نوجوانوں کا رمضان!

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
Persistent Person
ITD Supporter
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Joined
May 9, 2018
Local time
12:57 PM
Threads
1,353
Messages
7,658
Reaction score
6,983
Points
1,558
Location
Manchester U.K
Gold Coins
124.01
Get Unlimited Tags / Banners
Promotion from VIP to ITD Star.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited

ماہِ رمضان اپنے دامن میں‌ بے پناہ رحمتیں سمیٹے جلوہ افروز ہو گیا ہے۔ تمام لوگوں‌ کی طرح نوجوانوں کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس ماہ برکتوں سے بھر پور طریقے سے فیض یاب ہوا جائے، لہذاٰ اکثر نوجوان اس مہینے میں‌ روزے کے ساتھ ساتھ نماز اور تراویح کا بالخصوص اہتمام کرتے ہیں۔ بعض مساجد میں ہمارے حافظ نوجوان تراویح بھی پڑھاتے ہیں‌ اور اس ماہِ مبارک کے آخری عشرہ میں بہت سے نوجوان اعتکاف کا اہتمام کرتے ہیں۔ یوں سب ہی نوجوان رمضان کو نیکیوں میں گزارنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، مگر ہمارے اکثر نوجوان روزے کی وجہ سے بہت تلخی کا مظاہرہ کرتے ہیں‌ اور نہایت ہی معمولی بات پر دوسروں سے جھگڑ پڑتے ہیں۔ ان کے مزاج میں بہت زیادہ چڑچڑاہٹ پیدا ہو جاتی ہے، جب کہ روزہ تو نام ہی صبر و برداشت کا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں‌ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد مبارک ہے "جب تم میں‌ سے کسی کا روزہ ہو تو بُری باتیں نہ کرے، شور نہ مچائے، اگر کوئی شخص گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا کرنے لگے تو (اس کو گالی نہ دے) بلکہ یوں کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں"۔

یعنی روزے دار کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزے میں لڑائی جھگڑا نہ کرے۔ اسی طرح ہمارے بعض نوجوان روزے کی حالت میں دن بھر سوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے روزے کو سو کر گزار دیتے ہیں، یہ بھی بہت نا مناسب بات ہے۔ روزے میں تو اللہ تعالٰی کی خوب عبادت کرنی چاہیئے۔ اپنے تمام کام روزِ مرہ کی طرح انجام دینے چاہیئیں اور اگر فرض‌ نماز کے بعد فراغت ہو تو پھر نوجوانوں‌ کو چاہیئے کہ وہ قرآن کی تلاوت کریں، اس کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں، یا دینی کتب کا مطالعہ کریں، لیکن اگر آپ فضول باتوں‌ میں شریک ہو کر اپنے روزے کو ضائع کر رہے ہیں تو پھر آپ کا سونا ہی ٹھیک ہے۔ ہمارے بعض‌ نوجوان روزے میں بھی ٹیلی ویژن پر ڈرامے اور فلمیں دیکھتے ہیں، یہ تو بہت بری بات ہے۔ روزے کی حالت میں لہو و لعب اور کھیل تماشوں سے پرہیز کرنا چاہیئے تاکہ ہمارا روزہ بارگاہِ الٰہی میں‌ قبولیت کی سند پا سکے، لہذاٰ ہمیں‌ چاہیئے کہ اس ماہِ مبارک میں‌ تمام لغویات سے بچیں اور خوب خوب عبادت کریں تاکہ ہمارے روزے مقبول ہو سکیں۔ ہماری دعائیں‌ بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوں اور ہم پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔
 
Top