داغ غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

Lovely Eyes

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Emerging
Fantabulous
The Iron Lady
Joined
Apr 28, 2018
Local time
3:49 PM
Threads
265
Messages
1,145
Reaction score
1,883
Points
703
Gold Coins
2,477.47
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا

کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا

ہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیا
تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا

یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا
کہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا

سنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کیا
اگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کیا

نہ آئے راہ پہ وہ عجز بے شمار کیا
شب وصال بھی میں نے تو انتظار کیا

تجھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھا
یہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیا

یہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیش
انہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا

کہاں کا صبر کہ دم پر ہے بن گئی ظالم
بہ تنگ آئے تو حال دل آشکار کیا

تڑپ پھر اے دل ناداں کہ غیر کہتے ہیں
اخیر کچھ نہ بنی صبر اختیار کیا

ملے جو یار کی شوخی سے اس کی بے چینی
تمام رات دل مضطرب کو پیار کیا

بھلا بھلا کے جتایا ہے ان کو راز نہاں
چھپا چھپا کے محبت کو آشکار کیا

نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا
صبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا

ہم ایسے محو نظارہ نہ تھے جو ہوش آتا
مگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیا

ہمارے سینے میں جو رہ گئی تھی آتش ہجر
شب وصال بھی اس کو نہ ہمکنار کیا

رقیب و شیوۂ الفت خدا کی قدرت ہے
وہ اور عشق بھلا تم نے اعتبار کیا

زبان خار سے نکلی صدائے بسم اللہ
جنوں کو جب سر شوریدہ پر سوار کیا

تری نگہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل
لگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیا

غضب تھی کثرت محفل کہ میں نے دھوکہ میں
ہزار بار رقیبوں کو ہمکنار کیا

ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا
کہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا

نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں
وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا

جب ان کو طرز ستم آ گئے تو ہوش آیا
برا ہو دل کا برے وقت ہشیار کیا

فسانۂ شب غم ان کو اک کہانی تھی
کچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا

اسیری دل آشفتہ رنگ لا کے رہی
تمام طرۂ طرار تار تار کیا

کچھ آ گئی داور محشر سے ہے امید مجھے
کچھ آپ نے مرے کہنے کا اعتبار کیا

کسی کے عشق نہاں میں یہ بد گمانی تھی
کہ ڈرتے ڈرتے خدا پر بھی آشکار کیا

فلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھے
اخیر اب تجھے آشوب روزگار کیا

وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے
ستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا

بنے گا مہر قیامت بھی ایک خال سیاہ
جو چہرہ داغؔ سیہ رو نے آشکار کیا
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks