پھجے کے پاے

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
12:49 PM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
108.56
Silver Coins
49,510
Diamonds
1.10870
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
چلو جی آج پاے پر ایک تحریر ک اشتراک کرتے ہیں۔چارپائی کے نہی پھجے کے پاے یعنی انکے بناے ہوے سمجھ جائے ناں انکے پکاے ہوے پاے پر چھوٹی سی تحریر اردو سورس سے لی گئی ہے
لاہور کے سری پائے لاہور، لاہور اے. لاہوریوں کا ہر دلعزیز ناشتہ ، حلوہ پوری ، بونگ ، نہاری ،ہریسہ اور سری پائے ہیں۔ آج ہم سری پائے اور خاص طور پر لاہور کے پھجے کے سری پائے کی بات کریں گے جس کا ذکر ہر خاص و عام کی زبان پر ہے۔



نواز شریف کے وزیراعظم ہونے کے بعد لاہور کے پرانے اور مشہور دہی بھلے، کباب، سری پائے اور مرغ چنے والے وزیراعظم نواز شریف کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہر آنے جانے والی گاڑی کو دیکھ کر انہیں یہی لگتا ہے کہ میاں صاحب آ گئے ہیں۔
ابھرا جو چاند ہم سمجھے وہ آگئے
کتنے حسیں دھوکے دئیے ہیں انتظار نے
ہو سکتا ہے ان دوکانداروں نے نہ سنا ہو کہ اردو شاعری انتظارکے ذکر سے عبارت ہے اور محبوب کبھی نہ آتا ہے۔ میاں صاحب کھانے پینے والوں میں شمار ہوتے ہیںاور لاہور کے خاص پکوانوں کی دوکانوں کے قدردان بھی ،خالص لاہوری ہیں اور لاہور کے کھانے پسند کرتے ہیں اور ڈٹ کر کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں۔ سری پائے کے رسیا آپ کو پاکستان کے علاوہ ہندوستان، بنگلہ دیش اور جہاں کہیں بھی پاکستانی،ہندوستانی و بنگلہ دیشی مسلمان رہتے ہیں، بھی ملیں گے۔مغرب میں لوگ بکرے کے پائیوں کے بجائے ہاگ ھاکس کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔حکو مت پاکستان کو چاہئیے کہ وہاں کے لوگوں کو
سری پائیوں سے متعارف کروائے۔ اس نہ صرف سیاحت اور قیمتی زر مبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی اس سوغات کےساتھ ساتھ پاکستان کی نیک نامی بھی بڑھے گی۔

ویسے تو سری پائے لاہور کے ہر کونے اور نکر پر ملتے ہیں مگر لاہور میں پھجے کے سری پائے سارے برصغیر میں اپنے لذت اور ذائقہ کے لئے مشہورہیں اور گذشتہ ۷۰ سال سے لوگوں کو بے مثال اور لازوال سری پائے بہم پہنچا رہے ہیں اور اس کے ذائقہ اور معیار پہلے دن والا ہے۔پھجے کی دوکان لاہور کے بازار حسن میں ہے۔ وہاں پھجے کی بھی دو، دوکانیں ہیں۔ آپ لاہور کے مشہور پائے کھانے کےلئے ، اصلی پھجے کی دکان پر جائیں۔ اگر سری پائے کھانے کے بعد آپ لسی بھی پی لیں تو یہ دو آتشہ بن جاتا ہے اور خماری ایسی چڑہتی ہے کہ الامان۔ بندہ بستر کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ سردیوں میں سری پائے کی فروخت کا کام عروج پر ہوتا ہے اور گرمیوں میں ذرا مندا۔ اب تو فجے نے لاہور شہر میں اپنی فرنچائز بھی کھول لی ہیں،جہاں بعض جگہ خواتین کےبیٹھنے کا علیحدہ انتظام ہے۔
ایک زمانہ تھا جب پھجے کے پائے آپ ۵ سے ۱۰ روپیہ میں خرید سکتے تھے مگر آج لاہور کی یہ سوغات آپ کو ۲۰۰ روپے میں دو عدد بکرے کے پائے کی صورت میں ملے گی۔ آپ پھجے کی دوکان پر جائیں تو آپ ایک بڑا سا گہرا تھال دیکھیں گے جس سے فرنٹ پر پائے اور ایک طرف سری کے مختلف حصے پڑے ہوئے پائیں گے اور درمیاں میں شوربہ اور اس تھال میں سے بھاپ مصالحہ جات کی خوشبو لئے
پوری دوکان میں موجود لوگوں کی اشتہا کو تیز کر رہی ہوتی ہے۔ ایک طرف تندور ہے جس میں گرم گرم کلچے تیار ہوتے ہیں۔ سری پائے کھانے کا مزا آپ کو دوکان پر ہی آتا ہے۔

Please, Log in or Register to view URLs content!
ہاں کسی کے پاس کوئی معیار یا کسوٹی نہ ہے کہ یہ پائے واقعی بکرے کے ہونگے اور بکری ،مینڈھے ،بھیڑ ، دنبہ یا بو بکرے کے نہ ہونگے۔ نا کسی کو معلوم ہے کہ بکری،مینڈھے،بھیڑ یا دنبہ کے پائوں کا ذائقہ بکرے کے پائوں جیسا ہی ہوگا یا کچھ مختلف۔ ہاں کلیسٹرول کے مریض سری پائے کھانے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کر لیں۔

ہمارے ایک کرم فرما ،کہنے لگے بھائی پائے ،پائے ہی ہوتے ہیں ،صرف پھجے ہی کے کیوں؟ آپ کیوں پھجے کے سری پایوں کی مشہوری میں لگے ہیں؟ آپ کو کیا مفت ملتے ہیں؟ اور اگلے دن اپنے نقطہ نظر کو ثابت کرنے کےلئے ،ایک مقامی مارکیٹ سے سری پائے لے آئے۔اب ہم دونوں ان سری پائیوں کو کھانے کےلئے کشتی میں مصروف ہوگئے اور پائیوں نے ہمارے منہ و شکم میں جانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر موصوف کہنے لگے کہ یہ پائے بکرے کےتو نہیں لکڑی یا پتھر کے لگتے ہیں جو ان کی بو ٹیاں ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتی۔
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ پھجے کے پائے خاص دیسی بکروں کے ہوتے ہیں اور یہ کہ پہاڑی بکروں کے پائے ہلنے سے بھی انکاری ہو جاتے ہیں کیونکہ ان بکروں نے پہاڑوں پر اترنے چڑہنے کی خاصی مشقت کی ہوئی ہوتی ہے اور ان پائیوں کا گوشت انتہائی سخت ہو کر سخت مسل بن جاتا ہے۔ اور یہ کہ پھجے کے پائے دیگ مٰیں، جو اوپر سے بند کر دی جاتی ہے اور نہ اندر کی بھاپ باہر آ سکتی اور نہ ہی باہر کی ہوا اندر جاسکتی ہے، ہلکی آنچ پر ساری رات پکتے ہیں اور ناشتہ کے وقت کھانے کو تیار ملتے ہیں۔انتہاےی پکے ہوئے ،ذرا سی حرکت دینے سے گوشت ہڈیوں سے جدا ہو جاتا ہے۔ آپ چاہیں تو صرف پائے آڈر کریں یا صرف سری یا سری پائے دونوں۔ مغز جو سری کا بائی پروڈکٹ ہے ،بھی دستیاب ہوتا ہے۔
سری پائے کھانے کا میل کلچوں کےساتھ بڑا خوب ہوتا ہے مگر سری پائے آپ چاول کےساتھ بھی تناول کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگ سری پائے ایک بڑے پیالہ میں ڈال کر کلچہ کے چھوٹے چحوٹے ٹکرے کر کے اس میں شامل کر لیتے ہیں اور اس مرغوبہ کو کھانے کے چمچ کےساتھ کھاتے ہیں مگر ہڈیوں میں سے ست نکالنے کے لئے انگلیوں کا استعمال بہر حال انہیں کر نا ہی پڑتا ہے۔
راقم نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح پھجے کے موجودہ جانشین اسے پائے بنانے کی ترکیب اور اس میں شامل کئیے جانے والے مصالحہ جات کی تفصیل بتا دیے مگر موصوف پیٹنٹ نہ ہونے کےبا وجود طرح دے گئ

 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
12:49 PM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
108.56
Silver Coins
49,510
Diamonds
1.10870
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
ویسے تو ہم پورا سال ہی مختلف اقسام کے کھانے کھاتے رہتے ہیں، لیکن کچھ کھانے اگر موسم کی مناسبت سے بنائے جائیں تو ان کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے ۔ آپ یقیناَ میری اس بات سے اتفاق کریں گے ، جیسا کہ سوپ، یخنی، کافی اور پائے۔ ارے پائے سے یاد آیا کہ بھائی جی پچھلے دنوں بڑے شوق سے پائے لائے تھے، اور میں نے ان سے کہا تھا کہ سردیاں آنے دیں پھر پائے بناؤیئنگے۔
دراصل سردی کے موسم میں پائے کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے تو کیوں نہ آج پائے پکائے جائیں۔ تو آئیے کچن میں چلتے ہیں اور اجزا پر نظر ڈالتے ہیں۔ اگر کمی و بیشی ہے تو جلدی سے بازار سے منگوالیں۔ ہاں تو جناب کیا کیا چیزیں درکار ہیں۔

اجزا؛

پائے ۔ بکرے کے 4 عدد/گائے ایک عدد
تیل ۔ آدھی پیالی
دہی۔ آدھی پیالی
لہسن ، ادرک ۔ ایک کھانے کا چمچہ
پیاز۔ ایک باریک کٹی ہوئی
بڑی سرخ مرچ ۔ 5 عدد
چھوٹی مرچ ۔ 5 عدد
دھنیا پسا ہوا ۔ ایک ٹیبل اسپون






فوٹو؛ ماریہ منظور

ہلدی ۔ ایک ٹی اسپون
چھوٹی الائچی ۔ 4 یا 5 عدد
لونگ ۔ 6-7 عدد


فوٹو؛ ماریہ منظور

اجوائن ، کلونجی ۔ ایک چائے کا چمچ
بڑی الائچی ۔ 4 عدد
زیرہ ۔ آدھا چمچ
کالی مرچ ۔ 7 عدد
نمک۔ حسب ذائقہ

ترکیب؛

سب سے پہلے 4 گلاس پانی میں پائے کو ابالیں۔

اب اس میں لہسن، ادرک، پیاز، دہی اور دیگر اجزا ڈال کر ابالنے رکھ دیں۔

پھر اس میں مرچ، دھنیا، ہلدی، نمک اور گرم مصالحہ پیس کر شامل کرلیں۔

اب ایک الگ کڑھائی میں پیاز گھی میں تل کر سنہرا کرلیں اور بگھار لیں۔


فوٹو؛ ماریہ منظور

ہری مرچ اور ہرا دھنیا، لیموں اور باریک کٹی ہوئی ادرک اوپر سے ڈال کر گرم گرم نان سے کھائیں۔لیں جناب گرما گرم پائے تیار ہیں۔


فوٹو؛ ماریہ منظور

ہائے بیگم ان سردیوں نے تو گزرے دنوں کی یاد دلا دی جب شادی کے بعد آپ نے نئے نئے پائے بنائے تھے، بھئی واہ مزا آگیا۔ میرے گھر والوں نے تو پائے مزے لے کر کھائیں۔
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks