بانوے سالہ مہاتیر محمد

Bail Gari

Thread Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:35 PM
Threads
28
Messages
204
Reaction score
195
Points
39
Location
Pakistan
Gold Coins
8.00
آصف جیلانی
ملایشیاء کے عام انتخابات میں 92 سالہ مہاتیر محمد( محضیر بن محمد) کی فتح سنسنی خیز ڈرامہ سے کم نہیں ہے۔ مہاتیر محمد اس وقت دنیا کے سب سے معمر وزیرِاعظم ہیں جن کو ملایشیاء کے نوجوانوں کی اکثریت نے مسند وزارت اعظمیٰ پر فائز کیا ہے۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی ڈرامہ ثابت ہوئے ہیں کہ مہاتیر محمد نے اپنی پرانی جماعت UMNO کی حکومت کو شکست دی ہے جس کے وہ خود 22 سال وزیرِاعظم رہ چکے ہیں۔ اس ڈرامہ کا ایک سین یہ بھی تھا کہ شکست خوردہ وزیرِاعظم نجیب رزاق نے اقتدار مہاتیر محمد کے حوالہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور ان پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے مہاتیر محمد کو اقتدار سے محروم کرنے کے لئے حزب مخالف کے امیدواروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ساٹھ لاکھ ڈالر کی رقم کی پیش کش کی تھی لیکن بادشاہ، سلطان محمد 5 نے نجیب رزاق کی یہ کوشش ناکام بنا دی اور مہاتیر محمد سے محل میں فی الفور ملک کے ساتویں وزیرِاعظم کا حلف لیا۔

مہاتیر محمد نے جو پچھلے پندرہ سال سے سیاست سے کنارہ کش تھے، اپنے سیاسی پروردہ وزیرِاعظم نجیب رزاق کے کرپشن کے خلاف تحریک چلانے کے لئے 2015ء میں اپنی سیاسی جماعت پاکلان ہرپان (اتحادِ امید) قائم کی تھی۔ مہاتیر محمد نے کہا تھا کہ سیاست سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ پھر اس سال جنوری میں یہ ڈرامائی اعلان کیا تھا کہ وہ عام انتخابات لڑیں گے اور اگر وہ جیت گئے تو دو سال تک وزیرِاعظم رہنے کے بعد انور ابراہیم کو وزارتِ عظمیٰ پر فائز کریں گے۔ یہ اعلان اس لحاظ سے ڈرامائی تھا کہ خود مہاتیر محمد نے اپنے نامزد جانشین انور ابراہیم کے خلاف سنگین مقدمات قائم کر کے انہیں سیاست کے میدان سے بے دخل کر دیا تھا۔ وہ اس وقت پانچ سال قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔

عام انتخابات کی مہم میں مہاتیر محمد نے اعلان کیا تھا کہ وہ انور ابراہیم کو سلطان محمد 5 سے معافی دلا کر انہیں وزیرِاعظم کے عہدہ پر فائز کریں گے۔ انتخابی فتح کے بعد مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ سلطان نے انور ابراہیم کو معافی دینے کا وعدہ کیا ہے۔

مہاتیر محمد نے اکیس سال کی عمر میں سیاسی جماعت UMNO میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس زمانہ میں وہ اپنی ریاست کیدا میں ڈاکٹر تھے۔ 1964ء میں وہ پہلی بار پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے تھے۔ 1974ء میں وہ ٹنکو عبد الرحمان کی کابینہ میں وزیر تعلیم مقرر ہوئے تھے۔ اور چار سال کے اندر اندر ترقی کر کے حکمران جماعت UMNO کے نائب سربراہ کے عہدہ تک پہنچ گئے اور 1981ء میں وزیرِاعظم کے عہدہ پر فائز ہوئے۔

مہاتیر محمد کا دور آمرانہ دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے لیکن اس دور میں ملایشیاء نے بڑی سرعت سے ترقی کی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مغربی ممالک ملایشیاء کی اس برق رفتاری سے اقتصادی ترقی سے خائف تھے۔ اس دوران مہاتیر محمد کے اس بیان پر کہ ”یہودی ٹولہ پوری دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے”، یہودی نواز مغربی ممالک نے مہاتیر محمد کے خلاف محاذ قائم کر دیا اور ایسے حالات پیدا کر دئے کہ انہیں آخر کار وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ سیاست سے بھی کنارہ کش ہونا پڑا۔

یہ بے حد حیرت کی بات ہے کہ پندرہ سال بعد ملایشیاء کے نوجوانوں نے ملک میں تبدیلی کے لئے ایک 92 سالہ لیڈر کو منتخب کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ مہاتیر محمد کا دور آمرانہ اور استبدادی تھا لیکن وہ تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ وہ کرپشن سے تنگ آچکے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ملایشیاء سے 92 سالہ سورج دوبارہ ابھرا ہے جو کرپشن سے آزاد معیشت کی ترقی کی نوید ثابت ہوگا۔

 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:35 AM
Threads
1,354
Messages
7,660
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
111.50
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks