قاضی کے متعلق مختصر معلومات قسط اول

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
4:53 AM
Threads
205
Messages
592
Reaction score
953
Points
460
Gold Coins
418.61
قاضی بننے کی شرائط
عہدہ قضا پر اسی شخص کا تقرر جائز ہے جس میں اس کی تمام شرائط موجود ہوں کیوں کہ اسلام میں قاضی کے عادل ہونے کی بہت اہمیت ہے اور اسلام میں قضا کے منصب کو اتنا بلند مقام دیا گیا ہے کہ دنیا کے نظام اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے
کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہو سکتا ہے۔سورۃ المائدہ
اور یہ اہمیت اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ لوگوں میں انصاف کیا جاسکے اورکسی کا حق نہ مارا جاسکےاب آگے قاضی بننے کی شرائط ملاحظہ کیجیے۔
نمبر ایک :بالغ ہونا
وضاحت: نابالغ پر کوئی حکم واجب نہیں ہوسکتا اور نہ ہی نابالغ اپنے قول سے کوئی حکم اپنے اوپر واجب کرسکتا ہے چہ جائیکہ کسی دوسرے پر کسی حکم کا کرسکے اس لیے نابالغ قاضی نہیں بن سکتا ہے۔
نمبر دو:مذکر یعنی مردہونا
وضاحت:اس پرجمہور علماء کرام کا اتفاق ہے کہ عورت کو قاضیہ بنانا جائز نہیں، ائمہ ثلاثہ رحمھم اللہ کے نزدیک تو کسی معاملے میں اس کا فیصلہ نافذ ہی نہیں ہوگا البتہ اِمام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حدود و قصاص کے ماسوا میں اس کا فیصلہ نافذ ہوجائے گا مگر اس کو قاضیہ بنانا گناہ ہے اور بنانے والے گناہ گار ہوں گے ۔ اس مسئلے میں ابن جریر رضی اللہ عنہ منفرد رائے رکھتے ہیں ان کے نزدیک عورت مطلقا قاضیہ بن سکتی ہے ۔مگر اجماع امت اور ذیل میں ذکردہ دلائل کی روشنی میں ان کے قول پر عمل نہیں کیا جائے گا ۔
جمہور علماء کرام کے دلائل یہ ہیں
ارشاد باری تعالی ہے :۔
مرد عورتوں پر حاكم ہيں اس وجہ سے كہ اللہ تعالى نے ايك(مرد) كو دوسرے(عورت) پر فضيلت دى ہے، اور اس وجہ سے كہ مردوں نے اپنے مال(عورتوں پر) خرچ كيے ہيں۔سورۃ النساء
تشریح :اس آيت ميں يہ بيان ہوا ہے كہ مرد عورت كا نگران اور ذمہ دار ہے، یعنی دوسرے معنوں ميں وہ عورت كا رئيس اور حاكم ہے، تو يہ آيت عورت كى عدم ولايت اور عدم قضاء پر دلالت كرتى ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے :۔
اورر مردوں كو ان ( عورتوں ) پر فضيلت حاصل ہے۔سورہ بقرہ
تشریح :۔اس آیت میں اللہ تعالى نے مردوں كو عورتوں پر حاصل اضافى درجہ اور فضيلت کے بارے میں خبر دی ہے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت كا قضا كے منصب پر فائز ہونا اس درجہ اور فضيلت كے منافى ہے كيوں کہ قاضى كو فيصلہ كے ليے آنے والے دونوں فريقوں پر درجہ اورفضیلت حاصل ہونى چاہيے تا كہ وہ ان دونوں كے مابين فيصلہ كر سكے۔
اسی طرح ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ جب حضورﷺ كو يہ خبر ملى كہ اہل فارس نے كسرى كى بيٹى كو اپنا حكمران بنا ليا ہے تو حضورﷺنے اس وقت فرمايا: وہ قوم ہرگز اور كبھى كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے معاملات اور امور عورت كے سپرد كر ديے۔ صحيح بخارى
تشریح:فقہاء كرام نے اس حدیث سے بھی استدلال كيا ہے كہ عورت كا قضا كے منصب پر فائز ہونا جائز نہیں كيونكہ ناكامى ايك نقصان اور ضرر ہے جس كے اسباب سے اجتناب كرنا ضرورى ہے، اور يہ حديث ہر قسم كے منصب اور ولايت ميں عام ہے، اس ليے عورت كو كسى بھى قسم كے امور كى ذمہ دارى دينا جائز نہيں کیوں کہ كہ لفظ " امرہم " عام ہے، اور يہ مسلمانوں كے عام معاملات اور سب امور كو شامل ہے۔
نمبر تین :عاقل ہونا
وضاحت:محض اتنی عقل جس پر بندہ شریعت کا مکلف بن جاتا ہےکافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک قاضی کے لیےاضافی درجے کی ہوشیاری ،ذکی الطبع اور سہو وغفلت سے محفوظ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ وہ حساس ،باریک اور سخت معاملات کی گتھی سلجاسکے ۔
نمبر چار :آزاد ہونا
وضاحت:غلام خود اپنے اوپر بھی اختیار نہیں رکھتاچہ جائیکہ دوسروں پر فیصلوں کا نفاذ کرسکےنیز غلامی کی وجہ سے بندہ گواہی کی اہلیت بھی نہیں رکھتا تو قضا کی اہلیت تو بدرجہ اولی نہ ہوگی ۔البتہ غلامی سے آزادی کے بعد ایک سابقہ غلام قاضی بن سکتا ہے ۔
نمبر پانچ :مسلمان ہونا
وضاحت:کسی شخص کی نیکی دیانت و شرافت ثابت ہونے کے لیے اسلام میں داخل ہونا شرط ہے۔نیز اسلامی معاشرے میں کافر ماتحت رکھنا اور اسے مسلمانوں والی عزت نہ دینا مطلوب ہے۔ حکمرانی یا عہد قضا عزت واحترام کا سبب ہے۔نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ
اور اللہ تعالی نے مسلمانوں پر کافروں کو کوئی اختیار نہیں دیا ۔ سورۃ النساء
تشریح:اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کا کوئی فیصلہ بھی مسلمانوں پر نافذ نہ ہوگا ۔
نمبر چھ :عادل ہونا
وضاحت :یعنی قول کا سچا،امین،پاک دامن،پرہیز گار،شبہات سے محفوظ ، صالح اور شریف ہو۔ فاسق کو عہد ہ قضا دینا قطعاً جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
اے مسلمانو! اگر تمھیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔سورۃالحجرات
تشریح: اس آیت میں جب فاسق کی خبرکو مقبول نہیں ماناگیا تو اس کا فیصلہ بطریق اولیٰ غیر مقبول ہوگا ۔
نمبر سات :سننے،بولنے اور دیکھنے کی کامل صلاحیت ہو
وضاحت:قوت سماعت کامل اس لیے ضروری ہے کہ بہرہ ہونے کی صورت میں فریقین کے بیانات نہیں سن سکے گا۔قوت بصارت کامل اس لیے ضروری ہے کہ نابینا شخص مدعی اور مدعا علیہ میں فرق نہ کر سکے گا۔ قوت گویائی کامل اس لیے ضروری ہے کہ گونگے شخص کے لیے بول کر فیصلہ دینا ناممکن ہے۔
نوٹ: کسی قاضی کا مشینی آلے کی مدد سے کمزور سننے کو کامل بنانا،عینکوں کی مدد سے کمزور دیکھنے کو کامل بنانا اور اور گونگے شخص کا اشاروں کی مدد سے فیصلہ سنانے میں فرق ہے اگر ایک قاضی کسی مشینی آلے کی مدد سے اپنے کمزور سننے کو کامل بناتا ہے یاعینکوں کی مدد سے کمزور دیکھنے کو کامل بناتا ہے تو اس کے اس عمل سے قاضی بننے کی شرائط پر فرق نہیں پڑے گا البتہ قوت گویائی سے محروم شخص اولا تو قاضی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اگر بنا بھی لیا جائے تو اشارات کی زبان تمام لوگ نہیں سمجھتے۔اسی وجہ سے قوت گویائی سے محروم شخص قاضی نہیں بن سکتا اگر چہ وہ اشاروں میں فیصلہ دینے کی اہلیت رکھتا ہو۔
نمبر آٹھ :عالم ہونا
وضاحت:ایک ایسا عالم جوعلوم شرعیہ کے اصول و فروع سے واقف ہو۔ اصول شرع چار ہیں ۔سب سے
پہلا ماخذ کتاب اللہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتاب قرآن مجیدہے۔ جس میں زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی عطا کی گئی ہے۔ ایک قاضی کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام مسائل کو قرآن حکیم کے بیان کردہ بنیادی اصولوں کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یعنی قاضی کتاب اللہ کا ایسا عالم ہو کہ تمام آیات ناسخ منسوخ،محکم ومتشابہ،عام وخاص اورمجمل ومفسر واقف ہو ۔
دوسرا ماخذ سنت رسول اللہ ﷺ یعنی حضورﷺ کے تمام اقوال و افعال اور ان کےطرق تواترواحاد،صحت وفساد کا علم ہو اور اس بات کو بھی جانتا ہو کون سی حدیث سبب خاص سے متعلق ہو اور کون سی مطلق ہے ۔
تیسرا ماخذاجماع امت یعنی ان مسائل سے واقفیت جن پر علماء سلف کا اجماع ہواور مختلف فیہ مسائل میں اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو
چوتھا ماخذ قیاس سے واقف ہوتاکہ ایسی جزئیات کے احکام جن سے شریعت خاموش ہو ان میں اصول منصوصہ اور مسائل اجماعیہ سے استنباط کرسکے غیر معمولی واقعات کے احکام معلوم ہوسکیں اور حق اور باطل میں تمیز ممکن ہو۔
البتہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کا اس میں اختلاف ہے۔ان کے نزدیک معاملات اور مقدمات کا فتاوی نقل کرنے کی اہلیت رکھنے والاقاضی بن سکتا ہے ۔یعنی ایک انصاف پسند اور مذہب کی معرفت رکھنے والا مقلدبھی قاضی بنایا جا سکتا ہے ورنہ لوگوں کے بہت سے کام معطل رہیں گے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
8:53 AM
Threads
842
Messages
12,112
Reaction score
14,130
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,351.66
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks