حجاز کی آندھی

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
5:39 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.18
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
حجاز کی آندھی
ایکسٹو
٭٭٭٭
’’عبرت پھر بھی کسی نے حاصل نہ کی۔‘‘ سفید ریش بزرگ نے کہا۔ ’’جس نے انسانیت کو اپنا غلام بنایا اس کا انجام یہی ہوا……انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ گزرے ہوئے وقت کی لغزشوں اور نادانیوں کو بھول کر گزرے ہوئے وقت کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے ۔ماضی سے عبرت حاصل نہ کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے۔ عیش و عشرت میں جو پڑ جاتے ہیں وہ چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یہ سورج ڈوب بھی جایا کرتا ہے ……تم ان کھنڈروں کے اندر آؤ‘ تمہیں فارس کی بادشای کے محافظ سِسکتے اور کراہتے نظر آئیں گے۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
سعدؓ بن ابی وقاص اس کے ساتھ کھنڈروں کی طرف چل پڑے۔
اتنے عظیم الشام محلات اور اتنے حسین شہر کے کھنڈرات بڑے ہی ڈراؤنے تھے۔ زیادہ تر مکانات تو بالکل ہی ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے ۔بعض عمارتوں کے ستون کھڑے تھے یا ادھوری ادھوری سی ایک ایک دو دو دیواریں کھڑی تھیں۔ محلات کی چھتیں غائب تھیں ۔دیواریں کھڑی تھیں ۔ کچھ عمارتوں کی چھتیں جھک آئی تھیں۔ان میں سانپوں ،اُلوؤں اور چیلوں جتنے بڑے بڑے چمگادڑ وں نے بسیرا کیا ہوا تھا۔
سعدؓ بن ابی وقاص نے مجاہدین کو دور دور تک پھیلے ہوئے کھنڈرات کی تلاشی لینے کیلئے بھیج دیا اور خود قصرِ نمرود کو دیکھنے چلے گئے ۔ان میں حشرات الارض رینگ رہے تھے۔
’’آہ انسان!‘‘سعد ؓنے کہا اور سورہ ہود کی دو آیات پڑھیں۔’’ اور جب تمہارے رب کا حکم آیا تو ان قوموں کو ہلاکت کے سوا کچھ نہ ملا۔ ایسی ہی پکڑ ہے تمہارے رب کی جس بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے گناہوں پر بیشک اﷲ کی پکڑ بڑی ہی شدید ہے۔‘‘
اب ایک اور قوم کو ربِ باری تعالیٰ نے پکڑ لیا تھا جو سورج اور آگ کی عبادت کرتی تھی اور جس کے بادشاہوں کے آگے لوگ سجدے کرتے تھے۔ ان بادشاہوں کی جنگی قوت جس نے ہر قوم پر ہیبت طاری کر رکھی تھی ۔ بابل کے کھنڈروں میں پڑی کراہ رہی تھی۔ اپنے زخم چاٹ رہی تھی۔
فارس کے ان زخمی فوجیوں کی تعداد دو ہزار کے قریب تھی ۔ان میں جو اُٹھ سکتے تھے وہ کھنڈروں سے باہر آگئے اور جنہیں زخموں نے نڈھال کر رکھا تھا وہ کراہ رہے تھے۔ ان تمام زخمیوں کی جذباتی کیفیت یہ تھی کہ وہ روتے تھے ۔اپنے افسروں کو کوستے اور اپنے بادشاہوں کو گالیاں دیتے تھے۔
’’سپہ سالار!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص کو بنو تمیم کے ایک سردار نے آکر کہا۔’’ زخمیوں کی تعداد کچھ کم نہیں، وہ اپنے سالاروں اور بادشاہوں کی جانوں کو رو رہے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک نے کہا ہے کہ وہ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں ۔بعض نے کہا ہے کہ وہ اپنے پورے پورے خاندان سمیت مسلمان ہو جائیں گے۔‘‘
’’نہیں! ‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ وہ اپنی جانوں کے خو ف سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں اسی حالت میں پڑا رہنے دیں گے اور یہ زخموں سے خون بہہ جانے سے مر جائیں گے۔ اگر اس حالت میں ہم نے انہیں مسلمان کر لیا تویہ جبر ہوگا اور یہ لوگ دل سے مسلمان نہیں ہو ں گے۔ ان کی مرہم پٹی کا انتظام کرو۔ انہیں پانی پلاؤ۔ یہ بھوکے ہوں گے انہیں کھانا دو اور انہیں بتاؤ کہ تم ہماری پناہ میں ہو اور تم پر کوئی جبر اور تشدد نہیں ہوگا……ان سے ہتھیار لے لو اور ان سے گھوڑے بھی لے لو۔‘‘
فوراً ہی سپہ سالار کی حکم کی تعمیل شروع ہو گئی۔
پھر چار پانچ لڑکیوں کو سعدؓ بن ابی وقاص کے سامنے لایا گیا۔ وہ نو خیز دوشیزائیں تھیں ۔ایک سے بڑھ کر ایک دل کش اور حسین تھی لیکن ان کی جسمانی حالت اتنی بری تھی کہ ان سے چلا نہیں جاتا تھا ۔وہ اس خوف سے چلّا رہی تھیں کہ مسلمان بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ان کھنڈروں میں ان کے اپنے فوجی افسر اور عہدیدار میدانِ جنگ سے بھاگ کر کرتے رہے تھے۔
سعدؓ بن ابی وقاص نے انہیں تسلی دلاسا دیا کہ ان کے ساتھ ویسا سلوک نہیں ہو گا لیکن سب کی سب ایک ہی رٹ لگائے جا رہی تھیں کہ انہیں جان سے مار دیا جائے۔
’’کیا تم اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہو؟‘‘ ان سے پوچھا گیا۔
’’نہیں!‘‘سب نے باری باری کہا۔’’ ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہنا چاہتی۔‘‘
’’میں تمہیں ایسی زندگی دوں گا کہ تم سب زندہ رہنا چاہو گی۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ تم ہماری عورتوں کے ساتھ رہو گی۔ کوئی مرد تمہارے قریب سے گزرے گا بھی نہیں۔‘‘
سعدؓ کے حکم سے انہیں گھوڑوں پر بٹھا کر پیچھے عورتوں کے پاس بھیج دیا گیا۔
٭
مدائن دریائے دجلہ کے سامنے والے کنارے پر آباد تھا اور بُہر شیر اس کے بالمقابل اس طرف والے کنارے پر واقع تھا ۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مدائن اور بُہر شیر ایک ہی شہر تھا جس کے درمیان سے دجلہ بہتا تھا ۔اس لیے شہر کے دونوں حصوں کا نام الگ الگ رکھ دیئے گئے تھے۔
مدائن کی دریا کی طرف والی دیوار دریا سے اڑھائی تین فرلانگ دور تھی۔ بارشوں کے موسم میں دریا میں سیلاب آجایا کرتا تو پانی شہر کی دیوار تک پہنچ جایا کرتا تھا۔ وہ علاقہ نشیبی تھا۔ اس لیے وہاں پانی جمع رہتا اور وسیع تالاب بنے رہتے تھے۔ وہاں درختوں کی بہتات تھی اور ہرے سرکنڈوں کا جنگل بھی تھا۔
ماہی گیر اور ملاح دریا کے کنارے اپنے اپنے کاموں میں مصروف دکھائی دیتے تھے لیکن وہ ان وسیع تالابوں کی طرف نہیں جاتے تھے کیونکہ اس علاقے میں ان کا کوئی کام نہیں ہوتا تھا اور اس لیے بھی کہ یہ علاقہ خطرناک بھی تھا۔ ان تالابوں میں پانی کے عفریت دیکھے گئے تھے۔ تین چار بڑے مگر مچھ اور اتنے ہی چھوٹے مگرمچھ تھے ۔ ان کے علاوہ ایک اژدھا بھی دیکھا گیا تھا جو پانی میں رہتا تھا۔ یہ بیس بائیس فٹ لمبا اورایک فٹ سے زیادہ موٹا سانپ تھا ۔یہ پانی میں رہنے والی نسل سے تھا جو درخت پر بھی چڑھ جایا کرتا تھا۔ بھیڑ، بکری اور انسان کو سالم نگل لیا کرتا تھا۔
یہ عفریت نہ ہوتے تب بھی یہ علاقہ بڑا ہی ڈراؤنا لگتا تھا۔ راتوں کو یہاں الّوؤں کی آوازیں سنائی دیا کرتی تھیں اور دن کو درختوں پر گدھ بیٹھے رہتے تھے اور بڑے چمگادڑ درختوں سے الٹے لڑکے رہتے تھے۔ ان سینکڑوں چمگادڑوں کی کی چیختی ہوئی آوازیں دن کے وقت بھی ڈرا دیا کرتی تھیں۔
لوگ کہتے تھے کہ اس علاقے میں جنات اور چڑیلوں کا بسیرا ہے۔ بہت دنوں سے رات کو درختوں کے گھنے جھنڈ میں روشنی نظر آنے لگی تھی جو کچھ دیر نظر آتی اور غائب ہو جاتی تھی ۔ماہی گیروں اور ملّاحوں نے مدائن کے لوگوں کو بتایا تھا کہ ان درختوں اورسرکنڈوں کے گھنے جنگل میں ایک کُٹیا ہے جو پہلے نہیں ہوا کرتی تھی۔
رات کو شہر کے لوگوں نے دیوار پر چڑھ کر دیکھا تھا اور انہیں وہاں روشنی نظر آئی تھی۔ ہر رات لوگ شہرِ پناہ پر چلے جاتے اور اُدھر دیکھتے تھے۔
’’شہر پر بہت بڑی آفت آنے والی ہے۔‘‘ لوگ کہتے تھے۔
’’آفت تو آچکی ہے۔‘‘ بزرگ کہتے تھے۔’’ عرب کے مسلمان آسمانی آفت کی طرح آرہے ہیں۔ ہماری فوج آدھی بھی نہیں رہی اور جو ہے وہ نہ جانے کہاں کہاں پناہیں ڈھونڈ رہی ہے۔‘‘
لوگوں کے یہ خوف اور اندیشے شاہی محل تک پہنچے تو وہا ں سے یہ حکم جاری ہوا کہ شہر کا کوئی شخص دن کو یا رات کو شہرِپناہ پر نہیں چڑھ سکتا اور اگر کوئی پکڑا گیا تو اس کی وہیں گردن مار دی جائے گی۔​
 

Mr. X

Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Popular
💖 ITD Lover 💖
The Gladiator
The Dark Knight
The Men in Black
Joined
Apr 25, 2018
Local time
10:39 AM
Threads
1,059
Messages
2,191
Reaction score
4,093
Points
1,264
Gold Coins
2,606.82
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks