قاضی کے متعلق مختصر معلومات قسط دوم

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
6:45 AM
Threads
207
Messages
594
Reaction score
963
Points
460
Gold Coins
424.90
قاضی کے لیے ضروری اوصاف
قاضی کو چاہیے کہ کسی فریق کے بیان پر غصے میں نہ آئے اور نہ ہی کسی فریق سے بغض ،عناد اور کینہ رکھے۔
قاضی کو درشت نہ ہونا چاہیے ، نہ ہی جذبات میں آنے والااورجلد بازی کرنے والا ہو۔
قاضی ہر اعتبارسے اتنا مضبوط ہوتاکہ کوئی بھی اس سے غلط طمع نہ رکھے۔
قاضی کو چاہیے کہ فیصلے میں کمزوری نہ دکھائے تاکہ صاحب حق اس سے خوف نہ کھائے۔
قاضی ٹھنڈے مزاج کا حامل ،حلیم الطبع اور حوصلہ مند ہو۔
قاضی کو چاہیے کہ فریقین کے ساتھ بات چیت کے لہجے الفاظ کے استعمال اور نشست گاہوں میں مساوات اور عدل و انصاف کا خیال رکھے۔
قاضی محض اپنے علم اور ذاتی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ نہ دے کیونکہ اس سے اس پر جانبداری برتنے کی تہمت لگنے کا اندیشہ ہے۔
قاضی پر لازم ہے کہ وہ عادل شخص کی گواہی کی بنا پر فیصلہ صادر کردے۔ البتہ اگر اس کے خلاف مواد موجود ہو تو جائز نہیں۔
قاضی کے لیے جائز ہے کہ وہ فیصلہ دیتے وقت ان معلومات اور اخبار کو بنیاد بنالے جو متواتر اور مشہور و معروف ہوں جس میں قاضی کے ساتھ اور لوگ بھی شریک ہیں کیونکہ یہ بھی ایسے واضح شواہد اور قرائین ہیں کہ قاضی پر کسی قسم کی تہمت نہیں لگ سکتی اور اس کی بنیاد پر فیصلہ دلیل کے ساتھ فیصلہ ہے۔
قاضی کو چاہیے کہ مشکل حالات میں مشورے کے لیے علمائے کرام سے تعاون لے۔ اگر مقدمے کی مکمل صورت حال سمجھ میں آجائے تو فیصلہ دے دے وگرنہ صورت حال واضح ہونے تک فیصلہ مؤخر رکھے۔
قاضی کے لیے مستحب یہ ہے کہ ان لوگوں کے معاملات پہلے طے کرے۔ جن کے حالات فیصلہ جلدی دینے کا تقاضا کرتے ہیں مثلاً:قیدیوں ، یتیموں اور ذہنی معذوروں کے معاملات پھر اوقاف اور وصیتوں کا فیصلہ کرے جن کا کوئی ذمے دار نہ ہو۔
قاضی کے لیے یہ حرام ہے کہ وہ کسی ایک فریق سے دوران مقدمہ میں سر گوشیاں کرے یا اسے مقدمہ جیتنے کے لیے دلائل سکھائے یا اس کی مہمانی کرے اور اسے دعوی کرنے کا طریقہ بتائے اور اس کے بارے میں کوئی سبق پڑھائے لیکن اگر مدعی دعوئے میں کوئی ضروری بات چھوڑدے تو قاضی اسے یاد لا سکتا ہے۔
قاضی کے لیے حرام ہے کہ وہ غصے کی حالت میں فیصلہ دے کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حاکم (قاضی) غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دے۔صحیح بخاری
قاضی کے لیے حرام ہے کہ وہ اس شخص کا تحفہ قبول کرے جو اسے عہدہ قضا پر فائز ہونے سے قبل تحفے نہیں دیا کرتا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :
حکومت کے کارندوں کا تحائف قبول کرنا خیانت ہے۔
تشریح : اس کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے تحفہ قبول کرنا جس کی تحفے تحائف دینا عادت نہیں یہ چیز اس کے حق میں فیصلہ دینے کا سبب بن جاتی ہے۔
قاضی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ بازار سے اشیاء کی خریدو فروخت کرے کیونکہ اس طریقے سے دوکاندار لوگ اسے اشیاء رعایت دے کر محبت و پیار پیدا کر سکتے ہیں جو آگے چل کرناجائز مفاد کے حصول کا سبب بن سکتا ہے۔ البتہ قاضی کو چاہیے کہ اپنے کسی ایسے وکیل کے ذریعے سے خریدو فروخت کرے جس سے عام لوگ واقف نہ ہوں۔
قاضی اپنا فیصلہ خودنہ کرے اور نہ اس کے بارے میں فیصلہ دے جس سے متعلق خود قاضی کی گواہی شرعاً قبول نہ ہو۔ مثلاً والد ، اولاد ، بیوی وغیرہ کیونکہ اس موقع پر جانبداری کا امکان ہوتا ہے۔ اسی طرح اپنے دشمن کا فیصلہ نہ کرے کیونکہ ان احوال میں اس پر تہمت و الزام لگنے کا امکان ہوتا ہے بلکہ ایسے مقدمات کسی دوسرے قاضی کی طرف منتقل کردے۔ وضاحت :روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کروایا۔سیدناعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک عراقی شخص کے خلاف دعوی قاضی شریح کی عدالت میں دائرکیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کروایا۔
قاضی کے تقرر کے لیے بولے جانے والے الفاظ
قاضی کا تقرر دو طرح کے الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے نمبر ایک صریح الفاظ اور نمبردو کنایہ الفاظ
صریح الفاظ چار ہیں :-(نمبر ایک ) میں نے تم کو مقرر کیا (نمبر دو)میں نے تم کو ولی کیا (نمبر تین ) میں نے تم کو خلیفہ بنایا(نمبر چار)میں نے تم کو نائب بنایا۔
کنایۃ الفاظ سات ہیں :-(نمبر ایک ) میں نے تم پر اعتماد کیا (نمبر دو)میں نے تم پر بھروسہ کیا (نمبر تین ) میں نے تمھاری طرف لوٹادیا(نمبر چار)میں نے تمھاری طرف کردیا (نمبر پانچ) میں نےتمھیں تفویض کیا (نمبر چھ) میں نے تمھاری وکالت میں دیا (نمبر سات) میں نے تمھاری طرف منسوب کیا ۔
قضاء کے تقرر کی تکمیل کی شرائط
قضاء کے تقرر کی تکمیل تب ہوگی جب تین شرائط پائی جائیں ۔
نمبر ایک :عہدے دار کی پہچان یعنی تقرر کرنے والے عہدے دار کو جانتا ہوکہ وہ قضاء کے عہدے کے اہل ہیں ۔
نمبر دو :عہدے کا تعین یعنی عہدے دار کو بتایا جائے آپ کو قاضی بنایا جارہاہے ۔
نمبر تین :علاقے کا تعین یعنی اسے یہ بھی بتایا جائے کہ آپ کو فلاں علاقے کا قاضی بنایا جارہاہے ۔
قاضی کے اختیارات
قاضی کے اختیارات یا تو عام ہوں گے یا خاص اگر عام ہوں گے تو دس طرح کے احکام پرمشتمل ہوں گے ۔
نمبر ایک :تنازعات وغیرہ کا فیصلہ کرنا اگر تنازعہ امر جائز میں ہے تو رضامندی و صلح کے ساتھ اور اگر امر واجب میں ہے تو حکم قطعی کے ساتھ
نمبر دو :جب کسی کا حق دوسرے کے اوپر اقرار یا شہادت سے ثابت ہو اور وہ دینے میں تاخیر کرتا ہوتو حق دار کو اس کا حق دلانا
نمبر تین :جنون یا بچپن کی وجہ سے جن کے تصرفات روک دیے جائیں ان کے مالوں پر نگران مقرر کرنا اور بے وقوف کے مال پر روکاوٹ قائم کرنا تاکہ مستحقین کا مال محفوظ رہے
نمبر چار :اوقاف کی نگرانی یعنی اصل جائداد کی حفاظت،منافع کی ترقی ،ان کی وصولی اور ان کے مصارف میں خرچ کرنااور متولی کی عدم موجودگی میں ان کی نگرانی کرنا
نمبر پانچ :وصیتوں کا نفاظ ان کی شرائط کے مطابق کرنااس شرط کے ساتھ کہ وہ جائز امور کے متعلق ہوں۔
نمبر چھ :بیوہ عورتوں کے ولی نہ ہونے کی صورت میں اور ان کے رشتے آتے ہوں تو برابر کے لوگوں میں ان کا نکاح کرنا ۔
نمبر سات :جو لوگ حدود کا مستوجب ہیں ان پر ان کا جاری کرنا حقوق اللہ سے متعلق ہونے کی صورت میں بلا کسی کے مطالبہ کرنے کے اور حقوق العباد سے متعلق ہونے کی صورت میں مستحق کے طلب کرنے پر
نمبر آٹھ: حکومت کی مصالح کا لحاظ رکھے کسی شخص کو راستوں میں کوئی عمارت وغیرہ نہ بننے دے تجاوزات کو منہدم کرے
نمبر نو: اپنے امین اور شاہدوں کی جانچ پڑتال کرتا رہاکرے۔
نمبر دس:تصفیہ مقدمات میں کسی کی رعایت نہ رکھے۔
قاضی کے خاص اختیارات
قاضی کا کسی خاص شہر یا خاص مجمع پر اختیارات عامہ کے ساتھ تقرر جائز ہے اور وہ اسی خاص مفوضہ علاقے پر اپنے احکام نافذ کرنے کا مجاز ہوگا۔یعنی وہاں کے باشندوں اور مسافروں کے کے انتظامات اور تصفیہ مقدمات انجام دینے ہوں گے اور اس کے اختیارات صرف باشندگان علاقہ تک محدود کردیے جائیں تو پھر مسافروں سے تعرض کرنے کا اس کو حق نہ ہوگا ۔اور اگر اختیارات شہر کے کسی خاص حصے یا محلے یا مکان تک محدود کردیے جائیں تو یہ تخصیص ناقابل اعتبار ہوگی بلکہ اسے تمام شہر کے اختیارات حاصل ہوں گے کیوں کہ تقرر کے عام ہوتے ہوئے یہ ناممکن ہے اختیارات کو شہر کے کسی خاص حصے تک محدود رکھے جائیں۔
قضاء کے عھدے کی طلبی کی حالتیں
عہدہ قضاء کی خواہش غیر اہل کی طرف سے ناجائز ہے اور اس کے طلب کرنے پر وہ غیر معتبر بھی ہوجائے گا ۔اور اہل کی طرف سے طلب کی صورت میں چھ حالتیں ہوں گی ۔
نمبر ایک :کسی ظالم حاکم کو ہٹانے کی نیت سے عہدہ قضاء کا طالب ہے تو چونکہ نیت امر منکر کا ازالہ ہے اس لیے یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحق اجر بھی ہے
نمبر دو :اگر عہدہ قضا ء کا طالب حصول حکومت کی نیت سےہے تو امر مباح ہے
نمبر تین :عہدہ قضاء پر امیدوار کی ضرورت ہے اور یہ اس خیال سے کہ بیت المال سے تنخواہ ملے گی اور ضروریات پوری ہوں گی اس نیت سے طلب کرتا ہے تو مباح ہے۔
نمبر چار : لوگوں کے حقوق کی حفاظت کی نیت سے یا اس خیال سے کہ کوئی ناہل شخص نہ مقرر ہوجائے طلب کرتا ہے تو امر مستحب ہے ۔
نمبر پانچ :عزت ومنزلت کے لیے طلب کرتا ہے تو اس میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک مکروہ اور بعض کے نزدیک جائز ہے
نمبر چھ :کسی اہل حاکم کو محض عداوت یا ذاتی فائدے کے لیے معزول کرنے کی نیت سے عہدہ قضاء طلب کرنا ممنوع ہے اور اس عمل سے طالب غیر مستحق اور مجروح ہوگا۔
جاری ہے ۔۔۔۔
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
6:45 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
114.95
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks