ضرب الامثال.اردو محاورات کا اشتراک

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:55 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.02
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
السلام علیکم اردو محاورات کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا خیال آیا۔جس میں ہم اپنے دوستوں کیساتھ محاورات کا اشتراک کریں گے۔جس سے ہمیں محاورات کہنا اور سیکھنا مل سکیں گے اور اسی بہانے دوستوں کے درمیان رابطہ رہے گا اور رونق رہےگی۔تو دوستو آپ سبنے ملکر اس لڑی یعنی دھاگے کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے۔تو ہو جایئں شروع کیونکہ محاورے محض کسی زبان کا حصہ ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے مختصر وجود میں نہ صرف کسی بھی معاشرہ کی نمائندگی کا کردار ادا کرتے ہیں بلکہ ایک بھر پور تہذیبی عکسبندی کا بار بھی اٹھاتے ہیں۔
*** ​سلسلہ الف تا ''ے''

 
Last edited:

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:55 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.02
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
پہلامحاورہ لفظ الف سے
****
اُبلا سُبلا، اُبالا سُبالا

اگر ہم اس محاورہ کی لفظی ترکیب پر غور کریں تو اس سے ایک بات پہلی نظر میں سمجھ میں آ جاتی ہے کہ ہمارے ہاں الفاظ کے ساتھ ایسے الفاظ بھی لائے جاتے ہیں جن کا اپنا اس خاص اس موقع پر کوئی خاص مفہوم نہیں ہوتا لیکن صوتی اعتبار سے وہ اس لفظی ترکیب کا ایک ضروری جُز ہوتے ہیں۔ اس طرح کی مثالیں اور بھی بہت سی مل سکتی ہیں، جیسے"الاَبُلَّا"، "اٹکل پچو"، "اَبے تبے"، "ٹال مٹول"، "کانچ کچُور"وغیرہ۔

"اُبلا سُبلا" ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کسی عورت کو اچھا سالن بنانا نہیں آتا۔ ہمارے ہاں کھانا بنانے کا آرٹ گھی، تیل، بگھار، گرم مصالحہ، گوشت وغیرہ ڈال کر اس کو خوش ذائقہ اور لذیذ بنایا جاتا ہے۔ سالن میں جتنی ورائٹی ) variety (ہو سکتی ہے، اُن سب میں ان کو دخل ہے کہ وہ بھُنے چُنے ہوں، شوربہ، مصالحہ، اس میں ڈالی ہوئی دوسری اشیاء اگر خاص تناسب کے ساتھ نہیں ہیں تو پھر وہ سالن دوسروں کے لیے"اُبلا سُبلا" ہے، یعنی بے ذائقہ ہے اور اسی لیے بے نمک سالن کا محاورہ بھی آیا ہے، یعنی بے ذائقہ چیز۔ اس سے ہم اس گھریلو ماحول کا پتہ چلا سکتے ہیں جس میں ایک عورت کی کھانا پکانے کی صلاحیت کا گھر کے حالات کا ایک عکس موجود ہوتا ہے کہ اس کے ہاں تو۔ "اُبالا سُبالا"پکتا ہے۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
6:55 AM
Threads
842
Messages
12,115
Reaction score
14,133
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,352.31
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
آبخورے بھرنا
"آب خورہ" ایک طرح کی مٹی کے"فنجان نما" برتن کو کہتے ہیں جو کمہار کے چاک پر بنتا ہے اور پھر اُسے مٹی کے دوسرے برتنوں کی طرح پکایا جاتا ہے۔ یہ گویا غریب آدمی کا پانی پینے کا پیالہ اور ایسا برتن ہوتا ہے جسے پانی، دُودھ یا شربت پی کر پھینک بھی دیتے ہیں۔ عام طور سے ہندوؤں میں اس کا استعمال اس لیے بھی رہا ہے کہ وہ کسی دوسرے کے استعمال کردہ برتن میں کھاتے پیتے نہیں ہیں۔ آبخورے میں دُودھ پیا اور پھر اُسے پھینک دیا اور پھر یہی صورت شربت کے ساتھ ہوتی ہے مگر آبخورے بھرنا عورتوں کے نذر و نیاز کے سلسلہ کا ایک اہم رسمی آداب کا حصّہ ہے۔ عورتیں منّتیں مانتی ہیں اپنے بچّوں کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، میاں کی کمائی کے لیے اور ایسی ہی دوسری کچھ باتوں کے لیے، اور کہتی ہیں کہ اے خدا، اگر میری یہ دعا قبول ہو گئی اور میری منّت پوری ہوئی تو میں تیری اور تیرے نیک بندوں کی نیاز کروں گی۔ دُودھ یا شربت سے آبخورے بھر کر، انہیں دعا درود کے ساتھ تین بّچوں، فقیروں، درویشوں یا مسافروں کو پلاؤں گی۔ نیاز کی چیزیں عام طور پر غریبوں ہی کے لیے ہوتی ہیں مگر اس میں اپنے بھی شریک ہو سکتے ہیں۔​
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:55 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.02
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
آبرو جاکے نہیں آتی
آپ بھلے تو جگ بھلا
اپنی اپنی ڈفلی ، اپنا اپنا راگ
آتا بھلا نہ جاتا
آج آئے کل چلے
آج میں نہیں یا وہ نہیں (وہ کی جگہ کچھ بھی لاسکتے ہیں)
ادھر کنواں ادھر کھائی
اس ہاتھ دے ، اس ہاتھ لے
آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا
آسمان کا تھوکا منہ پر
آگ کھائے منہ جلے ، ادھار کھائے پیٹ
آگے دوڑ پیچھے چھوڑ
آم کے آم گھٹلیوں کے دام
ان تلوں میں تیل نہیں
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں
اندھوں میں کانا راجہ
آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل
آنکھ کا اندھا ، گانٹھ کا پورا
انگور کھٹے ہیں
اونچی دکان پھیکا پکوان
ایک انار ، سو بیمار
ایک اور ایک گیارہ
ایک پنتھ دو کاج
ایک تو کریلا ، دوسرے نیم چڑھا
ایک سر ہزار سودا
بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی
التا چور کوتوال کو ڈانٹے
ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا
نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جانوروں ، پرندوں اور حشرات سے متعلق کہاوتیں:

الو: اپنا الو کہیں نہیں گیا ، الو کی دم فاختہ

اونٹ: اونٹ کے منہ میں زیرہ ، انوکھے گاؤں میں اونٹ آیا ، اونٹ بلبلاتا (برلتا) ہی لدتا ہے ، اونٹ بلیاں لے گئیں ہاں جی ہاں جی کیجیے ، بندر ناچے اونٹ جل مرے

بٹیر: آدھا تیتر آدھا بٹیر ، اندھے کے پاؤں تلے بٹیر دب گئی۔ کہا روز شکار کھائیں گے ، اندھے کے ہاتھ بٹیر آئی ، تیتر تو اپنی آئی مرا‘ تو کیوں مرے بٹیر

بکرا: بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی آخر ایک نہ ایک دن چھری تلے آئے گی۔

بلی: بلی سے گوشت کی رکھوالی ، بلی سے دودھ کی رکھوالی ، بلی کے خواب میں چھیچھڑے ، اونٹ بلیاں لے گئیں ہاں جی ہاں جی کیجیے

بندر: بندر کیا جانے ادرک کا ذائقہ ، اصطبل کی بلا بندر کے سر ، انگریز کی نوکری اور بندر نچانا برابر ہے ، بندر ناچے اونٹ جل مرے ، بندر ناریل سے پنساری بنا ، بندر کا حال مچھندر جانے

بیل: آبیل مجھے مار ، اپنا بیل کلہاڑی نا تھیں

تیتر: آدھا تیتر آدھا بٹیر ، تیتر تو اپنی آئی مرا‘ تو کیوں مرے بٹیر

چڑیا: اب پچھتائے کیا ہوت ، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

کتا: دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا ، اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے

گلہری: اب رنگ لائی گلہری ، گلو گلہری کیا کھائیگی ، گلہری کا پیڑ ٹھکانا

مرغ: اصیل مرغ ٹکے ٹکے ، آٹا ہے نہ پاٹا مرغ کا ہے پر کاٹا ، اپنی مرغی بری نہ ہو تو ہمسایے میں انڈا کیوں دے

 

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:55 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.02
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
آبِ حیات ہونا
آبِ حیات کا تصور قوموں میں بہت قدیم ہے۔ یعنی ایک ایسے چشمہ کا پانی جس کو پینے سے پھر آدمی زندہ رہتا ہے۔ اُردو اور فارسی ادب میں حضرتِ خضر کا تصور بھی موجود ہے۔ یہ چشمہّ آبِ حیات کے نگراں ہیں۔ اسی لیے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ حضرتِ خضر کا لباس "سبز" ہے اور وہ دریاؤں کے کنارے ملتے ہیں اور بھولے بھٹکوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ قدیم زمانہ میں جب باقاعدہ سڑکیں نہیں تھیں، دریاؤں کے کنارے کنارے سفر کیا جاتا تھا۔ اور اس طرح گویا دریا ہماری رہنمائی کرتے تھے۔ یہیں سے خضر کی رہنمائی کا تصور بھی پیدا ہوا ہے۔

علم کو پانی سے مُشابہت دی جاتی ہے۔ اسی لیے ہم علم کا سمندر یعنی بحرالعلم کہتے ہیں جسے ہندی میں"ودیا ساگر"کہا جاتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ علم پانی ہے، پانی زندگی ہے اور پانی نہ ہو تو پھر زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ اِن باتوں کو آبِ حیات کی صُورت میں ایک علامت کے طور پر مانا گیا ہے۔ حضرتِ خضر کا علم بھی بہت بڑا ہے جس کے لیے اقبال نے کہا ہے:
علمِ موسیٰ بھی ہے جس کے سامنے حیرت فروش
قرآن میں بھی حضرتِخضر اور حضرتِ موسیٰ سے متعلق روایت کی طرف اشارہ موجود ہے۔ لیکن خضر کا نام نہیں ہے۔ اردو ادب میں اور مغلوں کی تاریخ میں بادشاہ جو پانی پیتے تھے اُس کو بھی آبِ حیات کہا جاتا تھا۔ ان سب باتوں کے پیشِ نظر جب اردو میں بطورِ محاورہ آبِ حیات ہونا کہا جاتا ہے تو اس سے مُراد ہوتی ہے کہ یہ بے حد مفید ہے، زندگی بڑھاتا ہے اور صحت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ محاوروں نے ہماری تہذیبی روایت کو محفوظ کیا ہے اور عوام تک پہنچایا ہے۔
 

Mr. X

Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Popular
💖 ITD Lover 💖
The Gladiator
The Dark Knight
The Men in Black
Joined
Apr 25, 2018
Local time
6:55 AM
Threads
1,052
Messages
2,184
Reaction score
4,086
Points
1,264
Gold Coins
2,597.16
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
آبرو ریزی کرنا

"آبرو" چہرے کی آب و تاب کو کہتے ہیں، اس لیے کہ آب کے معنی چمک دمک کے بھی ہیں، پانی کے بھی۔ لیکن محاورہ کی سطح پر آبرو کے معنی ہیں عزت، سماجی احترام اور اگر کوئی شخص اپنے کسی عمل سے دوسرے کو معاشرتی سطح پر بے عزت یا Dishonour کرتا ہے تو وہ گویا اس کی "آبرو ریزی" کرتا ہے، اِسے مٹی میں مِلاتا ہے۔ فارسی میں"ریختن، ریزیدن"کے معنی ہیں"گرانا، گرنا"۔ اسی لیے موسمِ خزاں میں جو پت جھڑ کا موسم ہوتا ہے، اُسے برگ ریز یعنی پتّے گرانے والا موسم کہتے ہیں۔

اِس سے ہم "آبرو ریزی" کے لفظی مفہوم اور معاشرتی معنی تک پہنچ سکتے ہیں جو ایک تہذیبی اندازِ نظر ہے۔ آبرو کے ساتھ کئی محاورے آتے ہیں اور سب کے مفہوم میں چہرہ کی آب و تاب اور عزت شامل ہے۔ مثلاً "آبرو بگاڑنا" آبرو ریزی ہی کے معنی میں آتا ہے۔ "آبرو رکھنا" عزت رکھنے ہی کا مفہوم بناتا ہے۔ "آبرودار"عزت دار آدمی کو کہتے ہیں۔ "رو دار" بھی آبرو دار ہی کے معنی میں آتا ہے۔ اس سے ہم آبرو کے معاشرتی تعلق کو سمجھ سکتے ہیں، اس لیے کہ بے عزتی بہت بڑی سماجی سزا ہے۔​
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:55 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.02
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
معاشرتی سطح پر بے عزت یا Dishonour کرتا ہے تو وہ گویا اس کی "آبرو ریزی" کرتا ہے، اِسے مٹی میں مِلاتا ہے
بیشک ہمارے معاشرے میں نہ جانے اٹھتے بیٹھتے۔آتے جاتے۔لفظی آبرو ریزی ہوتی ہے۔او ر کچھ لوگ تو اگلی گلوچ سے بے عزت کرکے سوچتے نہی خود بھی بے آبرو ہوتے ہیں جب کوئی جوابا ویسے ہی پیش آتا ہے۔ن جانے یہ لعنت کب ختم ہوگی۔​
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:55 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.02
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
اپنا اُلّو سیدھا کرنا
عجیب و غریب محاورہ ہے جس میں اُلّو کے حوالہ سے بات کی گئی اور معاشرے کے ایک تکلیف دہ رویّہ کو سامنے لایا گیا یا اس پر طنز کیا گیا ہے۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب آدمی وہ کوئی بھی ہو، اپنا بیگانہ، امیر غریب، دوسرے سے اپنا مطلب نکالنا چاہتا ہے اور مطلب برآری کے لیے دوسرے سے چاپلوسی اور خوشامد کی باتیں کرتا ہے اور مقصد اپنا مطلب نکالنے سے ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ایک اور محاورہ بھی ہے یعنی دوسرے کو" الّو بنانا" یعنی بیوقوف بنانا۔


 

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:55 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.02
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
آدھا تیتر آدھا بٹیر
جب کردار میں یا کسی شے کی ظاہری شکل و صورت میں توازن و تناسب نہیں ہوتا اور اُس کی غیر موزونیت پہلی نظر میں بھانپ لی جاتی ہے تو اُسے آدھا تیتر آدھا بٹیر کہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں شوقین طبع لوگ تیتر پالتے تھے۔ بٹیروں کے پالنے کا بھی رواج تھا اور لکھنؤ میں بٹیروں کی لڑائی بھی کرائی جاتی تھی۔ اِس کا رواج دہلی میں بھی تھا۔ یہ رئیسوں کا شوق تھا اور رفتہ رفتہ درمیانی طبقے میں بھی سرائیت کر گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بٹیر پالنا اور تیتر پالنا معاشرے میں کچھ خاص رجحانات کا ترجمان بن گیا۔ اُن میں موزونیت اور ہم آہنگی بطورِ خاص شامل ہے جس کی طرف یہ محاورہ بطورِ خاص اشارہ کرتا ہے۔
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks