Saif-ul-Muluk Lake

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
1:20 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
111.76
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
پاکستان قدرتی حسن، پہاروں، وادیوں، دریاؤں اور آبشاروں سے مالا مال ہے، اگر اس کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کی وادیوں کو دیکھا جائے تو شاید آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا کہ اتنے خوبصورت، پرسکون اور پرفضا مقامات کی دولت پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔

پاکستان کے ایسے ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مشہور جگہ کی سیر ہم آپ کو کرواتے ہیں۔

جس کا نام ہے وادی ناران کی "جھیل سیف الملوک”


کاغان ناران کا نام بھی آپ نے سنا ہوگا اور جھیل سیف الملوک کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ جانتے ہوں گے، یہ وہی جھیل ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چودھویں کے چاند کی روشنی میں رات کو یہاں پریاں آتی ہیں اور اس جھیل کے حسن میں کھو جاتی ہیں۔

اکثر لوگ کاغان ناران جانا چاہتے ہیں لیکن انھیں راستے کی تفصیلات اور اخراجات کا پتہ نہین ہوتا تو کچھ لوگ پروگرام بنانے کی ہمت ہی نہیں بناپاتے اور کچھ لوگ اگر چلے جائیں تو ناواقفیت کی بنا پر زائد اخراجات کربیٹھتے ہیں۔



سفر کا آغاز



وادی کاغان و ناران کیلئے آپ پاکستان کے کسی بھی کونے میں ہوں، بہتر ہے اپنا بیس اسٹیشن اسلام آباد کو قرار دیں۔

اسلام آباد آپ بس، ٹرین یا ہوائی جہاز کسی بھی ذریعے سے پہنچ سکتے ہیں جہاں بے شمار ریسٹ ہاؤسز، گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹلز ہیں بہتر ہے کم خرچے کیلئے کسی گیسٹ ہاؤس کا انتخاب کریں جس میں ایک دن کیلئے کمرے کا کرایہ 2 ہزار سے 4 ہزار روپے تک ہوتا ہے۔

اسلام آباد سے وادی کاغان تک کا فاصلہ تقریبا 280 کلومیٹر ہے جو تقریبا 6 سے 7 گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔ سڑکیں بہترین بنی ہوئی ہیں لیکن انجوائے کرتے ہوئے جانے میں مزہ آتا ہے اسلام آباد سے براستہ ایبٹ آباد، مانسہرہ اور پھر بالا کوٹ پہنچین جہان بہتر ہے ایک رات قیام کرلیں اور ارد گرد کے مناظر سے محظوظ ہوں، اگلے دن کاغان ناران کیلئے روانہ ہوں اور رستے میں قدرتی حسن سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے سبحان اللہ کہتے جائیں۔



اسلام آباد سے صبح سویرے روانہ ہوں اور گھومتے گھامتے دوپہر تک منسہرہ شہر پہنچ کر وہیں دوپہر کا کھنا کھائیں پھر سفر کا آغاز کریں اور رات کا کھانا اور قیام بالا کوٹ میں کریں تو بہتر ہے۔
بالا کوٹ سے ناران 75 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے تقریبا 2 گھنٹے کے سفر کے بعد آپ ناران بازار پہنچ جائیں گے، بہتر ہے ناران بازار میں واقع درجنوں ہوٹلوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں، ہوٹل کی سہولتوں کے بارے میں مکمل آگاہی کے بعد ہی قیام کریں۔

عام طور پر اپریل سے ستمبر تک کا موسم گرمی کے ستائے لوگوں کیلئے بہترین قرار دیا جاتا ہے اسے "سیاحوں کا سیزن” کہتے ہیں جس میں آپ کو ہوٹل کرائے سے لے کر ہر چیز معمول سے مہنگی ہی ملے گی۔





ناران کے ساتھ ساتھ دریاہے کنہار بہتا ہے اور ناران میں 5 ماہ ( نومبر سے مارچ ) برف باری ہوتی ہے اس دوران وہاں کے مقامی لوگ ہجرت کرکے بالاکوٹ کی طرف آجاتے ہیں کوینکہ برف باری کے دوران ناران میں زندگی تقریبا مفلوج ہوتی ہے اور وہاں پر کم سے کم دس فٹ برف باری ہوتی ہے ایسے میں پہاڈوں سے جنگلی جانور بھی نیچے ناران کی طرف آجاتے ہیں جن میں شیر جیتا شترمرغ ریچھ وغیرہ شامل ہیں۔



اپریل سے اگست تک کےسیزن میں ہوٹل کا کرایہ 3 ہزار روپے سے 20 ہزار روپے یومیہ تک ہوتا ہے، جبکہ ستمبر سے دسمبر کے دوران کرائے اور دیگر
اشیاء کی قیمتیں معمول پر آجاتی ہیں کیونکہ سیاح واپس جاچکے ہوتے ہیں اور لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔




یہ خیال رہے کہ وادی ناران میں بجلی کی سہولت نہیں لوگ جنریٹر اور آبشاروں سے چلنے والے ٹربائن سے بجلی پیدا کرکے گزارا کرتے ہیں اور اس کے بھی ٹائم مقرر ہیں۔ تو جس ہوٹل میں بھی قیام کریں بجلی کی تائمنگ کا ضرور پوچھ لیں۔


آپ اپنی سہولت کے حساب سے دنوں کا تعین کریں، ناران میں ہوٹل بکنگ کے بعد ، ارد گرد کے مناظر اور وادیوں کی خوبصورتی کا مزہ لیں۔
ناران سے ہی جیپیں چلائی جاتی ہیں جو آپ کو اطراف میں جہاں جانا چاہیں وہاں لے جائیں گی بہتر ہے کرایہ طے کریں کچھ مول تول بھی کیا جاسکتاا ہے۔ یاد رہے کہ یہ جیپیں پہاڑی مقامت پر چلنے کے لحاظ سے بہترین اور ان کے ڈرائیورز کو مہارت ہوتی ہے بہتر ہے اپنی گاڑی کو ناران مین ہوٹل پارکنگ میں ہی چھوڑ دیں، یا اگر آگے گلگت وغیرہ جانا ہے تو پھر اپنی گاڑی استعمال کریں۔




ناران سے تقریبا 9 کلومیٹر کے فاصلے پر جھیل سیف الملوک واقع ہے راستا انتہائی دشوار اور خطرناک ہے جس پر مخصوص جیپوں کے ذریعے ہی جایا جائے تو بہتر ہے، 9 کلومیٹر کا یہ سفر تقریبا ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا ہوتا ہے جس کے بعد آپ جھیل سیف الملوک پہنچ جاتے ہیں۔



انجوائے کریں، اور اس جھیل اور اس کے اطراف کی پہاڑیوں کے دلکش منظر میں کھو جائیں خیال رہے کہ دوسرے جو کررہے ہوں آپ ویسا نہ کریں، کچرہ نہ پھیلائیں، ناران سے ہی کچھ کھانے پینے کا سامان خرید کر لے جائیں تو بہتر ہوگا۔ اور کوشش کریں کے شام سے پہلے ناران واپس آجائیں اور پھر وادی کاغان و ناران کے دیگر اطراف کی وادیوں کاا پروگرام بنائیں۔


یہ تو تھا آپ ک وادی کاغان ناران ک سفر اور جھیل سیف المولک کی سیر، یاد رکھیں پاکستان کا چپہ چپہ آپ کا ہے اسے صاف رکھنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے اس لیئے جہاں بھی جائیں یہ خیال رکھیں کہ آپ نے اپنی ذمہ داری نبھانی ہے اور ایک اچھے شہری ہونے کا ثبوت دینا ہے۔



اب یہ وڈیو دیکھیں
Please, Log in or Register to view URLs content!
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
5:20 AM
Threads
840
Messages
12,078
Reaction score
14,104
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,347.38
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks