اگر ویسا ہوتا تو، مگر ایسا نہیں، بونگو بونگ بونگی

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
7:35 PM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.77
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
اگر ویسا ہوتا تو، مگر ایسا نہیں، بونگو بونگ بونگی منجانب جنا ب ایم بلال ایم
پچھلے پانچ سال سے ”غلام عباس“ کا کچھ پتہ نہیں کیونکہ پانچ سال پہلے ایک سمندری جہاز روانہ ہوا تھا اور عباس اسی جہاز پر مختلف جزائر کے چرند پرند پر تحقیق کرنے نکلا تھا۔ عباس کو بچپن ہی سے اس بارے میں تحقیق کرنے کا بہت شوق تھا اور اسی شوق کی خاطر اس نے بہت سی ”بیٹل“ جمع کر رکھی تھیں۔ (اصل میں ڈارون کی تحقیقات)​”رب نواز“ باغ میں بیٹھا ہوا تھا تو اس نے ایک سیب زمین پر گرتے ہوئے دیکھا۔ وہیں سے اس کے ذہن میں خیال آیا کہ یہ سیب آخر زمین کی طرف ہی کیوں گرتا ہے، آسمان کی طرف کیوں نہیں جاتا؟ بس اس چیز کی کھوج لگانے لگا اور پھر اس نے کشش ثقل دریافت کر دی اور مزید بتایا کہ ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے۔ اسی طرح تین ”نواز کے قانون“ بتا کر سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ (اصل میں نیوٹن)
آج ”محمد بشیر“ نے الیکٹرونکس کی ایک بہت اہم چیز ایجاد کر دی۔ محمد بشیر کی تحقیقات کو سراہتے ہوئے آج سے الیکٹرونکس میں استعمال ہونے والی مزاحمت کی اکائی ”بشیر“ رکھ دی ہے۔ دراصل محمد بشیر نے ”بشیر کا قانون“ پیش کیا ہے جس کے مطابق ”مزاحمت ضرب برق، وولٹ کے مساوی ہو تی ہے۔​


”مختار احمد“ دس سال ایک مساوات پر تحقیق کرتا رہا اور آخر کار اس نے ایک عظیم مساوات اور چند قانون پیش کر دیئے۔ آج کی سائنس تحقیق کے باوجود مختارکی سوچ تک نہیں پہنچ سکی۔ جب مختار مرا تھا تو اس کا دماغ محفوظ کر لیا گیا تھا۔ مختار کا کام تو بہت بڑی بات ہے۔ سائنسدان تو اس کے دماغ پر غور کر رہے ہیں کہ آخر اس نے اتنا سوچ کیسے لیا۔ (اصل میں آئن سٹائن)

جیسا اوپر لکھا ہے، کاش ایسا ہی ہوتا تو کتنا مزہ آتا۔ لوگ کچھ یوں باتیں کرتے ”اگر اتنے نواز (نیوٹن)طاقت کسی چیز پر لگائی جائے تو یہ ہو گا“، ”اتنے بشیر(اوہم) کی مزاحمت کرنٹ کو اتنا روکتی ہے“۔ عباس کا نظریہ ارتقاء زیربحث ہوتا اور مختار کا دماغ لوگوں کو دیکھانے کے لئے عجائب گھر میں رکھ دیا جاتا۔ اگر یہی سب ہوتا تو امریکہ و یورپ کی ویب سائیٹ ہمارے پاس ہوسٹ ہوتیں۔ کوئی عبدالقدوس نامی شخص کسی بہت بڑے ڈیٹا سنٹر کا مالک ہوتا۔ مسٹر بین اور چارلی، ڈفر اور جعفر کی کتابوں سے مزاح سیکھ رہے ہوتے۔ نیو یارک ٹائم نوائے وقت کی خبر کاپی کر رہا ہوتا۔ محمد سعد کے سافٹ ویئر ہاؤس میں نئے آپریٹنگ سسٹم کی تیاری پر کام ہو رہا ہوتا۔ خورشید خان دنیا کے سب سے بڑے آن لائن شاپنگ سنٹر کا مالک ہوتا۔عدنان شاہد دنیا کی سب سے طاقت ور فوج کا جنرل ہوتا۔افتخار اجمل بھوپال نامی شخص اقوام متحدہ کا جنرل سیکرٹری ہوتا۔ہیری پوٹر کی جگہ تانیہ رحمان کی کہانیاں پڑھی جا رہی ہوتیں۔ کسی عثمان کا نام کارل مارکس کے ساتھ لکھا جاتا۔مونا لیزا کی جگہ عمیر ملک کی بنائی ہوئی پینٹنگ لگی ہوتی۔کوئی محمد بلال خان نامی نوجوان کتاب چہرے (فیس بک) کا مالک ہوتا۔


محمد صابر کا سب سے اچھا کمپیوٹر اینٹی وائرس ”صابٹران“ ہوتا۔ یاسر عمران مرزا ٹیلی کام کمپنی کا مالک ہوتا جو دنیا کے پچاس ممالک میں موجود ہوتی۔ شاید محمد وارث کو ادب کی خدمات پر نوبل انعام مل چکا ہوتا۔ فہد نامی شخص بین الاقوامی کرکٹ کا چیئرمین ہوتا۔ محمد اسد دنیا کا سب سے بڑا صحافی ہوتا۔ کوئی یاسر خوامخواہ جاپانی نہ ہوتا بلکہ جاپان والے خود عزت و احترم کے ساتھ یاسر کو جاپان لے جاتے تاکہ کچھ سیکھ سکیں۔ خاور کھوکھر کسی تھینک ٹینک سے کم نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ جس جس کو مرنے کا شوق ہے وہ ایپل کے مالک اور کمپیوٹر کی زبان ”سی“ بنانے والے کی جگہ پر اپنا نام لکھ لے۔

ویسے یہ سب تب ہوتا اگر شروع میں بیان کردہ معلومات درست ہوتیں۔ مگر یہ ایک دیوانے کا خواب ہے اور حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے کیونکہ آج ایسا نہیں۔ چلو شہد کی مکھیوں کے چھتے(بلاگستان) کو چھیڑتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
🙂
آپ غور کرو تو ہمارا آج کچھ یوں ہے جس میں عبدالقدوس ڈیٹا سنٹر کے مالک کی بجائے ریٹرھی پر پانچ پانچ سو میں ڈومینوں کی سیل لگا رہا ہے۔ ڈفر اور جعفر اعلیٰ معیار کا لکھنے کے باوجود اپنی تحاریر خود پڑھ کر ہی ہنستے ہیں۔ محمد سعد ونڈوز (کھڑکیاں) جیسا آپریٹنگ سسٹم بنانے کی بجائے خود سارا دن کھڑکیاں گنتا رہتا ہے۔ خورشید خان شاپنگ سنٹر کی تلاش میں خود وطن سے دور ہے۔ عدنان شاہد جنرل کی بجائے سپاٹا ہے۔ افتخار اجمل بھوپال اپنے بلاگ کے جنرل سیکرٹری تک نہ بن پائے۔ تانیہ رحمان کی کہانی خود ان کے بچے نہیں پڑھتے۔ عثمان تو بس ایک دیوانے کے خواب سا ہے۔ عمیر ملک کی پیٹنگ اپنے بلاگ پر بھی پسِ پشت پڑیں ہیں۔ محمد بلال خان کو تبصروں کا غم کھائے جا رہا ہے۔ محمد صابر کمپیوٹر اینٹی وائرس کی بجائے بیکڑیا مارنے والی دوائی فروحت کر رہا ہے۔ یاسر عمران مرزا ٹیلی کام کمپنی تو دور خالی ٹیلی فون کا مالک بھی مشکل سے بنا۔
محمد وارث پتہ نہیں کیا کیا لکھ رہے ہیں کہ سر سے گزر جاتا ہے۔ فہد اپنی ٹیم کا چیئرمین نہیں بن پایا بین الاقوامی کرکٹ تو بہت دور کی بات ہے۔ محمد اسد دنیا کا سب سے بڑا صحافی نہیں بلکہ صحافی کی صرف ”ص“ ہے۔ جاپانی لینے تو نہیں آئے بس خود ہی یاسر خومخواہ میں جاپانی بن گیا۔ خاور کھوکھر تھینک ٹینک کی بجائے بس ٹینک ہی ٹینک ہے۔ ایک م بلال م ہے جب بھی بولے گا کچھ الٹا اور بونگی ہی مارے گا، اس کی تحریر خود اس کے اپنے نہیں پڑھتے اور یہ بلاگر بنا بیٹھا ہے۔ ویسے بھی مجھے یہ بلاگر کم اور بسوں میں ”ریوڑیاں“ بیچنے والا زیادہ لگتا ہے۔ اس کے علاوہ ایپل کے مالک اور سی کے موجد بننے والوں سے گذارش ہے کہ آپ مرو یا نہ مرو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لئے ایپل یا کمپیوٹر کی سی زبان کے موجد بننے کی کوشش مت کرنا۔
ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہے کیا ہم نے اس بارے میں کبھی سوچا؟ میرے خیال میں تو ہمارے ساتھ ایسا اس لئے ہو رہا ہے کہ ہم نے کبھی یہ سوچنے کی کوشش تک نہیں کی کہ آخر ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے، حل تو بہت دور کی بات ہے۔
یارو! آج اپنی نامکمل تحاریر پر نظر مار رہا تھا تاکہ کسی کو توڑ موڑ کر کوئی شرلی چھوڑو اور پھر یہ تحریر ہاتھ لگی اور کچھ اضافہ کر کے شائع کر رہا ہوں۔ شروع کی باتیں شمسی توانائی (سولر انرجی) پر غلام عباس سے باتیں کرتے ہوئے تب ہوئیں جب بات مزاح کی طرف آئی۔ میں نے کہا اگر ”اوہم“ کا قانون کوئی مسلمان بناتا تو پھر کیا ہوتا۔ بس پھر عباس کی حس مزاح پھڑکی اور محمد بشیر کے ہاتھوں پتہ نہیں کیا کیا ایجاد کروا دیا۔ بلکہ خیالوں میں ہی جناب پندرہ بشیر(پندرہ اوہم) کی مزاحمت(Resistance) لینے بازار پہنچ چکے تھے اور دوکاندار سے کہہ رہے تھے کہ بھائی پندرہ بشیر کی مزاحمت دے دو۔

ویسے مذاق ہی سہی لیکن یہ بات سوچنے والی ہے کہ آخر ہمارے لوگ اتنی محنت کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتے، جبکہ دوسری طرف والے چھوٹے سے کام سے ہی بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں اور اس مذاق کے علاوہ بات تو یہ بھی سوچنے والی ہے کہ شروع میں کی گئی باتیں آخر کیوں نہ ہو سکیں، جبکہ ہمارے آباؤاجداد نے تو بہت کارنامے کیے تھے۔ قرآن پڑھو تو وہ جگہ جگہ غوروفکر کی دعوت دیتا ہے مگر ہم نے کئی سو سال سے کوئی ایجاد نہیں کی بلکہ جدید سائنس میں ہمارا حصہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ حالات و واقعات اور خاص طور پر وقت چیخ و پکار کر رہا ہے کہ اے مسلم! اپنے علم حقیقی کے عملی نمونے سے کچھ کر دکھا، مدت سے تاریخ تیری داستاں لکھنے کو بے چین ہے۔کچھ تو سوچ، اے آج کے مسلماں! سارا قصور حالات کے سر تھوپ کر مایوسی کی نیند سونے کی بجائے اٹھ اور ہمت سے کچھ کر دکھا۔
 
Last edited:
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks