سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںشاعر۔احمد فراز

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
Verified
ITD Intrinsic Person
ITD Well Wishir
ITD Fan Fictionest
ITD Solo Person
ITD Observer
ITD Supporter
Persistent Person
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Messages
7,668
Reaction score
6,951
Points
1,775
Location
Manchester U.K
Gold Coins
500.90
Silver Coins
29,381
Diamonds
1.10870
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
احمد فراز
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
شاعر۔احمد فراز
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی

سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف

سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی

سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے

سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں

سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی

جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں

مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میں

پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں

کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں

بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا

سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت

مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں

رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے

کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی

اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں

اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں


@Abu Dujana @Adeel Naseem @Afzal339 @Ahsan376 @Akram Naaz @AM @Derwaish @Doctor @Dr Mechanical

@Incredible Malik @Kaleem_shah @LAIQUE SHAH @Mohammad Basheer @Muhammad @PRINCE SHAAN @Sabih Tariq

@SILENT.WALKER @silentjan @Sobia Shah @Syed Waqas @UMAR ISLAM @X 2 @Zain UltimateX[/SIZE]
 

Attachments

Last edited:

Doctor

★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
Verified
Merchant
King of Alkamunia
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
Top Poster
ITD Developer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
10,512
Reaction score
12,850
Points
1,958
Age
46
Location
Rawalpindi
Gold Coins
4.43
Silver Coins
98,296
Diamonds
0.00080
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
:10xbvw3:
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اُسے آنکھ "بھر" کر کیوں دیکھتے تھے، کیا خالی آنکھ وہ دکھائی نہیں دیتی تھی؟
:blab:
 

Silent Rose

Staff member
★★★★★★
Designer
Verified
Emerging
Hypersonic
Respectable
Courageous
Most Reactions 521
Most Posts 286
Joined
Sep 23, 2019
Messages
1,746
Reaction score
2,840
Points
790
Age
48
Location
کراچی
Gold Coins
0.00
Silver Coins
17,600
Diamonds
0.06600
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
:masha-allah:
زبردست ڈیزائن انکل جی
اور غزل بھی چنی تو اتنی لمبی
اللہ مزید ترقی دے آمین
:clap:
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
Verified
ITD Intrinsic Person
ITD Well Wishir
ITD Fan Fictionest
ITD Solo Person
ITD Observer
ITD Supporter
Persistent Person
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Messages
7,668
Reaction score
6,951
Points
1,775
Location
Manchester U.K
Gold Coins
500.90
Silver Coins
29,381
Diamonds
1.10870
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.

:10xbvw3:
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اُسے آنکھ "بھر" کر کیوں دیکھتے تھے، کیا خالی آنکھ وہ دکھائی نہیں دیتی تھی؟
:blab:
راشد حسین قاسم یوں گویا ہوے ہیں۔

غزل کا قافیہ ٹھہر کے، ہنر کے (را ساکم ماقبل متحرک) وغیرہ جبکہ دوسری غزل کا قافیہ چل کے، نکل کے (لام سالن ماقبل متحرک) ہے۔ ان دونوں غزلوں میں فراز کی محاورہ بندی، قوتِ کلام اور قدرتِ تخیل اپنے پورے عروج پر ہے۔ ان میں سے پہلے والی یعنی: ’’سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں‘‘ زیادہ مشہور ہوئی۔ 22 اشعار پر مشتمل اس غزل کے پندرہ اشعار میں 19 مرتبہ ’’سنا ہے...‘‘ کہہ کر فراز نے بڑے منفرد انداز میں محبوب کو مختلف قدرتی و فطری محاسن سے تشبیہ دی ہے۔

فراز کی اس غزل کا کمال یہ بھی ہے کہ اردو شاعری میں عموماً محبوب کے اوصاف بیان کرنے کے لیے جو تشبیہات بیان کی جاتی ہیں، شاعر نے خود انہیں بھی سراپا حیرت بنا دیا ہے۔مثلاً محبوب کو حسن میں چاند سے اور نزاکت ِحسن میں تتلیوں سے تشبیہ دی جاتی ہے، لیکن فراز کہتے ہیں کہ چاند خود بھی اس کے عاشقوں میں شامل ہے جبکہ تتلیاں بھی اس پر فریفتہ ہیں۔ نگاہوں کو ’’چشمِ غزال‘‘ یا ’’آہو چشم‘‘ کہہ کر ہرن کی خوبصورت آنکھوں سے تشبیہ دی جاتی ہے جبکہ یہاں صورت حال یہ ہے کہ پورے دشت و صحرا کے ہرن اس کی دید کو ترس رہے ہیں۔

 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock
No Thanks