آسان ترجمہ قرآن : سورۃ البقرۃ رکوع 1

عبدالجبار

Thread Starter
Expert
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Popular
Emerging
Joined
May 2, 2018
Local time
11:42 PM
Threads
358
Messages
841
Reaction score
1,296
Points
591
Location
karachi
Gold Coins
1,012.42
Permanently Change Username Color & Style.
سورۃ البقرہ رکوع 1
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
ترجمہ
شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

تعارف سورۃ البقرۃ
تعارف : یہ قرآن کریم کی سب سے لمبی سورت ہے، اس کی آیات ٦٧ تا ٧٣ میں اس گائے کا واقعہ مذکور ہے جسے ذبح کرنے کا حکم بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا، اس لئے اس سورت کا نام سورة البقرۃ ہے، کیونکہ بقرہ عربی میں گائے کو کہتے ہیں، سورت کا آغاز اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کے بیان سے ہوا ہے، اسی ضمن میں انسانوں کی تین قسمیں یعنی، مومن، کافر اور منافق بیان کی گئی ہیں، پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے، تاکہ انسان کو اپنی پیدائش کا مقصد معلوم ہو، اس کے بعد آیات کے ایک طویل سلسلہ میں بنیادی طور پر خطاب یہودیوں سے ہے جو بڑی تعداد میں مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں نازل فرمائیں اور جس طرح انہوں نے ناشکری اور نافرمانی سے کام لیا اس کا مفصل بیان ہے، پہلے پارہ کے تقریباً آخر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے، اس لئے کہ انہیں نہ صرف یہودی اور عیسائی بلکہ عرب کے بت پرست بھی اپنا پیشوا مانتے تھے، ان سب کو یاد دلایا گیا کہ وہ خالص توحید کے قائل تھے اور انہوں نے کبھی کسی قسم کے شرک کو گوارہ نہیں کیا، اسی ضمن میں بیت اللہ کی تعمیر اور اسے قبلہ بنانے کا موضوع زیر بحث آیا ہے، دوسرے پارہ کے شروع میں اس کے مفصل احکام بیان کرنے کے بعد اس سورت میں مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق بہت سے احکام بیان فرمائے گئے ہیں جن میں عبادت سے لے کر معاشرت، خاندانی امور اور حکمرانی سے متعلق بہت سے مسائل داخل ہیں۔ یہ سورت مدنی ہے اور اس میں 286 آیتیں اور 40 رکوع ہیں

سورہ البقرۃ آیت نمبر 1

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾۔
ترجمہ
الم (١)۔
تفسیر
١) مختلف سورتوں کے شروع میں یہ حروف اسی طرح الگ الگ نازل ہوئے تھے، ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں اور صحیح بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا ایک راز ہے جس کی تحقیق میں پڑنے کی ضرورت نہیں اور عقیدے یا عمل کا کوئی مسئلہ ان کے سمجھنے پر موقوف نہیں۔


سورہ البقرۃ آیت نمبر 2

ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾۔
ترجمہ
یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں (٢) یہ ہدایت ہے ان ڈر رکھنے والوں کے لئے (٣)۔
تفسیر
(٢) یعنی اس کتاب کی ہر بات کسی شک وشبہ کے بغیر درست ہے، انسان کی لکھی ہوئی کسی کتاب کو سوفیصد شک سے بالاتر نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ انسان کتنا ہی بڑا عالم ہو اس کا علم محدود ہوتا ہے اور اکثر اس کی کتاب اس کے ذاتی گمان پر مبنی ہوتی ہے ؛ لیکن چونکہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی ہے جس کا علم لامحدود بھی ہے اور سوفیصد یقینی بھی، اس لئے اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، کسی کو شک ہو تو یہ اس کی ناسمجھی کی وجہ سے ہوگا کتاب کی کوئی بات شبہ والی نہیں۔ (٣) اگرچہ قرآن کریم نے صحیح راستہ ہر ایک کو دکھایا ہے خواہ وہ مومن ہو یا کافر اس لئے اس معنی کے لحاظ سے اس کی ہدایت سب کے لئے ہے لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھاجائے تو اس ہدایت کا فائدہ انہی کو پہنچتا ہے جو اس کی بات کو مان کر اس کے تمام احکام اور تعلیمات پر عمل کریں، اس لئے فرمایا گیا کہ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لئے جو بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں، پرہیز گاری اور ڈر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھے کہ اسے ایک دن اللہ کے حضور اپنے تمام اعمال کا جواب دینا ہے لہذا مجھے کوئی کام ایسا نہ کرنا چاہیے جو اس کی ناراضی کا باعث ہو اسی خوف اور دھیان کا نام تقوی ہے۔ ” بےدیکھی چیزوں “ کے لئے قرآن کریم نے ” غیب “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتیں، نہ ہاتھ سے چھوکر یا ناک سے سونگھ کر انہیں محسوس کیا جاسکتا ہے، بلکہ وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے معلوم ہوتی ہیں، یعنی یا تو قرآن کریم میں ان کا ذکر ہے یا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وحی کے ذریعے وہ باتیں معلوم کرکے ہمیں بتائی ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کی صفات، جنت و دوزخ کے حالات، فرشتے وغیرہ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے ان متقی بندوں کی تعریف کی جارہی ہے جو غیب کی چیزوں کو بغیر دیکھے صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات پر یقین کرکے دل سے مانتے ہیں جو انہوں نے آنکھوں سے نہیں دیکھیں، یہ دنیا چونکہ امتحان کی جگہ ہے، اس لئے اگر یہ چیزیں آنکھوں سے نظر آجاتیں اور پھر کوئی شخص ان پر ایمان لاتا تو کوئی امتحان نہ ہوتا، اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو انسان کی نگاہ سے پوشیدہ رکھا ہے لیکن ان کے وجود کے بیشمار دلائل مہیا فرمادئے ہیں کہ جب کوئی شخص ذرا انصاف سے غور کرے گا تو ان باتوں پر ایمان لے آئے گا اور امتحان میں کامیاب ہوگا۔ قرآن کریم نے بھی وہ دلائل بیان فرمائے ہیں جو انشاء اللہ آگے آتے رہیں گے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قرآن کریم کو حق طلبی کے جذبے سے غیرجانبدار ہو کر پڑھا جائے اور یہ خیال دل میں رکھا جائے کہ یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اس میں لاپروائی برتی جائے۔ یہ انسان کی ہمیشہ کی زندگی کی بہتری اور تباہی کا معاملہ ہے۔ لہٰذا یہ ڈر دل میں ہونا چاہیے کہ کہیں میری نفسانی خواہشات قرآن کریم کے دلائل ٹھیک ٹھیک سمجھنے میں رکاوٹ نہ بن جائیں اس لئے مجھے اس کی دی ہوئی ہدایت کو تلاش حق کے جذبے سے پڑھنا چاہیے، اور پہلے سے دل میں جمے ہوئے خیالات سے ذہن کو خالی کرکے پڑھنا چاہیے تاکہ مجھے واقعی ہدایت نصیب ہو۔ ” یہ ہدایت ہے ڈرنے والوں کے لئے “ کا ایک مطلب یہ بھی ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 3

الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾۔
ترجمہ
جو بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں(٤) اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔
تفسیر
(٤) جو لوگ قرآن کریم کی ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں یہاں ان کی صفات بیان فرمائی گئ ہیں ان میں سے سب سے پہلی صفت تو یہ ہے کہ وہ ” غیب “ یا ان دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں۔ جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی۔ اس میں تمام ایمانیات داخل ہوگئے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا، یا جو کچھ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس سب پر ایمان لاتے ہیں۔ دوسری چیز نماز قائم کرنا بیان کی گئی ہے جو بدنی عبادتوں میں سب سے اہم ہے اور تیسری چیز اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا جس میں زکوٰۃ و صدقات آجاتے ہیں جو مالی عبادت ہے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 4

وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾۔
ترجمہ
اور جو اس (وحی) پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی (٥) اور آخرت پر وہ مکمل یقین رکھتے ہیں (٦)۔
تفسیر
(٥) یعنی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو وحی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اتاری گئی وہ بھی بالکل سچی ہے اور جو آپ سے پہلے انبیائے کرام (علیہم السلام) مثلاً حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) وغیرہ پر نازل کی گئی تھی وہ بھی بالکل سچی تھی اگرچہ بعد میں لوگوں نے اسے ٹھیک ٹھیک محفوظ نہ رکھا بلکہ اس میں تحریف کردی۔ اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کردیا گیا کہ وحی کا سلسلہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ختم ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوگا جس پر وحی آئے یا اسے پیغمبر بنایا جائے، کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی وحی اور آپ سے پہلے کے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر فرمایا ہے آپ کے بعد کی کسی وحی کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر آپ کے بعد بھی کوئی نیا پیغمبر آنے والا ہوتا یا اس کی وحی پر ایمان لانا ضروری ہوتا تو اس کو بھی یہاں بیان فرمایا جاتا جیسا کہ پچھلے پیغمبروں سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ آپ حضرات کے بعد حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لانے والے ہیں آپ کو ان پر بھی ایمان رکھنا ہوگا۔ (دیکھئے قرآن کریم سورة آل عمران آیت 81) (٦) آخرت سے مرادوہ زندگی ہے جو مرنے کے بعد حاصل ہوگی اور جو ہمیشہ کے لئے ہوگی اور اس میں ہر بندے کو دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور اسی کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ جنت میں جائے گا یا جہنم میں، اگرچہ یہ آخرت بھی غیب یعنی ان دیکھی چیزوں میں شامل ہے جس پر ایمان لانے کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا تھا، لیکن آخر میں اسے علیحدہ کرکے خصوصی اہمیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کا عقیدہ ہی درحقیقت انسان کی سوچ اور اس کی عملی زندگی کو صحیح راستے پر رکھتا ہے جو انسان یہ یقین رکھتا ہو کہ ایک دن مجھے اللہ کے سامنے پیش ہو کر اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے وہ کسی گناہ یا جرم کے ارتکاب پر کبھی ڈھٹائی کے ساتھ آمادہ نہیں ہوگا۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 5

اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾۔
ترجمہ
یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے پروردگار کی طرف سے صحیح راستے پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 6

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾۔
ترجمہ
بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے (٧) ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں، چاہے آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں (٨) وہ ایمان نہیں لائیں گے
تفسیر
٧) یہاں ان کافروں کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ چاہے کتنے واضح اور روشن دلائل ان کے سامنے آجائیں وہ کبھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر ایمان نہیں لائیں گے، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر پر اڑگئے ہیں۔” ترجمے میں “ کفر اپنا لیا ہے “ کے الفاظ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔ (٨) ” ڈرانا “ انذار کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نے انبیائے کرام (علیہم السلام) کی دعوت کو بکثرت ” ڈرانے “ سے تعبیر کیا ہے۔ کیونکہ انبیاء کرام (علیہم السلام) لوگوں کو کفر اور بداعمالیوں کے برے انجام سے ڈراتے ہیں ؛ لیکن جن لوگوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ کوئی بات ماننی نہیں ہے، ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر 7

خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۷﴾۔
ترجمہ
اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے (٩) اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے۔
تفسیر
(٩) اس آیت میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی بڑی خطرناک چیز ہے، اگر کوئی شخص ناواقفیت یاغفلت وغیرہ کی وجہ سے کسی غلطی کا ارتکاب کرے تو اس کی اصلاح کی امید ہوسکتی ہے ؛ لیکن جو شخص غلطی پر اڑ جائے اور تہیہ کرلے کہ کسی بھی حالت میں بات نہیں ماننا ہے، تو اس کی ضد کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے جس کے بعد اس سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس حالت سے محفوظ رکھے، لہذا اس پر شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب خود اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر مہر لگادی تو معذور ہوگئے اس لئے کہ یہ مہر لگانا خود انہی کی ضد اور تہیہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ حق بات نہیں ماننی۔
 

Silent Rose

Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Designer
Emerging
Courageous
Respectable
Hypersonic
Joined
Sep 23, 2019
Local time
11:42 PM
Threads
79
Messages
2,273
Reaction score
3,395
Points
687
Age
49
Location
کراچی
Gold Coins
961.33
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
:masha-allah:

اس کو جاری رکھیئے گا براہ کرم
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks