حدیث اور سنت

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:09 PM
Threads
1,354
Messages
7,658
Reaction score
6,966
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
121.29
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
السلام علیکم اگر یہ اشتراک کی ہوئی پوسٹ اختلافی لگے۔تو برائے مہربانی اسے ڈیلیٹ سیکشن کے حوالے کر دیجئے گا۔شکریہ​

حدیث سنت
حدیث اور سنت یہ دونوں اصطلاحیں معروف ہیں۔ بعض محدثین کے نزدیک حدیث اور سنت دونوںمترادف الفاظ ہیں جن کے معنی اور مفہوم میں کوئی فرق نہیں جبکہ بعض دیگر محدثین ان کے درمیان کچھ فرق کرتے ہیں۔ سنت کا معنی راستہ اور طریقہ ہے جس پر چلا جائے یاعمل کیا جائے اور حدیث کا معنی وہ واقعہ ہے جو نبی ﷺ کی طرف منسوب ہے خواہ آپ ﷺ نے زندگی میں ایک ہی مرتبہ کیاہو۔ (تحقیق معنی السنۃ ۔ ص۱۸)۔ سنت کا اطلاق آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ کے اقوال وافعال پر بھی ہوتاہے۔ مثلاً آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ ’’تمہارے اوپر میری سنت اور برسرِ ہدایت خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی لازم ہے ا سے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو (مضبوطی سے تھام لو)‘‘۔

مگر حدیث کااطلاق صرف نبی ﷺ کے اقوال وا فعال اور تقریر پر ہوتا ہے اور جوکچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے اسے اثر کہا جاتا ہے۔ پھر جب سنت کالفظ مطلق استعمال کیا جاتا ہے تو عام طور پر اس سے مراد طریقہ محمود اچھا راستہ ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :
سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلاَ تَجِدَ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلاً (الاسراء : 77)
اور جب بُرے معنوں میںیعنی ناپسندیدہ راستہ کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے تو قید کے ساتھ مثلاً نبی ﷺ کاارشاد ہے: من سن سنةسيئة كان عليه وزرها و وزر من عمل بها الى يوم القيامة ’’جس نے کوئی بُرا طریقہ رائج کیا اس پر اس کا گناہ ہو گا اور قیامت تک جو بھی اس پر عمل کرے گا اس کا بھی گناہ ہو گا‘‘۔ (مسلم، کتاب العلم )

حدیث اور سنت کے معانی سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں مترادف اصطلاحات نہیں ہیں بلکہ ان کے مفاہیم میںکچھ نہ کچھ فرق ضرور ہے۔ حدیث کمزور، معطل، مقطوع، منکر اور موضوع بھی ہوتی ہے مگر سنت منکر و موضوع نہیں ہوتی، وہ محمد ﷺ کی طرف صرف منسوب ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ اس ثابت شدہ طریقہ محمود اور راہِ عمل سے عبارت ہے جسے محمد ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں اختیار کیا، جس کی مسلمانوں کو تعلیم دی اور جو ہم تک معتبر ذریعہ سے منتقل ہوئی۔ اس بنیاد پر یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ فلاں حدیث موضوع ہے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلاں سنت موضوع ہے۔ اگر اس فرق کو ذہن میں رکھا جائے تو محدثین کے اس طرح کے جملوں کا صحیح مفہوم سمجھا جا سکتا ہے کہ "هذا الحديث مخالف للقياس والسنة" ( علوم الحدیث و مصطلحہ ص ۱۱۶۔ ) ۔ یہ حدیث سنت اور قیاس کے خلاف ہے۔​

 

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:09 PM
Threads
1,354
Messages
7,658
Reaction score
6,966
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
121.29
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks