Islami shari Uz Sir Alam,a Mohammad Iqbal

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,662
Reaction score
3,762
Points
2,237
Location
Manchester U.K
Gold Coins
434.30
Silver Coins
12,599.38
Diamonds
1.00
علامہ اقبال اپنی زندگی میں کلامِ الٰہی سے جس قدر اثر انداز ہوئے، ا تنا وہ کسی شخصیت سے متاثر نہیں ہوئے۔ علامہ اقبال جس طرح خود قرآن سے محبت کرتے تھے اور اس میں غور وفکر کرتے تھے، آ پ مسلمانوں سے بھی یہی خواہش رکھتے تھے کہ مسلمانانِ ہند قرآن کی تلاوت اور اس کی تفہیم کو اپنے اوپر لازمی کریں۔ آپ کی خواہش بھی یہی تھی کہ مسلمان بھی قرآ ن سے اپنا حقیقی تعلق قائم کرلیں۔ علامہ اقبال کا پیغام ہی یہی تھا کہ مسلمان سمجھ لیں کہ ان کی زندگی قرآن مجید سے ہے۔ قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبر سے کام لیں۔ اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن سے رشتہ قائم رکھا اور اس میں تدبر وتفکر کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنایا، اس وقت تک ان کا علمی و اخلاقی عروج قائم رہا۔ ان کازمانہ گزشتہ زمانوں سے اعلیٰ و نمایاں رہا۔ ان کے زمانہ میں علمی و تحقیقی سرگرمیاں عروج پر رہیں۔ حال یہ تھا کہ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی دوردراز علاقوں سے سفر کرکے مسلمانوں کے علاقوں اور بستیوں میں آکر زانوئے تلمذ تہہ کیا کرتے تھے۔ لیکن جب مسلمانوں نے قرآن سے تعلق ختم کرلیا اس سے دوری حاصل کی تو وہ دنیا میں ذلیل و خوارہو کر دربدر پھرتے رہے۔ اقبال نے کہا تھا:


وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر

ایک اور جگہ اقبال امت مسلمہ کے قرآن سے تعلق کی دوری کو بیان کرتے ہوئے افسر دہ انداز میں کہتے ہیں:


جانتا ہوں میں یہ امت حاملِ قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دیں

اسی طرح بعد میں آنے والوں نے قرآن کو کما حقہ اہمیت نہیں دی۔ انہوں نے قرآن کو پڑھا ضرور لیکن اس کی تعلیمات اور احکامات کو ماننے کے بجائے ان کو اپنی خواہشات کے تابع کرنا شروع کردیا۔ اقبال نے ان الفاظ میں ان کی حقیقت کو بیان کیاکہ:


خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس در جہ فقیہان حرم بے توفیق!
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق

یعنی لوگوں نے اپنی عقل سے یہ فیصلہ کرلیا کہ قرآن کی تعلیمات ناقص ہیں، اس کی ہدایات اور تعلیمات رہتی دنیا تک کے لیے نہیں ہیں۔ دورِ جدید میں اس کی تعلیمات کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں اس کا بھر پور رد کیا۔ بدقسمتی سے آج بھی بعض نام نہاد لوگ دین کالبادا اوڑھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن مجید کے احکامات اس دور تک کے لیے تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن قیامت تک کے لیے ہے اور رہتی دنیا تک ہر دور میں اس کے تقاضوں کے مطابق قرآن سے رہنمائی حاصل کی جاتی رہے گی۔ اقبال کہتے ہیں :


اسی قرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر
تن بہ تقدیر ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

قرآ ن ہی میں وہ راز پوشیدہ ہے جو مومن کو حقیقی اور سچا مومن بناتا ہے۔ یہ مومن کی ہی شان ہے کہ جب وہ اپنی ذا ت کو قرآن میں فنا کردیتا ہے اور اپنے شب و روز قرآن کے مطابق بسر کرنے لگتا ہے تو بقول اقبال :


یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن
 
Previous thread
Top

AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock
No Thanks