نو مسلم خاتون کا انٹرویو قسط دوم

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
11:26 AM
Threads
206
Messages
593
Reaction score
955
Points
460
Gold Coins
420.36
نو مسلم خاتون کا انٹرویو
قسط دوم
س: پردہ جو ایک نازک معاملہ ہے اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: شروع میں تو میں یہی سمجھی تھی کی پردے کی پابندی بہت مشکل کام ہے، لیکن جب میں نے اسلام کو اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا تو اس عزم و ارادے سے کیا کہ میں پورے کے پورے اسلام کو اپناؤں گی، اور اس کے حصے بخرے نہیں کروں گی، پس جب میں کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئی تو میں نے وقت اور دشواری کے باوجود پردہ کو اپنا لیا کہ میں نے عزم کر لیا تھا کہ میں اسلام کو ایک دین کامل کے اعتبار سے پورے کاپورا اپناؤں گی۔ اور اب ایسا نہیں کروں گی کہ کسی جزو کو لے لوں اور کسی کو چھوڑ دوں، اور پردہ چونکہ اس دین کے تقاضوں میں سے ایک ہے۔ اس لئے اس کی پابندی کرنا میرے لیے لازم تھا۔
س: اب تو آپ کو اسلام میں داخل ہوئے اور اس کے احکام پر عمل کرتے، اور اس کے راستے پر چلتے ہوئے کافی مدت ہو گئی ہے، لیکن ۰۸۹۱ء میں جب آپ نے اسلام کواپنانے کا فیصلہ کیا اور آپ کلمہ شہادت پڑھ کر اس مین داخل ہو گئیں، تو کیا آپ ہمیں یہ بتانا پسند کریں گی کہ اس وقت آپ کو کیسا لگا؟
ج: اس وقت جبکہ میں نے کلمہ شہادت پڑھا اور میں اسلام میں داخل ہوئی تو میں نے اپنے اندر بہت بڑا انقلاب محسوس کیا، مجھے یوں لگا جیسے میں بالکل ہی ایک نئے انسان کے روپ میں آ گئی ہوں۔ یہاں تک کہ مجھے اس وقت پوری طرح سے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میری اس نئی زندگی کا آغاز کیسے ہو گا۔ لیکن اس بات کا مجھے پورا یقین تھا کہ میں نے ایک ایسی چیز کو اپنایا ہے جس کے بارے میں میں آئندہ کھبی یہ نہیں کہہ سکوں گی کہ یہ مجھے پسند نہیں ہے۔ میں نے اس کو اپنایا ہی اس لیے ہے کہ میں اپنی عمر کے آخری سانس تک اسی کے سائے میں رہوں۔ اس لیے اس راہ میں جو بھی کچھ مجھے پیش آیا، میں اسے برداشت کرتی جاؤں گی۔
س: آپ کے خاندان والوں اور آپ کی سہیلیوں پر آپ کے اسلام کا اثر کیسا ہوا؟ اور اس کے بارے میں انہوں نے اس کے بعد کیا مؤقف اختیار کیا؟
ج: جہاں تک میری والدہ صاحبہ کا تعلق ہے، ان پر تو اس بات کا اثر اگرچہ بہت گہرا ہوا لیکن وہ سب سے زیادہ عقل انسانی کا احترام کرتی ہیں، مگر اس کے باوجود میں ایک عرصہ بعد ہی ان سے بات کی۔ اب الحمد اللہ ان کا مؤقف بہت عمدہ ہے اور ان کی فکر اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اسلام قبول کر لیں، اور اس راضی اور مطمئن ہو جائیں۔ رہ گئے والد صاحب تو ان کو چیزوں سے سرے سے کوئی لگاؤ ہی نہیں، بلکہ اس بارے میں ان کا رویہ منفی قسم کا ہے۔ باقی رہا معاملہ سہیلیوں کا تو اول تو اس وقت میری کوئی خاص سہیلیاں سرے سے تھی ہی نہیں۔ کیونکہ میں نے ”فرانکفرٹ“ شہر میں ایک گاؤں سے آکر سکونت اختیار کی تھی، لیکن میں اس کی کوشش کرتی رہی کہ جس طرح بھی ہو سکے میں ان میں سے جس سے بھی ہو سکے واقفیت حاصل کر لوں، کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ وہ بھی میری ہی جیسی زندگی گزاررہی ہیں، اور مجھے پختہ یقین ہے کہ اگر کوئی ان سے بات کر کے اسلام کے بارے میں انہیں سمجھا سکے تو وہ بھی جلد ہی اسلام میں داخل ہو جائیں گی۔ جس جگہ ہم رہتی تھیں وہاں کا رد عمل غیر متوقع تھا کہ اس بلڈنگ میں بہت بوڑھی عورتیں رہ رہی تھیں، اور شروع میں انہوں نے پردہ کے مسئلہ کو بہت ہی عجیب و غیر سمجھا لیکن جب میں نے ان کو اسلام کی خصوصیات سے متعلق بتانا شروع کیا اور عقیدہ توحید کی حقیقت ان کے سامنے پیش کی تو انہوں نے بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا، کیونکہ ان کو ایک کم عمر نو خیز لڑکی بتا رہی تھی اور وہ اس بات کا اعتراف کرتی تھیں کہ جو کچھ میں ان کو بتاتی ہوں، یہی حق ہے۔
س:اس میں کوئی شک نہیں کہ یورپ میں بسنے والے تارکین وطن مسلمانوں کو بہت مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر اس ضمن میں ایک مسلمان عورت کو وہاں خاص طور پر کن مشکلا ت سے دو چار ہونا پڑتا ہے؟
ج: ایسی بہنوں کے لیے یورپی ملکوں میں طرح طرح کی مشکلات ہیں۔ پہلی اور بڑی بات تو یہ ہے کہ ان کے دین کو سرکاری طور پر وہاں تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ بعض یورپی ملکوں میں ان کی تعداد نسبتا زیادہ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر جرمنی کو ہی لے لیجئے، جس میں مسلمان ہیں۔مگر اس کے باوجود اسلام کو وہاں سرکاری طور پر ایک دین کی حیثیت سے اب تک تسلیم نہیں کیا گیا، جبکہ یہودی دین کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ حالانکہ ان کی مجموعی تعداد چالیس ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ اسی طرح مغربی معاشرے میں مسلمان عورت کو اسلامی لباس کی بنا ء پر بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور پردے کی وجہ سے ہمیں سڑکوں اور دوسرے عام مقامات پر بھی مذاق کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ اسی طرح ایک مسلمان عورت کے خاوند سے اس کے اسلام کی وجہ سے جس تنگی اور سختی کار برتاؤ کیا جا تا ہے، اس سے بھی مسلمان عورت کو بہت صدمے سہنے پڑتے ہیں۔ اور مزید یہ کہ اپنی اولاد کے بارے میں بھی اس کو ہر وقت یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں انہیں اسلام کی نعمت سے محروم نہ کر دیا جائے کہ ان کے دلوں میں زہر کے بیج ڈالنے کی کوشش جاری رہتی ہے۔ اس طرح حلال کھانے کا مسئلہ بھی ہمارے لئے ہمیشہ پریشانی کا باعث رہتا ہے۔ اور مختصر طور پر یہ کہ تمام معاملات ہمارے لئے روزمرہ کے جہاد اور مسلسل دباؤ کی حثییت رکھتے ہیں، جن سے مغرب کے معاشرے میں ہمیں لگاتار واسطہ پڑتا ہے۔
س: آپ کی رائے میں وہ کیا حل ہیں جن سے ان مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اسی دباؤ اور سختی کا ازالہ کیا جا سکتا ہے؟
ج: پہلی بات تو اس ضمن میں یہ کرنے کی ہے کہ اسلام کو سرکاری دین کے طور پر تسلیم کرایا جائے، اور پھر ساری دنیا کے مسلمانوں کے ذمے یہ امر لازمی ہے کہ وہ یہودیوں کے ان جھوٹے پروپیگنڈوں کے خلاف موثر جواب دینے کی کوشش کریں۔ کیونکہ جب تک مغربی دنیا میں گمراہ کن پروپیگنڈہ رائے عامہ پر اسی طرح اثر انداز رہے گا تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر ہمارے حالات و معاملات وہاں پر اسی طرح تنگی اور مشکل میں رہیں گے۔ لیکن جن ہم اسلام کے حقائق بیان کرنے اور ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کی قلعی کھولنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس ضمن میں نشرواشاعت کے مختلف وسائل سے بھر پور طریقے سے کام لیں گے تو وہ وقت دور نہیں کہ وہ لو گ ہمارے مؤقف کو اچھی طرح سمجھنے لگ جائیں، اور ہمارے ساتھ اپنا موجودہ سلوک اور برتاؤ بتدیل کر دیں، اگرچہ وہ مسلمان نہ ہوں۔ ہمیں اسلامی مدارس کی بھی ضرورت ہے تا کہ ان کے ذریعے ہم اپنے بچوں کے سامنے اسلام کو صحیح صورت میں پیش کر سکیں، اور پوری زندگی کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے نمونے دکھا سکیں، اس کے لیے اس بات کی بھی اشد ضررورت ہے کہ
مغرب میں رہنے والے مسلمان باہم متحد ہوں اوران کے دل ایک ہوں، اور ان کی بات ایک ہو۔ اور اس ضمن میں ان کی ایک ایسی تنظیم ہو جو سب کی نمائندگی کرتی ہو، تاکہ اس طرح وہ جرمنوں کو دین کا قائل کر سکیں۔ پچھلے کئی سالوں سے جرمن لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کوئی ایسا لیڈر ہو، جو ان سب کو ایک جگہ جمع کرے اور ان کی نمائندگی کرے، مگر افسوس کہ مسلمان دوسری ہر جگہ کی طرح وہاں بھی مختلف ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
11:26 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,959
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.18
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks