استغفار کی کثرت

hajihanif41

Thread Starter
Joined
Aug 2, 2018
Local time
10:10 PM
Threads
74
Messages
560
Reaction score
436
Points
193
Location
Dera Ismail Khan KPK
Gold Coins
7.01
Promotion from VIP to ITD Star.
Promotion from Senior Member to VIP.
احمد بن حرب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں انسان کو چالیس سال کی عمر میں لہو ولعب سے باز آجانا چاہیے اور جب اس کے بال سفید ہوجائیں تو دل کو سیاہ نہ کرے۔
میں کہتا ہوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چالیس سال کی عمر میں جب کہ بال بھی سفید ہورہے ہوں اور بڑھاپا شروع ہوچکا ہو تو اس وقت لہو ولعب اور گناہوں میں مشغول ہونا بہت ہی معیوب اور نہایت برا ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ چالیس سال سے پیشتر یہ تمام امور مباح ہیں، یہ اسی قبیل سے ہے کہ علماء نے فرمایا کہ روزہ دار کو غیبت کا ترک کرنا لازم ہے تو کیا غیر روزہ دار کو غیبت جائز ہے؟ بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ یوں تو غیبت ہر حال میں قابل ترک ہے مگر روزہ کی حالت میں تو بدرجہ اولیٰ ترک کردینا چاہیے۔
یحیی بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: انسان اگرچہ دنیا میں عرصہ دراز تک رہے مگر جنت کی زندگی کے مقابلہ میں ایک سانس کے برابر ہے پس جو شخص ایک سانس جس کے ذریعہ وہ دائمی خوشگوار زندگی حاصل کرسکتا ہے اس کو ضائع وبرباد کردے تو بخدا وہ بہت ہی نقصان اور خسارہ میں ہے۔
اے دوست اس بیان کو یاد رکھ اور جوانی کو غنیمت شمار کر، اور بڑھاپے کو کثرت استغفار سے پیوند لگا، شاید اس طرح تو اپنے دین کو کامل کرلے۔
اخلاق سلف ترجمہ تنبیہ المغترین ص78
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks