1. ایمان کا پہلا رکن لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے۔

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Most Reactions 260
Most Posts 503
Most Popular
Most Helpful
ITD Supporter
Persistent Person
Top Threads Starter
Most Valuable
Joined
May 9, 2018
Messages
6,126
Reaction score
5,062
Points
2,854
Location
Manchester U.K
Gold Coins
147.46
Silver Coins
26,815
Diamonds
1.02470
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Most Reactions 260
Most Posts 503
Most Popular
Most Helpful
ITD Supporter
Persistent Person
Top Threads Starter
Most Valuable
Joined
May 9, 2018
Messages
6,126
Reaction score
5,062
Points
2,854
Location
Manchester U.K
Gold Coins
147.46
Silver Coins
26,815
Diamonds
1.02470
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
مختصر صحيح مسلم

ایمان کے متعلق
مومن کی مثال کھیت کے نرم جھاڑ کی سی اور منافق اور کافر کی مثال صنوبر (کے درخت) کی سی ہے۔
حدیث نمبر: 28مکررات
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کھیت کا نرم جھاڑ ہو، ہوا اس کو جھونکے دیتی ہے، کبھی اس کو گرا دیتی ہے اور کبھی سیدھا کر دیتی ہے، یہاں تک کہ سوکھ جاتا ہے۔ اور کافر کی مثال ایسی ہے جیسے صنوبر کا درخت، جو اپنی جڑ پر سیدھا کھڑا رہتا ہے، اس کو کوئی چیز نہیں جھکاتی یہاں تک کہا یک بارگی اکھڑ جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ مومن کی مثال اس کھیتی کی طرح ہے جس کو ہوا کبھی گرا دیتی ہے اور کبھی سیدھا کھڑا کر دیتی ہے حتیٰ کہ وہ پک کر تیار ہو۔ اور منافق کی مثال اس صنوبر کے درخت کی طرح ہے سیدھا کھڑا ہو اور اس کو کوئی چیز نہ پہنچے۔
46012 - 28
مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے۔
حدیث نمبر: 29مکررات
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو مومن (مسلم) کے مشابہ ہے یا مسلمان آدمی کی طرح ہے، (اس کی نشانی یہ ہے کہ) اس کے پتے نہیں گرتے، پھل ہر وقت دیتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ کھجور کا درخت ہے اور میں نے دیکھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کوئی بات نہیں کر رہے تو میں نے بات کرنا یا کچھ کہنا اچھا خیال نہ کیا۔ (بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا درخت بتایا۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو اس وقت بول دیتا تو مجھے ایسی چیزوں سے زیادہ پسند تھا۔ (یعنی مجھے بہت خوشی ہوتی)۔
46013 - 29
یہ حدیث مبارکہ اپنے دوست کو ای میل کیجئے۔


 

Attachments

Last edited:

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Most Reactions 260
Most Posts 503
Most Popular
Most Helpful
ITD Supporter
Persistent Person
Top Threads Starter
Most Valuable
Joined
May 9, 2018
Messages
6,126
Reaction score
5,062
Points
2,854
Location
Manchester U.K
Gold Coins
147.46
Silver Coins
26,815
Diamonds
1.02470
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.

مختصر صحيح مسلم کل احادیث 2179 :حدیث نمبر​
مختصر صحيح مسلم


ایمان کے متعلق
حیاء ایمان میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 30مکررات
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ستر پر کئی یا ساٹھ پر کئی شاخیں ہیں۔ ان سب میں افضل لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے اور ان سب میں ادنیٰ، راہ میں سے موذی چیز کا ہٹانا ہے اور حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔
46014 - 30
حدیث نمبر: 31مکررات
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس ایک رہط (دس سے کم مردوں کی جماعت کو رہط کہتے ہیں) میں تھے اور ہم میں بشیر بن کعب بھی تھے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے اس دن حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیاء خیر ہے بالکل، یا حیاء بالکل خیر ہے۔ بشیر بن کعب نے کہا کہ ہم نے بعض کتابوں میں یا حکمت میں دیکھا ہے کہ حیاء کی ایک قسم تو سکینہ اور وقار ہے اللہ تعالیٰ کیلئے اور ایک حیاء ضعف نفس ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کو اتنا غصہ آیا کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور انہوں نے کہا کہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تو اس کے خلاف بیان کرتا ہے۔ سیدنا ابوقتادہ نے کہا کہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے پھر دوبارہ اسی حدیث کو بیان کیا۔ بشیر نے پھر دوبارہ وہی بات کہی تو سیدنا عمران غصہ ہوئے (اور انہوں نے بشیر کو سزا دینے کا قصد کیا) تو ہم سب نے کہا کہ اے ابونجید! (یہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) بشیر ہم میں سے ہے (یعنی مسلمان ہے) اس میں کوئی عیب نہیں۔ (یعنی وہ منافق یا بےدین یا بدعتی نہیں ہے جیسے تم نے خیال کیا)۔
46015 - 31
ایمان کے متعلق
اچھی ہمسائیگی اور مہمان کی عزت کرنا ایمان میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 32مکررات
سیدنا ابوشریح الخزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسایہ کے ساتھ نیکی کرے اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کے ساتھ احسان کرے اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے(جس میں بھلائی ہو یا ثواب ہو) یا چپ رہے۔
46016 - 32
یہ حدیث مبارکہ اپنے دوست کو ای میل کیجئے۔
 

Attachments

Last edited:

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Most Reactions 260
Most Posts 503
Most Popular
Most Helpful
ITD Supporter
Persistent Person
Top Threads Starter
Most Valuable
Joined
May 9, 2018
Messages
6,126
Reaction score
5,062
Points
2,854
Location
Manchester U.K
Gold Coins
147.46
Silver Coins
26,815
Diamonds
1.02470
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
مختصر صحيح مسلم
ایمان کے متعلق
وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کا ہمسایہ اس کی مصیبتوں سے محفوظ نہ ہو۔​

حدیث نمبر: 33​
مکررات​
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کا ہمسایہ اس کے مکرو فساد سے محفوظ نہیں ہے۔
46017 - 33​

دیث نمبر: 34​
مکررات​
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا وہ مروان تھا (حکم کا بیٹا جو خلفاء بنی امیہ میں سے پہلا خلیفہ ہے) اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ نماز خطبہ سے پہلے ہے۔ مروان نے کہا کہ یہ بات موقوف کر دی گئی۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس شخص نے تو اپنا فرض ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے کسی منکر (خلاف شرع) کام کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل ہی سے سہی۔ (دل میں اس کو برا جانے اور اس سے بیزار ہو) یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔
46018 - 34​

حدیث نمبر: 35​
مکررات​
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کے، اس کی امت میں سے حواری اور اصحاب نہ ہوں جو اس کے طریقے پر چلتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے۔ پھر ان لوگوں کے بعد ایسے نالائق لوگ پیدا ہوتے ہیں جو زبان سے کہتے ہیں اور کرتے نہیں اور ان کاموں کو کرتے ہیں جن کا حکم نہیں دیئے جاتے۔ پھر جو کوئی ان نالائقوں سے ہاتھ سے لڑے وہ مومن اور جو کوئی زبان سے لڑے (ان کو برا کہے اور ان کی باتوں کا رد کرے) وہ بھی مومن ہے اور جو کوئی ان سے دل سے لڑے (دل میں ان کو برا جانے) وہ بھی مومن ہے اور اس کے بعد دانے برابر بھی ایمان نہیں۔ (یعنی اگر دل سے بھی برا نہ جانے تو اس میں ذرہ برابر بھی ایمان نہیں)۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ (جنہوں نے اس حدیث کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ تھے) نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کی، انہوں نے نہ مانا اور انکار کیا۔ اتفاق سے میرے پاس سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما آئے اور قناۃ (مدینہ کی وادیوں میں سے ایک وادی کا نام ہے) میں اترے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مجھے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی عیادت کیلئے اپنے ساتھ لے گئے۔ میں ان کے ساتھ گیا۔ جب ہم بیٹھے تو میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جیسے میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا تھا۔
46019 - 35
یہ حدیث مبارکہ اپنے دوست کو ای میل کیجئے۔​
 

Attachments

Last edited:

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Most Reactions 260
Most Posts 503
Most Popular
Most Helpful
ITD Supporter
Persistent Person
Top Threads Starter
Most Valuable
Joined
May 9, 2018
Messages
6,126
Reaction score
5,062
Points
2,854
Location
Manchester U.K
Gold Coins
147.46
Silver Coins
26,815
Diamonds
1.02470
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
مختصر صحيح مسلم
ایمان کے متعلق
وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کا ہمسایہ اس کی مصیبتوں سے محفوظ نہ ہو۔

حدیث نمبر: 33​
مکررات​
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کا ہمسایہ اس کے مکرو فساد سے محفوظ نہیں ہے۔
46017 - 33

دیث نمبر: 34​
مکررات​
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا وہ مروان تھا (حکم کا بیٹا جو خلفاء بنی امیہ میں سے پہلا خلیفہ ہے) اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ نماز خطبہ سے پہلے ہے۔ مروان نے کہا کہ یہ بات موقوف کر دی گئی۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس شخص نے تو اپنا فرض ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے کسی منکر (خلاف شرع) کام کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل ہی سے سہی۔ (دل میں اس کو برا جانے اور اس سے بیزار ہو) یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔
46018 - 34

حدیث نمبر: 35​
مکررات​
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کے، اس کی امت میں سے حواری اور اصحاب نہ ہوں جو اس کے طریقے پر چلتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے۔ پھر ان لوگوں کے بعد ایسے نالائق لوگ پیدا ہوتے ہیں جو زبان سے کہتے ہیں اور کرتے نہیں اور ان کاموں کو کرتے ہیں جن کا حکم نہیں دیئے جاتے۔ پھر جو کوئی ان نالائقوں سے ہاتھ سے لڑے وہ مومن اور جو کوئی زبان سے لڑے (ان کو برا کہے اور ان کی باتوں کا رد کرے) وہ بھی مومن ہے اور جو کوئی ان سے دل سے لڑے (دل میں ان کو برا جانے) وہ بھی مومن ہے اور اس کے بعد دانے برابر بھی ایمان نہیں۔ (یعنی اگر دل سے بھی برا نہ جانے تو اس میں ذرہ برابر بھی ایمان نہیں)۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ (جنہوں نے اس حدیث کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ تھے) نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کی، انہوں نے نہ مانا اور انکار کیا۔ اتفاق سے میرے پاس سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما آئے اور قناۃ (مدینہ کی وادیوں میں سے ایک وادی کا نام ہے) میں اترے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مجھے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی عیادت کیلئے اپنے ساتھ لے گئے۔ میں ان کے ساتھ گیا۔ جب ہم بیٹھے تو میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جیسے میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا تھا۔
46019 - 35
یہ حدیث مبارکہ اپنے دوست کو ای میل کیجئے۔

 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Most Reactions 260
Most Posts 503
Most Popular
Most Helpful
ITD Supporter
Persistent Person
Top Threads Starter
Most Valuable
Joined
May 9, 2018
Messages
6,126
Reaction score
5,062
Points
2,854
Location
Manchester U.K
Gold Coins
147.46
Silver Coins
26,815
Diamonds
1.02470
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
مختصر صحيح مسلم
ایمان کے متعلق
علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والا مومن اور بغض رکھنے والا منافق ہے۔​

حدیث نمبر: 36
مکررات​
سیدنا زر بن حبیش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا (پھر اس سے گھاس اگائی) اور جان بنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ مجھ سے سوائے مومن کے کوئی محبت نہیں رکھے گا اور مجھ سے منافق کے علاوہ اور کوئی شخص دشمنی نہیں رکھے گا۔
46020 - 36
انصار سے محبت ایمان کی نشانی، اور ان سے بغض نفاق کی نشانی ہے۔​

حدیث نمبر: 37​
مکررات​
سیدنا براء رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا کہ ان کا دوست مومن ہے اور ان کا دشمن منافق ہے اور جس نے ان سے محبت کی اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے گا اور جس نے ان سے دشمنی کی اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کرے گا۔
46021 - 37
ایمان مدینہ کی طرف سمٹ جائے گا۔​

حدیث نمبر: 38​
مکررات​
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان اس طرح سمٹ کر مدینہ میں آ جائے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں سما جاتا ہے۔
46022 - 38
ایمان بھی یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے۔​

حدیث نمبر: 39​
مکررات​
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یمن کے لوگ (خود مسلمان ہونے کو) آئے اور وہ لوگ نرم دل ہیں اور نرم خو ہیں۔ ایمان یمن کا ہی اچھا ہے اور حکمت بھی یمن ہی کی (بہتر) ہے اور غریبی اور اطمینان بکریوں والوں میں ہے اور بڑائی و شیخی مارنا اور فخر و گھمنڈ کرنا گھوڑے والوں اور اونٹ والوں میں ہے جو چلاتے ہیں اور وبر والے ہیں، سورج کے طلوع ہونے کی طرف سے۔
46023 - 39​

حدیث نمبر: 40​
مکررات​
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دلوں کی سختی اور کھرکھرا پن مشرق (پورب) والوں میں ہے اور ایمان حجاز والوں میں۔
46024 - 40
یہ حدیث مبارکہ اپنے دوست کو ای میل کیجئے۔​

 
Last edited:
Top