مجھے جنازے ہر دن ڈراتے ہیں

Syed Waqas

Thread Starter
Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Writer
Popular
Lazy but Talented
Be Different
Captain of My Soul
Do the Impossible
Joined
May 6, 2018
Local time
8:46 AM
Threads
132
Messages
2,666
Reaction score
3,550
Points
839
Location
Karachi
Gold Coins
2,176.79
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Single Thread Highlight for 1 Week.
Change Username Style.
کہتے ھیں کہ عباسی خلیفہ ھارون الرشید ؒکا ایک بیٹا تھا جس کی عمر تقریباً سولہ سال کی تھی، وہ بہت کثرت سے زاھدوں اور بزرگوں کی مجلس میں رھا کرتا تھا۔ اکثر قبرستان چلا جاتا اور وھاں جا کر کہتا کہ۔۔
تم لوگ ھم سے پہلے دنیا میں تھے، دنیا کے مالک تھے، لیکن اس دنیا نے تمھیں نجات نہ دی، حتیٰ کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔
کاش!
مجھے کسی طرح خبر ھوتی کہ تم پر کیا گذری ھے اور تم سے کیا کیا سوال و جواب ھوئے ہیں؟
اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتا ؎
تَرُوْعُنِيَ الْجَنَائِزُ کُلَّ یَوْ مٍ
وَیَحْزُنُنِيْ بُکَائُ النَّائِحَات
مجھے جنازے ھر دن ڈراتے ہیں
اور مرنے والوں پر رونے والیوں کی آوازیں مجھے غمگین رکھتی ھیں۔

ایک دن ۔۔وہ اپنے باپ ( بادشاہ) کی مجلس میں آیا۔ اس کے پاس وُزرا، اُمرا سب جمع تھے اور لڑکے کے بدن پر ایک کپڑا معمولی اور سر پر ایک لنگی بندھی ھوئی تھی۔ اراکینِ سلطنت آپس میں کہنے لگے کہ اس پاگل لڑکے کی حرکتوں نے امیر المؤمنین کو بھی دوسرے بادشاھوں کی نگاہ میں ذلیل کر دیا۔ اگر امیر المؤمنین اس کو تنبیہ کریں تو شاید یہ اپنی اس حالت سے باز آجائے۔ امیر المؤمنین نے یہ بات سن کر اس سے کہا کہ بیٹا! تو نے مجھے لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کر رکھا ھے۔
اس نے یہ با ت سن کر باپ کو تو کوئی جواب نہیں دیا،
لیکن ۔۔
ایک پرندہ جو وھاں بیٹھا تھا اس کو کہا کہ اس ذات کا واسطہ جس نے مجھے پیدا کیا تو میرے ھاتھ پر آ کر بیٹھ جا۔ وہ پرندہ وھاں سے اُڑ کر اس کے ھاتھ پر آ کر بیٹھ گیا۔ پھر اسے کہا کہ اب اپنی جگہ چلا جا تو وہ اسکے ھاتھ پر سے اُڑ کر اپنی جگہ چلا گیا۔ اس کے بعد اس نے عرض کیا کہ
ابا جان!
اصل میں آپ دنیا سے جو محبت کر رھے ہیں اس نے مجھے رسوا کر رکھا ھے !!
اب میں نے یہ ارادہ کر لیا ھے کہ آپ سے جدائی اختیار کر لوں۔
یہ کہہ کر وہاں سے چل دیا اور ایک قرآن شریف صرف اپنے ساتھ لیا۔ چلتے ھوئے ماں نے ایک بہت قیمتی انگوٹھی بھی اس کو دے دی کہ ضرورت کے وقت اس کو فروخت کرکے کام میں لائے- وہ یہاں سے چل کر ۔۔بصرہ پہنچ گیا ۔۔اور مزدوروں میں کام کرنے لگا۔
ھفتہ میں صرف ایک دن شنبہ کو مزدوری کرتا اور آٹھ دن تک وہ مزدوری کے پیسے خرچ کرتا اور آٹھویں دن پھر شنبہ کو مزدوری کر لیتا اور ایک دِرَم اور ایک دانق (یعنی دِرَم کا چھٹا حصہ مزدوری لیتا) اس سے کم یا زیادہ نہ لیتا۔ ایک دانق روزانہ خرچ کرتا۔

ابو عامر بصری ؒکہتے ہیں کہ میری ایک دیوار گر گئی تھی۔ اس کو بنوانے کے لیے میں کسی معمار کے تلاش میں نکلا۔ کسی نے بتایا ھوگا کہ یہ شخص بھی تعمیر کا کام کرتا ھے- میں نے دیکھا کہ نہایت خوبصورت لڑکا بیٹھا ھے ، ایک زنبیل پاس رکھی ھے اور قرآن شریف دیکھ کر پڑھ رھا ھے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ لڑکے مزدوری کرو گے؟
کہنے لگا:
کیوں نہیں! کریں گے ، مزدوری کے لیے تو پیدا ھی ھوئے ہیں۔ آپ بتائیں کہ کیا خدمت مجھ سے لینی ھے؟
میں نے کہا: گارے مٹی (تعمیر) کا کام لینا ھے۔
اس نے کہا کہ ایک دِرَم اور ایک دانق مزدوری ھوگی اور نماز کے اوقات میں کام نہیں کروں گا ، مجھے نماز کے لیے جانا ھوگا۔ میں نے اس کی دونوں شرطیں منظور کر لیں اور اس کو لا کر کام پر لگا دیا۔ مغرب کے وقت جب میں نے دیکھا تو اس نے دس آدمیوں کی بقدر کام کیا۔ میں نے اس کو مزدوری میں دو دِرَم دیے۔ اس نے شرط سے زائد لینے سے انکار کر دیا اور ایک دِرَم اور ایک دانق لے کر چلا گیا۔
دوسرے دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں پھر اس کی تلاش میں نکلا۔ وہ مجھے کہیں نہ ملا۔ میں نے لوگوں سے تحقیق کیا کہ ایسی ایسی صورت کا ایک لڑکا مزدوری کیا کرتا ھے ، کسی کو معلوم ھے کہ وہ کہاں ملے گا؟
لوگوں نے بتایا کہ وہ صرف شنبہ ھی کے دن مزدوری کرتا ھے ، اس سے پہلے تمہیں کہیں نہیں ملے گا۔
مجھے اس کے کام کو دیکھ کر ایسی رغبت ھوئی کہ میں نے آٹھ دن کو اپنی تعمیر بند کر دی اور شنبہ کے دن اس کی تلاش کو نکلا۔ وہ اسی طرح بیٹھا قرآن شریف پڑھتا ھوا ملا۔ میں نے سلام کیا اور مزدوری کرنے کو پوچھا۔ اس نے وھی پہلی دو شرطیں بیان کیں۔ میں نے منظور کر لیں۔ وہ میرے ساتھ آ کر کام میں لگ گیا۔ مجھے اس پر حیرت ھو رھی تھی کہ پچھلے شنبہ کو اس اکیلے نے دس آدمیوں کا کام کس طرح کر لیا۔
اس لیے اس مرتبہ میں نے ایسی طرح چھپ کر کہ وہ مجھے نہ دیکھے ، اس کے کام کرنے کا طریقہ دیکھا،

۔۔۔۔تو یہ منظر دیکھا کہ۔۔۔۔۔

وہ ھاتھ میں گارا لے کر دیوار پر ڈالتا ھے اور پتھر اپنے آپ ھی ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے چلے جاتے ہیں۔ مجھے یقین ھو گیا کہ یہ کوئی اللہ کا ولی ھے اور اللہ کے اَولیاء کے کاموں کی غیب سے مدد ھوتی ھی ھے۔
جب شام ھوئی تو میں نے اس کو تین دِرَم دینا چاھے۔ اس نے لینے سے انکار کر دیا کہ میں اتنے دِرَم کیا کروں گا؟ اور ایک دِرَم اور ایک دانق لے کر چلا گیا۔ میں نے ایک ہفتہ پھر انتظار کیا اور تیسرے شنبہ کو پھر میں اس کی تلاش میں نکلا مگر وہ مجھے نہ ملا۔
میں نے لوگوں سے تحقیق کیا۔ ایک شخص نے بتایا کہ وہ تین دن سے بیمار ھے۔۔ فلاں ویرانےجنگل میں پڑا ھے۔ میں نے ایک شخص کو اجرت دے کر اس پر راضی کیا کہ وہ مجھے اس جنگل میں پہنچا دے۔ وہ مجھے ساتھ لے کر اس جنگل ویران میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ۔۔ وہ بیہوش پڑا ھے۔
آدھی اینٹ کا ٹکڑا سر کے نیچے رکھا ھوا ھے۔ میں نے اس کو سلام کیا تو اس نے جواب نہ دیا۔ میں نے دوسری مرتبہ سلام کیا تو اس نے (آنکھ کھولی اور) مجھے پہچان لیا۔ میں نے جلدی سے اس کا سر اینٹ پر سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا۔ اس نے سر ھٹا لیا اور چند شعر پڑھے
جن میں سے دو یہ ہیں ؎
یَا صَاحِبِيْ لَا تَغْتَرِرْ بِتَنَعُّمٖ فَالْعُمْرُ یَنْفَدُ وَالنَّعِیْمُ یَزُوْلُ
وَإِذَا حَمَلْتَ إِلَی الْقُبُوْرِ جَنَازَۃً فَاعْلَمْ بِأَنَّکَ بَعْدَھَا مَحْمُول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے دوست
دنیا کی نعمتوں سے دھوکہ میں نہ پڑ۔
عمر ختم ھوتی جا رھی ھے اور یہ نعمتیں سب ختم ھو جائیں گی۔
جب تو کوئی جنازہ لے کر قبرستان میں جائے تو یہ سوچتا رھا کر کہ تیرا بھی ایک دن اسی طرح جنازہ اٹھایا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ
ابو عامر!
جب میری روح نکل جائے تو مجھے نہلا کر میرے اسی کپڑے میں مجھے کفن دے دینا۔
میں نے کہا:
میرے محبوب! اس میں کیا حرج ھے کہ میں تیرے کفن کے لیے نئے کپڑے لے آئوں؟
اس نے جواب دیا کہ نئے کپڑوں کے زندہ لوگ زیادہ مستحق ہیں۔
(یہ جواب حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جواب ھے۔ انھوں نے بھی اپنے وصال کے وقت یہی فرمائش کی تھی کہ میری انہی چادروں میں کفن دے دینا اور جب ان سے نئے کپڑے کی اجازت چاھی گئی تو انھوں نے یہی جواب دیا تھا۔)
لڑکے نے کہا کہ
کفن تو پرانا ھو یا نیا بہر حال بوسیدہ ھو جائے گا۔
آدمی کے ساتھ تو صرف اس کا عمل ھی رھتا ھے۔
اور یہ میری لنگی اور لوٹا قبر کھودنے والے کو مزدوری میں دے دینا اور یہ انگوٹھی اور قرآن شریف ھارون رشید تک پہنچا دینا اور اس بات کا خیال رکھنا کہ خود انہی کے ھاتھ میں دینا اور یہ کہہ کر دینا کہ ایک پردیسی لڑکے کی یہ میرے پاس امانت ھے اور وہ آپ سے یہ کہہ گیا ھے کہ ایسا نہ ھو کہ اسی غفلت اور دھوکہ کی حالت میں آپ کی موت آ جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر اس کی روح نکل گئی ۔۔۔
اس وقت مجھے معلوم ھوا کہ یہ لڑکا شہزادہ تھا۔
اس کے انتقال کے بعد اس کی وصیت کے موافق میں نے اس کو دفن کر دیا اور دونوں چیزیں گورکن کو دے دیں اور قرآن پاک اور انگوٹھی لے کر ۔ بغداد پہنچا ۔۔ اور قصرِ شاھی کے قریب پہنچا تو بادشاہ کی سواری نکل رھی تھی۔ میں ایک اونچی جگہ کھڑا ھو گیا۔
اوّل ایک بہت بڑا لشکر نکلا جس میں تقریباً ایک ھزار گھوڑے سوار تھے۔ اس کے بعد اسی طرح یکے بعد دیگرے دس لشکر نکلے۔ ھر ایک میں تقریباً ایک ھزار سوار تھے۔ دسویں جتھے میں خود امیر المؤمنین بھی تھے۔ میں نے زور سے آواز دے کر کہا کہ
اے امیر المؤمنین!
آپ کو حضورِاقدسﷺ کی قرابت رشتہ داری کا واسطہ ، ذرا سا توقف کر لیجیے۔
میری آواز پر انھوں نے مجھے دیکھا تو میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر کہا کہ میرے پاس ایک پردیسی لڑکے کی یہ امانت ھے جس نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ یہ دونوں چیزیں آپ تک پہنچا دوں۔
بادشاہ نے ان کو دیکھ کر (پہچان لیا)
تھوڑی دیر سر جھکایا۔
ان کی آنکھ سے آنسو جاری ھو گئے اور ایک دربان سے کہا کہ اس آدمی کو اپنے ساتھ رکھو، جب میں واپسی پر بلائوں تو میرے پاس پہنچا دینا۔ جب وہ باھر سے واپسی پر پہنچے تو محل کے پردے گروا کر دربان سے فرمایا:
اس شخص کو بلا کر لاؤ، اگرچہ وہ میرا غم تازہ ھی کرے گا۔ دربان میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ
امیر المؤمنین نے بلایا ھے اور اس کا خیال رکھنا کہ امیر پر صدمہ کا بہت اثر ھے۔ اگر تم دس باتیں کرنا چاھتے ھو تو پانچ ھی پر اِکتفا کرنا۔ یہ کہہ کر وہ مجھے امیر کے پاس لے گیا۔ اس وقت امیر بالکل تنہا بیٹھے تھے۔
مجھ سے فرمایا کہ میرے قریب آجاؤ۔
میں قریب جا کر بیٹھ گیا۔
کہنے لگے کہ تم میرے اس بیٹے کو جانتے ھو؟
میں نے کہا: جی ھاں میں ان کو جانتا ھوں۔
کہنے لگے:
وہ کیا کام کرتا تھا؟
میں نے کہا:
گارے مٹی کی مزدوری کرتے تھے۔
کہنے لگے: تم نے بھی مزدوری پر کوئی کام اس سے کرایا ھے؟
میں نے کہا: کرایا ھے۔
کہنے لگے: تمھیں اس کا خیال نہ آیا کہ اس کی حضورِ اقدس ﷺ سے قرابت تھی (کہ یہ حضرات حضورﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ کی اولاد ہیں)؟
میں نے کہا:
امیر المؤمنین پہلے اللہ سے معذرت چاھتا ھوں،
اس کے بعد آپ سے عذر خواہ ھوں، مجھے اس وقت اس کا علم ھی نہ تھا کہ یہ کون ہیں؟ مجھے ان کے انتقال کے وقت ان کا حال معلوم ھوا۔ کہنے لگے کہ
تم نے اپنے ھاتھ سے اس کو غسل دیا؟
میں نے کہا کہ جی ھاں۔
کہنے لگے: اپنا ھاتھ لاؤ۔
میرا ھاتھ لے کر اپنے سینہ پر رکھ دیا اور چند شعر پڑھے جن کا ترجمہ یہ ھے:۔
•••••••
اے وہ مسافر جس پر میرا دل پگھل رھا ھے اور میری آنکھیں اس پر آنسو بہا رھی ہیں!
اے وہ شخص جس کا مکان (قبر) دور ھے، لیکن اس کا غم میرے قریب ھے!
بے شک موت ھر اچھے سے اچھے عیش کو مکدر کر دیتی ھے۔
وہ مسافر ایک چاند کا ٹکڑا تھا (یعنی اس کا چہرہ) جو خالص چاندی کی ٹہنی پر تھا ( یعنی اس کے بدن پر)۔ پس چاند کا ٹکڑا بھی قبر میں پہنچ گیا اور چاندی کی ٹہنی بھی قبر میں پہنچ گئی۔
•••••••
اس کے بعد ھارون رشید ؒنے بصرہ اس کی قبر پر جانے کا ارادہ کیا، ابو عامر ؒ ساتھ تھے۔ اس کی قبر پر پہنچ کر ھارون رشید نے چند شعر پڑھے ۔۔

۔۔جن کا ترجمہ یہ ھے:
اے وہ مسافر جو اپنے سفر سے کبھی بھی نہ لوٹے گا!
موت نے کم عمری کے ھی زمانہ میں اس کو جلدی سے اُچک لیا۔
اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! تو میرے لیے انس اور دل کا چین تھا، لا نبی راتوں میں بھی اور مختصر راتوں میں بھی۔
تُو نے موت کا وہ پیالہ پیا ھے جس کو عنقریب تیرا بوڑھا باپ بڑھاپے کی حالت میں پیے گا۔
بلکہ دنیا کا ھر آدمی اس کو پیے گا، چاھے وہ جنگل کا رھنے والا ھو یا شہر کا رھنے والا ھو۔
پس سب تعریفیں اسی وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ کے لیے ہیں جس کی لکھی ھوئی تقدیر کے یہ کرشمے ہیں۔

 

Syed Waqas

Thread Starter
Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Writer
Popular
Lazy but Talented
Be Different
Captain of My Soul
Do the Impossible
Joined
May 6, 2018
Local time
8:46 AM
Threads
132
Messages
2,666
Reaction score
3,550
Points
839
Location
Karachi
Gold Coins
2,176.79
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Single Thread Highlight for 1 Week.
Change Username Style.

ابو عامر ؒکہتے ہیں کہ اس کے بعد جو رات آئی تو جب میں اپنے وظائف پورے کرکے لیٹا ھی تھا کہ

میں نے خواب میں۔۔ ایک نور کا قبہ دیکھا جس کے اوپر اَبر کی طرح نور ھی نور پھیل رھا ھے۔
اس نور کے اَبر میں سے اس لڑکے نے مجھے آواز دے کر کہا:
ابو عامر!!!
تمھیں حق تعالیٰ شانہٗ جزائے خیر عطا فرمائے ( تم نے میری تجہیز و تکفین کی اور میری وصیت پوری کی)۔
میں نے اس سے پوچھا کہ میرے پیارے! تیرا کیا حال گزرا؟
کہنے لگا کہ ۔۔۔
میں ایسے مولیٰ کی طرف پہنچا ھوں جو بہت کریم ھے اور مجھ سے بہت راضی ھے۔ مجھے اس مالک نے وہ چیزیں عطا کیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کان نے سنیں، نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خیال گزرا۔

(یہ ایک مشہور حدیثِ پاک کا مضمون ھے۔ حضورِاقدسﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ
اللہ کا پاک ارشاد ھے کہ
میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھیں، نہ کان نے سنیں، نہ کسی کے دل پر ان کا خیال گزرا)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ
تورات میں لکھا ھے کہ حق تعالیٰ شانہٗ نے ان لوگوں کے لیے جن کے پہلو رات کو خواب گاھوں سے دور رھتے ہیں (یعنی تہجد گذاروں کے لیے) وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کان نے سنا، نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خیال گذرا، نہ ان کو کوئی مقرب فرشتہ جانتا ھے، نہ کوئی نبی رسول جانتا ھے۔
اور یہ مضمون قرآنِ پاک میں بھی ھے:
{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ} (السجدہ)
کسی شخص کو خبر نہیں جو جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ایسے لوگوں کے لیے خزانۂ غیب میں موجود ھے۔ (دُرِّمنثور)

اس کے بعد۔۔۔ اس لڑکے نے کہا کہ حق تعالیٰ شانہٗ نے قسم کھا کر فرمایا ھے کہ جو بھی دنیا سے اس طرح نکل آئے جیسا میں نکل آیا، اس کے لیے یہی اِعزاز اور اِکرام ہیں جو میرے لیئے ہیں۔۔

(سبحان اللہّ)
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
3:46 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,966
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
117.12
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Joined
Apr 25, 2018
Local time
8:46 AM
Threads
854
Messages
12,714
Reaction score
14,529
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,413.72
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks