نو مسلم خاتون کا انٹرویو قسط اول

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
12:07 AM
Threads
207
Messages
594
Reaction score
964
Points
460
Gold Coins
425.11
نو مسلم خاتون کا انٹرویو
قسط اول
اس نو مسلم خاتون کا کہنا تھا کہ اس نے تقریبا اٹھائس برس پہلے جرمن ماں باپ کے یہاں جنم لیا اور اس کانام ”فیرودون“ رکھاگیا۔ اس کا خاندان دین عیسوی کا کوئی زیادہ پابند نہیں تھا۔ لیکن جس بستی میں وہ پیدا ہوئی اس میں کیتھولک فرقے کے لوگ آباد تھے،دینِ عیسوی میں کیتھولک فرقے کے لوگ سخت گیر سمجھے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ بھی اپنے دین کے بارے میں انتہائی متعصب تھے اور ان کے یہاں بچوں پر بھی بہت سختی تھی کہ وہ گر جا گھروں میں جا کر اپنے دین کی رسمیں پابندی سے ادا کریں۔ جس کے نتیجے میں ہمیں بھی خواہی نخواہی ایسے کرنا پڑتا تھا۔
مڈل کی تعلیم کے دوران ”فیرودون“ کو ایسے مقامی سکول میں داخل کر وایا جاتاہے جو رہبانیت کے لئے خاص تھا، جہاں اس نے تین سال تک تعلیم حاصل کی اور وہیں سے اس نے میٹرک کا سرٹیفکیٹ لیا، اوور پھر اس نے اس یونیورسٹی کی راہ لی جس میں اس نے اپنی تعلیم کی تکمیل کا ارادہ کر رکھا تھا۔
مگر قدرت کی طرف سے اس کے لئے ہدایت پہلے ہی مقدر ہو چکی تھی، اور اس کا دروازہ بہت وسیع بھی ہے، اور انہتائی قریب بھی۔ اس لئے یہ خاتون اپنے گہرے مطالعے، طویل غورو غوض اورسوچ و بچار کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسلام کے خطیرہ قدس میں داخل ہو گئی، اور حق و ہدایت کی صراط مستقیم پر گامزن ہو گئی۔
اب اس نو مسلم خاتون سے (جو پچھلے دنوں متحدہ عرب امارات کے دورے پر آئی تھی) ایک انٹرویو لیا گیا جو یہاں کے ایک مشہور زورنامہ میں شائع ہوا۔ نو مسلم جرمن خاتون جس کا سابق نام ”فیرودون“ تھا اور اسلام سے مشرف ہونے کے بعد اس کانام فیرودون حجازی رکھا گیا، کے انڑویو کا مکمل ترجمہ ذیل میں پیش خدمت ہے۔
س: آپ کا کہناہے کہ آپ نے ایسی بستی میں پرورش پائی جس کے باشندے سخت متعصب قسم کے ”کیتھولیکی“ تھے، اس پر مزید یہ کہ آپ نے تین سال تک ایسی مقامی سکول میں تعلیم پائی جو کہ ”راہبات“ کے لئے قائم کیا گیا تھا تو اس وقت اس کیتھولیکی مذہب کے بارے میں آپ کی رائے کیا تھی؟ اور اس کے بارے میں آپ کے احساسات و جذبات کیا کچھ تھے؟
ج: میں نے جب ہوش سنبھالا اور سوچنا شروع کیا تو میں نے اپنے نصرانی دین کے بارے میں کبھی بھی اپنے اندر نہ کوئی کشش پائی اور نہ سکون۔ اور نہ ہی کبھی میں دل سے اس پر راضی ہوئی بلکہ میں اسے اپنے اوپر ایک بھاری بوجھ کی طرح محسوس کرتی تھی۔ اور یوں محسوس کرتی تھی کہ مجھے مجبورا ایک تھیڑ میں حصہ لینا پڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ مجھے ایک ایسی چیز کا عقیدہ رکھناپڑتا ہے جس کی میں سر ے سے معتقد ہی نہیں تھی، اور بعض اوقات میں ایک ایسی چیز کا عقیدہ رکھتی ہوں جسے میں سمجھ ہی نہیں سکتی، اور محسوس کرتی تھی کہ قصور میرا اپنا ہے۔
س: کیا آپ اس وقت کسی معبود پر یقین رکھتی تھیں؟
ج: یہ عقیدہ تومیں رکھتی تھی کہ اس کائنات کا کوئی خدا ضرور ہے، لیکن اس طریقہ پر نہیں جس پر ہمیں گر جا گھر میں بتایا جاتا تھا کہ وہ باپ، بیٹے اور روح المقدس کا مجموعہ ہے اس عقیدے کو ماننا تو میرے لئے اس وقت بھی ممکن نہ تھا جبکہ میں بچی تھی، اور اس تصور کو قبول کرنے کے لئے میں سرے سے آمادہ ہی نہیں ہو سکتی کہ رب کا بھی کوئی بیٹا ہو سکتاہے، جس کی لوگ پوچا کریں۔ یہاں تک کہ ان کی اس طرح کی باتوں سے بعض اوقات مجھے سرے سے خدا کے وجود میں ہی شک ہونے لگتا تھا۔ اور میں کسی دین حق کے بارے میں بھی تذبذب میں مبتلا ہو جاتی تھی۔
س: کیا اس دور میں آپ کو اسلام کے بارے میں کچھ معلومات تھیں؟
ج: اس وقت میں اسلام کے بارے میں وہی کچھ جانتی تھی جو کہ جرمن لوگ اسلام کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ شراب پینے اور خنزیز کا گوشت کھانے سے منع کرتااور عورتوں کو مارنے کی تعلیم دیتا ہے، وغیر وغیرہ اور بس۔
س: اس طرح کی غلط معلومات کے باوجود آپ اسلام کی طرف کس طرح آئیں؟ اور اسے کس طرح قبول کیا؟
ج: شروع میں تو مجھے خاندان والوں کے دباؤ نے ایسا کر دیا تھا کہ میں دینوں کے بارے میں کچھ جانتی ہی نہیں تھی، اور جب میری واقفیت محمد (میرے موجودہ شوہر) سے ہوئی تو اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میرا اعتبار سب ہی دینوں سے اٹھ چکا تھا۔ اس طرف میں کسی طرح کا کوئی تعلق ہی سرے سے نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ لیکن ان سے میں نے اسلام کے بارے میں جو کچھ سنا اور جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تو میں نے اپنا خیال بدلنا شروع کر دیا۔ اور عقیدہ توحید وہ سب سے بڑا اوور اہم مرکزی نقطہ تھا جس نے مجھے اسلام کی طرف کھینچا، اور جب مجھے پتہ چلا کہ اس پوری کائنات کا ایک ہی خالق و معبود ہے جیسا کہ اسلام اس کی تعلیم دیتا ہے تو میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اسلام ضرور قبول کروں گی۔اور یہی وہ نقطہ ہے جسے یہ لوگ نہیں اپناتے جس کی وجہ سے پھر یہ لوگ کسی خاص مقصد پر جمع بھی نہیں ہو پاتے۔
اور ان کے مختلف طبقوں میں جس چیز کا دور دورہ ہے، وہ ہے آپس کا بغض اور حسد، غیبت او ر چغلی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی یہ بری خصلتیں میں نے زیادہ تر ان ہی تین سالوں میں دیکھیں، جو میں نے راھبات کے ساتھ پڑھائی میں گزارے۔ چنانچہ روزوں کے دونوں میں ہمیں تو وہ لوگ نہایت گھٹیا قسم کا کھانا دیتے، جبکہ ہم دیکھتے کہ ان کے راہبات کے کمرے بہترین قسم کے کھانوں سے بھرے پڑے ہیں،اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت سے متعلق جو باتیں وہ کرتی تھیں وہ محض باتیں ہی ہوتی تھیں۔ عملی اعتبار سے اس کا کوئی نمونہ ہمیں اس پوری مدت میں کہیں بھی نظر نہیں آیا۔

س: مسلمان عورت کے معاملات یورپی لوگوں اور خاص کر وہاں کی عورتوں کے نزدیک نہایت نازک اور موضوع بحث بنے رہتے ہیں کہ ایک تو اسلام نے فطرت کے مطابق عورت کی کامل اور مکمل تعلیم دی ہے۔ اور دوسری طرف جھوٹے پروپیگنڈے کا وہ خوفناک ہجوم ہے جو اسلام کے خلاف مغرب میں کیا جاتا ہے۔ اور وہ بگاڑی ہوئی شکلیں ہیں جو بہت سے لوگ اسلام کو بدنام کرنے اور عام لوگوں کی نظروں کوا سلام سے پھیرنے کے لئے اسلام کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں۔ تو آپ نے اس اعتبار سے اسلام کو کیسا پایا اوور آخر آپ کس نتیجے پر پہنچی ہیں؟
ج: واقعی ”اسلام میں عورت کے مقام“ کے بارے میں جو غلط باتیں مغرب میں پھیلائی جاتی ہیں وہ طبعی طور ابتداء مین انسان کو ڈرادیتی ہیں، لیکن میں نے ایک ایسی یورپی عورت کی طرح جس نے ایک مسلمان مرد سے شادی کررکھی ہے، بلکہ اس شادی سے بھی پہلے دیکھا کہ ایک مسلمان مرد کا سلوک اور معاملہ اپنی بیوی کے ساتھ یکسر مختلف ہے جو اس بارے میں عام طور پر بیان کیا جاتاہے۔ اور میری دوسری بہنوں اور سہلیوں کے احساسات و جذبات بھی بلکل اس طرح کے تھے، تو یہ چیز طبعی طور پر ہمارے خیالات پر بہت اثر کرنے والی تھی، اوور ظاہر ہے کہ ایک یورپی عورت کا ایک مسلمان عورت کے سانچے میں ڈھل جانا ایک بڑا کٹھن اور مشکل معاملہ ہے، اس لیے کہ ایک یورپی عورت جس طرح کی تربیت حاصل کرتی ہے اور جس طرح کے حالات میں زندگی گزارتی ہے وہ یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ اور ظاہر بات ہے کہ اس ایک کے اوصاف اور مقاصد دوسری سے بالکل بدل جاتے ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کردار ایک مسلمان عورت ادا کرتی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو ایک یورپی عورت ادا کرتی ہے۔ اور اگر کوئی شخص دونوں کی حالتو ں کے درمیان موازنہ کرنا چاہے تو وہ ضرور بالضروریہی پائے گا کہ مسلمان عورت، یورپی عورت سے ہراعتبار سے بہتر ہے، کیونکہ عورت کی آزادی اوور اس کا حقیقی مرتبہ اسلام کے بغیر پایا نہیں جا سکتا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔​
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
12:07 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.23
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks