صرف 20 گھنٹے میں ہم کچھ بھی سیکھ سکتے ہیں؟کیا ایسا ممکن ہئے

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
12:21 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.44
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
صرف 20 گھنٹے میں ہم کچھ بھی سیکھ سکتے ہیں؟کیا ایسا ممکن ہئے۔آپ بھی اپنی رائے دیں
****

کچھ انفرادی بندوں کی سوچ

روسی، عربی یا چینی زبان ہو ۔۔۔ یا وائلن، گیٹار جیسے ساز ۔۔۔ یا پھر طبیعیات کا کوانٹم اصول سب آپ 20 گھنٹے میں سیکھ سکتے ہیں۔

ہمارے دماغ میں اس قسم کی بہت ساری چیزوں کو سیکھنے کی خواہشات پیدا ہوتی ہیں اور ہمارے دماغ میں انھیں سیکھنے کا مادہ بھی ہے۔ خواہ کوئی چیز کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو ہم سیکھ لیتے ہیں۔

تاہم اکثر ہم ایسا محسوس کرتے ہیں کہ کوئی نئی زبان یا نیا ہنر سیکھنے میں بہت وقت لگے گا لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کوئی چیز ہم ابتدائی مراحل میں جلدی سیکھ لیتے ہیں۔

کچھ ماہرین کے مطابق، جب ہم کچھ سیکھنا شروع کرتے ہیں تو ہم پہلے 20 گھنٹوں میں اسے بہترین طور پر سیکھتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اس دوران ہمارا ذہن اس چیز کے سیکھنے میں بہت دلچسپی لیتا ہے۔

جرمنی کے فلسفی اور ماہر نفسیات ہرمن ایبنگہاس نے 19 ویں صدی کے آخر میں 'لرننگ کرو' یعنی سیکھنے کا خمدار نقشہ تیار کیا تھا۔

اسے یوں سمجھیں کہ اس میں دو تغیر پزیر چیزیں ہیں۔ ایک عمودی یعنی وہ مضمون ہے جو ہم سیکھنا چاہتے ہیں اور دوسرا افقی ہے جس سے سیکھنے میں لکھنے والے وقت کو دیکھایا گيا ہے۔

اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی چیز کو سیکھنے میں ہمیں کتنا وقت لگتا ہے۔ یہ طریقہ کمپنیوں میں پیداوار کے تجزیے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ہم نے کسی بھی کام پر کتنا وقت خرچ کیا۔ اس سے یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ وہ کام کتنا مشکل یا آسان تھا۔

ماہر نفسیات ہرمن اپنے اس نقشے کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ جب ہم کسی چیز کے رابطے میں آتے ہیں تو ابتدائی دور میں ہم اس سے منسلک زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرتے ہیں۔

کچھ عرصے بعد ہماری 'سیکھنے' کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور ہمیں سیکھنے میں بہت زیادہ وقت لگنے لگتا ہے۔

یہ سب دماغ کے ایک عمل سے منسلک ہے اور اس عمل کو 'ہیبیچوئیشن' یا عادت میں شامل ہونا کہتے ہیں۔ یہ کسی چیز کے سیکھنے کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب ہم کچھ نیا سیکھتے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ کتنا مشکل ہے، ہم تیزی سے سیکھتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ سیکھنے کا عمل سست ہوجاتا ہے۔


 

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
12:21 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.44
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks