صبر کا میٹھا پھل

Mr. A

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Champion
Expert
Popular
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے
دین خیرخواہی کا نام ہے
نماز مومن کا نور ہے
بیشک دین آسان ہے
نیکی اچھّے اخلاق کا نام ہے
Master Blaster
Gentleman
Joined
Apr 25, 2018
Local time
1:51 AM
Threads
649
Messages
1,327
Reaction score
1,868
Points
910
Gold Coins
2,588.72
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
صبر کا پھل میٹھا۔۔۔۔

مولانا رومی رحمتہ الله تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں کہ طالقان کے علاقے کا رہنے والا ایک شخص جس کو شیخ ابوالحسن خرقانی رحمتہ الله تعالیٰ علیہ کی زیارت کا بےحد شوق تها،لیکن راستے کی دوری اور سفر کی مشکلات کا خیال آتا تو خرقان جانے کی ہمت نہ پڑتی،
خیر آخر ایک دن شوق زیارت نے اس کو بےتاب کردیا ،رخ زیبا کی زیارت کے لئے سامان سفر باندھ لیا ،راستہ کٹهن و دشوار گزار تها،لیکن وہ ہمت کا پکا تها کئی دن تک پہاڑی اور جنگلی راستے سے ہوتا ہوا ایک طویل اور پر صعوبت سفر کے بعد آخر کار منزل مقصود تک پہنچ گیا،
شہر خرقان میں آکر اسنے شیخ ابوالحسن خرقانی رحمتہ الله تعالیٰ علیہ کے گهر کا پتا دریافت کیا ،وہاں جاکر نہایت ادب سے دروازے کی زنجیر ہلائی...تهوڑی دیر بعد ایک عورت نے گهر کی کهڑکی سے جانک کر پوچها کون ہے ؟؟
اس نے جواب دیا میں .....حضرت شیخ ابوالحسن رحمتہ الله علیہ کی قدم بوسی کے لئے شہر طالقان سے حاضر خدمت ہوا ہوں،
اس عورت نے کہا واہ میاں درویش بهلا یہ بهی کوئی مقصد تها کہ جس کے لئے تو نے اتنا طویل و کٹهن سفر طے کیا ہے ،معلوم ہوتا ہے تونے دهوپ میں اپنی داڑھی سفید کی ہے،تمہاری عقل و دانش پر رونے کو جی چاہتا ہے ،کیا تجهے اپنے وطن میں کام دهندہ نہ تها؟؟

عقیدت مند یہ ماجرا دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور اسکی آنکهوں سے آنسو بہنے لگ گئے،تاہم اس نے ہمت کرکے پوچها حقیقت حال کچھ بهی ہو ،یہ بتائیے کہ شیخ صاحب ہیں کہاں ؟
چونکہ وہ عقیدت کا ہاتھ تهام کر آیا تها اسلیے اس عورت کی باتوں پر خاموش رہا،
عورت نے جواب دیا :ارے وہ کہاں کا شیخ و شاہ بن گیا اس نے تو دهوکے کا جال بچها رکها ہے،تجھ جیسے احمقوں کو اپنی ولایت کے جال میں پهنساتا ہے، اب بهی وقت ہے جہاں سے آیا ہے الٹے پاوں واپس چلا جا،ورنہ اس دغاباز کے چکر میں پهنس کر تباہ و برباد ہوجائے گا ،نہ دین کا رہے گا نہ دنیا کا،وہ بڑا حضرت ہے اس کی زبان و آنکهوں میں ایسا جادو ہے کہ اچها خاصا عقل مند بهی اس کے فریب میں آجاتا ہے

اب تو شیخ کے معتقد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور کہنے لگا "چراغ تلے اندهیرا بی بی شیخ کے انوار فیوض سے ایک دنیا جگمگا رہی ہے اور ان کی عظمت نے افلاک کی رفعتوں کو چهولیا ہے"،
"چاند پر تهوکنے والا اپنے منہ پر ہی تهوکتا ہے"کتا دریا میں گر جائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا ،آفتا ب عالم تاب لاکھ پهونکیں ماریں وہ کبهی نہیں بجھ سکتا،چمگادڑ رات کے اندهیرے میں اڑنے والی سورج کو نکلنے سے کیسے روک سکتی ہے،غرض درویش نے شیخ کی اہلیہ کو ایسی کهری کهری سنائیں کہ وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی،
وہ آدمی وہاں سے نکل کر شہر کے لوگوں سے شیخ کا پوچهنے لگا کسی نے بتایا کہ وہ جنگل کی طرف گئے ہوئے ہیں یہ سنتے ہی وہ راہ حق کا مسافر دیوانہ وار شیخ کی تلاش میں جنگل کی طرف روانہ ہوگیا ،راستے میں ........شیطان نے اس کے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کردئیے،سمجھ میں نہیں آتا تها کہ آخر شیخ نے ایسی بےہودہ بدتمیز و زبان دراز عورت کو اپنے گهر میں کیوں رکها ہے ،
عجیب معاملہ ہے! یہ میاں بیوی آپس میں کس طرح زندگی گزارتے ہونگئے
"ایک آگ ہے اور دوسرا پانی" ان مجوعہ اضراد میں محبت کیسے ہوسکتی ہے،ایسے وسوسے آتے بےچارہ گهبرا کر لاحول پڑهتا اور کانوں کو ہاته لگاتا ،
شیخ کے بارے میں ایسے خیالات کو دل میں جاگزیں کرنا نادانی ہے انہی سوچوں کا تانا بانا بنتا چلا جارہا تها کہ آخر دل نے کہا کہ اس میں کوئی بهید ہوگا وہ انہیں خیالات کی دنیا میں گم تها کہ اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو شیر کی پیٹھ پر اس شان سے سوار تها کہ پیچهے لکڑیوں کا گٹها لدا ہوا ہے اور ہاتھ میں سیاہ سانپ کا کوڑا ہے،
عقیدت مند سمجھ گیا کہ یہی شیخ ابو الحسن خرقانی رحمتہ الله علیہ ہیں اس سے پہلے کہ یہ کچھ عرض کرتا ،شیخ صاحب نے دور سے ہی مسکراتے ہوئے فرمایا :
عزیزم ! اپنے فریبی نفس کی باتوں میں نہ آ،اور ان پر دهیان نہ دے،ہمارا اکیلا پن اور جوڑا ہونا نفس کی خواہش کے لئے نہیں ہے، الله عزوجل کے حکم کی تعمیل کے لئے ہے،ہم اس جیسے سینکڑوں بےوقوفوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں،
یہ گفتگو میں نے تمہاری خاطر کی ہے تاکہ تو بهی بدخو ساتهی سے بنائے رکهے،تنگی کا بار ہنسی خوشی برداشت کر ،کیونکہ صبر کشادگی کی کنجی ہے،
الله تعالی نے مجهے یہ بلند مقام اپنی بیوی کی بدزبانی پر صبر کرنے کی وجہ سے عطا فرمایا ہے اگر میں اسکی ہرزہ سرائی برداشت نہ کرتا تو یہ شیر میرا مطیع کیسے ہوتا،
گر نہ صبر میکشیدے بار زن
کے کشیدے شیر نر بیگار من
"اگر میرا صبر اس عورت کا بوجھ نہ اٹها سکتا تو یہ شیر میرا بوجھ کیسے اٹهاتا"!!.
*مولانا رومی رحمتہ الله علیہ اس واقعہ سے یہ درس دے رہے ہیں کہ انسان کو ہر حال میں راضی بہ رضائے الہی رہنا چاہیئے اور صبر و شکر سے کام لینا چاہیئے ،یقینا صبر کرنے سے ہی اعلی مقامات عرفان حاصل ہوتے ہیں،
(حکایات رومی،،،مثنوی مولانا روم)
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
1:51 AM
Threads
834
Messages
11,713
Reaction score
13,878
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,317.03
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.

PakArt UrduLover

in memoriam 19??-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
9:51 PM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
110.46
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited

:goodpost:
بہت ہی ہدایتانہ تحریر ہے۔صبر کرناانسان کیلئے اللہ کی رضا کا سبب بنتا ہے۔اللہ ہم سبکو صبر عطا فرمائے۔آمین​
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks