دماغ سے متعلق تھوڑی سے بحث قسط دہم

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
5:23 PM
Threads
207
Messages
594
Reaction score
969
Points
460
Gold Coins
425.78
انسانی دماغ کے لاشعوری حصے میں انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ محفوظ ہوتا ہے ، یعنی ایک انسان نے سال کے 365 دنوں ،دن کے 24 گھنٹوں اور گھنٹے کے 60 منٹ میں ہر ہر سیکنڈ پر کون سا کون سا کام کیا ہے یہ ساری معلومات انسانی اعضاء کی خلیاتی میموری کے علاوہ انسانی دماغ کی مین میموری یعنی لاشعوری حصے میں بھی محفوظ ہوتا ہے
جیسا کہ میں بتاچکاہوں کہ انسانی دماغ کے تین حصے ہیں
شعور ، تحت الشعور اور لاشعور
انسان جب کسی بھی چیز کو دیکھتا ،سنتا،بولتا،سوچتا اور مس کرتا ہے تو اس دیکھنے ،سننے،بولنے،سوچنے اور مس کرنے کے صحیح اور غلط کا فیصلہ انسانی دماغ کا شعوری حصہ کرتا ہے ۔انسانی دماغ کا یہ حصہ صحیح اور غلط کے فیصلے کے کرنے کا ساتھ انسانی دماغ کی عارضی میموری بھی ہے
جسے کمپیوٹر کی اصطلاحات میں ریم میموری کہا جائے گا یعنی انسانی دماغ کی ریم میموری شعور کہلاتا ہے کیوں کہ اس میں ڈیٹا عارضی طور پر محفوظ ہوتا ہے نیز اسی حصے میں وقتی ڈیٹا کی رننگ بھی ہوتی ہے
اور جس چیز کو انسانی دماغ کا شعوری حصہ صحیح کہہ دے یا اسے وہ چیز صحیح باور کروادیا جائے تووہ پھر صحیح کے مہر کے ساتھ تحت الشعور سے ہوتے ہوئے لاشعور یعنی کمپیوٹر کی اصطلاحات میں ہارڈ ڈسک مستقل میموری میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتا ہے ۔
اسی طرح جس چیز کو انسانی دماغ کا شعوری حصہ غلط کہہ دے یا اسے غلط باور کروایا جائے تو وہ چیز بھی غلط کے مہر کے ساتھ تحت الشعور سے ہوتے ہوئے لاشعور یعنی کمپیوٹر کی اصطلاحات میں ہارڈ ڈسک مستقل میموری میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتا ہے ۔
پھر وہ صحیح اگر چہ غلط کیوں نہ ہو یا غلط اگر چہ صحیح کیوں نہ ہو یا عکس میں یعنی صحیح صحیح ہو اور غلط غلط ہو ۔ توانسانی دماغ کی ریم میموری یعنی شعور جب بھی اس کو انسانی دماغ کی مستقل میموری یعنی لاشعور میں سرچ کرتا ہے تو اسے وہ اسی حالت میں ڈیٹیکٹ کرتا ہے جس حالت میں انسانی دماغ کے شعوری حصے نے اسے لاشعوری حصے میں بھیجا ہوتا ہے
آج اس بحث میں میں دو نکتے سمجھاؤں گا
نمبر ایک جس سے عام طور پر ہم لوگ صرف نظر کرتے ہیں وہ یہ کہ جب کسی انسان کی کسی حوالے سے کوئی تربیت کرنی ہو تو اسے یہ یقین دلائے کہ آپ اس کام کو کرسکتے ہیں اسے کبھی مت کہیں کہ یہ کام کرنا آپ کے بس کی بات نہیں کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ آپ جس انسان کی ترتبیت کررہے ہو
ان کے دماغ کے شعوری حصے نے آپ کی حقیقت دماغ کے لاشعوری حصہ میں بٹھا دیاہو اور اب جب بھی آپ اسے کوئی بات باور کرائیں گے تو اس کا شعوری حصہ اسے اسی تناظر میں لاشعوری حصے کو بھیجے گا ۔ پھر وقت ضرورت پر لاشعوری حصے میں شعوری حصہ جب بھی اس بات کو سرچ کرے گا تو وہ بات اسے اسی حالت میں ملے گی ،جس حالت میں وہ بات اسے سمجھا ئے گئی ہوگی
مثلا آپ کسی ایسے شخص کو جو آپ کے زیر تربیت ہو اور آپ اسے یہ باور کروائیں کہ فلاں کام آپ نہیں کرسکتے یا فلاں چیز آپ نہیں لاسکتے تو اب وہ جب بھی وہ کام کرنے کی کوشش کرے گا اس سے وہ کام نہیں ہوگا
کیوں کہ جب بھی وہ شخص جو آپ کے زیر بیت ہے اس کام کے ارادے سے اٹھے گا تو دماغ کا شعوری حصہ اس حوالے سے لاشعور میں سرچ کرے گا جہاں سے اسے یہ پیغام ملے گا کہ آپ اس کام کونہیں کرسکتے تو دماغ کا شعوری حصہ اسی یاداشت کو دماغ کے مین سسٹم میں چلائے گا
اور جب شعور اس کو چلائے گا تو دماغ کا پورا جسم کے تمام اعضاء کو بھی وہی پیغام دیگا کہ یہ آپ کے بس کی بات نہیں چنانچہ اعضاء جو مین میموری کے پیغام پر عمل کرتے ہیں اس کام کو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی اس کام کے کرنے میں خطا کرے گا
مثلا آپ کسی بچے کو کہہ دے کہ اس گلاس اور جگ کو نہ اٹھانا کیوں کہ یہ شیشے کا ہیں اور تمھارے ہاتھ سے گر ٹوٹ جائیں گے اب اگر بچے نے آپ کی غیر موجود گی میں اسے اٹھا بھی لیا تو بھی اس کے ہاتھ سے گریں گے کیوں کہ شعوری حصے نے لاشعور میں یہی پیغام محفوظ کیا ہوا
اور اگر آپ اسے یہ باور کروائیں کہ تم یہ گلاس اور جگ اٹھاؤ اور تم اسے اٹھا سکتے ہیں تو دماغ کا شعوری حصہ اس پیغام کو دماغ کے لاشعوری حصے میں بھیجے گا جہاں سے جب بھی شعوری حصہ سرچ کرے گا تو اسے یہی پیغام ملے گا کہ ہاں تم یہ یہ کرسکتے ہیں
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض بچے گاڑی تک چلاتے ہیں لیکن بعض بچے سائکل بھی نہیں چلاسکتے ہیں کیوں کہ یہ سارا کام شعوری حصے کے مس گائیڈ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے اور ہم ذمہ دار بچے کو گردانتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ہماری غلطی ہوتی ہے
اس حوالے سے مزید بحث اگلے قسطوں میں آئے گی تو ملاحظہ کرنا نہ بھولیے گا
اب آتے ہیں دوسرے نکتے کی طرف
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ وہ قوتیں جو انسانی دماغ کو قابو میں کرنے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح شعوری حصے کے ان سگنلز کو کنٹرول کیا جائے جو کسی چیز کی بابت صحیح اور غلط کا فیصلہ کرتے ہیں
تاکہ کسی بھی انسان کے دماغ کے لاشعوری حصے میں میں اپنی مرضی کی صحیح اور غلط چیزیں محفوظ کی جاسکیں اس حوالے سے ہپناٹزم میں تقریبا یہی کچھ ہوتا ہے لیکن یہ علم بھی اپنی جگہ ایک نامکمل علم ہے یہ علم اپنی جگہ کیسے نامکمل ہے ؟ میں اس حوالے سے جب اس علم پر بات کروں گا تو وہی پر یہ چیز بھی بتادی جائے گی کہ یہ کیوں ایک نامکمل علم ہے
بہر حال دوسرے نکتے کے حوالے سے مزید عرض کرتا چلوں کہ کہ آج کے زمانے میں فلموں ،سیاسی میدان اور کھیل کے میدان کے علاوہ ایسے بہت سارے میدان ہیں جہاں کے بڑے بڑے لوگ ان قوتوں کے جزوی طور پر کنٹرول میں ہیں اور ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں
اگر آپ آج کے اخلاقی معیار کو دیکھیں تو اس نتیجے پر پہنچنے میں ذرا سی دیر بھی نہیں لگے گی کہ یہ لوگ کن کے اشاروں پر چل رہے ہیں ان لوگوں کے صحیح اور غلط کے معیار بتارہے ہیں کہ یہ لوگ اب پوری طرح سے اپنے کنٹرول میں نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ کسی اور کے اشاروں پر چل رہے ہیں
جاری ہے۔۔۔۔۔۔


 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
5:23 PM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,966
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
117.23
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks