روزے کی نیت قسط دوم

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
8:33 AM
Threads
207
Messages
594
Reaction score
964
Points
460
Gold Coins
425.11
روزے کی نیت دوسری قسط میں اس حوالے سے اعتراضات اور ان کے جوابات ذکر کیے جائیں گے
اب یہاں پر معترضین کے اعتراضات اور ان کے جوابات ذکر کئے جائیں گے
پہلا اعتراض

وبصوم غد نویت من شھررمضان والے الفاظ کسی حدیث سے ثابت نہیں
جواب
ان الفاظ کا حدیث ہونے پراعتراض تو تب کیا جائے کہ جب اسے حدیث یا حدیث کا حصہ کہاجائے
اسے کسی نے بھی حدیث نہیں کہا ہے اور نہ حدیث کہ کر لکھے جاتے ہیں
یہ تو جیسے نماز میں نیت کے الفاظ اردو یا عربی میں کہے جاتے ہیں ویسے ہی روزے کی نیت میں کہے جاتے ہیں
دوسرا اعتراض
ان الفاظ کو لوگ دعا سمجھ کرپڑھتے ہیں اور بطور دعا بھی ثابت نہیں
جواب
ان الفاظ کو کسی بھی فقہ کی کتاب میں بطور دعا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے دعا ماناجاتا ہے
بلکہ فقہ کی کتابوں میں بطور نیت کے لکھے گئے ہیں
تیسرا اعتراض
ان الفاظ کے ساتھ نیت کا ثبوت کسی حدیث سے ثابت نہیں
جواب
یہ بات درست ہے کہ ان الفاظ کے ساتھ نیت کا ثبوت نہیں جب یہ ثابت ہے تو اس سے زیادہ سے زیادہ عدم استحباب پر تو استدلال کیا جاسکتا ہے مگر عدم جواز پر اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں کیوں کہ کراہت یا حرمت کے ثبوت کے لیے مستقل دلیل کی ضرورت ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ عدم ثبوت کوئی دلیل نہیں لہذا اس سے جواز ثابت ہوجائے گا اور یہ اس لیے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے اور اس کے لیے مستقل دلیل کی ضرورت نہیں چنانچہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر کوئی دلیل نہیں لیکن ان کی کراہت وحرمت کا کوئی قائل نہیں
چوتھا اعتراض
مذکورہ جملہ قواعد کے اعتبار سے ٹھیک نہیں کیوں کہ اس میں جو لفظ غدا آیا ہے اس کا معنی ہے (کل) جب کہ نیت آج کے روزے کی کیجاتی ہے لہذا ان الفاظ کے ساتھ نیت درست نہیں
جواب
پہلی بات تو یہ ہے کہ غد سے صرف اور صرف کل مراد لینا بھی درست نہیں کیوں کہ غدکے اور معنی بھی ہیں چنانچہ
قرآن پاک میں ہے
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَیءٍ إِنِّی فَاعِلٌ ذَلِکَ غَدًا إِلَّا أَن یَشَاءَ اللَّہُ
ترجمہ:اور (اے پیغمبر)کسی بھی کام کے بارے میں کبھی یہ نہ کہو کہ میں یہ کام کل کرلوں گا،ہاں (یہ کہو) کہ اللہ چاہے گا تو(کرلوں گا)
علماء کرام اس بات کو جانتے ہیں کہ اس آیت میں غداسے بعینہ کل مراد نہیں ہے ورنہ مطلب میں خلل آتا ہے کیونکہ اس میں مقصود صرف کل کے کام کیلئے ان شاء اللہ کہنا نہیں ہے بلکہ اگر آج ہی کوئی کام کرنا ہے تو بھی ان شاء اللہ کہنا ہے اور پرسوں، ترسوں کوئی کام کرنا ہے تو بھی ان شاء اللہ ضروری ہے،اب اگر صرف غدا والا معنی لیا جائے تو مطلب ہوگا کہ اگر کل کے دن کوئی کام کرنے کا ارادہ ہو توان شاء اللہ کہناضروری ہوگا باقی دنوں میں کہنے کی ضرورت نہیں حالانکہ یہ مراد ہرگز نہیں
اسی طرح دیکھیں سورۃقلم
وَغَدَوا عَلَی حَردٍ قَادِرِینَ
اور لپکے ہوئے صبح ہی صبح پہنچ گئے سمجھ رہے تھے کہ قابو پاگئے
اسی طرح دیکھیں سورۃ کھف
یَدعُونَ رَبَّہُم بِالغَدَاۃِ وَالعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجہَہُ
جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں
اسی طرح سورۃ نور میں ہے کہ
یُسَبِّحُ لَہُ فِیہَا بِالغُدُوِّ وَالآصَالِ
وہاں صبح اور شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں
اسی طرح سورۃ رعد میں ہے کہ
وَلِلَّہِ یَسجُدُ مَن فِی السَّمَاوَاتِ وَالأَرضِ طَوعًا وَکَرہًا وَظِلَالُہُم بِالغُدُوِّ وَالآصَالِ
اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی سب مخلوق خوشی اور نا خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام
یہ سب اردوترجمے تفسیر ابن کثیرکے اردو ترجمے سے لیےگئے ہیں
جناب عبدالمطلب کا شعر ہے
لاغلبن صلبہم ومحا لہم غدوا محالک
صاحب نہایہ کہتے ہیں کہ عبدالمطلب نے غدوا سے وہ کل مراد نہیں لیا ہے جو آج کے بعد آنے والا ہے بلکہ قریبی زمانے کو مراد لیا ہے
اور وہ قریبی زمانہ آج بھی ہو سکتا ہے اور کل کے بعد پرسوں، ترسوں بھی ہو سکتا ہے
اب جب یہ بات محقق ہوگئی کہ غد کا معنی کل کے علاوہ بھی ہے تو یہ بات بھی جان لیں کہ اللہ پاک نے رات اور دن دونوں الگ الگ بنائے ہیں رات کا اطلاق غروب آفتاب سے صبح صادق تک اور دن کا اطلاق صبح صادق کے بعد سے غروب شمس تک ہوتا ہے
چنانچہ الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے کہ
فمثال الإضافۃ إلی الزمان المستقبل أن یقول لزوجتہ: أنت طالق غداً وفی ہذہ الحالۃ تطلق منہ عند حلول أول جزء من الغد وہو طلوع الصبح
الفقہ علی المذاہب الأربعۃ تاب الطلاق مبحث إضافۃ الطلاق إلی الزمان أو إلی المکان

اگر کوئی شخص زمانہ مستقبل کی طرف نسبت کرکے اپنی بیوی سے کہے: تجھے کل طلاق ہے۔ اور اس حالت میں غد کے پہلے جزء کے آنے پر طلاق ہوگی اور وہ صبح کا طلوع ہونا ہے۔
اسی طرح البنایہ شرح الھدایہ میں ہے
ولو قال أنت طالق غدا وقع علیہا الطلاق بطلوع الفجر
البنایۃ شرح الہدایۃ تاب الطلاق صل فی إضافۃ الطلاق إلی الزمان قال أنت طالق غدا

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے کل طلاق ہے تو طلوع فجر ہوتے ہی یہ طلاق واقع ہوجائیگی
چنانچہ ماقبل کی بحث سے تو یہ بات معلوم ہوگئی کہ غد سے کونسا وقت مراد ہے۔ اب آتے ہیں اس طرف کہ نیت کے یہ الفاظ کس وقت کے لیے وضع کئے گئے ہیں
تو حاشیہ الشلبی میں ہے کہ
قَالَ فِی الدِّرَایَۃِ فِی آخِرِ بَابِ الِاعتِکَافِ وَمِن السُّنَّۃِ أَن یَقُولَ عِندَ الإِفطَارِ اللَّہُمَّ لَک صُمت وَبِک آمَنت وَعَلَیک تَوَکَّلت وَعَلَی رِزقِک أَفطَرت وَصَومَ الغَدِ مِن شَہرِ رَمَضَانَ نَوَیت فَاغفِر لِی مَا قَدَّمت وَمَا أَخَّرت
تبیین الحقایئق شرح کنز الدقایئق وحاشیۃ الشلبی کتاب الصوم

نیت کے یہ الفاظ رات سونے سے پہلے یا شام کے وقت افطاری کی دعاء کے ساتھ کہے جانے کے لیے بنائے گئے ہیں یعنی نیت کے سب سے بہتر وقت کے لیے
گوں کہ طلوع فجر سے قبل کسی بھی وقت ان الفاظ کا کہنا معنوی اعتبار سے ٹھیک ہے لیکن مغرب کے وقت غد سے آنے والی صبح مراد لینا تو ہر اعتبار سے درست ہے۔لہذا یہ کہنا کہ یہ الفاظ عربی زبان کے قواعد کے مطابق نہیں درست اعتراض نہیں ہے کیوں کہ جس وقت نیت کے یہ الفاظ ادا کئے جارہے ہوتے ہیں اس وقت طلوع فجر کا وقت نہیں ہوتا ہے۔اس لئے ان الفاظ کا اطلاق عربیت کے منافی نہیں ہے۔ لہٰذا اگر کوئی نیت میں یہ عربی الفاظ استعمال کرے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ صبح صادق کے بعد سے شروع ہونے والے دن کا روزہ رکھ رہاہے اور یہ معنی لفظ غد سے سمجھ میں آرہاہے
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔​
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
8:33 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.18
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited

  • کہتے ہیں بہت بہت شکریہ​
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks