ پیسٹ یا کوئی منجن استعمال کر نا
رو زے کی حالت میں ٹو تھ پیسٹ استعمال کر نا کو ئلہ یا کوئی منجن دانتو ں میں ملنا یا عورت کاا س طرح ہو نٹ پر سر خی لگانا کہ اس کے پیٹ میں چلے جانے کا اندیشہ ہو،مکروہ ہے۔
فتاوی شامی
بیو ی سے دل لگی کرنا
روزے میں بیو ی سے دل لگی کرنا بھی مکروہ ہے جب کہ جماع یا انزال کا خوف ہو
فتاوی شامی
روزے کی حالت میں کمزور کر دینے والا کام کرنا
ہر ایسا کام جس سے اس قدر ضعف کا اندیشہ ہو کہ روزہ تو ڑدینا پڑ جا یئگا مکروہ ہے۔
لا یجوز ان یعمل عملا ً یصل بہ الی الضعف
فتاوی شامی

روزے کی حا لت میں گنا ہ کے کام کر نا
روزے کی حا لت میں ہر گناہ کاکام خواہ قولی ہو یا فعلی روزہ کو مکروہ بنا دیتا ہے۔ان النبی ﷺ قال من لم یدع قول الزور و العمل بہ فلیس للہ حا جۃ بان یدع طعا مہ و شرابہ
سنن ترمذی
کلی کرنے میں مبا لغہ کر نا
ناک میں پانی چڑھانے اور کلی کرنے میں مبا لغہ کرنے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔
و تکرہ لہ المبا لغۃ فی المضمضۃ والا ستنشاق
فتاوی ھندیہ

مشکوک وقت تک سحری کو مو ئ خر کر نا
سحر ی میں تا خیر مستحب ہے مگر اتنا تا خیر کر نا کہ وقت میں شک پیدا ہو جائے مکروہ ہے۔
ثم تا خیر السحور مستحب کذا فی النھا یۃ،و یکرہ تا خیر السحور الی وقت یقع فیہ الشک و ھکذا فی السر اج الوھا ج
فتاوی ھندیہ
 

Abu Dujana

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Popular
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
5:08 PM
Threads
81
Messages
963
Reaction score
1,360
Points
452
Location
Karachi, Pakistan
Gold Coins
513.93
جزاک اللہ۔
روزے کی ضروری مسائل آپ نے بڑی عمدگی سے واضح کئے ہیں۔
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
1:08 PM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
111.84
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks