یوم پاکستان پاکستان کی تاریخ

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
1:08 PM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
108.41
Silver Coins
49,510
Diamonds
1.10870
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
یوم پاکستان پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ اس دن۔ یعنی 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔ قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ وہ مطالبہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس دن "23 مارچ" پورے پاکستان میں عام چھٹی ہوتی ہے۔

اور 23 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین کو اپنایا گیا مملکت پاکستان پہلا اسلامی جمہوریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا۔
23 مارچ کو ہم یوم قرارداد پاکستان مناتے ہیں جو اصل میں بائیس مارچ کو مسلم لیگ کے لاہور جلسے میں پیش ہوئی اور چوبیس کو منظور ہوئی..پاکستان بننے سے پہلے اور انیس سو چھپن تک ایسا کوئی دن نا منایا گی۔. تئیس مارچ چھپن کو پاکستان کا پہلا آئیں نافذ ہوا اسکندر مرزا گورنر جنرل سے صدر بن گئے - ستاون اور اٹھاون کی تئیس مارچوں کو اسے یوم جمہوریہ پاکستان کے طور منایا گیا - اکتوبر اٹھاون میں مارشل لا لگ گیا اور جمہوریت کا خاتمہ ہوا۔ اور انسٹھ کی تئیس مارچ کو پاکستان اس وقت جمہوری ملک نہیں تھا یوم جمہوریہ نہیں منایا جا سکتا تھا..اور جس آئیں کے نفاذ کے دن کے لیے مناتے ہیں وہ آئیں ہی ختم ہو گیا تھا۔ اسی وجہ سے اس دن کو یوم قرارداد پاکستان کے طور منایا جانے لگا۔

خصوصی پریڈ
یوم پاکستان کو منانے کے لیے ہر سال 23 مارچ کو خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں پاکستان مسلح افواج پریڈ بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستی اثاثوں اور مختلف اشیاء کا نمائش کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر سے لوگ فوجی پریڈ کو دیکھنے کے لیے اکھٹے ہوتے ہیں
یوم پاکستان پریڈ
23 مارچ 2015ء کو 7 سال کے عرصے کے بعد فوجی پریڈ کا انعقاد وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں ہوا جس میں صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کرتے ہیں- پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا کرتے ہیں جس کی قیادت پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل کرتے ہیں۔

تقریبات
مہمان خصوصی

عمومی طور پر 23 مارچ کی تقریب میں مہمان خصوصی صدر پاکستان ہی ہوتا ہے- لیکن اس کے علاوہ دوسرے ممالک سے بھی مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے-
 

Silent Rose

Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Designer
Emerging
Courageous
Respectable
Hypersonic
Joined
Sep 23, 2019
Local time
5:08 PM
Threads
72
Messages
1,890
Reaction score
3,022
Points
586
Age
48
Location
کراچی
Gold Coins
236.51
Silver Coins
0
Diamonds
0.00000
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
:goodpost:
 

faizyG

Champion
Designer
Emerging
Poet شاعر
Joined
May 18, 2019
Local time
5:08 PM
Threads
16
Messages
336
Reaction score
320
Points
203
Gold Coins
4.79
Silver Coins
3,738
Diamonds
0.02800
اللہ کریم ہمارے سوہنے من موہنے وطن عزیز کو رہتی دنیا تک سلامت ،آباد ،خوشحال اورتابندہ و پائندہ رکھے۔ اس کے ہرے بھرے کھیت ہمیشہ یوں ہی لہلہاتے رہیں۔اس کے دریا سدا ایسے ہی موجزن رہیں۔ اس کے پہاڑ عمر بھر اس کی عظمت کا نشان رہیں۔ اس کی بہاریں کبھی خزاں رسیدہ نہ ہوں۔اس کے بیٹے اس کی حرمت اس کی آبرو کی خاطر تا قیامت اپنا فرض ادا کرتے رہیں اقوامِ عالم میں اس کا نام روشن کرتے رہیں اور اس کےدشمنوںکوخاک و دھول چٹاتے رہیں۔ اللہ پاک اسے اور اس میں رہنے والے تمام پاکستانیوںکوہرآفت سےمحفوظ رکھے ۔ آمین
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
1:08 PM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
108.41
Silver Coins
49,510
Diamonds
1.10870
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
17426409_501613806680277_7669383441382377863_n.jpg
Please, Log in or Register to view URLs content!

"قرارداد پاکستان"

23 مارچ کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرار داد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔
23 مارچ کو اس زمانہ کے بنگال کے وزیر اعلی مولوی فضل الحق نے قرار داد لاہور پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت تک کوئی آئینی پلان نہ تو قابل عمل ہوگا اور نہ مسلمانوں کو قبول ہوگا جب تک ایک دوسرے سے ملے ہوئے جغرافیائی یونٹوں کی جدا گانہ علاقوں میں حد بندی نہ ہو۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے، انہیں یکجا کر کے ان میں آزاد مملکتیں قائم کی جائیں جن میں شامل یونٹوں کو خود مختاری اور حاکمیت اعلی حاصل ہو۔

مولانا ظفر علی خان اور قائداعظم محمد علی جناح
مولوی فضل الحق کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کی تائید یوپی کے مسلم لیگی رہنماچوہدری خلیق الزماں ، پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، سرحد سے سردار اورنگ زیب سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسی نے کی۔
قرارداد23مارچ کو اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔

اپریل سن 1941 میں مدراس میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قرارداد لاہور کو جماعت کے آئین میں شامل کر لیا گیا اور اسی کی بنیاد پر پاکستان کی تحریک شروع ہوئی۔
لیکن اس وقت بھی ان علاقوں کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی تھی جن پر مشتمل علیحدہ مسلم مملکتوں کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔۔
یہ دن ایک عزم کے اظہار کا دن ہے کہ جب لاکھوں پروانے قائد اعظم کی پکار پر دنیا کی پہلی نظریاتی ریاست بنانے کے لیے نکل پڑے تھے۔
مسلمانوں کے غزوہ بدر کی طرح قائد اعظم کے ان ساتھیوں نے ہندو اکثریت اور انگریزوں کی طاقت کے سامنے ڈٹ جانے کی قسم کھائی تھی۔
یہ دن ہمیں اس وعدے کی پاسداری کی یاد دلاتا ہے کہ جب ہمارے بزرگوں نے آنیوالے نسلوں کو آزادی کی نعمت سے مالا مال کرنے کے لیے قربانیوں کی داستان رقم کی تھی۔ مسلم لیگ قرارداد پاکستان کی منظوری تک ایک بڑی جماعت نہ تھی اور نہ ہی مسلمانوں کے اکثریت اس کے ساتھ تھی لیکن اس قرارداد کے منظور ہوتے ہی اس کی مقبولیت اپنی انتہا کو چھونے لگی۔
سب کی زبان پر صرف ایک ہی نعرہ تھا کہ
" پاکستان کا مطلب کیا۔۔ لا الہ الا اللہ ""
اور اسی نعرے کی گونج میں یہ سفر شروع ہوا۔
تئیس مارچ انیس سو چالیس تو آغاز سفر تھا ۔
اس دن اقبال کے خواب کی تعبیر کے لیے قائد اعظم کی قیادت میں قافلے نے رخت سفر باندھا۔ یہ پر عزم لوگ تھے۔ یہ معاشرے کے وہ پسے ہوئے افراد تھے کہ جنہیں انگریزوں اور ہندوؤں نے زندگی کی ہر خوشی سے محروم کر کے رکھ دیا تھا۔ یہ اپنا حق لینے نکلے تھے۔ یہ نہتے لوگ طوفانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے تھے۔
یوم پاکستان نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں اہم ترین مقام رکھتا ہے کیونکہ اسی دن ایک ایسی تحریک کا آغاز ہوا اور ایک ایسی جدوجہد کی بنیاد رکھی گئی کہ جو مکمل طور پر پر امن تھی۔
یہ سفر آسان ہرگز نہ تھا کیونکہ ہر ہر قدم پر شدید مخالفت اور مشکلات کا سامنا تھا۔ کہیں اپنے مخالف تھے تو کہیں بیگانے سازشی۔ کہیں ہندوؤں کا پروپیگنڈا تھا تو کہیں انگریزوں کے الزامات۔۔ قیدو بند کی صعوبتیں تھیں تو کہیں سزاو¿ں کی داستان۔۔ مقدمات کا سامنا تھا تو کہیں ریاستی جبر سے مقابلہ۔۔ کتنے ہی لوگوں کو اپنے پیاروں سے محروم ہونا پڑا ۔ کتنی ماؤں بہنوں کے آنچل چھین لیے گئے۔۔ کتنے معصوم بچوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ کتنے ہی خوبصورت نوجوان بے دردی سے شہید کر دئیے گئے۔ ہجرت کی داستانیں تو اتنی غمناک ہیں کہ راتوں کی نیند اڑ جائے ۔۔ ہجرت بھی ایسی کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگنا پڑا ۔۔ عزت اور دولت کے ڈاکوؤں سے بچ کر گزرنا تھا۔۔ جو شاہانہ زندگی گزارتے تھے ان کے لیے اب خیموں کی صعوبتیں تھیں ۔۔ جو گاڑیوں میں گھومتے تھے انہیں سینکڑوں میل پیدل آنا تھا۔۔ لیکن یہ لوگ باہمت اور جوان جذبوں والے تھے۔۔ ان غیر مسلح لوگوں نے ظالم ہندوو¿ں اور بربریت کی داستانیں رقم کرنیوالے انگریزوں سے ٹکرانا تھا۔ اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ ان پرعزم اور باہمت لوگوں نے یہ خواب سچا کر دیکھایا۔ صرف سات سال کی کھٹن اور تکیلف دہ جدوجہد نے ہی تمام مخالفوں کو پاکستان کا مطالبہ منظور کرنے پر مجبور کر دیا۔ تئیس مارچ انیس سو چالیس کو دیکھا گیا خواب چودہ اگست انیس سو سینتالیس اپنی تعبیر سے ہمکنار ہو رہا تھا ۔
جی ایک معجزہ ہو چکا تھا ۔ صرف سات سال پہلے کیے گئے عہد کو ایفا کر دیا گیا تھا۔ قربانی کی بانہوں میں جھولتی آزادی ہمیں نصیب ہو چکی تھی۔ پاکستان بن چکا تھا۔۔ دنیا کی پہلی نظریاتی ریاست۔ قائد و اقبال کے خوابوں کی تعبیر۔۔ لیکن سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس ارض پاک کے بننے میں اگر کوئی اہم ترین دن آیا تو وہ تئیس مارچ انیس سو چالیس کہ جسے اب ہم یوم پاکستان کے نام سے یاد کرتے ہیں کیونکہ عہد تو اسی دن ہوا تھا نہ۔۔ خواب تو اسی دن دیکھا گیا تھا۔۔۔ یہ دن انمول ہے اور ہمیں چاہیے کہ آج بھی اسی طرح اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سیاسی مصلحتوں اور آپس کی ریشہ دوانیوں کو بھلا کر پھر سے متحد ہو جائیں،آج 74 سال گزرنے کے بعد ایک بار پھر ہمیں اپنے اندر 23 مارچ 1940 ء کا جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور تجدید عہد وفا کرتے ہوئے قرار داد پاکستان کے اغراض و مقاصد کی تکمیل اور قائد اعظم ؒ اور دیگر قومی رہنماؤں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمیں پھر سے ایک قوم بننا ہوگا، دو قومی نظریہ جو موجودہ حالات میں دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے اسے بچانا ہوگا، دنیا کو دکھانا ہوگا کہ ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے قیام کے خواب کو پورا کیا تھا، ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنے قائد کی رہنمائی میں دو قومی نظریے کو سچ ثابت کرکے دکھایا تھا۔
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks