محبت کی پانچ قسمیں اور محبتوں کا محور

Abu Dujana

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Popular
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
8:16 AM
Threads
81
Messages
968
Reaction score
1,366
Points
452
Location
Karachi, Pakistan
Gold Coins
516.05
محبتوں کا محور
بعد از خدا بزرگ تو ئی قصہ مختصر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علماء نے محبت کی پانچ قسمیں بیان کی ہیں ، محبت عقلی ، محبت جمالی ، محبت کمالی محبت طبعی اور محبت احسانی ،
محبت عقلی وہ محبت ہے جس کا عقل تقاضہ کرے مثلا کڑوی دوا جس کو طبعیت پینا گوارہ نہیں کرتی لیکن عقل کے نزدیک دوا ایک قیمتی شئے ہے وہ اس کو پیسہ دیکر حاصل کرتا ہے یعنی گویا یہ محبت عقلی ہوئی
محبت جمالی وہ محبت جو کسی کے حسن و جمال کی وجہ سے ہو
محبت طبعی وہ محبت کو ماں کو بیٹے سے ہوتی ہے ، اولاد کو اپنے والدین سے ہوتی ہے یہ محبت انسان کی طبعیت میں رکھی گئی ہے ، پڑوسی کا بچہ روہے تو سر میں درد ہوتا ہے اپنا روئے تو دل میں تکلیف ہوتی ہے یہ وہ محبت ہے جو انسان کی طبعیت میں رکھی گئی جس کو وہ نکالنا چاہے بھی تو نکال نہیں سکتا ، ماں اگر چاہے بھی تو اولاد کی محبت نکال نہیں سکتی،
محبت کمالی وہ ہے جو بندہ کسی کا کمال دیکھ کر اس سے محبت کرنا شروع کرے۔ایک بہترین قاری قرآن سے محبت ہوتی ہے اس کی شکل و صورت دیکھے بغیر اس کے کمال کی وجہ سے یہ کمالی محبت ہوئی
محبت احسانی وہ محبت جب بندے پر کوئی احسان کرے تو اس بندے کے دل میں اپنے محسن کے لئے محبت پیدا ہوجاتی ہے یہی محبت احسانی ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب اور عزیز نہ ہو جاؤں۔‘‘(بخاري)
اب یہ محبت کی جتنی بھی اقسام ہے ہر قسم کو اٹھا کر دیکھ لیں ، باریک بینی سے جائزہ لیتے رہے تو معلوم ہوگا کہ ان ساری محبتوں کی اقسام جس ہستی کے وجود میں علی وجہ اتم جمع ہوتی ہے وہ ذات ذاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر ہے ،
وہ صاحب جمال کے ان جیسے جمال کا کوئی پیدا ہوا نہ ہوگا ، واحسن منک لم ترقط عینی
وہ صاحب کمال کہ ان جیسے کمالات والا نہ دیکھا گیا نہ دیکھا جائے گا، چاند کو اشارے سے دو ٹکرے کرنا یہ تو میرے نبی کی ایک ہلکی سی ادا تھی ، انگلیوں کے پروں سے چشموں کا بہہ جانا ، جس نے تئیس سال کی معمولی مدت میں انسان جوکہ انسانیت فراموش کرچکا تھا انسانیت کے معراج پر پہنچا دیا ، وہ صاحب کمال کہ جو پتھروں جیسے وجود کو تراش کر انہیں جواہر بناتا رہا (صلی الل علیہ وسلم )
وہ محسن انسانیت کے جس کے احسانات بنی آدم اتارنا چاہے بھی تو نہ اتار سکے ، اس کائنات میں رب الکائنات کے بعد امام الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ ہستی ہے کہ جس کے احسانات کا کوئی شمار نہیں کیونکہ کائنات کا وجود آپ کے ہی صدقہ ہے۔
جو ہستی مجموعہ کمالات ہو ، وہ ہستی وہ صاحب جمال ہو اور جمال بھی ایسا کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
رأيتُ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في ليلة إضحيان، فجعلت أنظر إلي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و إلي القمر، و عليه حلة حمراء، فإذا هو عندي أحسن من القمر.
’’ایک رات چاند پورے جوبن پر تھا اور اِدھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرخ دھاری دار چادر میں ملبوس تھے۔ اُس رات کبھی میں رسول اللہا کے حسنِ طلعت پر نظر ڈالتا تھا اور کبھی چمکتے ہوئے چاند پر، پس میرے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاند سے کہیں زیادہ حسین لگ رہے تھے۔‘‘
پھر اس جمال و کمال کے ساتھ وہ ہستی کے بےشمار احسانات مسلسل آب جاری کی طرح جاری و ساری ہوں تو پھر اسی کی ہستی کی محبت کا عقل بھی حکم لگاتی ہے کہ ارے بندے خدا اسے کی محبت تو فرض الفرائض ہے ،
حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
من وجہک المنیر لقد نور القمر
لایمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
منقول​
 

صبیح

★★★★★★
Staff member
Charismatic
Expert
Writer
Popular
P A K I S T A N
Joined
May 5, 2018
Local time
11:16 AM
Threads
187
Messages
5,154
Reaction score
6,678
Points
1,235
Location
آئی ٹی درسگاہ
Gold Coins
1,414.84
Username Change
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
جزاک اللہ خیرا،پیاری شیئرنگ ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور سنتوں پر عمل آسان بنادے آمین
شئیرنگ کا شکریہ
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
3:16 AM
Threads
1,354
Messages
7,658
Reaction score
6,966
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
120.42
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
محبت کی پانچ قسمیں اور محبتوں کا محور
2rz6xvm.gif
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
8:16 AM
Threads
877
Messages
13,132
Reaction score
14,719
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,461.20
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
Joined
Aug 2, 2018
Local time
8:16 AM
Threads
74
Messages
560
Reaction score
436
Points
193
Location
Dera Ismail Khan KPK
Gold Coins
5.96
محبتوں کا محور
بعد از خدا بزرگ تو ئی قصہ مختصر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علماء نے محبت کی پانچ قسمیں بیان کی ہیں ، محبت عقلی ، محبت جمالی ، محبت کمالی محبت طبعی اور محبت احسانی ،
محبت عقلی وہ محبت ہے جس کا عقل تقاضہ کرے مثلا کڑوی دوا جس کو طبعیت پینا گوارہ نہیں کرتی لیکن عقل کے نزدیک دوا ایک قیمتی شئے ہے وہ اس کو پیسہ دیکر حاصل کرتا ہے یعنی گویا یہ محبت عقلی ہوئی
محبت جمالی وہ محبت جو کسی کے حسن و جمال کی وجہ سے ہو
محبت طبعی وہ محبت کو ماں کو بیٹے سے ہوتی ہے ، اولاد کو اپنے والدین سے ہوتی ہے یہ محبت انسان کی طبعیت میں رکھی گئی ہے ، پڑوسی کا بچہ روہے تو سر میں درد ہوتا ہے اپنا روئے تو دل میں تکلیف ہوتی ہے یہ وہ محبت ہے جو انسان کی طبعیت میں رکھی گئی جس کو وہ نکالنا چاہے بھی تو نکال نہیں سکتا ، ماں اگر چاہے بھی تو اولاد کی محبت نکال نہیں سکتی،
محبت کمالی وہ ہے جو بندہ کسی کا کمال دیکھ کر اس سے محبت کرنا شروع کرے۔ایک بہترین قاری قرآن سے محبت ہوتی ہے اس کی شکل و صورت دیکھے بغیر اس کے کمال کی وجہ سے یہ کمالی محبت ہوئی
محبت احسانی وہ محبت جب بندے پر کوئی احسان کرے تو اس بندے کے دل میں اپنے محسن کے لئے محبت پیدا ہوجاتی ہے یہی محبت احسانی ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب اور عزیز نہ ہو جاؤں۔‘‘(بخاري)
اب یہ محبت کی جتنی بھی اقسام ہے ہر قسم کو اٹھا کر دیکھ لیں ، باریک بینی سے جائزہ لیتے رہے تو معلوم ہوگا کہ ان ساری محبتوں کی اقسام جس ہستی کے وجود میں علی وجہ اتم جمع ہوتی ہے وہ ذات ذاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر ہے ،
وہ صاحب جمال کے ان جیسے جمال کا کوئی پیدا ہوا نہ ہوگا ، واحسن منک لم ترقط عینی
وہ صاحب کمال کہ ان جیسے کمالات والا نہ دیکھا گیا نہ دیکھا جائے گا، چاند کو اشارے سے دو ٹکرے کرنا یہ تو میرے نبی کی ایک ہلکی سی ادا تھی ، انگلیوں کے پروں سے چشموں کا بہہ جانا ، جس نے تئیس سال کی معمولی مدت میں انسان جوکہ انسانیت فراموش کرچکا تھا انسانیت کے معراج پر پہنچا دیا ، وہ صاحب کمال کہ جو پتھروں جیسے وجود کو تراش کر انہیں جواہر بناتا رہا (صلی الل علیہ وسلم )
وہ محسن انسانیت کے جس کے احسانات بنی آدم اتارنا چاہے بھی تو نہ اتار سکے ، اس کائنات میں رب الکائنات کے بعد امام الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ ہستی ہے کہ جس کے احسانات کا کوئی شمار نہیں کیونکہ کائنات کا وجود آپ کے ہی صدقہ ہے۔
جو ہستی مجموعہ کمالات ہو ، وہ ہستی وہ صاحب جمال ہو اور جمال بھی ایسا کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
رأيتُ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في ليلة إضحيان، فجعلت أنظر إلي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و إلي القمر، و عليه حلة حمراء، فإذا هو عندي أحسن من القمر.
’’ایک رات چاند پورے جوبن پر تھا اور اِدھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرخ دھاری دار چادر میں ملبوس تھے۔ اُس رات کبھی میں رسول اللہا کے حسنِ طلعت پر نظر ڈالتا تھا اور کبھی چمکتے ہوئے چاند پر، پس میرے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاند سے کہیں زیادہ حسین لگ رہے تھے۔‘‘
پھر اس جمال و کمال کے ساتھ وہ ہستی کے بےشمار احسانات مسلسل آب جاری کی طرح جاری و ساری ہوں تو پھر اسی کی ہستی کی محبت کا عقل بھی حکم لگاتی ہے کہ ارے بندے خدا اسے کی محبت تو فرض الفرائض ہے ،
حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
من وجہک المنیر لقد نور القمر
لایمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
منقول​
2246
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks