آسان ترجمہ قرآن : سورۃ البقرۃ رکوع 8

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
9:28 AM
Threads
258
Messages
631
Reaction score
1,139
Points
541
Location
karachi
Gold Coins
886.93
Permanently Change Username Color & Style.

سورہ البقرۃ آیت نمبر 72

وَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِیۡہَا ؕ وَ اللّٰہُ مُخۡرِجٌ مَّا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾۔
ترجمہ
اور (یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، اور اس کے بعد اس کا الزام ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے، اور اللہ کو وہ راز نکال باہر کرنا تھا جو تم چھپائے ہوئے تھے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 73

فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡہُ بِبَعۡضِہَا ؕ کَذٰلِکَ یُحۡیِ اللّٰہُ الۡمَوۡتٰی ۙ وَ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۳﴾۔
ترجمہ
چنانچہ ہم نے کہا کہ اس (مقتول) کو اس (گائے) کے ایک حصے سے مارو۔ (٥٣) اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے، اور تمہیں (اپنی قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔
تفسیر
53 : اس واقعہ کی تفصیل تاریخی روایات میں یہ آئی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے اپنے ایک بھائی کو اس کی میراث حاصل کرنے کی خاطر قتل کیا اور اس کی لاش سڑک پر ڈال دی، پھر خود ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس شکایت لے کر پہنچ گیا کہ قاتل کو پکڑ کر سزا دی جائے، اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں گائے ذبح کرنے کو کہا، جس کا واقعہ اوپر گذرا۔ جب گائے ذبح ہوگئی تو آپ نے فرمایا کہ گائے کا کوئی عضو اٹھا کر مقتول کی لاش پر مارو تو وہ زندہ ہو کر قاتل کا نام بتادے گا ؛ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس طرح قاتل کا پول کھل گیا اور وہ پکڑا گیا، قاتل کی دریافت کے لئے یہ طریقہ اختیار کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مردوں کو زندہ کرنے کی خدائی طاقت کا عملی مظاہرہ کرکے ان لوگوں کی زبانیں بند کردیں گئیں جو دوسری زندگی کو ناممکن سمجھتے تھے۔ غالباً اس واقعے کے بعد ہی بنی اسرائیل میں یہ طریقہ جاری ہوا کہ جب کوئی شخص مقتول پایا جائے اور قاتل کا پتہ نہ چل رہا ہو تو ایک گائے ذبح کرکے اس پر اپنے ہاتھ دھوئیں اور قسم کھائیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا جس کا ذکر بائبل کی کتاب استثناء 12-1 تا 8 میں ایا ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 74

ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ وَ اِنَّ مِنَ الۡحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنۡہُ الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخۡرُجُ مِنۡہُ الۡمَآءُ ؕ وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕوَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۴﴾۔
ترجمہ
اس سب کے بعد تمہارے دل پھر سخت ہوگئے، یہاں تک کہ وہ ایسے ہوگئے جیسے پتھر ! بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی زیادہ۔ (کیونکہ) پتھروں میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ بہتی ہیں، اور انہی میں سے کچھ وہ ہوتے ہیں جو خود پھٹ پڑتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے، اور انہی میں وہ (پتھر) بھی ہیں جو اللہ کے خوف سے لڑھک جاتے ہیں۔ (٥٤) ۔ اور (اس کے برخلاف) جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔
تفسیر
54: یعنی بعض مرتبہ تو پتھروں سے چشمے نکل آتے ہیں جیسا کہ بنی اسرائیل خود دیکھ چکے تھے کہ کس طرح ایک سنگلاخ چٹان سے پانی کے چشمے بہہ پڑے تھے (دیکھئے پیچھے آیت نمبر 60) اور بعض اوقات بھاری مقدار میں تو پانی نہیں نکلتا مگر پتھر شق ہو کر تھوڑا بہت پانی نکال دیتا ہے اور کچھ پتھر اللہ کے خوف سے لڑھک بھی پڑتے ہیں مگر ان کے دل ایسے سخت ہیں کہ ذرا نہیں پسیجتے۔ کسی زمانے میں یہ بات کچھ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ پتھر جیسی بےجان چیز میں خوف کا کیا تصور ہوسکتا ہے ؟ لیکن قرآن کریم نے کئی جگہوں پر یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ جن چیزوں کو ہم بظاہر بےجان یا بےشعور سمجھتے ہیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ شعور موجود ہوتا ہے مثلا دیکھئے سورة بنی اسرائیل (27:33) اور سورة احزاب (27:33) لہذا اگر اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ کچھ پتھر اللہ کے خوف سے لڑھک جاتے ہیں تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے آج تو سائنس بھی رفتہ رفتہ اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ جمادات میں بھی نمو اور شعور کی کچھ نہ کچھ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 75

اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا لَکُمۡ وَ قَدۡ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوۡنَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡہُ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾۔
ترجمہ
(مسلمانو ! ) کیا اب بھی تمہیں یہ لالچ ہے کہ یہ لوگ تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کے لوگ اللہ کا کلام سنتے تھے، پھر اس کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد بھی جانتے بوجھتے اس میں تحریف کر ڈالتے تھے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 76

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَا بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ قَالُوۡۤا اَتُحَدِّثُوۡنَہُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ لِیُحَآجُّوۡکُمۡ بِہٖ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۶﴾۔
ترجمہ
اور جب یہ لوگ ان (مسلمانوں) سے ملتے ہیں جو پہلے ایمان لاچکے ہیں تو (زبان سے) کہہ دیتے ہیں کہ ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں، اور جب یہ ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں جاتے ہیں تو ( آپس میں ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ : کیا تم ان (مسلمانوں) کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ یہ (مسلمان) تمہارے پروردگار کے پاس جاکر انہیں تمہارے خلاف دلیل کے طور پر پیش کریں ؟ (٥٥) کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ؟
تفسیر
55: تورات میں آخر زمانے میں آنے والے نبی کی جو پیشینگوئیاں موجود تھیں وہ تمام تر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صادق آتی تھیں، بعض منافق یہودی جو مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے یہ پیشینگوئیاں مسلمانوں کو سنادیتے تھے اس پر دوسرے یہودی تنہائی میں ان کو ملامت کرتے تھے کہ مسلمان ان پیشینگوئیاں کو جان لیں گے تو قیامت میں ہمارے خلاف استعمال کریں گے اور ہمارے پاس ان کا کوئی جواب نہ ہوگا، ظاہر ہے کہ یہ انتہائی بےوقوفی کی بات تھی ؛ کیونکہ اگر مسلمانوں سے یہ پیشینگوئیاں چھپا بھی لی جائیں تو اللہ سے تو نہیں چھپ سکتیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 77

اَ وَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۷﴾۔
ترجمہ
کیا یہ لوگ (جو ایسی باتیں کرتے ہیں) یہ نہیں جانتے کہ اللہ کو ان ساری باتوں کا خوب علم ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ؟

سورہ البقرۃ آیت نمبر 78

وَ مِنۡہُمۡ اُمِّیُّوۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ الۡکِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۷۸﴾۔
ترجمہ
اور ان میں سے کچھ لوگ ان پڑھ ہیں جو کتاب (تورات) کا علم تو رکھتے نہیں، البتہ کچھ آرزوئیں پکائے بیٹھے ہیں، اور ان کا کام بس یہ ہے کہ وہم و گمان باندھتے رہتے ہیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 79

فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ یَکۡتُبُوۡنَ الۡکِتٰبَ بِاَیۡدِیۡہِمۡ ٭ ثُمَّ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ لِیَشۡتَرُوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَوَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا کَتَبَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ وَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۷۹﴾۔
ترجمہ
لہذا تباہی ہے ان لوگوں کی جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر (لوگوں سے) کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ذریعے تھوڑی سی آمدنی کما لیں۔ (٥٦) پس تباہی ہے ان لوگوں پر اس تحریر کی وجہ سے بھی جو ان کے ہاتھوں نے لکھی، اور تباہی ہے ان پر اس آمدنی کی وجہ سے بھی جو وہ کماتے ہیں۔
تفسیر
56: یہاں قرآن کریم نے ترتیب یہ رکھی ہے کہ پہلے ان یہودی علماء کا ذکر فرمایا ہے جو تورات میں جان بوجھ کر رد وبدل کرتے تھے پھر ان ان پڑھ یہودیوں کا جنہیں تورات کا علم تو تھا نہیں مگر انہیں مذکورہ بالا علماء نے ان جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا کر رکھا تھا کہ سارے یہودی اللہ کے لاڈلے ہیں اور وہ بہر صورت جنت میں جائیں گے، ان کا ساراعلم اسی قسم کے گمانوں پر مشتمل تھا ؛ چونکہ ان کے اس گمان کی بنیادی وجہ علماء کی تحریفات تھیں اس لئے آٰت نمبر 96 میں ان کی تباہی کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 80

وَ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدَۃً ؕ قُلۡ اَتَّخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ عَہۡدًا فَلَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ عَہۡدَہٗۤ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۰﴾۔
ترجمہ
اور یہودیوں نے کہا ہے کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے علاوہ آگ ہرگز نہیں چھوئے گی۔ آپ ان سے کہیے کہ کیا تم نے اللہ کی طرف سے کوئی عہد لے رکھا ہے جس کی بنا پر وہ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا، یا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگا رہے ہو جس کا تمہیں کچھ پتہ نہیں ؟

سورہ البقرۃ آیت نمبر 81

بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّ اَحَاطَتۡ بِہٖ خَطِیۡٓــَٔتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۱﴾۔
ترجمہ
( آگ تمہیں) کیوں نہیں (چھوئے گی) ؟ جو لوگ بھی بدی کماتے ہیں اور ان کی بدی انہیں گھیر لیتی ہے (٥٧) تو ایسے لوگ ہی دوزخ کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
تفسیر
57: بدی کے گھیرے میں لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کریں جس کے بعد کوئی نیک عمل آخرت میں کار آمد نہ ہو، اور وہ گناہ کفر اور شرک ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 82

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾۔
ترجمہ
اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں تو وہ جنت کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
9:28 AM
Threads
843
Messages
12,158
Reaction score
14,150
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,355.88
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.

Lovely Eyes

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Emerging
Fantabulous
The Iron Lady
Joined
Apr 28, 2018
Local time
9:28 AM
Threads
275
Messages
1,162
Reaction score
1,898
Points
703
Gold Coins
2,489.22
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks