سورۃ البقرۃ پارہ 2 رکوع 18 آیات 153 تا 163

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
4:13 AM
Threads
373
Messages
858
Reaction score
1,337
Points
591
Location
karachi
Gold Coins
1,035.17
Permanently Change Username Color & Style.

سورہ البقرۃ آیت نمبر 153

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾۔
ترجمہ
اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو (١٠١) بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
تفسیر
101: اس سورت کی آیت نمبر ٤٠ سے بنی اسرائیل سے متعلق جو سلسلہ کلام شروع ہوا تھا وہ پورا ہوگیا اور آخر میں مسلمانوں کو ہدایت کردی گئی کہ وہ فضول بحثوں میں الجھنے کے بجائے اپنے دین پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں، چنانچہ اب مختلف اسلامی عقائد اور احکام کا بیان شروع ہورہا ہے، اس بیان کا آغاز صبر کی تاکید سے ہوا ہے ؛ کیونکہ یہ دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ میں دشمنوں کی طرف سے طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آرہی تھیں، اسی زمانے میں جنگوں کا سلسلہ بھی جاری تھا اور بہت سی سختیاں برداشت کرنی پڑرہی تھیں، جنگوں میں اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست شہید بھی ہورہے تھے یا ہونے والے تھے۔ لہذا اب مسلمانوں کو تلقین کی جارہی ہے کہ دین حق کے راستے میں یہ آزمائشیں تو پیش آنی ہیں، ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر راضی رہ کر صبر کا مظاہرہ کرے، واضح رہے کہ صبر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کسی تکلیف یا صدمہ پر روئے نہیں، صدمے کی بات پر رنج کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے اس لئے شریعت نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی، جو رونا بےاختیار آجائے وہ بھی بےصبری میں داخل نہیں، البتہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ صدمے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہ ہو ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر انسان عقلی طور پر راضی رہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر آپریشن کرے تو انسان کو تکلیف تو ہوتی ہے اور بعض اوقات اس تکلیف کی وجہ سے انسان بیساختہ چلا بھی اٹھتا ہے ؛ لیکن اسے ڈاکٹر سے شکایت نہیں ہوتی ؛ کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے اس کی ہمدردی میں اور اس کی مصلحت کی خاطر کررہا ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 154

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾۔
ترجمہ
اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوں ان کو مردہ نہ کہو، دراصل وہ زندہ ہیں مگر تم کو (ان کی زندگی کا) احساس نہیں ہوتا

سورہ البقرۃ آیت نمبر 155

وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ۔
ترجمہ
اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو ۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 156

الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ؕ۔
ترجمہ
یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ “ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (١٠٢)۔
تفسیر
102: اس فقرے میں پہلے تو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ چونکہ ہم سب اللہ کی ملکیت میں ہیں اس لئے اسے ہمارے بارے میں ہر فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور چونکہ ہم اس کے ہیں اور کوئی بھی اپنی چیز کا برا نہیں چاہتا، اس لئے ہمارے بارے میں اس کا ہر فیصلہ خود ہماری مصلحت میں ہوگا، چاہے فی الحال ہمیں وہ مصلحت سمجھ میں نہ آرہی ہو، دوسری طرف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے پاس اسی جگہ جانا ہے جہاں ہمارا کوئی عزیز یا دوست گیا ہے، لہذا یہ جدائی عارضی ہے ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور جب ہم اس کے پاس لوٹ کرجائیں گے تو ہمیں اس صدمے یا تکلیف پر انشاء اللہ ثواب بھی ملنا ہے، جب یہ اعتقاد دل میں ہو تو اسی کا نام صبر ہے، خواہ اس کے ساتھ ساتھ بےاختیار آنسو بھی نکل رہے ہوں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 157

اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ۟ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾۔
ترجمہ
یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 158

اِنَّ الصَّفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ وَ مَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۵۸﴾۔
ترجمہ
بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، لہذا جو شخص بھی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس کے لیے اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ ان کے درمیان چکر لگائے (١٠٣) اور جو شخص خوشی سے کوئی بھلائی کا کام کرے تو اللہ یقینا قدر دان (اور) جاننے والا ہے۔
تفسیر
103: صفا اور مروہ مکہ مکرمہ میں دوپہاڑیاں ہیں، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ (رض) کو اپنے دودھ پیتے صاحبزادے اسماعیل (علیہ السلام) کے ساتھ چھوڑ کرگئے تو حضرت ہاجرہ (رض) پانی کی تلاش میں ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑی تھیں، حج اور عمرے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان سعی کرنا واجب قراردیا ہے، اگرچہ سعی واجب ہے مگر یہاں “ کوئی گناہ نہیں ” کے الفاظ اس لئے استعمال فرمائے گئے ہیں کہ زمانہ ٔ جاہلیت میں یہاں دو بت رکھ دئے گئے تھے جو اگرچہ بعد میں ہٹالئے گئے مگر بعض صحابہ کو یہ شک ہوا کہ شاید ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا جاہلیت کی نشانی ہونے کی وجہ سے گناہ ہو، آیت نے یہ شک دور کردیا۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 159

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الۡہُدٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾ۙ۔
ترجمہ
بیشک وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم انہیں کتاب میں کھول کھول کر لوگوں کے لیے بیان کرچکے ہیں (١٠٤) تو ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت بھیجتے ہیں،
تفسیر
104: اشارہ ان یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف ہے جو پچھلی آسمانی کتابوں میں مذکور ان بشارتوں کو چھپاتے تھے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں نازل ہوئی تھیں

سورہ البقرۃ آیت نمبر 160

اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اَصۡلَحُوۡا وَ بَیَّنُوۡا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۰﴾۔
ترجمہ
ہاں وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی ہو اور اپنی اصلاح کرلی ہو (اور چھپائی ہوئی باتوں کو) کھول کھول کر بیان کردیا ہو تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں، اور میں توبہ قبول کرنے کا خوگر ہوں بڑا رحمت والا۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 161

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ مَاتُوۡا وَ ہُمۡ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃُ اللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾ۙ۔
ترجمہ
بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہے

سورہ البقرۃ آیت نمبر 162

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۱۶۲﴾۔
ترجمہ
وہ ہمیشہ اسی پھٹکار میں رہیں گے، نہ ان پر سے عذاب کو ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

سورہ البقرۃ آیت نمبر 163

وَ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۳﴾۔
ترجمہ
اور، تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں جو سب پر مہربان، بہت مہربان ہے۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Joined
Apr 25, 2018
Local time
4:13 AM
Threads
880
Messages
13,257
Reaction score
14,773
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,474.58
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:masha-allah:
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے
:jazak-allah:
ایسی ہی اچھی باتوں کا اشتراک جاری رکھیں
:goodpost:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks