سورۃ البقرۃ پارہ 2 رکوع 17 آیات 148 تا 152

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
5:58 PM
Threads
205
Messages
548
Reaction score
1,056
Points
489
Location
karachi
Gold Coins
969.63
Permanently Change Username Color & Style.

سورہ البقرۃ آیت نمبر 148

وَ لِکُلٍّ وِّجۡہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیۡہَا فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ؃ اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یَاۡتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۴۸﴾۔
ترجمہ
اور ہر گروہ کی ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے ،۔ لہذا تم نیک کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم جہاں بھی ہوگے اللہ تم سب کو (اپنے پاس) لے آئے گا۔ (٩٧) یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
تفسیر
97: جو لوگ قبلے کی تبدیلی پر اعتراض کررہے تھے ان پر حجت تمام کرنے کے بعد مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ ہر مذہب کے لوگوں نے اپنے اپنے قبلے الگ الگ بنارکھے ہیں اور تمہارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس دنیا میں ان کو کسی ایک قبلے پر جمع کرسکو، لہذا اب ان لوگوں سے قبلے کی بحث میں پڑنے کے بجائے تمہیں اپنے کام میں لگ جانا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اپنے نامہ اعمال میں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا اضافہ کرو اور اس کام میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو، آخری انجام یہ ہوگا کہ تمام مذہبوں والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے پاس بلائے گا اور اس وقت ان سب کی ترکی تمام ہوجائے گی وہاں سب کا قبلہ ایک ہی ہوجائے گا، کیونکہ سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 149

وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ اِنَّہٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۹﴾۔
ترجمہ
اور تم جہاں سے بھی (سفر کے لیے) نکلو، اپنا منہ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف کرو، اور یقینا یہی بات ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہے (٩٨) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔
تفسیر
98: اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کی طرف رخ کرنے کا حکم ان آیتوں میں تین مرتبہ دہرایا ہے، اس سے ایک تو حکم کی اہمیت اور تاکید جتلانی مقصود ہے، دوسرے یہ بھی بتانا ہے کہ قبلے کا رخ کرنا صرف اس حالت میں نہیں ہے جب کوئی شخص بیت اللہ کے سامنے موجود ہو ؛ بلکہ جب مکہ مکرمہ سے نکلا ہوا ہو تب بھی یہی حکم ہے اور کہیں دور چلا جائے تب بھی یہ فریضہ ختم نہیں ہوتا، البتہ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمت کا لفظ استعمال فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا ہے کہ کعبے کا رخ کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان کعبے کی سوفیصد سیدھ میں ہو بلکہ اگر سمت وہی ہے تو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم پورا ہوجائے گا اور انسان اس معاملے میں اتنا ہی مکلف ہے کہ وہ اپنے بہترین ذرائع استعمال کرکے سمت صحیح متعین کرلے ایسا کرلینے کے بعد اس کی نماز ہوجائے گی۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 150

وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ ۙ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَیۡکُمۡ حُجَّۃٌ ٭ۙ اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ ٭ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِیۡ ٭ وَ لِاُتِمَّ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾ۙۛ۔
ترجمہ
اور جہاں سے بھی تم نکلو، اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو، اور تم جہاں کہیں ہو اپنے چہرے اسی کی طرف رکھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت بازی کا موقع نہ ملے (٩٩) البتہ ان میں جو لوگ ظلم کے خوگر ہیں (وہ کبھی خاموش نہ ہوں گے) سو ان کا کچھ خوف نہ رکھو، ہاں میرا خوف رکھو اور تاکہ میں تم پر اپنا انعام مکمل کردوں اور تاکہ تم ہدایت حاصل کرلو۔
تفسیر
99: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بیت المقدس قبلہ تھا، یہودی یہ حجت کرتے تھے کہ دیکھو ہمارا دین برحق ہے، اسی لے یہ لوگ ہمارے قبلے کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور مشرکین مکہ یہ بحث کرتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع کہتے ہیں مگر انہوں نے ابراہیمی قبلے کو چھوڑ کر ان سے سنگین انحراف کرلیا ہے، اب جبکہ قبلے کی تبدیلی میں جو مصلحت تھی وہ حاصل ہوگئی اور اس کے بعد مسلمان ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ قراردے کر اس پر عمل پیرا ہوں گے تو ان دونوں کی حجتیں ختم ہوجائیں گی، البتہ وہ کٹ حجت لوگ جنہوں نے اعتراض کرتے رہنے کی قسم ہی کھا رکھی ہے ان کی زبانیں کوئی نہیں روک سکتا ؛ لیکن مسلمانوں کو ان سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا نہیں چاہیے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 151

کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِنَا وَ یُزَکِّیۡکُمۡ وَ یُعَلِّمُکُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۵۱﴾ؕۛ۔
ترجمہ
( یہ انعام ایسا ہی ہے) جیسے ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہارے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاکیزہ بناتا ہے، اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے (١٠٠)۔
تفسیر
100: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبے کی تعمیر کے وقت دو دعائیں کی تھیں، ایک یہ کہ ہماری نسل سے ایسی امت پیدا فرمائیے جو آپ کی مکمل فرمانبردار ہو، اور دوسری یہ کہ ان میں ایک رسول بھیجئے (دیکھئے پیچھے آیات ١٢٨۔ ١٢٩) اللہ تعالیٰ نے پہلی دعا اس طرح قبول فرمائی کہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کو معتدل امت قرار دے کر پیدا فرمایا (دیکھئے آیت ١٤٣) اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول کرتے ہوئے تم پر یہ انعام فرمایا کہ تمہیں معتدل امت بناکر آئندہ ہمیشہ کے لئے انسانیت کی رہنمائی تمہیں عطا کردی، جس کی ایک اہم علامت یہ بھی ہے کہ ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ بنادیا گیا ہے، اسی طرح ہم نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی دوسری دعا قبول کرتے ہوئے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے درمیان بھیج دیا ہے، جو انہی خصوصیات اور فرائض منصبی کے حامل ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے لئے مانگے تھے، ان میں سے پہلا فریضہ تلاوت آیات ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی آیات کو تلاوت کرنا بذات خود ایک مقصد اور ایک نیکی ہے، خواہ تلاوت آیات بغیر سمجھے کی جائے، کیونکہ قرآن کے معنی کی تعلیم آگے ایک مستقل فریضے کے طور پر بیان کی گئی ہے، دوسرا مقصد قرآن کریم کی تعلیم ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم کے بغیر قرآن کریم کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ممکن نہیں ہے، اور یہ کہ صرف ترجمہ پڑھ لینے سے قرآن کریم کی صحیح سمجھ حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ اہل عرب عربی زبان سے خوب واقف تھے، انہیں ترجمہ سکھانے کے لئے کسی استاذ کی ضرورت نہیں تھی، تیسرے آپ کا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ آپ حکمت کی تعلیم دیں، اس سے معلوم ہوا کہ حکمت و دانائی اور عقلمندی وہی ہے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلقین فرمائی، اس سے نہ صرف آپ کی احادیث کا حجت ہونا معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر آپ کا کوئی حکم کسی کو اپنی عقل کے لحاظ سے حکمت کے خلاف محسوس ہو تو اعتبار اس کی عقل کا نہیں بلکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سکھائی ہوئی حکمت کا ہے، چوتھا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو پاکیزہ بنائیں اس سے مراد آپ کی عملی تربیت ہے، جس کے ذریعے آپ نے صحابہ کرام کے اخلاق اور باطنی صفات کو گندے جذبات سے پاک کرکے انہیں اعلی درجے کی خصوصیات سے آراستہ فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن وسنت کا صرف کتابی علم بھی انسان کی اصلاح کے لئے کافی نہیں ہے، جب تک اس نے اس علم کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی عملی تربیت نہ لی ہو، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو اپنی صحبت سے سرفراز فرما کر ان کی تربیت فرمائی، پھر صحابہ نے تابعین کی اور تابعین نے تبع تابعین کی اسی طرح تربیت کی، اور یہ سلسلہ صدیوں سے اسی طرح چلا آتا ہے، باطنی اخلاق کی اسی تربیت کا علم علم احسان یا تزکیہ کہلاتا ہے اور تصوف بھی در حقیقت اسی علم کا نام تھا اگرچہ بعض نااہلوں نے اس میں غلط خیالات کی ملاوٹ کرکے بعض مرتبہ اسے خراب بھی کردیا ؛ لیکن اس کی اصل یہی تزکیہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم نے یہاں فرمایا ہے، اور ہر دور میں تصوف کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے والے ہمیشہ موجود رہے ہیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 152

فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِیۡ وَ لَا تَکۡفُرُوۡنِ ﴿۱۵۲﴾۔
ترجمہ
اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ لہذا مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
5:58 PM
Threads
834
Messages
11,705
Reaction score
13,877
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,316.53
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:masha-allah:
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے
:jazak-allah:
ایسی ہی اچھی باتوں کا اشتراک جاری رکھیں
:goodpost:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks