ٹیکنالوجی ڈیوائسز بچوں کی انگلیوں کو کمزور کرتی ہیں

Lovely Eyes

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Emerging
Fantabulous
The Iron Lady
Joined
Apr 28, 2018
Local time
6:34 AM
Threads
215
Messages
1,031
Reaction score
1,784
Points
601
Gold Coins
20.67
Silver Coins
0
Diamonds
0.00000
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
بہت زیادہ ٹیکنالوجی ڈیوائسز استعمال کرنے والے بچے اسکول میں پینسل پکڑنے یا قینچی سے کاغذ کاٹنے میں ناکام رہتے ہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

3668

دراصل والدین بچوں کو بوریت سے بچانے اور روتے بچوں کو چپ کروانے کے لیے ان کے ہاتھ میں اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹ پکڑا دیتے ہیں۔ بچے بس انہیں سوائپ یا ٹچ کرتے رہتے ہیں، جس سے ان کی انگلیوں اور ہاتھوں کے کام کرنے کی صلاحیت میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے جو آج سے 10 سال پہلے کے بچوں میں نہیں تھی۔

ہارٹ آف انگلینڈ فاؤنڈیشن (این ایچ ایس ٹرسٹ) کی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو بچے لکھنے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے کلاس رومز میں آ رہے ہیں، ان کی انگلیوں کے مسلز صحیح طور پر کام نہیں کر پا رہے۔

اس رپورٹ کی بناء پر برطانوی ماہر امراض اطفال، ٹیکنالوجی کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں، جس کی وجہ سے روایتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں جیسے کہ موتی پرونا، رنگ کرنا یا کاغذ کی کٹنگ سے کرافٹ تیار کرنا یا دیگر ایسی سرگرمیاں جن میں انگلیوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔

جوبچے لکھنے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے کلاس رومز میں آ رہے ہیں، ان کی انگلیوں کے مسلز صحیح طور پر کام نہیں کر پا رہے—فوٹو ایڈوانس اکیڈمی
ہارٹ آف انگلینڈ فاؤنڈیشن این ایچ ایس ٹرسٹ کی پیڈیاٹرک سربراہ اور تھراپسٹ سیلی پائینے کہتی ہیں کہ اسکول میں آنے والے بچوں کو پینسل دی جا رہی ہیں لیکن وہ تیزی سے اس پر گرفت نہیں کرپاتے کیونکہ ان کی انگلیوں میں نقل و حرکت کی بنیادی صلاحیتیں نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بچے کو کھیل کود کی سرگرمیوں جیسے بلڈنگ بلاکس، کاٹنے اور چپکانے والے کھلونے اور رسیاں کھینچنے والے ٹولز دینے سے زیادہ آسان ہے کہ انہیں ٹیبلٹ پکڑا دیا جائے تاہم اس کی وجہ سے بچوں کو وہ بنیادی مہارت نہیں مل رہی جس کی مدد سے وہ پینسل پکڑ کر عمدہ لکھ سکیں یا خوبصورت رنگ کر سکیں۔


3669

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اساتذہ، والدین اور پیشہ ور افراد نے اس طرف توجہ نہ دی تو بچوں کی نشوونما کے ابتدائی مراحل میں یہ عمل ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
 

PakArt UrduLover

Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:34 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
108.42
Silver Coins
49,510
Diamonds
1.10870
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
بہت زیادہ ٹیکنالوجی ڈیوائسز استعمال کرنے والے بچے اسکول میں پینسل پکڑنے یا قینچی سے کاغذ کاٹنے میں ناکام رہتے ہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔


دراصل والدین بچوں کو بوریت سے بچانے اور روتے بچوں کو چپ کروانے کے لیے ان کے ہاتھ میں اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹ پکڑا دیتے ہیں۔ بچے بس انہیں سوائپ یا ٹچ کرتے رہتے ہیں، جس سے ان کی انگلیوں اور ہاتھوں کے کام کرنے کی صلاحیت میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے جو آج سے 10 سال پہلے کے بچوں میں نہیں تھی۔

ہارٹ آف انگلینڈ فاؤنڈیشن (این ایچ ایس ٹرسٹ) کی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو بچے لکھنے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے کلاس رومز میں آ رہے ہیں، ان کی انگلیوں کے مسلز صحیح طور پر کام نہیں کر پا رہے۔

اس رپورٹ کی بناء پر برطانوی ماہر امراض اطفال، ٹیکنالوجی کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں، جس کی وجہ سے روایتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں جیسے کہ موتی پرونا، رنگ کرنا یا کاغذ کی کٹنگ سے کرافٹ تیار کرنا یا دیگر ایسی سرگرمیاں جن میں انگلیوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔

جوبچے لکھنے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے کلاس رومز میں آ رہے ہیں، ان کی انگلیوں کے مسلز صحیح طور پر کام نہیں کر پا رہے—فوٹو ایڈوانس اکیڈمی
ہارٹ آف انگلینڈ فاؤنڈیشن این ایچ ایس ٹرسٹ کی پیڈیاٹرک سربراہ اور تھراپسٹ سیلی پائینے کہتی ہیں کہ اسکول میں آنے والے بچوں کو پینسل دی جا رہی ہیں لیکن وہ تیزی سے اس پر گرفت نہیں کرپاتے کیونکہ ان کی انگلیوں میں نقل و حرکت کی بنیادی صلاحیتیں نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بچے کو کھیل کود کی سرگرمیوں جیسے بلڈنگ بلاکس، کاٹنے اور چپکانے والے کھلونے اور رسیاں کھینچنے والے ٹولز دینے سے زیادہ آسان ہے کہ انہیں ٹیبلٹ پکڑا دیا جائے تاہم اس کی وجہ سے بچوں کو وہ بنیادی مہارت نہیں مل رہی جس کی مدد سے وہ پینسل پکڑ کر عمدہ لکھ سکیں یا خوبصورت رنگ کر سکیں۔



انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اساتذہ، والدین اور پیشہ ور افراد نے اس طرف توجہ نہ دی تو بچوں کی نشوونما کے ابتدائی مراحل میں یہ عمل ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
:salaam:
:many-thanks:
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks