زبانوں کا عالمی دن : صبیح بھائی اور زاہد صاحب

Doctor

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Joined
Apr 25, 2018
Local time
4:35 PM
Threads
820
Messages
11,123
Reaction score
13,518
Points
1,958
Age
46
Location
Rawalpindi
Gold Coins
151.11
Silver Coins
20,363
Diamonds
0.00000
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
اکیس دسمبر کو دنیا نے زبانوں کا عالمی دن منایا، ہم نے بھی منایا کیوں کہ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں، ہماری طرح تمام شوہروں نے یہ دن منایا، وہ اس طرح کہ اس روز وہ سُننے کے ساتھ بولے بھی۔

ہمارے دوست صبیح بھائی نے دن کا آغاز بیگم کو بہ آوازبلند پکار کر کیا، گھر میں اپنی اونچی آواز سُن کر وہ خود ہی ڈر گئے۔
:pagal::pagal::pagal::pagal::pagal:

بیگم ’’کیا ہے‘‘ کہتی سامنے آئیں تو صبیح بھائی نے دھیرے سے کہا،’’وہ پوچھنا یہ تھا کہ برتن ابھی دھولوں یا بعد میں؟‘‘۔
:lol::lol::lol::lol:

ایک اور دوست زاہد حسین جو شاعر ہیں اور اردو لور تخلص کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ انھوں نے بھی خاموشی توڑ کر زبانوں کا دن منانے والوں کا ساتھ دیا۔
:dont-know-emoji:
ہم نے پوچھا آپ کیا بولے، کہنے لگے ’’بیگم نے کہا۔۔۔شاپنگ کے لیے جانا ہے۔۔۔میں نے کہا اچھا چلو۔‘‘
:driving-emoji:


یہ روایات ہم نے ان دونوں حضرات کے ذاتی منہ سے سُن کر بیان کی ہیں۔ اپنی روایت ہم اس لیے بیان نہیں کر رہے کہ ہم منہ میں زبان کے ساتھ شانوں پر سر بھی رکھتے ہیں اور ہمارے دل میں سر کٹوانے کی لاکھ تمنائیں انگڑائی لے رہی ہوں سر پُھٹوانے کی کوئی آرزو جماہی بھی نہیں لے رہی۔
:engry-man:


یہ دن تو ہم نے خیر منالیا، لیکن ہمیں یہ جان کر افسوس ہوا کہ اس دن بہت سی زبانوں اور بولیوں کو یکسر نظرانداز کردیا گیا اور کسی نے ان کا نام تک نہ لیا۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ زبانیں اور بولیاں کون سی ہیں:

منہ بولی:

یہ بولی بہت عام ہے، اس کے بولنے والے منہ بولے کہلاتے ہیں، منہ بولے بھائی، منہ بولی بہن، منہ بولے ابا اماں وغیرہ۔ اب تو منہ بولی بیوی اور شوہر بھی ہونے لگے ہیں۔ گدھے کو باپ بنانے کے لیے بھی یہی زبان بولی جاتی ہے۔ اب یہ بولی رشتوں تک محدود نہیں رہی، ہمارے ہاں منہ بولے لیڈر، منہ بولے سیاست داں، منہ بولے حکم راں، منہ بولے وزیراعلیٰ اور منہ بولے ’’بُھٹو‘‘ بھی پائے جاتے ہیں، جو اس زبان میں توسیع کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

4768
بدن بولی:

کل تک اسے باڈی لینگویج کہا جاتا تھا، پھر کسی نے اس کا ترجمہ بدن بولی کردیا، حالاں کہ ’’بدن بولی‘‘ کی شاعرانہ اور رومانی اصطلاح آنکھوں کے سامنے ایسی تصویریں بلکہ وڈیوز لے آتی ہے کہ آنکھیں جھپکنے کو بھی دل نہیں چاہتا، مگر یہ اصطلاح عام طور پر سیاست دانوں اور حکم رانوں کی جسمانی حرکات وسکنات کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس لیے آنکھوں میں رقصاں مناظر رقص سے کبڈی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ اگرچہ اس بولی کو صرف بدن بولی کہا جاتا ہے مگر اس بولی کے کئی ’’لہجے‘‘ ہیں جنھیں الگ الگ نام دیا جاسکتا ہے جیسے ’’بدن بکواس‘‘،’’جسمانی گَپّیں‘‘،

4769
’’تن خرافات۔‘‘

یہ بولی بڑے دھوکے دیتی ہے۔ اکڑاکڑ کر چلنے اور شہادت کی انگلی اٹھا اور لہرا کر گفتگو کرنے والے حکم راں اس انداز کی وجہ سے جرأت مند تصور کیے جاتے ہیں، لیکن عملاً وہ صرف مجبور، بے بس، بے کس یعنی کُل ملا کے ضرورت مند نکلتے ہیں۔ بدن بولی دکھاتی ہے کہ ایک ’’صاحب‘‘ یوں بھاری بھرکم دھرنا دیے بیٹھے ہیں کہ ’’توپوں سے یہ جناب اٹھایا نہ جائے گا‘‘، لیکن کچھ دنوں بعد ہی حکومت گرانے کا دعویٰ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے اور وہ اٹھ کر ’’جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آگیا‘‘ کی تفسیر بنے گھر کو لوٹ آتے ہیں۔

4770
سفارتی زبان:

سفارتی زبان دنیا کی سب سے میٹھی زبان ہے۔ مٹھاس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سارے سمندر کی کڑواہٹ اور تمام سانپوں کا زہر ڈھیر ساری شیرینی میں لپیٹ کر یوں دیا جاتا ہے کہ کھانے والا ’’میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھوتھو‘‘ کرنے کے بہ جائے سب ایک ساٹھ چبائے بغیر نگل جاتا ہے، بعد میں چاہے اُلٹیاں کرتا اور اُلٹی ہوجانے والی تدبیر کو سیدھا کرتا رہے۔ ایک زمانے تک بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں اسی زبان کا راج تھا، مگر ٹوئٹر آنے کے بعد اس کی جگہ تعلقات بگاڑتی زبان، طعنے مارتی زبان اور ’’ادارتی‘‘ زبان کا چلن عام ہوگیا ہے۔

زبان خلق:

اسے کبھی نقارۂ خدا سمجھا جاتا تھا، اب خدا بندے سے خود پوچھے تو پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے، مگر حکم راں خلق خدا کی سُننے کو تیار نہیں۔ ایک زمانے تک یہ زبان دیواروں پر اور عوامی بیت الخلاؤں میں لکھی ملتی تھی، پھر سوشل میڈیا آگیا، سو اب یہ سماجی ویب سائٹس کی قومی زبان ہے، جس کی زباں بندی کا امکان ہے۔ یہ بڑی آسان زبان ہے، مگر حکم رانوں کی سمجھ میں نہیں آتی، اور اگر سمجھ میں آجائے تو سُن کر اتنی شرم آتی ہے کہ کان بند کرلیتے ہیں۔

زبان خلق کو وجود میں آئے ابھی ایک دو صدیاں ہی گزری ہیں۔ جب یہ نہیں تھی تو بادشاہ بولتے تھے اور خلق حَلَق میں لفظ پھنسائے اور چیخیں دبائے خاموشی سے سُنتی تھی۔ مؤرخین بھی بادشاہوں ہی کی سُنتے تھے، اسی لیے تاریخ بھی ان ہی کی سُناتی رہی ہے۔ چناں چہ تاریخ میں محلات اور درباروں سے باہر اتنا سناٹا دیکھ کر کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ یہ بادشاہ حکومت کس پر کرتے تھے؟ آخر زبان خالق کی آمد کے بعد وہ ہاہاکار مچی کے بادشاہ بچارے چُپ ہوتے ہوتے تصویر ہوکر رہ گئے۔

4771
دبی زبان:

یہ ہر دبے ہوئے کی مادری زبان ہے، جسے شوفر سے شوہر تک وہ سب بولتے ہیں جو کسی کے دباؤ میں ہوں۔ یہ زبان ’’جی ہاں۔۔۔لیکن‘‘ اور ’’وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔مگر‘‘ جیسے جملوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ کبھی کبھی تو یہ اتنی دبی ہوتی ہے کہ دبے دبے الفاظ کا دَم نکل جاتا ہے یا ان کی دُم نکل آتی ہے جو ہلتی رہتی ہے۔جب کوئی سیاست داں مقدمات تلے دبا ہو تو دبی زبان بڑا کام آتی ہے اور وہ دبے پاؤں ملک سے چلا جاتا ہے۔

لگنے والی بولی:

یہ بولی ہر وقت نہیں بولی جاتی یہ کسی کی بولتی بند کرنے کے لیے بولی جاتی ہے یا کام یابی کا راستہ کھولنے کے لیے بولی جاتی ہے۔ یہ بولی بس اس ایک بول پر مشتمل ہے،’’بول، کتنے لیں گا؟‘‘ یہ بولی انتخابات کے فوری بعد، سینیٹ کے الیکشن کے موقع پر، روٹھی اتحادی جماعتوں کو منانے کے لیے اور ضرورت سے زیادہ بولتے صحافیوں کو رجھانے کے لیے بولی جاتی ہے۔


ماخوذ ۔ ۔ ۔
 

مسٹر کامیاب خان

★★★★★★
Staff member
Charismatic
Expert
Writer
Popular
P A K I S T A N
Joined
May 5, 2018
Local time
7:35 PM
Threads
153
Messages
4,483
Reaction score
6,182
Points
1,386
Location
Central
Gold Coins
53.09
Silver Coins
10,099
Diamonds
0.00570
Username Change
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:tear-cat-emoji::10xbvw3:
شروع میں اصل آدمی کے بجائے فرضی نام "صبیح "پڑھنے کو ملا ،ٹوئیٹر پر تبصرے نما الفاظ کافی عمدہ رہے،ٹوئیٹر استعمال کرنے والے خواتین و حضرات بخوبی سمجھتے ہیں کہ وہاں کس قسم کی گفتگو طنز و تکرار، اور بے ہودگی نما طوفان برپا ہوتاہے، آخر ہم اردو لکھنے والے کس قسم کے الفاظ سے وہاں ٹوئیٹ کرتے ہیں،مجموعی طور پر سیاسی پارٹیوں کے درمیان زیادہ تر ٹوئیٹر پر جھگڑے چلتے رہتے ہیں، ۔
میں تو وہاں جاتا ہوں کوئی خبر پڑھنے لیکن پاکستان کے مشہور صحافیوں کے ٹوئیٹ پر جو ردعمل سامنے آرہا ہوتا ہے ان سے گھبرا کر ٹوئیٹ بند کرنے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔

بیلن بیلن کی تکرار سےگزشتہ روز حقیقت میں ایک دوست کی تازہ تصویر، پروفائل میں دیکھی تو انہیں وائس میسیج کھڑکا دیا کہ کیا ہوا آنکھیں سرخ جیسے رو رہے ہو ،کہیں گھر والی سے مار تو نہیں پڑی، انہوں نے جواباً کہا نہیں بیوی تو پاکستان گئیں ہوئی ہیں، پھر میں نے کہا ہوسکتا ہے کہ ان کی یاد میں آنسو بہا رہے ہو یا پھر کچن میں روٹی بنانے ہوئے ان کی یاد آتی ہے، تاہم انہوں نے پہلی کے بجائے آخری بات سے اتفاق کرلیا کہ روٹیاں بناتے ہوئے پھر تکلیف تو ہوتی ہے۔
:dont-know-emoji:
ہمیں تو سبق سیکھنا چائیے کہ ڈاکٹر بھائی خوشی خوشی گھر کے اندر اور باہر کے کام نمٹا دیتے ہیں ۔
اور بعد میں "فرضی"نام سے قصے بھی سناتے ہیں۔
:pagal::pagal::pagal:
 

faizyG

Champion
Designer
Emerging
Poet شاعر
Joined
May 18, 2019
Local time
4:35 PM
Threads
16
Messages
337
Reaction score
320
Points
460
Gold Coins
4.16
Silver Coins
3,738
Diamonds
0.02800
دنیا میں زبانوں کا یہ عالمی دن بھلے جیسا بھی منایا گیا ہو لیکن صبیح بھائی اور زاہد حسین صاحب نے بشمول بے زبان شوہروں نے جس انداز میں منانے کی کوشش کی قابل ہمدردی،قابل رحم اور انتہائی قابل سماعت ہے۔کاش کوئی قانون ایسا بھی بن جائے کہ صبیح بھائی اور زاہد حسین بھائی جیسے بے زبانوں کی بھی سنی جائے
بقول شاعر : یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری۔
 

Doctor

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Joined
Apr 25, 2018
Local time
4:35 PM
Threads
820
Messages
11,123
Reaction score
13,518
Points
1,958
Age
46
Location
Rawalpindi
Gold Coins
151.11
Silver Coins
20,363
Diamonds
0.00000
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
کہیں گھر والی سے مار تو نہیں پڑی،
گویا کہ صبیح بھائی کو خیال گزرا کہ کہیں اس کا بھی میرے والا حال تو نہیں ہوا؟ اسی لئے بیگم کی مار کا پوچھا ورنہ موجودہ حالات میں تو سب سے پہلے کرونا وائرس کا پوچھا جانا بنتا تھا
:pagal:
 

Doctor

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Joined
Apr 25, 2018
Local time
4:35 PM
Threads
820
Messages
11,123
Reaction score
13,518
Points
1,958
Age
46
Location
Rawalpindi
Gold Coins
151.11
Silver Coins
20,363
Diamonds
0.00000
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
شروع میں اصل آدمی کے بجائے فرضی نام "صبیح "پڑھنے کو ملا
کسی اور کا نام یا کسی اور کا قصہ پڑھنے کی حسرت پوری نہ ہوئی
:lol:
 

PakArt UrduLover

Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
12:35 PM
Threads
1,354
Messages
7,667
Reaction score
6,959
Points
1,775
Location
Manchester U.K
Gold Coins
107.25
Silver Coins
49,510
Diamonds
1.10870
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
اکیس دسمبر کو دنیا نے زبانوں کا عالمی دن منایا، ہم نے بھی منایا کیوں کہ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں، ہماری طرح تمام شوہروں نے یہ دن منایا، وہ اس طرح کہ اس روز وہ سُننے کے ساتھ بولے بھی۔

ہمارے دوست صبیح بھائی نے دن کا آغاز بیگم کو بہ آوازبلند پکار کر کیا، گھر میں اپنی اونچی آواز سُن کر وہ خود ہی ڈر گئے۔
:pagal::pagal::pagal::pagal::pagal:

بیگم ’’کیا ہے‘‘ کہتی سامنے آئیں تو صبیح بھائی نے دھیرے سے کہا،’’وہ پوچھنا یہ تھا کہ برتن ابھی دھولوں یا بعد میں؟‘‘۔
:lol::lol::lol::lol:

ایک اور دوست زاہد حسین جو شاعر ہیں اور اردو لور تخلص کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ انھوں نے بھی خاموشی توڑ کر زبانوں کا دن منانے والوں کا ساتھ دیا۔
:dont-know-emoji:
ہم نے پوچھا آپ کیا بولے، کہنے لگے ’’بیگم نے کہا۔۔۔شاپنگ کے لیے جانا ہے۔۔۔میں نے کہا اچھا چلو۔‘‘
:driving-emoji:


یہ روایات ہم نے ان دونوں حضرات کے ذاتی منہ سے سُن کر بیان کی ہیں۔ اپنی روایت ہم اس لیے بیان نہیں کر رہے کہ ہم منہ میں زبان کے ساتھ شانوں پر سر بھی رکھتے ہیں اور ہمارے دل میں سر کٹوانے کی لاکھ تمنائیں انگڑائی لے رہی ہوں سر پُھٹوانے کی کوئی آرزو جماہی بھی نہیں لے رہی۔
:engry-man:


یہ دن تو ہم نے خیر منالیا، لیکن ہمیں یہ جان کر افسوس ہوا کہ اس دن بہت سی زبانوں اور بولیوں کو یکسر نظرانداز کردیا گیا اور کسی نے ان کا نام تک نہ لیا۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ زبانیں اور بولیاں کون سی ہیں:

منہ بولی:

یہ بولی بہت عام ہے، اس کے بولنے والے منہ بولے کہلاتے ہیں، منہ بولے بھائی، منہ بولی بہن، منہ بولے ابا اماں وغیرہ۔ اب تو منہ بولی بیوی اور شوہر بھی ہونے لگے ہیں۔ گدھے کو باپ بنانے کے لیے بھی یہی زبان بولی جاتی ہے۔ اب یہ بولی رشتوں تک محدود نہیں رہی، ہمارے ہاں منہ بولے لیڈر، منہ بولے سیاست داں، منہ بولے حکم راں، منہ بولے وزیراعلیٰ اور منہ بولے ’’بُھٹو‘‘ بھی پائے جاتے ہیں، جو اس زبان میں توسیع کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بدن بولی:

کل تک اسے باڈی لینگویج کہا جاتا تھا، پھر کسی نے اس کا ترجمہ بدن بولی کردیا، حالاں کہ ’’بدن بولی‘‘ کی شاعرانہ اور رومانی اصطلاح آنکھوں کے سامنے ایسی تصویریں بلکہ وڈیوز لے آتی ہے کہ آنکھیں جھپکنے کو بھی دل نہیں چاہتا، مگر یہ اصطلاح عام طور پر سیاست دانوں اور حکم رانوں کی جسمانی حرکات وسکنات کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس لیے آنکھوں میں رقصاں مناظر رقص سے کبڈی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ اگرچہ اس بولی کو صرف بدن بولی کہا جاتا ہے مگر اس بولی کے کئی ’’لہجے‘‘ ہیں جنھیں الگ الگ نام دیا جاسکتا ہے جیسے ’’بدن بکواس‘‘،’’جسمانی گَپّیں‘‘،

’’تن خرافات۔‘‘

یہ بولی بڑے دھوکے دیتی ہے۔ اکڑاکڑ کر چلنے اور شہادت کی انگلی اٹھا اور لہرا کر گفتگو کرنے والے حکم راں اس انداز کی وجہ سے جرأت مند تصور کیے جاتے ہیں، لیکن عملاً وہ صرف مجبور، بے بس، بے کس یعنی کُل ملا کے ضرورت مند نکلتے ہیں۔ بدن بولی دکھاتی ہے کہ ایک ’’صاحب‘‘ یوں بھاری بھرکم دھرنا دیے بیٹھے ہیں کہ ’’توپوں سے یہ جناب اٹھایا نہ جائے گا‘‘، لیکن کچھ دنوں بعد ہی حکومت گرانے کا دعویٰ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے اور وہ اٹھ کر ’’جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آگیا‘‘ کی تفسیر بنے گھر کو لوٹ آتے ہیں۔

سفارتی زبان:

سفارتی زبان دنیا کی سب سے میٹھی زبان ہے۔ مٹھاس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سارے سمندر کی کڑواہٹ اور تمام سانپوں کا زہر ڈھیر ساری شیرینی میں لپیٹ کر یوں دیا جاتا ہے کہ کھانے والا ’’میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھوتھو‘‘ کرنے کے بہ جائے سب ایک ساٹھ چبائے بغیر نگل جاتا ہے، بعد میں چاہے اُلٹیاں کرتا اور اُلٹی ہوجانے والی تدبیر کو سیدھا کرتا رہے۔ ایک زمانے تک بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں اسی زبان کا راج تھا، مگر ٹوئٹر آنے کے بعد اس کی جگہ تعلقات بگاڑتی زبان، طعنے مارتی زبان اور ’’ادارتی‘‘ زبان کا چلن عام ہوگیا ہے۔

زبان خلق:

اسے کبھی نقارۂ خدا سمجھا جاتا تھا، اب خدا بندے سے خود پوچھے تو پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے، مگر حکم راں خلق خدا کی سُننے کو تیار نہیں۔ ایک زمانے تک یہ زبان دیواروں پر اور عوامی بیت الخلاؤں میں لکھی ملتی تھی، پھر سوشل میڈیا آگیا، سو اب یہ سماجی ویب سائٹس کی قومی زبان ہے، جس کی زباں بندی کا امکان ہے۔ یہ بڑی آسان زبان ہے، مگر حکم رانوں کی سمجھ میں نہیں آتی، اور اگر سمجھ میں آجائے تو سُن کر اتنی شرم آتی ہے کہ کان بند کرلیتے ہیں۔

زبان خلق کو وجود میں آئے ابھی ایک دو صدیاں ہی گزری ہیں۔ جب یہ نہیں تھی تو بادشاہ بولتے تھے اور خلق حَلَق میں لفظ پھنسائے اور چیخیں دبائے خاموشی سے سُنتی تھی۔ مؤرخین بھی بادشاہوں ہی کی سُنتے تھے، اسی لیے تاریخ بھی ان ہی کی سُناتی رہی ہے۔ چناں چہ تاریخ میں محلات اور درباروں سے باہر اتنا سناٹا دیکھ کر کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ یہ بادشاہ حکومت کس پر کرتے تھے؟ آخر زبان خالق کی آمد کے بعد وہ ہاہاکار مچی کے بادشاہ بچارے چُپ ہوتے ہوتے تصویر ہوکر رہ گئے۔

دبی زبان:

یہ ہر دبے ہوئے کی مادری زبان ہے، جسے شوفر سے شوہر تک وہ سب بولتے ہیں جو کسی کے دباؤ میں ہوں۔ یہ زبان ’’جی ہاں۔۔۔لیکن‘‘ اور ’’وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔مگر‘‘ جیسے جملوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ کبھی کبھی تو یہ اتنی دبی ہوتی ہے کہ دبے دبے الفاظ کا دَم نکل جاتا ہے یا ان کی دُم نکل آتی ہے جو ہلتی رہتی ہے۔جب کوئی سیاست داں مقدمات تلے دبا ہو تو دبی زبان بڑا کام آتی ہے اور وہ دبے پاؤں ملک سے چلا جاتا ہے۔

لگنے والی بولی:

یہ بولی ہر وقت نہیں بولی جاتی یہ کسی کی بولتی بند کرنے کے لیے بولی جاتی ہے یا کام یابی کا راستہ کھولنے کے لیے بولی جاتی ہے۔ یہ بولی بس اس ایک بول پر مشتمل ہے،’’بول، کتنے لیں گا؟‘‘ یہ بولی انتخابات کے فوری بعد، سینیٹ کے الیکشن کے موقع پر، روٹھی اتحادی جماعتوں کو منانے کے لیے اور ضرورت سے زیادہ بولتے صحافیوں کو رجھانے کے لیے بولی جاتی ہے۔


ماخوذ ۔ ۔ ۔
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
****

چمک رہی ہے پروں میں اڑان کی خوشبو
بلا رہی ہے بہت آسمان کی خوشبو
بھٹک رہی ہے پرانی دلائیاں اوڑھے
حویلیوں میں مرے خاندان کی خوشبو
سنا کے کوئی کہانی ہمیں سلاتی تھی
دعاؤں جیسی بڑے پان دان کی خوشبو
دبا تھا پھول کوئی میز پوش کے نیچے
گرج رہی تھی بہت پیچوان کی خوشبو
عجب وقار تھا سوکھے سنہرے بالوں میں
اداسیوں کی چمک زرد لان کی خوشبو

وہ عطر دان سا لہجہ مرے بزرگوں کا
رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو

غزل کی شاخ پہ اک پھول کھلنے والا ہے
بدن سے آنے لگی زعفران کی خوشبو
عمارتوں کی بلندی پہ کوئی موسم کیا
کہاں سے آ گئی کچے مکان کی خوشبو
گلوں پہ لکھتی ہوئی لا الہ الا اللہ
پہاڑیوں سے اترتی اذان کی خوشبو



 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock
No Thanks