آسان ترجمہ القرآن : سورۃ البقرۃ رکوع نمبر 11

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
4:00 AM
Threads
374
Messages
885
Reaction score
1,337
Points
591
Location
karachi
Gold Coins
1,036.11
Permanently Change Username Color & Style.

سورہ البقرۃ آیت نمبر 97
قُلۡ مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِیۡلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۷﴾۔
ترجمہ
(اے پیغمبر) کہہ دو کہ اگر کوئی شخص جبرئیل کا دشمن ہے (٦٥) تو (ہوا کرے) انہوں نے تو یہ کلام اللہ کی اجازت سے تمہارے دل پر اتارا ہے جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کر رہا ہے، اور ایمان والوں کے لیے مجسم ہدایت اور خوشخبری ہے۔
تفسیر
65:: بعض یہودیوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا کہ آپ کہ پاس جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں وہ چونکہ ہمارے لئے بڑے سخت احکام لایا کرتے تھے اس لئے ہم انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اگر کوئی اور فرشتہ وحی لارہا ہو تو ہم کچھ غور کرسکتے تھے، یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) تو محض پیغام پہنچانے والے ہیں، جو کچھ لاتے ہیں اللہ کے حکم سے لاتے ہیں، لہذا نہ ان سے دشمنی کی کوئی معقول وجہ ہے اور نہ اس کی و جہ سے اللہ کے کلام کو رد کرنے کا کوئی معنی ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 98
مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ جِبۡرِیۡلَ وَ مِیۡکٰٮلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۹۸﴾۔
ترجمہ
اگر کوئی شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں اور رسولوں کا، اور جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہے تو (وہ سن رکھے کہ) اللہ کافروں کا دشمن ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 99
وَ لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۚ وَ مَا یَکۡفُرُ بِہَاۤ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۹۹﴾۔
ترجمہ
اور بیشک ہم نے آپ پر ایسی آیتیں اتاری ہیں جو حق کو آشکارہ کرنے والی ہیں، اور ان کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو نافرمان ہیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 100
اَوَ کُلَّمَا عٰہَدُوۡا عَہۡدًا نَّبَذَہٗ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾۔
ترجمہ
یہ آخر کیا معاملہ ہے کہ ان لوگوں نے جب کوئی عہد کیا، ان کے ایک گروہ نے اسے ہمشیہ توڑ پھینکا ؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان لاتے ہی نہیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 101
وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ ٭ۙ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ کَاَنَّہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾۫۔
ترجمہ
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آئے جو اس (تورات) کی تصدیق کر رہے تھے جو ان کے پاس ہے، تو اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب (تورات و انجیل) کو اس طرح پس پشت ڈال دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے (کہ اس میں نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کیا ہدایات دی گئی تھیں)۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 102
وَ اتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلۡکِ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ مَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ ٭ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلَی الۡمَلَکَیۡنِ بِبَابِلَ ہَارُوۡتَ وَ مَارُوۡتَ ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَۃٌ فَلَا تَکۡفُرۡ ؕ فَیَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡہُمَا مَا یُفَرِّقُوۡنَ بِہٖ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِہٖ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَتَعَلَّمُوۡنَ مَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ ؕ وَ لَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰٮہُ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ۟ؕ وَ لَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾۔
ترجمہ
اور یہ (بنی اسرائیل) ان (منتروں) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کے زمانے میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) نے کوئی کفر نہیں کیا تھا، البتہ شیاطین لوگوں کو جادو کی تعلیم دے کر کفر کا ارتکاب کرتے تھے۔ (٦٦) نیز (یہ بنی اسرائیل) اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔ (٦٧) یہ دو فرشتے کسی کو اس وقت تک کوئی تعلیم نہیں دیتے تھے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیں گے کہ : ہم محض آزمائش کے لیے (بھیجے گئے) ہیں، لہذا تم (جادو کے پیچھے لگ کر) کفر اختیار نہ کرنا۔ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کردیں۔ (ویسے یہ واضح رہے کہ) وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ (٦٨) (مگر) وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لیے نقصان دہ تھیں اور فائدہ مند نہ تھیں۔ اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز بہت بری تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا حقیقی) علم ہوتا۔ (٦٩)۔
تفسیر
66: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی ایک اور بدعملی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جادو ٹونے کے پیچھے لگنا ناجائز تھا، بالخصوص اگر جادو میں شرکیہ کلمات منتر کے طور پر پڑھے جائیں تو ایسا جادو کفر کے مرادف ہے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں کچھ شیاطین نے، جن میں انسان اور جنات دونوں شامل ہوسکتے ہیں، بعض یہودیوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کا سارا راز جادو میں مضمر ہے اور اگر جادو سیکھ لوگے تو تمہیں بھی حیرت انگیز اقتدار نصیب ہوگا، چنانچہ یہ لوگ جادو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں لگ گئے ؛ حالانکہ جادو پر عمل کرنا نہ صرف ناجائز تھا ؛ بلکہ اس کی بعض قسمیں کفر تک پہنچتی تھیں، دوسرا غضب یہودیوں نے یہ کیا کہ خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جادو گر قرار دے کر ان کے بارے میں یہ مشہور کردیا کہ انہوں نے آخری عمر میں بتوں کو پوجنا شروع کردیا تھا، ان کے بارے میں یہ جھوٹی داستانیں انہوں نے اپنی مقدس کتابوں میں شامل کردیں جو آج تک بائبل میں درج چلی آتی ہیں ؛ چنانچہ بائبل کی کتاب سلاطین اول ١١۔ ١ تا ٢١ میں ان کے معاذ اللہ مرتد ہونے کا بیان آج بھی موجود ہے، قرآن کریم نے اس آیت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر اس ناپاک بہتان کی تردید فرمائی ہے، اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کریم پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں سے ماخوذ ہے وہ کتنا غلط الزام ہے، یہاں قرآن کریم صریح الفاظ میں یہود ونصاری کی کتابوں کی تردید کررہا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا جس سے وہ یہ خود معلوم کرسکتے کہ یہودیوں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے، اس بات کا علم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی کے سوا کسی اور راستہ سے نہیں ہوسکتا تھا، لہذا یہ آیت بذات خود آپ کے صاحب وحی رسول ہونے کی واضح دلیل ہے کہ آپ نے نہ صرف یہ بتلایا کہ یہودیوں کی کتابوں میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر کیا بہتان لگایا گیا ہے ؛ بلکہ اس قدر جم کر اس کی تردید فرمائی ہے۔ 67: بابل عراق کا مشہورشہر تھا، ایک زمانے میں وہاں جادو کا بڑا چرچا ہوگیا تھا، اور یہودی بھی اس ناجائز کام میں بری طرح ملوث ہوگئے تھے، انبیاء کرام اور دوسرے نیک لوگ انہیں جادو سے منع کرتے تھے تو وہ بات نہ مانتے تھے، اس سے بھی خطرناک بات یہ تھی کہ لوگوں نے جادوگروں کے شعبدوں کو معجزے سمجھ کر انہیں اپنا دینی مقتدا بنالیا تھا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دو فرشتے جن کا نام ہاروت وماروت تھا دنیا میں انسانی شکل میں بھیجے تاکہ وہ لوگوں کو جادو کی حقیقت سے آگاہ کریں اور یہ بتائیں کہ خدائی معجزات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، معجزہ براہ راست اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جس میں کسی ظاہری سبب کا کوئی دخل نہیں ہوتا، اس کے برعکس جادو کے ذریعے جو کوئی شعبدہ دکھایا جاتا ہے وہ اسی عالم اسباب کا ایک حصہ ہے، یہ بات واضح کرنے کے لئے ان فرشتوں کو جادو کے محتلف طریقے بھی بتانے پڑتے تھے ؛ تاکہ یہ دکھایا جاسکے کہ کس طرح وہ سبب اور مسبب کے رشتے سے منسلک ہیں ؛ لیکن جب وہ ان طریقوں کی تشریح کرتے تو ساتھ ساتھ لوگوں کو متنبہ بھی کردیتے تھے کہ یاد رکھو ! یہ طریقے ہم اس لئے نہیں بتا رہے ہیں کہ تم ان پر عمل شروع کردو ؛ بلکہ اس لئے بتا رہے ہیں کہ تم پر جادو اور معجزے کا فرق واضح ہو اور تم جادو سے پرہیز کرو اس لحاظ سے ہمارا وجود تمہارے لئے ایک امتحان ہے کہ ہماری باتوں کو سمجھ کر تم جادو سے پرہیز کرتے ہو یا ہم سے جادو کے طریقے سیکھ کر ان پر عمل شروع کردیتے ہو، یہ کام انبیاء کے بجائے فرشتوں سے بظاہر اس بنا پر لیا گیا کہ جادو کے فارمولے بتانا خواہ وہ صحیح مقصد سے کیوں نہ ہو، انبیائے کرام کو زیب نہیں دیتا تھا، اس کے برعکس فرشتے چونکہ غیر مکلف ہوتے ہیں اس لئے ان سے بہت سے تکوینی کام لئے جاسکتے ہیں بہر حال نافرمان لوگوں نے ان فرشتوں کی طرف سے کہی ہوئی باتوں کو تو نظر انداز کردیا اور ان کے بتائے ہوئے فارمولوں کو جادو کرنے میں استعمال کیا اور وہ بھی ایسے گھناؤنے مقاصد کے لئے جو ویسے بھی حرام تھے مثلاً میاں بیوی میں پھوٹ ڈال کر نوبت طلاق تک پہنچا دینا۔ 68: یہاں سے جملۂ معترضہ کے طور پر ایک اور اصولی غلطی پر متنبہ کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ جادو پر ایمان رکھنے والے یہ سمجھتے تھے کہ جادو میں بذات خود ایسی تاثیر موجود ہے جس سے مطلوبہ نتیجہ خود بخود اللہ کے حکم کے بغیر بھی برآمد ہوجاتا ہے، گویا اللہ چاہے یا نہ چاہے وہ نتیجہ پیدا ہو کر رہے گا، یہ عقیدہ بذات خود کفر تھا، اس لئے واضح کردیا گیا کہ دنیا کے دوسرے اسباب کی طرح جادو بھی محض ایک سبب ہے اور دنیا میں کوئی سبب بھی اپنا سبب یا نتیجہ اس وقت تک ظاہر نہیں کرسکتا جب تک اللہ کی مشیت اس کے ساتھ متعلق نہ ہو، کائنات کی کسی چیز میں بذات خود نہ کسی کو نفع پہنچانے کی طاقت ہے نہ نقصان پہنچانے کی، لہذا اگر کوئی ظالم کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہے تو وہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا، البتہ چونکہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے، اس لئے یہاں اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کوئی گناہ کرنا چاہتا ہے یا کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہے تو اگر اللہ تعالیٰ تکوینی مصلحت کے مطابق سمجھتا ہے تو اپنی مشیت سے وہ کام کرا دیتا ہے، اسی کے نتیجے میں ظالم کو گناہ اور مظلوم کو ثواب ملتا ہے، ورنہ اگر اللہ اسے کام کی قدرت ہی نہ دے تو امتحان کیسے ہو ؟ لہذا جتنے گناہ کے کام دنیا میں ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور مشیت سے ہوتے ہیں، اگرچہ اس کی رضا مندی ان کو حاصل نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی رضا مندی میں فرق یہی ہے کہ مشیت اچھے برے ہر کام سے متعلق ہوسکتی ہے، مگر رضامندی صرف جائز اور ثواب کے کاموں سے مخصوص ہے۔ 69: اس آیت کے شروع میں تو یہ کہا گیا ہے کہ وہ حقیقت جانتے ہیں کہ جو مشرکانہ جادو کا خریدار ہوگا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں لیکن آیت کے آخری حصہ میں فرمایا ہے کہ کاش وہ علم رکھتے جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اس حقیقت کا علم نہیں ہے، بظاہر دونوں باتیں متضاد لگتی ہیں لیکن درحققیت اس انداز بیان سے یہ عظیم سبق دیا گیا ہے کہ نرا علم جس پر عمل نہ ہو حقیقت میں علم کہلانے کا مستحق نہیں بلکہ وہ کالعدم ہے ؛ لہذا اگر وہ یہ بات جانتے تو ہیں مگر ان کا عمل اس کے برخلاف ہے تو وہ علم کس کام کا ؟ کاش کہ وہ حقیقی علم رکھتے تو اس پر ان کا عمل بھی ہوتا۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 103
وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَۃٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ خَیۡرٌ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾۔
ترجمہ
اور (اس کے برعکس) اگر وہ ایمان اور تقوی اختیار کرتے تو اللہ کے پاس سے ملنے والا ثواب یقینا کہیں زیادہ بہتر ہوتا۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا بھی حقیقی) علم ہوتا۔
 

faizyG

Champion
Designer
Emerging
Poet شاعر
Joined
May 18, 2019
Local time
4:00 AM
Threads
16
Messages
336
Reaction score
326
Points
253
Gold Coins
630.33
ماشاء اللہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 97 تا 102 ترجمہ اور تفسیراورآیت نمبر 103 کا ترجمہ بہت خوبصورت انداز میں ہمارے ساتھ شیئر کئے۔بہت اچھا لگا۔ اس کاوش کا بے حد شکریہ
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Joined
Apr 25, 2018
Local time
4:00 AM
Threads
882
Messages
13,283
Reaction score
14,783
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,477.30
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:masha-allah:
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے
:jazak-allah:
ایسی ہی اچھی باتوں کا اشتراک جاری رکھیں
:goodpost:
 

Syed Waqas

Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Writer
Popular
Lazy but Talented
Be Different
Captain of My Soul
Do the Impossible
Joined
May 6, 2018
Local time
4:00 AM
Threads
132
Messages
2,680
Reaction score
3,570
Points
839
Location
Karachi
Gold Coins
2,186.13
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Single Thread Highlight for 1 Week.
Change Username Style.
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks