کریڈٹ کارڈ، ماسٹرکارڈ اور ویزہ کارڈ

مسٹر کامیاب خان

Thread Starter
★★★★★★
Staff member
Charismatic
Expert
Writer
Popular
P A K I S T A N
Joined
May 5, 2018
Local time
8:41 PM
Threads
153
Messages
4,483
Reaction score
6,182
Points
1,386
Location
Central
Gold Coins
53.09
Silver Coins
10,099
Diamonds
0.00570
Username Change
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.

آج اس ٹاپک میں بات کریں گے کہ کریڈٹ کارڈ کیا ہے اور ماسٹر کارڈ لیبل ، ویزہ لیبل جو عموماً کارڈ پر پرنٹ ہوتا ہے وہ کیوں ہوتے ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔

ویزہ اور ماسٹر کارڈدونوں ہی پراسسنگ نیٹورک یا پیمنٹ ٹیکنالوجی (ملٹی نیشنل فنانسشئیل سرسز کارپوریشنز)کمپنیزہیں اور دونوں کے ہیڈ کواٹر امریکہ میں ہیں۔
ویزہ ،ماسٹر کارڈ بنک اورمرچنٹ دونوں کے درمیان پیمنٹ ہینڈلنگ کا کام کرتے ہیں صرف بنک ایسا کام نہیں کرتابلکہ بنک اور مرچنٹ کے درمیان ویزہ ، ماسٹر کارڈ ، امریکن ایکسپریس اور کوئی بھی بڑی کریڈٹ کارڈ کمپنی ہوتی ہے جو پیمنٹ پر عمل درآمد کرواتی ہیں جبکہ بنک استعمال کنندہ سے ہینڈل کرتا ہے ۔

ورچوئل کریڈٹ کارڈ بھی ڈیجیٹل کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے جو ماسٹر اور ویزہ کا لیبل استعمال کرتے ہیں ،یہ کارڈز صرف ایک فوٹو کی طرح ہوتا ہے جس پر وہ سب کچھ ہوتا ہے جو اصل کارڈ پر ہوتا ہے اور انہیں پاکستانی سم کارڈ کی طرح لوڈ کروا کر پیسوں کو ڈیجیٹل والٹ میں کسی بھی ایسی ویب سائٹ سے خریداری کرسکتے ہیں جو ماسٹر اور ویزہ کو اپنی ویب سائٹ پر پیمنٹ کے لیے دستیاب رکھتی ہیں،لیکن اس کارڈ سے صرف آنلائن ہی شاپنگ کی جاسکتی ہے رو برو کسی شاپ ، مال، مارٹ میں پیمنٹ صرف حقیقی کریڈٹ کارڈ زسے ہوتی ہیں کیوں کہ وہ کارڈ لے کر ریڈر مشین میں ڈالتے ہیں ۔
ماسٹر کارڈ اور ویزہ دونوں کا لیبل پوری دنیا میں اور دنیائے عالم کے بنکوں کے کریڈٹ کارڈ پر استعمال کیا جاتا ہے تاہم ان میں فرق بنک کرتے ہیں کہ وہ کتنے مشہور ہیں ملکی سطح پر یا عالمی ۔
اور پھر پوری دنیا میں ویزہ کارڈ سب سے زیادہ قابل قبول ہیں بنسبت ماسٹرکارڈ کے کیونکہ دونوں کے سالانہ آمدن سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ویزہ کی آمدن ماسٹر کارڈ سے زیادہ رہی ،لیکن ایسا صرف حقیقی کارڈ سے پیمنٹ کا ہے ، آنلائن بھی جہاں ویزہ کارڈ ہوتا ہے میں نے دیکھا ہے کہ وہیں ماسٹر کارڈ بھی ہوتا ہے۔
بعض بنکوں کی برانچز پورے ضلع میں جال کی طرح بچھی ہوئی ہوتی ہیں اور بعض بنک ملک کے اندر ہی غیر معروف ہوتے ہیں، اسی طرح انٹرنیشنل بنکوں کا حال بھی ہوتا ہے۔

جیسا کہ بنک آف امریکہ کا اپنا ذاتی کریڈٹ کارڈ ہے اور نیٹورک ہے جو امریکن ایکسپریس کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کارڈ کی اپنی ویلیو ہے بنک کارڈ ایشو بھی کرتا ہے اور بذات خود ایک نیٹورک بھی ہے۔
پھر ویزہ اور ماسٹر کارڈ مختلف آفر کرتے ہیں سیزن وائز بھی ان کی طرف سے آفر ہوتی ہیں اور بعض اسٹوروں پر خریداری پر رعایتی قیمتیں درج ہوتی ہیں۔
اگر کوئی چیز بک نہیں رہی تو بزنس اونر فلاں کریڈٹ کارڈ پر کم قیمت رکھ دیں گے ایسا کیسے ہوتا ہےاور اس کا فائدہ مرچنٹ اور بنک کو کیا ہوتا ہےوہ ان کے کاروبار کی حکمت عملی یا بزنس الائنس ہوسکتا ہے۔
جیسا کہ آج ہی پبلک گاڑی پر اشتہار دیکھا کہ اگر آنلائن ٹرپ ڈاٹ کام سے ہوائی جہاز کا ٹکٹ بک کریں تو ماسٹر کارڈ پر خصوصی ڈسکاؤنٹ ہے۔

بہرحال چیز فروخت ہوجاتی ہے۔اور جن کے پاس کریڈٹ کارڈ نہیں ہوتا وہ چیز لینے کے لالچ میں کوشش کرتا ہے کہ اس بنک کا کریڈٹ کارڈ اپلائی کریں یا ان کے پاس ہونا چائیے تھا۔

بنک !کریڈٹ کارڈ لوگوں کو دیتا ہے اور اس کریڈٹ کارڈ سے جو لوگ استعمال کرتے ہیں سود کماتا اور لوگوں کو پرفریب آفروں سے گھیر کر سود کے چنگل میں پھنساتا ہے ،مثال کے طور پر پرائیویٹ لیبل کریڈٹ کارڈز،مختلف سٹوروں پر شاپنگ کے متعلق زبردست رعایتی پیشکش، گیس اسٹیشنوں پر فی لیٹر پر بھاری ڈسکاؤنٹ کی آفرز،باہر ممالک میں سفر کرنے پر پوائنٹس ،فلاں فلاں جگہوں پر کھانے کے بل دینے پر رعایت اور پوائنٹس اور فی پوائنٹ کیش ڈالر کے مثاوی جو سراسر بنک کی طرف سے ہوتے ہیں اور سود ہوتا ہے جو مسلمانوں کے لیے تو حرام ہے لیکن عام پبلک بخوشی اس چنگل میں پھنستی ہے۔

ویزہ ، ماسٹر کارڈ امریکن ایکسپریس وغیرہ مرچنٹ یعنی بزنس اونرسے تھوڑا سا چارج کرتے ہیں ، لہذا آپ دیکھیں گے کہ کسی چھوٹی شاپ پر جائیں تو بعض تو ویزہ کارڈ ایکسپٹ کرتے ہیں لیکن بعض آپ سے کریڈٹ کارڈ پیمنٹ پر ایکسٹرا چارج کریں گے ،وہ ایکسٹرا چارج ویزہ اور ماسٹر کارڈ کو جاتے ہیں ،لیکن عموما ہر بڑی شاپ سٹور مال پر ایکسٹر چارجز نہیں ہوتے کیوں کہ ان کا اپنا ایک معیار ہوتاہے اور ان کا پرافٹ مارجن ایسا ہوتاہے کہ اس میں سب کچھ شمار کرلیا جاتا ہے۔
جب کوئی بزنس شروع کرتا ہے تو انہیں ویزہ کارڈ، ماسٹر کارڈ، امریکن ایکسپریس، علی پے، اکٹوپس ، پے پال وغیرہ جیسے آپشنز اپنی ویب سائٹ، آنلائن شاپ یا دکان سٹور، مال پر رکھنے پڑتے ہیں ، جتنی سہولیات ادائیگی کی ہوگی اتنی آسانی ہوگی اور کسٹمرزپیس آف مائنڈ خریداری کریں گے ، بالخصوص ویسٹ ،یورپ اور ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ڈیجٹل پیمنٹ لائف اسٹائل ہے اور سب سے زیادہ سہولت بھی ڈیجٹل والٹ میں ہے۔
سود اور کارڈ کی فیس بنکوں کو جاتی ہے اور مرچنٹ جتنی بار بھی ویزہ کارڈ، ماسٹر کارڈ یا ڈیجٹل والٹ استعمال کرتا ہےویزہ اور ماسٹر کارڈ ان سے تھوڑا پرسنٹیج اپنی فیس وصول کرتے ہیں۔
کچھ شرائط اور لمٹس ہوتی ہیں جن سے اگر تجاوز کریں تو پھر ایکسٹرا چارجز دینا پڑتے ہیں ورنہ حدود میں رہ کریڈٹ کارڈ استعمال کریں تو اس کا موجودہ دور میں بہت فائدہ ہے کہ آج کل ہر چیز آنلائن منتقل ہو چکی /رہی ہے، ۔
سب ایک نظام کے تحت چل رہاہے کہ عام پبلک جب شاپنگ کرتی ہے تو کاروبار چلتا ہے ، کاروباری مشنری سے وابستہ ملکی معیشت چلتی ہے، گھڑی کی مومنٹ کی طرح کا ملکی نظام ہوتاہے جس کے اندر تمام گھراریاں چلتی ہیں تو گھڑی ٹھیک سے وقت بتاتی ہے ، اور ذرا سا احتجاج یا کہیں دھماکہ ہوجائے تو وہ ایریا متاثر ہوجاتا ہے اور اگر ملک کے اندر ہی عوام سڑکوں پر آجائیں تو بزنس ٹھپ ہوجاتا ہے جس سے ملکی معیشت سست رفتار ہوجاتی ہے، ۔
تازہ ترین مثال کرونا وائرس ہے جس نے پوری دنیا کا نظام خراب کرنا شروع کردیا ہے،مارکیٹیں کریش کررہی ہے ، سیاحت اور کاروبارختم ہوکر رہ چکا ہے ،ائیر لائنوں کا کاروبار ٹھپ ہے اور دنیا کے ممالک میں کساد بازاری کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔

اگر آپ کو اس بارے میں معلومات ہیں تو اس تھریڈ میں اپنے کمنٹس کے ذریعے سے ضرور شئیر کریں اور کہیں غلط انفارمیشن لگے تو میری تصحیح ضرور کریں شکریہ۔
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock
No Thanks