مخلوط نظام کے نقصانات

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
10:59 AM
Threads
206
Messages
593
Reaction score
956
Points
460
Gold Coins
420.37
مخلوط نظام کے نقصانات
علامہ ابن جوزی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب تلبیس ابلیس میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ کسی جگہ پر ایک عابد شخص رہا کرتا تھا وہ ہر وقت عبادت میں مشغول رہتا تھا ایک دن ان کے محلے کا ایک شخص ان کے پا س آیا اور عابد سے کہا کہ وہ کچھ دنوں کے لئے شہر سے باہر جارہا ہے تو اگر آپ میری بہن کے کھانے پینے کا ذمہ لے لیں تو آپ کی مہربانی ہوگی اس عابد نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ہامی بھرلی۔
اب ہوتا یہ تھا کہ ہر روز وہ لڑکی اس عابد کے عبادت خانے میں کھانے کے وقت آکر دروازہ کھٹکھٹاتی تو عابد دروازے کی اوٹ ہی سے اسے کھانا دے دیتا تھا۔ لڑکی کھانا کھاکر چلی جاتی تھی ایک وقت تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن شیطان نے عابد کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ وہ لڑکی اتنی دور سے چل کر آتی ہے، دس لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ تو اسے تکلیف سے بچانے کے لئے کیوں نہ عابد ہی اس کے گھر پر کھانا پہنچا دیا کرے۔
عابد کو لڑکی سے بڑی ہمدردی محسوس ہوئی اور اس نے یہی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔چنانچہ اب عابد روزانہ اس کے دروازے پر دستک دیتا اور لڑکی اوٹ سے کھانا لے لیتی اور عابد واپس چلا جاتا۔
پھر شیطان نے مزید وسوسہ ڈالا کہ یہ لڑکی اکیلی ہے، اس کی دلجوئی کے لئے کیوں نہ دروازے پر کھڑے کھڑے اس سے بات کرلی جائے۔ اس طرح اس کا دل بہل جائے گا۔
اس مرتبہ بھی عابد نے وسوسے پر عمل کیا اور وہ لڑکی سے باتیں کرنے لگا۔ جب کچھ دن گذرے تو شیطان نے پھر اس کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ اس طرح باہر کھڑے ہوکر باتیں کرنا تو مناسب نہیں، چار لوگ دیکھتے ہیں۔ بہتر یہی ہے گھر میں بیٹھ کر دلجوئی کرلی جائے۔ آخر حرج ہی کیا ہے؟
تو عابد اب گھر کے اندر داخل ہوکر اس لڑکی سے بات چیت کرنے لگا بس پھر شیطان کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیوں کہ حدیث میں آتا ہے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت نہیں کرتا مگر ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
اور عابد بالآخرگناہ کر بیٹھا جس کے نتیجے میں ایک بچہ بھی پیدا ہوگیا۔اب شیطان نے اس کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ اگر اس واقعے کا اس کے بھائی یا کسی اور کو پتہ چلا تو ساری عبادت ریاضت کے باوجود لوگ تجھے مار ڈالیں گے، سواگر جان پیاری ہے تو دونوں کو قتل کردے، عابد نے لڑکی اور بچے دونوں کو قتل کرکے اسی مکان کے نیچے دفن کردیا۔
کچھ عرصے بعد اس لڑکی کا بھائی واپس آیا اور اپنی بہن کے بارے میں پوچھا۔ عابد نے کہہ دیا کہ وہ ایک بیماری کا شکار ہوگئی تھی اس لئے وہ مرگئی اور اسے قبرستان میں دفنادیا گیا ہے۔
بھائی روپیٹ کر خاموش ہوگیا کیونکہ اسے عابد پر یقین تھا۔ ایک دن شیطان اس بھائی کے خواب میں آیا اور یہ دکھایا کہ اس کی بہن کی لاش اسی مکان کے نیچے دفن ہے اور اس کابچہ بھی ہے اور یہ کام عابد نے کیا ہے۔ بھائی نے جب کھدائی کی تو ساری حقیقت سامنے آگئی۔ اس نے عابد کو قتل کردیا۔ یوں شیطان نے ایک تیر سے کئی شکار کرلئے۔
اس قصے کے دو پہلو ایسے ہیں جو قابل غور ہیں
نمبر ایک:۔ کسی گناہ سے بچنے کے کام میں اپنے نفس پر اطمنان یعنی اگر عابد اسے منع کردیتا کہ میں یہ ذمہ داری نہیں لے سکتا کیوں کہ میں بھی بشر ہوں اور گناہوں سے بچنے میں اللہ تعالی کی ذات کا محتاج ہوں تو امید تھی کہ وہ اس لت میں مبتلا نہ ہوتا۔
دوسرا پہلو یہ ہے اور یہی ہمارے آج کے اس مضمون کا عنوان ہے کہ گناہ کے کسی معمولی کام کو معمولی سمجھنا یعنی اگر عابد یہ خیال کرتا کہ ایک عورت کی اس طرح کی ذمہ داری لینا خلوت کی وجہ بن سکتی ہے اور خلوت سے بڑے گناہ میں مبتلاء ہونے کے ڈر سے اس وجہ کو معمولی نہ سمجھتا تو بھی امید تھی کہ وہ اس ذلت سے بچ جاتا لیکن اس نے بھی اسے معمولی خیال کیا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
یاد رکھیں گناہ کسی بھی شکل میں ہو اسے معمولی نہ سمجھیں کیوں کہ بڑے گناہ کا دروازہ ہمیشہ چھوٹے گناہ سے کھلا ہے۔
یہاں ضمناً ہارون الرشید بادشاہ کا ایک چھوٹا سا واقعہ نقل کروں گا جس نے کسی جگہ کھانے کے لیے پڑاؤ ڈالا تو ان کو معلوم ہوا کہ نمک نہیں ہے چنانچہ انھوں نے ایک خادم کو نمک لانے بازار بھیجا بھیجتے وقت کہا کہ نمک کی قیمت اداکرکے لانا۔
کسی وزیر نے کہا حضور اتنی معمولی چیز کی قیمت کی کیا ضرورت ہے خادم اگر دوکاندار کو بتادے کہ بادشاہ کے لیے لے جارہاہوں تومفت میں مل جائیگا۔ ہارون الرشید نے کہا کہ ہرگز نہیں بڑے گناہوں کے پیش خیمہ یہی معمولی چیزیں بنتی ہیں لہذا قیمت دیکر نمک لانا۔
یعنی کسی چھوٹی برائی کو یہ دیکھ کر نہیں کرنا کہ اس سے کیا ہوگا اسی طرح اگر اس واقعے کا اطلاق اگر ہم اپنے معاشرے میں موجود کسی بھی اس قبیل کی برائی پر کریں تو یہ چیز کھل کر سامنے آتی ہے ان برائیوں کی پیش خیمہ یہی چیزیں بنی ہیں شیطان جو ہمارا ازلی دشمن ہے جو مختلف طریقوں سے ہمیں گناہوں کی لت میں مبتلا کرتا ہے تو شروع میں وہ بھی کسی ایسے کام کا سھارا لیکر ہمارے دل میں وسوسہ پیدا کرتا ہے جسے ہم عرف عام میں معمولی سی برائی سمجھتے ہیں۔
مثال کے طور پر وہ تعلیمی ادارے جن میں مخلوط نظام ہے تو نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو اسی طرح ورغلاتا ہے کہ اگر ایک دوسرے کو غلط دیکھیں تو اس سے کیا ہوتا ہے صرف دیکھ ہی تو رہے ہیں۔
جب شیطان اس میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ایک دوسرے کے دل میں ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ ایک نوجوان صنف مخالف کی معمولی تکلیف پر بھی اس سے ہمدردی محسوس کرتا اور اسے دور کرنا اپنا فرض عین سمجھتا ہے۔ حیلہ وہی کہ یہ تو ایک اچھا کام ہے۔آخر اس میں خرابی کیا ہے
اگلے مرحلے میں بات چیت کا آغاز ہوتا ہے اور اس کے پیچھے وہی محرک ہے کہ بات چیت میں کیا حرج ہے، یہ تو ماڈرن دور ہے، زمانے کے ساتھ چلنا چاہئے، مخلوط محفلیں وقت کی ضرورت ہے ورنہ لوگ دقیانوسی سمجھیں گے۔
اس کے بعد فون پر گفتگو، چیٹنگ، ایس ایم ایس کا تبادلہ اور بات فیس ٹو فیس ملاقاتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ان سب باتوں کے باوجود ضروری نہیں کہ اس کا منطقی انجام زنا ہی ہو۔ ممکن ہے اس اختلاط کا انجام نکاح ہی ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان خرافات میں مبتلاء نوجوان پھر کسی واضح مقصد، با مقصد زندگی، نیکی کی توفیق اور بڑوں کے احترام با الخصوص ماں باپ کی فرماں برداری سے یکسر غافل ہوجاتے ہیں۔
اور نتیجے میں بے مقصد زندگی، بدکرداری اور طرح طرح کی خرابیوں میں مبتلاء ہو جاتے ہیں۔ اور بعض اوقات تو بات شراب و کباب کی محفلوں تک پہنچ جاتی ہے اور بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ وہ صنف مخالف سے شدید محبت کرتے ہیں، اور اس میں سچی محبت کے علاوہ کوئی عنصر نہیں ہے اور ان کا مقصد صرف اور صرف نکاح کرنا ہے اور کچھ نہیں تو یہ بھی محض ایک قسم کے شیطانی پھندے کے سوا کچھ نہیں ہے، تاریخ گواہ ہے کہ ایسے فلسفوں کا انجام بھی بہت خراب ہی رہاہے۔
تو ضرورت اس بات کی ہے ہم شیطان کے ان وساوس سے خود کو بچائے اور اس کے جھانسے سے بچنے کے لئے کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کا تجزیہ کریں اور اپنے رب کی منشا معلوم کریں۔
اگر وہ عمل قرآن و سنت کی روشنی میں درست ہے تو اسے کریں ورنہ اس سے بچیں اور یہ تبھی ممکن ہے کہ ہم قرآن و سنت کا فہم، صلحاء کی صحبت، اچھی کتب کا مطالعہ، اپنے نفس پر قابو پانا اور شیطان کے وساوس سے بچنے کے لیے اپنے رب سے مسلسل دعا کریں گے وگرنہ عکس والا معاملہ ٹھیک نہیں اللہ تعالی ہمیں شیطانی وساوس سے بچنے کی توفیق عطافرمائے۔​
 

Abu Dujana

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Popular
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
2:59 PM
Threads
81
Messages
963
Reaction score
1,360
Points
452
Location
Karachi, Pakistan
Gold Coins
514.47
اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ رحم و کرم والا معاملہ فرمائے۔
زبردست تحریر۔زبردست مثال۔ اے ون سبق
جزاک اللہ
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks