ایک ہاتھ والے شیطان کی داستان: حصہ دوئم

ناعمہ وقار

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Champion
Writer
Popular
Mysterious
Joined
May 8, 2018
Local time
4:20 AM
Threads
112
Messages
3,329
Reaction score
4,843
Points
943
Location
The City of Containers
Gold Coins
890.01
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Single Thread Highlight for 1 Week.
Thread Highlight Unlimited
وہ دل ہی دل میں اس مکان میں رہنے والوں کو گالیاں دینے لگا، جو اپنے مکان میں رکھنے کے لیے قیمتی اشیا فراہم نہ کر سکے۔ ایک مفلس کا افلاس خود اس کے لیے اس قدر درد انگیز نہیں ہوتا، جس قدر اس چور کے لیے، جو رات کے پچھلے پہر مال و دولت تلاش کرتا ہوا پہنچتا ہے۔ اس میں شک نہیں پشمینہ کے بہت سے تھان یہاں موجود تھے اور وہ کتنے ہی موٹے اور ادنیٰ قسم کے کیوں نہ ہوں، مگر پھر بھی اپنی قیمت رکھتے تھے، لیکن مشکل یہ تھی کہ ابن ساباط صرف تنہا ہی نہ تھا، بلکہ دو ہاتھوں کی جگہ ایک ہاتھ رکھتا تھا۔ وہ ہزار ہمت کرتا، مگر اتنا بڑا بوجھ اس کے سنبھالے سنبھل نہیں سکتا تھا۔ وہ تھانوں کی موجودگی پر معترض نہ تھا، ان کے وزن کی گرانی اور اپنی مجبوری پر متاسف تھا۔ اتنی وزنی چیز چرا کر لے جانا آسان نہ تھا۔

’’ایک ہزار لعنت کرخ اور اس کے تمام باشندوں پر‘‘ وہ اندر ہی اندر بڑبڑانے لگا۔ ’’نہیں معلوم یہ کون احمق ہے، جس نے یہ ملعون تھان جمع کر رکھے ہیں۔؟ غالباً کوئی تاجر ہے، لیکن یہ عجیب طرح کا تاجر ہے، جسے بغداد میں تجارت کرنے کیلئے اور کوئی چیز نہیں ملی۔ اتنا بڑا مکان بنا کر اس میں گدھوں اور خچروں کی جھول بنانے کا سامان جمع کر دیا ہے۔’’ اس نے ایک ہی ہاتھ سے ایک تھان کی ٹٹول ٹٹول کر پیمائش کی۔ بھلا یہ ملعون بوجھ کس طرح اٹھایا جا سکتا ہے۔ ایک تھان اٹھانے کے لیے گن کر دس گدھے ساتھ لانے چاہئیں، لیکن بہرحال کچھ نہ کچھ کرنا ضروری تھا۔

رات جا رہی تھی اور اب وقت نہ تھا کہ دوسری جگہ کارروائی کی جاتی۔ اس نے جلدی سے ایک تھان کھولا اور فرش پر بچھا دیا۔ پھر کوشش کی۔ زیادہ سے زیادہ تھان جو اٹھائے جا سکتے ہیں، اٹھا لے۔ مشکل یہ تھی کہ مال کم قیمت، مگر بہت زیادہ وزنی تھا۔ کم لیتا ہے تو بیکار ہے، زیادہ لیتا ہے تو لے جا نہیں سکتا۔ عجیب طرح کی کشمکش میں گرفتار تھا۔ بہرحال کسی نہ کسی طرح یہ مرحلہ طے ہوا، لیکن اب دوسری مشکل پیش آئی، صوف کا کپڑا بے حد موٹا تھا، اسے مروڑ دے کر گرہ لگانا آسان نہ تھا۔ دونوں ہاتھوں سے بھی یہ کام مشکل تھا، چہ جائیکہ ایک ہاتھ سے! بلاشبہ اس کے پاس ہاتھ کی طرح پاؤں ایک نہ تھا، دو تھے، لیکن وہ بھاگنے میں تو مدد دے سکتے تھے، صوف کی گٹھڑی بنانے میں سود مند نہ تھے۔

اس نے بہت سی تجویزیں سوچیں۔ طرح طرح کے تجربے کیے، دانتوں سے کام لیا۔ کٹی ہوئی کہنی سے سرا دبایا، لیکن کسی بھی طرح گٹھڑی میں گرہ نہ لگ سکی۔ وقت کی مصیبتوں میں تاریکی کی شدت نے اور زیادہ اضافہ کر دیا تھا۔ اندرونی جذبات کے ہیجان اور بیرونی فعل کی بے سود محنت نے ابن ساباط کو بہت جلد تھکا دیا۔ وقت کی کمی، عمل کا قدرتی خوف، مال کی گرانی، محنت کی شدت اور فائدہ کی قلت، اس کے دماغ میں تمام مختلف تاثرات جمع ہو گئے۔

اچانک وہ چونک اٹھا، اس کی تیز قوت سماعت نے کسی کے قدموں کی نرم آہٹ محسوس کی۔ ایک لمحہ تک خاموشی رہی۔ پھر ایسے محسوس ہوا جیسے کوئی آدمی دروازہ کے پاس کھڑا ہے۔ ابن ساباط گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ مگر قبل اس کے کہ وہ کوئی حرکت کر سکے، دروازہ کھلا اور روشنی نمایاں ہوئی، خوف اور دہشت سے اس کا خون منجمد ہوگیا، جہاں کھڑا وہیں قدم گڑ گئے۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ایک شخص کھڑا ہے، اس کے ہاتھ میں شمع دان ہے اور اس نے اس طرح اونچا کر رکھا ہے کہ کمرے کے تمام حصے روشن ہو گئے ہیں۔

اس شخص کی وضع قطع سے اس کی شخصیت کا اندازہ کرنا مشکل تھا، ملگجے رنگ کی ایک لمبی عبا اس کے جسم پر تھی، جسے کمر کے پاس ایک موٹی سی رسی لپیٹ کر جسم پر چست کر لیا تھا۔ سر پر سیاہ قلنسو (اونچی دیوار کی ٹوپی) تھی اور اس قدر کشادہ تھی کہ اس کے کنارے ابروؤں کے قریب پہنچ گئے تھے۔ جسم نہایت نحیف تھا۔ اتنا نحیف کہ صوف کی موٹی عبا پہننے پر بھی اندر کی ابھری ہوئی ہڈیاں صاف صاف دکھائی دے رہی تھیں اور قد کی درازی نے، جس سے کمر کے پاس خفیف سی خمیدگی پیدا ہوگئی تھی، یہ نحافت اور زیادہ نمایاں کر دی تھی، لیکن یہ عجیب بات تھی کہ جسم کی اس غیر معمولی نحافت کا کوئی اثر اس کے چہرے پر نظر نہیں آتا تھا۔ اتنا کمزور جسم رکھنے پر بھی اس کا چہرہ کچھ عجیب طرح کی تاثیر و گہرائی رکھتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ہڈیوں کے ایک ڈھانچے پر ایک شاندار اور دل آویز چہرہ جوڑ دیا گیا ہے۔ رنگت زرد تھی، رخسار بے گوشت تھے، جسمانی تنومندی کا نام و نشان نہیں تھا، لیکن پھر بھی چہرے کی مجموعی ہیئت میں کوئی ایسی شاندار چیز تھی کہ دیکھنے والا محسوس کرتا تھا ، ایک نہایت طاقتور چہرہ اس کے سامنے ہے، خصوصاً اس کی نگاہیں ایسی روشن، ایسی مطمئن، ایسی ساکن تھیں کہ معلوم ہوتا تھا، دنیا کی ساری راحت اور سکون انہی دو حلقوں کے اندر سما گیا ہے۔ چند لمحوں تک یہ شخص شمع اونچی کیے ابن ساباط کو دیکھتا رہا ، پھر اس طرح آگے بڑھا، گویا اسے جو کچھ سمجھنا تھا، سمجھ چکا ہے۔ اس کے چہرے پر ہلکا سا زیر لب تبسم تھا۔ ایسا دل آویز اور شیریں تبسم جس کی موجودگی انسانی روح کے سارے اضطراب اور خوف دور کر سکتی ہے۔ اس نے شمع دان ایک طرف رکھ دیا اور ایک ایسی آواز میں جو شفقت و ہمدردی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ابن ساباط سے کہا:

’’میرے دوست! تم پر خدا کی سلامتی ہو ، جو کام تم کرنا چاہتے ہو، یہ بغیر روشنی اور ایک رفیق کے انجام نہیں پا سکتا۔ دیکھو ، یہ شمع روشن ہے اور میں تمہاری رفاقت کیلئے موجود ہوں ، روشنی میں ہم دونوں اطمینان اور سہولت کے ساتھ یہ کام انجام دے لیں گے۔‘‘
(جاری ہے)
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks