بچوں کو صحت مند زندگی اور ماحول کی فراہمی: بڑا عالمی چیلنج

Lovely Eyes

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Emerging
Fantabulous
The Iron Lady
Joined
Apr 28, 2018
Local time
11:57 AM
Threads
272
Messages
1,159
Reaction score
1,894
Points
703
Gold Coins
2,485.96
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
بچوں کو صحت مند زندگی اور ماحول کی فراہمی: بڑا عالمی چیلنج
تحریر : آمنہ اسلام

دنیا میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے جو اپنے بچوں کی صحت کے تحفظ کے لئے موزوں اقدامات کررہا ہو یا انھیں محفوظ مستقبل فراہم کرنے کے لئے صحت مند ماحول فراہم کررہا ہو۔ یہ بات دنیا بھر کے 40 ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن کی مرتب کردہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ یہ کمیشن ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)، ’یونیسف‘ اور ’لانسیٹ‘نے قائم کیا ہے۔ رپورٹ کا عنوان ہے:’’ دنیابھر کے بچوں کا مستقبل‘‘۔

4676

رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ دنیا کے ہر بچے اور نوجوانوں کی صحت اور مستقبل کو ماحولیاتی انحطاط، آب و ہوا میں تبدیلی اور استحصالی مارکیٹنگ کے حربوں سے فروخت ہونے والے فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات، شراب اور تمباکو سے فوری طور پر خطرہ ہے۔

نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم اور کمیشن کی شریک چیئرپرسن ہیلن کلارک کا کہناہے کہ پچھلے20 برسوں میں بچوں کی صحت میں بہتری کا عمل نہ صرف رک چکاہے بلکہ اب خرابی کی طرف بڑھ رہاہے۔ یہ اندازہ لگایاگیاہے کہ کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں، پانچ سال سے کم عمر تقریباً ڈھائی کروڑ بچے نشوونما نہ ہونے کے خطرہ سے دوچار ہیں۔اس کا سبب غربت ہے یا پھر نشوونما دینے والے متبادل اقدامات کا نہ ہونا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب دنیا میں ہر بچے کو آب و ہوا میں تبدیلی اورکمرشل دباؤ سے بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ یادرہے کہ کمرشل دباؤ سے مراد ہے چیزوں کے خریدنے اور بالخصوص فروخت کرنے کے عمل کا دباؤ۔ مثلاً آپ کے اردگرد موجود کاروباریکمپنیاں ایک بھرپور دباؤ پیدا کرکے لوگوں کو اپنی مصنوعات خریدنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس کے لئے وہ نت نئی ، مختلف تدابیر اختیار کرتی ہیں۔ ہیلن کلارک نے مزید کہا کہ کم اور اوسط آمدنی والے ممالک کوچاہیے، وہ بچوں اور نوعمر افراد کی صحت کے متعلق طریقہ کار پر سوچ بچار کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیںکہ ہم ایک محفوظ دنیا انھیں وراثت میں دیں۔

٭شدید ماحولیاتی تبدیلی،بچوں کے مستقبل کے لیے خطرناک

4677

آب و ہوا کی تبدیلی میں شدت ہربچے کے مستقبل کے لئے خطرات پیدا کررہی ہے۔ مذکورہ بالا رپورٹ میں 180ممالک کا نیا عالمی انڈیکس بھی شامل کیاگیا ہے، اس میں بچوں کی نشوونما کے عمل کا موازنہ کیاگیاہے، ان ممالک کے اقدامات پر بھی نظر رکھی گئی ہے جو وہ بچوں کی بڑھوتری کے لئے کررہے ہیں۔ اس میں صحت ، تعلیم، تغذیہ، گرین ہاؤس گیس کے اخراج، بچوں کے حقوق اور آمدنی میں فرق کو بنیاد بنایاگیاہے، یہ سب پہلوبچوں کی بقا اور بہبود کے لئے ضروری ہیں۔

یادرہے کہ اس انڈیکس میں پاکستان کا 140 واں نمبر ہے۔ گیمبیا، کینیا، لاؤس، سینیگال، گھانا، انڈیا، روانڈا، سولومن آئی لینڈ جیسے ممالک نے پاکستان کی نسبت بہتر رینکنگ حاصل کی ہے۔اس رپورٹ سے پتہ چلتاہے کہ غریب ترین ممالک کو اپنے بچوں کی صحت مند زندگی گزارنے کی صلاحیت میں بہتری اور نشوو نما اور ضرورت سے زیادہ کاربن کے اخراج کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرموجودہ اندازوں کے مطابق سال 2100 تک عالمی درجہ حرارت میںمزید 4 ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہوگیا تو اس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند ہوگی، گرمی کی لہر شدید ہوگی، ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریاں وباؤں کی شکل اختیار کریں گی، غدائیت کی کمی کا معاملہ بھی بحران بن جائے گا، نتیجتاً بچوں کی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

اس انڈیکس میں ناروے، جمہوریہ کوریا اور نیدرلینڈ میں بچوں کو بقا اور فلاح کے بہترین مواقع میسر ہیں جبکہ وسطی افریقہ، جمہوریہ چاڈ ، صومالیہ ، نائیجر اور مالی میں بچوں کو صحت سے متعلق بدترین مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے۔ جب مصنفین نے فی کس کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا جائزہ لیا تو رینکنگ میں بلند ترین ممالک نظر نہ آئے کیونکہ اس باب میںناروے کی رینکنگ156، جمہوریہ کوریا کی 166 اور نیدرلینڈ کی 160 ہے۔ تینوں ممالک میں سے ہر ایک اپنے2030ء کے ہدف سے210 فیصد زیادہ فی کسکاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتاہے ۔اس حوالے سے امریکا، آسٹریلیا اور سعودی عرب بھی دس بدترین ممالک میں شامل ہے۔

کمیشن کی شریک چیئرپرسن سینیگال سے تعلق رکھنے والی وزیر آوا کول سیک کا کہناہے کہ دو ارب سے زیادہ افراد ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں انسانی بحران، تنازعات اور قدرتی آفات کی وجہ سے ترقی کے سامنے رکاوٹیں کھڑی ہیں اور ان کا ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ تعلق جڑا ہواہے۔ بعض ایسے بھی غریب ممالک ہیں جہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ بہت کم خارج ہوتی ہے۔ اور اکثر ممالک ماحولیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کے قابو میں آچکے ہیں۔ دنیا میں بعض ایسے ممالک بھی ہیں جہاں بچوں کو پلنے بڑھنے کے اچھے مواقع میسر ہیں، ان میں البانیا، آرمینیا، اردن، مالدوا، سری لنکا، تیونس، گریناڈا، یوراگائے اور ویت نام شامل ہیں۔

٭کمرشل مارکیٹنگ کے بُرے اثرات، بچے11گنا موٹے ہوگئے

4678

رپورٹ میں مارکیٹنگ کے بچوں کی صحت پر برے اثرات کا جائزہ بھی لیاگیا۔

بچوں کو نقصان دہ کاروباری مارکیٹنگ کی وجہ سے بچپن کا موٹاپا 11گناہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ شواہد سے پتہ چلتاہے کہ بعض ممالک کے بچے صرف ایک سال میں ٹیلی ویژن پر30ہزار سے زیادہ اشتہارات دیکھتے ہیں جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں دو برسوںکے دوران ای سگریٹ کی تشہیر میں 250 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اشتہارات24 ملین سے زیادہ نوجوانوں نے دیکھے۔

کمیشن کے مصنفین میں شامل ایک پروفیسر انتھونی کوسٹیلو کا کہنا ہے کہ صنعت کا سیلف ریگولیشن کانظام ناکام ہوچکاہے۔ آسٹریلیا، کینیڈا، میکسیکو، نیوزی لینڈ اور امریکا سمیت بہت سے دوسرے ممالک کے لوگوں کے مطالعہ سے ثابت ہوا ہے کہ سیلف ریگولیشن بچوں کو اشتہارات دکھانے کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکے۔ مثلاً آسٹریلیا میں صنعتوں نے سیلف ریگولیشن کے معاہدے پر دستخط کرنے کے باوجود ایک سال میں فٹ بال ، کرکٹ، رگبی کے میچز کے دوران میں بچوں اور نوعمر افراد کو شراب کے 51 ملین اشتہارات دیکھنے پڑتے ہیں۔حقیقت اس سے بھی بدتر اور خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایڈورٹائزنگ کے ذریعے یہ چیزیں اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی تعداد میں دکھائی جاتی ہیں۔

بچے جنک فوڈ اور چینی والے مشروبات کے اشتہارات دیکھتے ہیں، اس کے نتیجے میں وہ غیر صحت مندانہ مصنوعات خریدتے ہیں،

4679

بچوں میں زیادہ وزن اور موٹاپا کی وجہ سے جنک فوڈ اور شوگربیوریجز کی خریداری ہے۔ جنک فوڈ کی اس حد تک مارکیٹنگ کی وجہ سے اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہاہے۔یہ صورت حال خطرناک شکل اختیار کرچکی ہے۔ موٹے بچوں اور نوعمروں کی تعداد1975ء میں 11ملین تھی جو 2016ء میں 124ملین ہوچکی ہے۔ یعنی گیارہ گنا اضافہ۔

بچوں کے تحفظ کے لئے قائم کمیشن کے مصنفین نے بچوںکے تحفظ کے لئے ایک عالمی تحریک چلانے کا مطالبہ کیا ہے اور درج ذیل سفارشات تجویز کی ہیں:

٭کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو فی الفور روکا جائے تاکہ اس دنیا میں بچوں کا مستقبل روشن اور محفوظ بنایا جاسکے۔

٭پائیدار ترقی کے حصول کے لئے ہماری کوششوں کا مرکز و محور بچے اور نوعمر ہونے چاہئیں۔

٭ تمام شعبوں میں پالیسی سازی اور سرمایہ کاری کرتے ہوئے بچوں کی صحت اور حقوق کو مدنظر رکھاجائے۔

٭بچوں کی آواز کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے۔

٭وفاقی سطح پر ایسے ضابطوں کو سخت کرناچاہئے جن کے نتیجے میں صحت کے لئے نقصان دہ اشتہارات کو پابند کیا جاسکے۔

4680

جریدے ’لانسیٹ فیملی آف جرنلز‘کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر رچرڈ ہارتن کا کہناہے کہ یہ ایک اچھا موقع ہے، شواہد موجود ہیں اور اوزار ہاتھوں میں ہیں۔ ریاست کے سربراہ سے لے کر مقامی حکومت تک، اقوام متحدہ کے رہنماؤں سے لے کر بچوں تک ،یہ کمیشن مطالبہ کرتاہے کہ بچوں اور نوعمروں کی صحت کے لئے ایک نیا دور شروع کیاجائے،اس کے لئے ہمیں ہمت اور بلند عزم کی ضرورت ہے۔یہ ہماری نسل کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریتا ایچ فور کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی بحران سے لے کر موٹاپے اور نقصان دہ کاروباری مارکیٹنگ تک دنیا بھر کے بچوں کو سخت خطرات کا مقابلہ کرنا پڑرہاہے، چند نسلیں پہلے تک ان خطرات کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔

اب وقت آگیاہے کہ بچوں کی صحت کے بارے میں دوبارہ غوروفکرکیا جائے، ہرحکومت اپنے ترقیاتی ایجنڈے میں اسے سرفہرست رکھے، ان کی فلاح وبہبود کو تمام امور پر مقدم رکھے۔

اس رپورٹ سے پتہ چلتاہے کہ دنیابھر میں فیصلے کرنے والے اکثر لوگ بچوں اور نوجوانوں کی صحت کی حفاظت میں، ان کے حقوق کے تحفظ میں بلکہ اس سیارے کی حفاظت میں ناکام ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ بچوں کی صحت اور ترقی میں سرمایہ کاری کرنے ، ان کی آواز کو سننے، ان کے حقوق کی حفاظت کرنے اور بچوں کے لئے موزوں مستقبل کی تشکیل کے لئے اقدامات کرنا نہایت ناگزیر ہیں کیونکہ یہی بچے ہماری دنیا کے وارث اور ہمارا مستقبل ہیں۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
11:57 AM
Threads
842
Messages
12,137
Reaction score
14,137
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,352.82
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
7:57 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.02
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited

Silent Rose

Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Designer
Emerging
Courageous
Respectable
Hypersonic
Joined
Sep 23, 2019
Local time
11:57 AM
Threads
78
Messages
2,137
Reaction score
3,276
Points
687
Age
49
Location
کراچی
Gold Coins
894.26
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
بہت ہی عمدہ تحریر
زبردست

:clap:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks