لفظ پختون ، پشتون ،پـښـتـون اورپٹھان پر تحقیق

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
5:55 PM
Threads
207
Messages
594
Reaction score
963
Points
460
Gold Coins
424.70
لفظ پختون ، پشتون ،پـښـتـون اورپٹھان پر تحقیق
لفظ: پختون،پشتون اورپـښـتـون میں استعمال ہونے والے حروف یہ ہیں۔
"پ"، "خ / ش / ښ " ت " ، " و " ، " ن "
ان تینوں میں صحیح املاکے مطابق لفظ " پـښـتـون " ہے۔
لفظ " پـښـتـون " کوصحیح املا اور اصل کے مطابق اداکرنے پر پختونوں میں قبائل کی اکثریت اور افغانستان کے پختونوں میں قریبا ستر فیصد آبادی قادر ہیں۔
اور ان کے علاوہ باقی لوگ اس لفظ کو صحیح مخرج کے ساتھ ادا کرنے پر بالخصوص " ښ " ۔کے زبان پر ثقیل ہونے کی وجہ سے قادر نہیں ہیں
کیونکہ " ښ " کا مخرج ہی ایسا ہے ۔جسے صحیح مخرج کے مطابق ادا کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے اسکے صحیح مخرج کا بیان بھی قریب میں آرہاہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان تینوں میں اصل " پـښـتـون " ہی ہے تو باقی دو نام کیسے مشہور ہوئے ہیں
اس کا جواب یہ ہے کہ اصل تو " پـښـتـون " ہی ہے لیکن چونکہ اہل زبان کی اکثریت کے علاوہ دیگر لوگ حرف " ښ " کی ادائے گی پر قادر نہیں تھے تو انہوں ثقل کی وجہ سے آسانی کاا راستہ اپنا یا۔اور ایسا کام دوسری زبانوں والے اکثر کرتے ہیں کیوں کہ اصل مخرج کی ادائے گی پر قدرت نہ ہونا خود بندے کوقریب المخرج کی ادائے گی پرلاتا ہے۔
چنانچہ فارسی لوگ " ڈاکٹر "کو "داکتر" کہتے ہیں ۔ اس وکی وجہ یہ ہےکہ فارسی حروف تہجی میں " ڈ " اور " ٹ " نہیں ہوتا اور نہ ہی فارسی لوگ " ڈ " اور " ٹ " کی ادائے گی پر قادر ہوتے ہیں۔
اس لیے فارسی لوگ " د " کا " ڈ " اور " ت " کا " ٹ " کے قریب ہونے کی وجہ سے " ڈاکٹر " کو" داکتر " کہتے ہیں۔ اسی طرح بعض ہندی لوگ" زور" کو" جور" کہتے ہیں ،عرب لوگ بھی " ڈاکٹر " کو "دوکتور" کہتے ہیں
وعلی ہذا القیاس
مطلب یہ بات عام ہے کہ جب ایک انسان کسی دوسری زبان کے کسی ایک حرف کو اصل مخرج کے ساتھ اداکرنے پر قادر نہ ہو تو پھر وہ اپنی زبان سے اس حرف کے قریب کے مخرج والا حرف اس کی جگہ لاتا ہے ۔
حرف " ښ " اور "خ" میں فرق کے لیے ضروری ہے۔ اسکےمخرج ،اور ادائیگی کے وقت آواز سے پوری طرح واقفیت بھی ہو
ښ کا مخرج
زبان کی جڑ جب کوے کے قریب نرم تالو سے لگے تو اس سے " ښ " ادا ہوتا ہے۔یعنی " ح " ، "خ " اور "ہ " سے مختلف کرکے حرف لہاتیہ کی طرح اداہوتا ہے ۔ " ښ " پختو حروف تھجی میں " ش" کے بعد اس کا نمبر آتا ہے لیکن ادائے گی میں اس کی آواز زیادہ تر"ح"اور تھوڑا بہت"خ" اور کچھ کچھ "ش" کے قریب ہے ۔ جیسے کہ "حین"
تو اب "حین"میں "ح" ، تھوڑا بہت "خ" اور کچھ کچھ "ش"کا آخریعنی "شین"کا "ین" پایا گیا
بعض اہل علم کے مطابق یہ کوئی حرف نہیں بلکہ اسے "خ"اور "ش" کی رعایت کے لیے پشتو حروف تہجی میں جگہ دی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی بات درست نہیں کیوں کہ اس حرف کا مخرج بالکل موجود ہے اور جو لوگ اس کی جگہ "خ" اور "ش" آداکرتے ہیں تو وہ اصل میں ثقیل ہونے کی وجہ سے کرتے ہیں نہ کہ دونوں حروف کی رعایت کی وجہ سے
"لفظ " پـښـتـون" کو"پختون "کہنے کی توجیہ"
مردان ،سوات ،مینگورہ ،پشاوراور چارسدہ وغیرہ کے لوگوں نے لفظ " ښ " کی آواز "خ"کے تھوڑا بہت قریب ہونے کی وجہ سے پـښـتـون کے بجائے پختون کہنا اختیار کیا ہے۔
یہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب " ښ " "ح" کے زیادہ قریب تھا تو "ح" کو اختیار کرنےکے بجائے "خ" کو کیوں اختیار کیا گیا ؟
اس کا جواب یہ ہے یہ بات درست ہے کہ " ښ ""ح" کے زیادہ قریب ہے لیکن مردان ،سوات ،مینگورہ ،پشاوراور چارسدہ کے لوگ "ح" بھی "خ" کرکے پڑھتے ہیں اور "ہ" کا بھی یہی حال کرتے ہیں
چنانچہ میرے کچھ مردان کے دوست ہیں جو ہارڈ ڈسک کو خارڈڈسک کہتے ہیں اور خدا حافظ کو خدا خافظ کہتے ہیں
اور میں نے فیس بک پر ایسے بہت سارے دوست دیکھے ہیں جو اسی طرح لکھتے ہیں جس کا ذکر اوپر کیا گیا
اس لیے پھر یہ لوگ پـښـتـون کو پحتون کے بجائے پختون کہتے ہیں اور چونکہ یہ لوگ شہر میں رہتے ہیں اور شہر میں ہرزبان والے ہوتے ہیں تو ان کی وجہ سے دیگر زبان والوں نے بھی پختون کہنا شروع کردیا ہے اور یہ حال صرف پشتو زبان کے نام کا نہیں بلکہ اس زبان میں دیگر ہر اس نام کا ہے جس میں "ښ" کا استعمال ہوتا ہے
جیسے کہ "ښزہ " (عورت )ہے یہ لوگ اسے "خزہ" کہتے ہیں۔اورپیښور(پشاور) کو پیخور کہتے ہیں وعلی ہذا القیاس
لفظ " پـښـتـون" کو "پشتون " کی توجیہ
کوئٹہ ،بنوں اور وزیرستان وغیرہ بشمول اہل فارس نے "ښ" کا نمبر کے " ش " کےبعد اور اس میں تھوڑی بہت "ش" کی آمیزش ہونے کی وجہ سے پشتون کہنا اختیار کیا ہے ۔اور یہی حال انہوں نے دیگر جگہوں پر بھی کیا ہے جیسےکہ "ښزہ" (عورت)کو "شزہ" ، "پیښور" (پشاور) پیشور اورد ښمن (دشمن ) کو دشمن کہتے ہیں۔
پختونوں کو پٹھان کہنے کی وجہ
"پٹھان" اہل ہند بشمول دیگر دنیااور پاکستان کا غیر پختون طبقہ پختونوں کو پٹھان کہتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہےکہ"پٹھان" جسکی اصل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ " بطان "سے ہے
"بطان " عربی زبان کا لفظ ہے جسکا معنی ہے " سخت اور مضبوط ترین لکڑی "جو سمندری جہازوں میں بطور بنیاد لگائی جاتی ہے اور یہ اتنی سخت اور مضبوط ہوتی ہے کہ پانی میں سالہا سال پڑی رہنے سے بھی خراب نہیں ہوتی ہے۔
چونکہ پٹھان بھی جسمانی اعتبار سے سخت جسم کے مالک ہوتے ہیں تو اس وجہ سے ان کو یہ لقب پیغمبر اسلام نے دیا ہے ۔یہ بات پختون مؤرخین نے اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کی ہے لیکن اتنی غیر معروف ہے کسی محدث نے بھی اس کو اپنی کتاب میں جگہ نہیں دی
جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ موضوع بات ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ ہر دور میں پختون مؤرخین نے اس بات کو ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے سو فیصد انکار بھی نہیں کیا جاسکتا
پھر وقت کے ساتھ ساتھ "بطان" پٹھان بن گیا
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ لفظ "پٹھان "ممکن ہے کہ لفظ "پختون " یا اس قبیل کی دیگر ناموں کی ایک بگڑی شکل ہو۔ جس میں کئی طرح سے تاویل کی جاسکتی ہے مثلا پشتو میں ایک لفظ ہے "پښتانہ" اب اس میں ہوا یہ ہوگا کہ "ښ" اور "ت" میں زبانوں کا مشہور قانون قلب مکانی ہوئی ہوگی جس کی وجہ سے پښتانہ سے پتښانہ بنا ہوگا پھر ښ ثقیل ہونے کی وجہ سے ھ سے بدلا ہوگا جس کی وجہ سے پتھانہ بن گیا ہوگا پھر زبانوں کے مشہور قاعدے اختصار کی وجہ سے پتھانہ سے پتھان بنا ہوگا اور پھر پتھان سے پٹھان ایسی قوم کی وجہ سے بنا ہوگا جن کی زبان میں "ت" کی ادائگی ثقیل ہو جیسے کہ انگریز وغیرہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ پٹھان انگریز ہی زیادہ استعمال کرتے ہیں دیگر اقوام پشتون یا پختون کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔نیز برصغیر میں اب پٹھان استعمال ہونے کی وجہ یہاں انگریز کی حکومتوں کا ماضی میں ہونا بھی ہے کیوں کہ یہاں انگریز رہ کے گئے ہیں اور وہ پختونوں کو پٹھان کہتے تھے تو اب یہاں کے لوگ بھی بعض اوقات پٹھان کہتے ہیں
پیښور کو پیخور یا پیشور/پشاور کہنے کی وجہ
یہ بات تتمہ میں ضمنی طور پر لارہاہوں اور اس میں بھی وہی بحث ہے جو لفظ " پـښـتـون" میں ہے یعنی اس کا اصل نام تو" پیښور" ہے لیکن " ښ " کے زبان پر ثقیل ہونے کی وجہ سے بعض لوگ اس کو پیخور کہتے ہیں اور بعض لوگ پیشور کہتے ہیں
اور اب یہ جو"پیشور" سے "پشاور" بنا ہے تو اصل میں یہ" پیشور" میں قلب مکانی ہوئی ہے وہ اس طرح کہ "ی" آئی "ش" کی جگہ اور "ش" آیا "ی" کی جگہ جس سے پشیور بنا ۔ پھر "ی" بدلی " ا " سے تو "پشاور "بنا
پیښور کا معنی
بعض اہل علم نے "پشاور" کی وہ اصل جو ثقیل ہونے کی وجہ سے بنی ہے یعنی "پیشور "اس وجہ سے اس کا معنی "پیشے والا " لکھا ہے ۔ لیکن یہ بات درست نہیں کیوں کہ "پیشور" اصل نام نہیں بلکہ " ښ " کے زبان پر ثقیل ہونے کی وجہ سے بنا ہے
جب نام اصل نہیں تو پھر اس کے معنی کا اعتبار کیسے کیا جائے گا
اس کے صحیح معنی تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نام کی صحیح املا تک پہنچاجائے اور اس کے نام کی صحیح املا بتائی جاچکی ہے اور وہ ہے پیښور
جودو اسموں " پیښ" اور"ور" کا مرکب ہیں ۔ " پیښ" جو اردو میں آکر "پیش" بن گیا ہے " ښ " کے زبان پر ثقیل ہونے کی وجہ سے اور اس کے معنی ہیں
آگے ، سامْنے ، مقابل ، پہلے ، پیش آنا، قَبْل ، عمارت کا چہرہ، ضَمَّہ
اور "ور" کا معنی "دروازہ " ہے
تواب ان دونون کے مرکب کا معنی ہوگا
" پیش آنے ولا دروازہ "
"آگے دروازہ"
"پہلا دروازہ"
اور اس معنی کی تائید "باب خیبر" سے بھی ہوتی ہے کیوں کہ "باب "کا معنی بھی دروازہ کے ہے​
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
5:55 PM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
114.85
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks