آسان ترجمہ قرآن : سورۃ البقرۃ رکوع 4

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
4:55 PM
Threads
251
Messages
624
Reaction score
1,130
Points
541
Location
karachi
Gold Coins
878.15
Permanently Change Username Color & Style.

سورہ البقرۃ آیت نمبر 30

وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا وَ یَسۡفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَ نَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۰﴾۔
ترجمہ
اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں (٢٧) وہ کہنے لگے۔ کیا آپ زمین میں ایسی مخلوق پیدا کریں گے جو اس میں فساد مچائے اور خون خرابہ کرے حالانکہ ہم آپ کی تسبیح اور حمد و تقدیس میں لگے ہوئے ہیں (٢٨) اللہ نے کہا : میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
تفسیر
27: آیت نمبر ٢٢ میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت واجب ہونے کی نہایت مختصر اور سادہ مگر مضبوط دلیل یہ دی گئی تھی کہ جس نے تمہیں وہی پیدا کیا عبادت کا مستحق ہے۔ آیت نمبر ٢٨ میں کافروں کے کفر پر تعجب کا اظہار بھی اسی بنا پر کیا گیا تھا۔ اب انسان کی پیدائش کا پورا واقعہ بیان کرکے اس دلیل کو مزید پختہ کیا جارہا ہے آیت میں خلیفہ سے مراد انسان ہے اور اس کے خلیفہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کے احکام پر خود بھی عمل کرے اور اپنی طاقت کے مطابق دوسروں سے بھی عمل کروانے کی کوشش کرے۔ 28: فرشتوں کے اس سوال کا منشاء خدا نخواستہ کوئی اعتراض کرنا نہیں تھا بلکہ وہ حیرت کررہے تھے کہ ایک ایسی مخلوق کو پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے جو نیکی کے ساتھ بدی کی صلاحیت بھی رکھتی ہوگی جس کے نتیجے میں زمین پر فساد پھیلنے کا امکان ہوگا، ، مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ انسان سے پہلے زمین پر جنات پیدا کیا گئے تھے اور انہوں نے آپس میں لڑ لڑ کر ایک دوسرے کو ختم کرڈالا تھا، فرشتوں نے سوچا کہ شائد انسان کا انجام بھی ایسا ہی ہو۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 31

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمۡ عَلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنۡۢبِـُٔوۡنِیۡ بِاَسۡمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۱﴾۔
ترجمہ
اور آدم کو (اللہ نے) سارے نام سکھادیئے (٢٩) پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور (ان سے) کہا اگر تم سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتلاؤ۔
تفسیر
29: ناموں سے مراد کائنات میں پائی جانے والی چیزوں کے نام ان کی خاصیتیں اور انسان کو پیش آنے والی مختلف کیفیات کا علم ہے مثلاً بھوک، پیاس، صحت اور بیماری وغیرہ، اگرچہ آدم (علیہ السلام) کو ان چیزوں کی تعلیم دیتے وقت فرشتے بھی موجود تھے ؛ لیکن چونکہ ان کی فطرت میں ان چیزوں کی پوری سمجھ نہیں تھی اس لئے جب ان کا امتحان لیا گیا تو وہ جواب نہیں دے سکے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے عملی طور پر انہیں باور کرادیا کہ جو کام اس نئی مخلوق سے لینا مقصود ہے وہ فرشتے انجام نہیں دے سکتے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 32

قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ لَا عِلۡمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳۲﴾۔
ترجمہ
وہ بول اٹھے آپ ہی کی ذات پاک ہے جو کچھ علم آپ نے ہمیں دیا ہے اس کے سوا ہم کچھ نہیں جانتے (٣٠) حقیقت میں علم و حکمت کے مالک تو صرف آپ ہیں
تفسیر
30 : بظاہر ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام صرف حضرت آدم (علیہ السلام) کو سکھائے گئے تھے اور فرشتے اس تعلیم میں شریک نہیں تھے، اس صورت میں اس سے ناموں کے بارے میں پوچھنا یہ بتانے کے لئے تھا کہ تم میں وہ صلاحیت نہیں رکھی گئی جو آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے مقصود ہے، دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو سکھاتے وقت فرشتے موجود تھے ؛ لیکن چونکہ ان میں ان باتوں کو سمجھنے یا یاد رکھنے کی صلاحیت نہیں تھی اس لئے وہ امتحان کے وقت جواب نے دے سکے، اس صورت میں ان کے جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ ہمیں وہی علم حاصل ہوسکتا ہے جو آپ ہمیں دینا چاہیں اور اس کی صلاحیت ہمارے اندر پیدا کردیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 33

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡہُمۡ بِاَسۡمَآئِہِمۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمۡ بِاَسۡمَآئِہِمۡ ۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ غَیۡبَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ وَ اَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۳۳﴾۔
ترجمہ
اللہ نے کہا آدم تم ان کو ان چیزوں کے نام بتادو چنانچہ جب اس نے ان کے نام ان کو بتادیئے تو اللہ نے (فرشتوں سے) کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہوں ؟ اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو مجھے اس سب کا علم ہے

سورہ البقرۃ آیت نمبر 34

وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰی وَ اسۡتَکۡبَرَ ٭۫ وَ کَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۴﴾۔
ترجمہ
اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو (٣١) چنانچہ سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اس نے انکار کیا (٣٢) اور متکبرانہ رویہ اختیار کیا اور کافروں میں شامل ہوگیا
تفسیر
31 : فرشتوں کے سامنے آدم (علیہ السلام) کی عظمت کا علمی مظاہرہ اور ان کا امتحان لینے کے لئے انہیں آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے حکم دیا گیا یہ سجدہ عبادت کا نہیں تعظیم کا سجدہ تھا جو بعض پچھلی شریعتوں میں جائز تھا بعد میں تعظیم کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنے کی سختی سے ممانعت کردی گئی تاکہ شرک کا کوئی شائبہ بھی پیدا نہ ہو، یہ سجدہ کروانا اس بات کا بھی مظاہرہ تھا کہ فرشتوں کو اس بات کی تلقین کی جارہی ہے کہ کائنات میں جو چیزیں ان کے اختیار میں دی گئی ہیں وہ انسان کے لئے مسخر کردی جائیں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ وہ ان کو صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط۔ 32: اگرچہ براہ راست سجدے کا حکم فرشتوں کو دیا گیا تھا مگر اس میں تمام جاندار مخلوقات بھی شامل تھیں لہذا ابلیس جو جنات میں سے تھا اس پر بھی اس حکم کی تعمیل لازم تھی لیکن جیسا کہ خود قرآن کریم نے دوسری جگہ بیان فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے کہنے لگا کہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے اس لئے میں اس سے افضل ہوں میں اسے کیوں سجدہ کروں (اعراف ٧: ٢٢) اس واقعہ سے دو سبق ملتے ہیں ایک یہ کہ اپنے آپ کو بذات خود دوسروں سے بڑا سمجھنا اور اپنی بڑائی بگھارنا کتنا بڑا گناہ ہے اور دوسرا سبق یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح حکم آجائے تو بندے کا کام یہ ہے کہ اس حکم کو دل وجان سے بجا لائے، چاہے اس کی حکمت اور فائدہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے

سورہ البقرۃ آیت نمبر 35

وَ قُلۡنَا یٰۤاٰدَمُ اسۡکُنۡ اَنۡتَ وَ زَوۡجُکَ الۡجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنۡہَا رَغَدًا حَیۡثُ شِئۡتُمَا ۪ وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۵﴾۔
ترجمہ
اور ہم نے کہا آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو جی بھر کے کھاؤ مگر اس درخت کے پاس بھی مت جانا (٣٣) ورنہ تم ظالموں میں شمار ہوگے
تفسیر
33: یہ کونسا درخت تھا ؟ قرآن کریم نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی نہ اس کے جاننے کی ضرورت ہے اتنا جان لینا کافی ہے کہ جنت کے درختوں میں ایک درخت ایسا تھا جس کا پھل کھانے سے انہیں روک دیا گیا تھا، بعض روایات میں ہے کہ یہ گندم کا درخت تھا بعض میں انگور کا ذکر ہے مگر کوئی روایت ایسی نہیں جس پر پورا بھروسہ کیا جاسکے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 36

فَاَزَلَّہُمَا الشَّیۡطٰنُ عَنۡہَا فَاَخۡرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیۡہِ ۪ وَ قُلۡنَا اہۡبِطُوۡا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۳۶﴾۔
ترجمہ
پھر ہوا یہ کہ شیطان نے ان دونوں کو وہاں سے ڈگمگادیا اور جس (عیش) میں وہ تھے اس سے انہیں نکال کر رہا (٣٤) اور ہم نے ( آدم، ان کی بیوی اور ابلیس سے) کہا : اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے، اور تمہارے لئے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کردیا گیا) ہے (٣٥)۔
تفسیر
34 : یعنی شیطان نے انہیں بہکا کر اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کردیا اور بہانہ یہ بنایا کہ یوں تو یہ درخت بڑا مفید ہے کیونکہ اس کو کھانے سے ابدی زندگی حاصل ہوجاتی ہے ؛ لیکن شروع میں آپ کو اس لئے منع کیا گیا تھا کہ آپ کی جسمانی کیفیت اس کو برداشت نہ کرسکتی تھی اب چونکہ آپ جنت کے ماحول کے عادی ہوگئے ہیں اور آپ کے قوی مضبوط ہوچکے ہیں اس لئے اب وہ ممانعت باقی نہیں رہی۔ اس واقعے کی مزید تفصیل کے لئے دیکھئے سورة اعراف (7: ١٩ تا ٢٣) اور سورة طہ (٢٠ : ١٢٠) 35: مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کے نتیجے میں آدم (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ کو جنت سے اور شیطان کو آسمانوں سے نیچے زمین پر اترنے کا حکم دے دیا گیا، ساتھ ہی یہ بھی بتادیا گیا کہ انسان اور شیطان کے درمیان رہتی دنیا تک دشمنی قائم رہے گی اور زمین کا یہ قیام ایک معین مدت تک ہوگا جس میں کچھ دنیوی فائدے اٹھانے کے بعد سب کو بالآخر اللہ تعالیٰ کے پاس دوبارہ پیش ہونا ہوگا۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 37

فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۳۷﴾۔
ترجمہ
پھر آدم نے اپنے پروردگار سے (توبہ کے) کچھ الفاظ سیکھ لیے (جن کے ذریعے انہوں نے توبہ مانگی) چنانچہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی (٣٦) بیشک وہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے
تفسیر
36 : جب آدم (علیہ السلام) کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ پریشان ہوگئے لیکن سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے کن الفاظ میں معافی مانگیں، اس لئے زبان سے کچھ نکل نہیں رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے جو دلوں کے حال سے بھی خوب واقف ہے اور رحیم وکریم بھی ہے ان کی اس کیفیت کے پیش نظر خود ہی ان کو توبہ کے الفاظ سکھائے جو سورة اعراف میں مذکور ہیں : قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (آیت نمبر : ٢٣) اے ہمارے پروردگار ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین پر بھیجنے سے پہلے انسان کو یہ تعلیم دے دی کہ جب کبھی نفسانی خواہشات یا شیطان کے بہکاوے میں آکر اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اسے فوراً اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنی چاہیے اور اگرچہ توبہ کے لئے کوئی خاص الفاظ لازمی نہیں ہیں بلکہ ہر وہ جملہ جس میں اپنے کئے پر ندامت اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا ارادہ شامل ہو، اس کے ذریعہ توبہ ممکن ہے لیکن چونکہ یہ الفاظ خود اللہ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے ہیں اس لئے ان الفاظ میں توبہ کرنے سے قبولیت کی زیادہ امید ہے۔ یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ جیسا کہ پیچھے آٰیت 30 سے واضح ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجنے کے لئے پیدا فرمایا تھا لیکن زمین پر بھیجنے سے پہلے انہیں جنت میں رکھنے اور اس کے بعد کے واقعات کا تکوینی مقصد بظاہر یہ تھا کہ ایک طرف حضرت آدم (علیہ السلام) جنت کی نعمتوں کا خود تجربہ کرکے دیکھ لیں کہ ان کی اصل منزل کیا ہے اور زمین پر پہنچنے کے بعد اس منزل کے حصول میں کس قسم کی رکاوٹیں پیش آسکتی ہیں اور ان سے نجات پانے کا کیا طریقہ ہوگا ؟ چونکہ فرشتوں کے مقابلے میں انسان کا امتیاز ہی یہ تھا کہ اس میں اچھائی اور برائی دونوں کی صلاحیت رکھی گئی تھی اس لئے ضروری تھا کہ اسے زمین پر بھیجنے سے پہلے ایسے تجربے سے گزارا جائے پیغمبر چونکہ معصوم ہوتے ہیں اور ان سے کوئی بڑا گناہ سرزد نہیں ہوسکتا اس لئے حضرت آدم (علیہ السلام) کی یہ غلطی درحقیقت اجتہادی غلطی (Bonafide Mistake تھی یعنی سوچ کی یہ غلطی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو شیطان کے بہکانے سے ایک خاص وقت تک محدود سمجھ لیا، ورنہ اللہ تعالیٰ کی کھلی نافرمانی کا ہرگز ان سے تصور نہیں کیا جاسکتا تاہم چونکہ یہ قصور بھی ایک پیغمبر کے شایان شان نہ تھا اس لئے اسے بعض آیات میں گناہ یا حکم عدولی سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس پر توبہ کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ ساتھ ہی زیر نظر آیت میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور اس طرح اس عیسائی عقیدہ کی تردید فرمادی گئی جس کا کہنا یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کا یہ گناہ ہمیشہ کے لئے انسان کی سرشت میں داخل ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں ہر بچہ ماں کے پیٹ سے گناہگار پیدا ہوتا ہے اور اس مشکل کے حل کے لئے اللہ تعالیٰ کو اپنا بیٹا دنیا میں بھیج کر اسے قربان کرنا پڑا تاکہ وہ ساری دنیا کے لئے کفارہ بن سکے، قرآن کریم نے دوٹوک الفاظ میں اعلان فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی تھی اس لئے نہ وہ گناہ باقی رہا تھا نہ اس کے اولاد آدم کی طرف منتقل ہونے کا سوال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قانون عدل میں ایک شخص کے گناہ کا بوجھ دوسرے کے سر پر نہیں ڈالا جاتا۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 38

قُلۡنَا اہۡبِطُوۡا مِنۡہَا جَمِیۡعًا ۚ فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۸﴾۔
ترجمہ
ہم نے کہا اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ پھر اگر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہیں پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے

سورہ البقرۃ آیت نمبر 39

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۳۹﴾۔
ترجمہ
اور جو لوگ کفر کا ارتکاب کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
4:55 PM
Threads
841
Messages
12,096
Reaction score
14,111
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,349.44
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks