رمضان المبارک کی آمد اور ذخیرہ اندوزی کی لعنت

Bail Gari

Thread Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:44 AM
Threads
28
Messages
204
Reaction score
195
Points
39
Location
Pakistan
Gold Coins
8.00
مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی

’’حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’نفع کمانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت ہوتی ہے۔‘‘ (رواہ ابن ماجہ والدارمی) ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر یہ وباپھیل چکی ہے کہ جہاں رمضان المبارک قریب آیا وہاں عام ضرورت کی اشیاء کی قلت پیدا کردی جاتی ہے اور پھر منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ اس میں بنیادی طریقہ ذخیرہ اندوزی ہے۔ ہر وقت اور ہر قسم کی ذخیرہ اندوزی اسلام میں ممنوع نہیں بلکہ اس کے لیے خاص لفظ ’’احتکار‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے یعنی ’’ اشیاء ضرورت کا اس لیے ذخیرہ کرلینا تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرکے منہ مانگے دام وصول کئے جائیں جسے عرف عام میں مہنگائی کہتے ہیں‘‘ بالفاظ دیگر مہنگائی کے خیال سے ذخیرہ اندوزی احتکار ہے۔صاحب ہدایہ کتاب البیوع میں لکھتے ہیں ’’احتکار (ذخیرہ اندوزی ) سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص غلہ یا کوئی اور جنس بڑی مقدارمیں اس لیے اکٹھی کرلے یا دوسرے سے خرید کر اس لیے جمع کرلے کہ بازار میں اس کی کمی واقع ہو اور مہنگائی ہوجائے اور تمام خریدار ، ضرورت مند اسی کی طرف رجوع کریں اور خریدارمجبورہوکر ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو اس کی مقررکردہ قیمت ادا کرے۔ ہاں البتہ اگر اس چیز کی بازار میں کمی نہیںاور نہ اس کے جمع کرنے کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا ہو، اوراس کے جمع کرنے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ نہ ہوتا ہوتو یہ ذخیرہ اندوزی نہیں۔‘‘ حضرت رسول اللہ ﷺ نے واضح طور پر فرمایا کہ ’’ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔‘‘ جب معاشرہ پر اللہ کی رحمت کی بجائے لعنت نازل ہونے لگے تو پھر رحمت کے آثار غائب ہونے لگتے ہیں اور لعنت کے آثار نظر آتے ہیں۔ رحمت کے آثار یہ ہیں کہ اس رزق میں برکت ہو،ایسا رزق کمانے والے کو حقیقی سکون نصیب ہو اورپھر اس حلال روزی کمانے والے کے دل میں نیک کاموں کا، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کا شوق پیدا ہو لیکن جب معاشرہ پر لعنت پڑنے لگے تو اس کے اثرات اس انداز میں نظر آتے ہیں کہ ہزاروں روپے کمائے جارہے ہیں لیکن زبان پر یہ الفاظ سننے میں آتے ہیں ’’اتنا کماتے ہیں پتہ نہیں کہاں جاتا ہے۔ ‘‘ اس کی وجہ برکت کا ہاتھ اٹھ جانا ہے، پھر حرام مال کمانے کے بعد سکون ختم ہوا،عبادات کا شوق ہی نہ رہا،نیک کاموں کی طرف دل مائل ہی نہیں ہوتا یہ تمام لعنت کے آثار ہیں۔ حضرت معمر ؓسے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ ترجمہ :جو ذخیرہ اندوزی کرتا ہے وہ گنہگار ہے۔‘‘(رواہ مسلم) حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا۔ ’’جوشخص کھانے پینے کی چیزیں ذخیرہ اندوزی کرکے مسلمانوں پر مہنگائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کوڑھ کے مرض اور محتاجی میں مبتلا کردیتا ہے۔‘‘ (رواہ ابن ماجہ) ابن قدامہ المغنی کے باب الاحتکار میں روایت ہے کہ ’’حضرت عمرؓ نے ایک دکاندار کو ذخیرہ اندوزی سے منع فرمایا اور ساتھ رسول اللہﷺ کا اس کام سے روکنا بھی واضح کیا لیکن وہ باز نہ آیا اور کوڑھی بن گیا۔‘‘ علامہ شوکانی نیل الاوطار جلد دوم ص181میں لکھتے ہیں کہ ’’حضرت علی ؓ نے ایک ذخیرہ کرنے والے کا غلہ جلادیا۔‘‘صاحب ہدایہ کتاب الکراھیہ میں لکھتے ہیں کہ ’’جب ذخیرہ اندوز کا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ ذخیرہ اندوز کو حکم دے کہ وہ اپنے اور اپنے گھروالوں کے کھانے پینے کا خرچہ علیحدہ کرکے جو کچھ بچے اسے بیچ دے اور قاضی اسے ذخیرہ اندوزی سے روک دے، اگر وہ تاجر دوبارہ اسی جرم میں ملوث ہوکر عدالت میں آئے تو قاضی اسے قید کردے تاکہ عام لوگوں کو نقصان پہنچنے کا ذریعہ ختم ہوجائے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ’’جو شخص چالیس دن ذخیرہ اندوزی کرے اور ذخیرہ اندوزی کا مقصد مہنگائی ہوتو وہ اللہ تعالیٰ سے بری ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہے۔ (رواہ رزین) حضرت ابواُمامہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص چالیس دن تک غلہ مہنگائی کے خیال سے ذخیرہ کرے پھر(غلطی کا احساس ہونے پر) وہ تمام غلہ صدقہ کردے پھر بھی اس کی غلطی کا کفارہ ادا نہیں ہوتا۔‘‘ حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ترجمہ:’’وہ ذخیرہ اندوز بندہ برا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بھاؤ سستا کردے تو غمگین ہوجاتا ہے اور جب مہنگا کردے تو خوش ہوجاتا ہے۔‘‘(رواہ البیہقی) ان تمام ارشادات اور تعلیمات اسلامی کے پیش نظر یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ذخیرہ اندوزی کتنا گھناؤ نا فعل ہے۔ اور پھر اتنا گھٹیا اور برا کام اور وہ بھی رمضان المبارک کے بابرکت دنوں میں،ان مبارک لمحوں کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان اس کے اندر ثواب کمائے روزہ داروں کے روزے کھلوائے، غریبوں کی مدد کرے، روزہ داروں کے لیے سہولت پیدا کرے اور اپنے گناہوں کو دھلوائے، اپنی مغفرت کا سامان کرے۔ آپﷺ نے جبرائیل ؑکی اس بددعا پر آمین بھی فرمائی کہ ’’برباد ہو وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔‘‘ ذخیرہ اندوزی کرنے والے ایسے ملعون تاجر ہیں جو صرف اپنے مسلمان بھائیوں ہی کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرب روزہ داروں کا خون چوستے ہیں اور ایسے تاجروں کو ارشادات نبویﷺ یاد رہنے چاہئیں۔ ان کے مالوں میں برکت نہ رہے گی، اللہ تعالیٰ انہیں محتاجی اور کوڑھ میں مبتلا کردے گا، یہ حرام مال کھائیں گے توارشاد نبویﷺ کے مطابق ان کی دعائیں بھی قبول نہ ہونگی۔ ٭…٭…٭

 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:44 PM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
114.85
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی

’’حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’نفع کمانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت ہوتی ہے۔‘‘ (رواہ ابن ماجہ والدارمی) ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر یہ وباپھیل چکی ہے کہ جہاں رمضان المبارک قریب آیا وہاں عام ضرورت کی اشیاء کی قلت پیدا کردی جاتی ہے اور پھر منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ اس میں بنیادی طریقہ ذخیرہ اندوزی ہے۔ ہر وقت اور ہر قسم کی ذخیرہ اندوزی اسلام میں ممنوع نہیں بلکہ اس کے لیے خاص لفظ ’’احتکار‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے یعنی ’’ اشیاء ضرورت کا اس لیے ذخیرہ کرلینا تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرکے منہ مانگے دام وصول کئے جائیں جسے عرف عام میں مہنگائی کہتے ہیں‘‘ بالفاظ دیگر مہنگائی کے خیال سے ذخیرہ اندوزی احتکار ہے۔صاحب ہدایہ کتاب البیوع میں لکھتے ہیں ’’احتکار (ذخیرہ اندوزی ) سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص غلہ یا کوئی اور جنس بڑی مقدارمیں اس لیے اکٹھی کرلے یا دوسرے سے خرید کر اس لیے جمع کرلے کہ بازار میں اس کی کمی واقع ہو اور مہنگائی ہوجائے اور تمام خریدار ، ضرورت مند اسی کی طرف رجوع کریں اور خریدارمجبورہوکر ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو اس کی مقررکردہ قیمت ادا کرے۔ ہاں البتہ اگر اس چیز کی بازار میں کمی نہیںاور نہ اس کے جمع کرنے کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا ہو، اوراس کے جمع کرنے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ نہ ہوتا ہوتو یہ ذخیرہ اندوزی نہیں۔‘‘ حضرت رسول اللہ ﷺ نے واضح طور پر فرمایا کہ ’’ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔‘‘ جب معاشرہ پر اللہ کی رحمت کی بجائے لعنت نازل ہونے لگے تو پھر رحمت کے آثار غائب ہونے لگتے ہیں اور لعنت کے آثار نظر آتے ہیں۔ رحمت کے آثار یہ ہیں کہ اس رزق میں برکت ہو،ایسا رزق کمانے والے کو حقیقی سکون نصیب ہو اورپھر اس حلال روزی کمانے والے کے دل میں نیک کاموں کا، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کا شوق پیدا ہو لیکن جب معاشرہ پر لعنت پڑنے لگے تو اس کے اثرات اس انداز میں نظر آتے ہیں کہ ہزاروں روپے کمائے جارہے ہیں لیکن زبان پر یہ الفاظ سننے میں آتے ہیں ’’اتنا کماتے ہیں پتہ نہیں کہاں جاتا ہے۔ ‘‘ اس کی وجہ برکت کا ہاتھ اٹھ جانا ہے، پھر حرام مال کمانے کے بعد سکون ختم ہوا،عبادات کا شوق ہی نہ رہا،نیک کاموں کی طرف دل مائل ہی نہیں ہوتا یہ تمام لعنت کے آثار ہیں۔ حضرت معمر ؓسے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ ترجمہ :جو ذخیرہ اندوزی کرتا ہے وہ گنہگار ہے۔‘‘(رواہ مسلم) حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا۔ ’’جوشخص کھانے پینے کی چیزیں ذخیرہ اندوزی کرکے مسلمانوں پر مہنگائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کوڑھ کے مرض اور محتاجی میں مبتلا کردیتا ہے۔‘‘ (رواہ ابن ماجہ) ابن قدامہ المغنی کے باب الاحتکار میں روایت ہے کہ ’’حضرت عمرؓ نے ایک دکاندار کو ذخیرہ اندوزی سے منع فرمایا اور ساتھ رسول اللہﷺ کا اس کام سے روکنا بھی واضح کیا لیکن وہ باز نہ آیا اور کوڑھی بن گیا۔‘‘ علامہ شوکانی نیل الاوطار جلد دوم ص181میں لکھتے ہیں کہ ’’حضرت علی ؓ نے ایک ذخیرہ کرنے والے کا غلہ جلادیا۔‘‘صاحب ہدایہ کتاب الکراھیہ میں لکھتے ہیں کہ ’’جب ذخیرہ اندوز کا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ ذخیرہ اندوز کو حکم دے کہ وہ اپنے اور اپنے گھروالوں کے کھانے پینے کا خرچہ علیحدہ کرکے جو کچھ بچے اسے بیچ دے اور قاضی اسے ذخیرہ اندوزی سے روک دے، اگر وہ تاجر دوبارہ اسی جرم میں ملوث ہوکر عدالت میں آئے تو قاضی اسے قید کردے تاکہ عام لوگوں کو نقصان پہنچنے کا ذریعہ ختم ہوجائے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ’’جو شخص چالیس دن ذخیرہ اندوزی کرے اور ذخیرہ اندوزی کا مقصد مہنگائی ہوتو وہ اللہ تعالیٰ سے بری ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہے۔ (رواہ رزین) حضرت ابواُمامہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص چالیس دن تک غلہ مہنگائی کے خیال سے ذخیرہ کرے پھر(غلطی کا احساس ہونے پر) وہ تمام غلہ صدقہ کردے پھر بھی اس کی غلطی کا کفارہ ادا نہیں ہوتا۔‘‘ حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ترجمہ:’’وہ ذخیرہ اندوز بندہ برا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بھاؤ سستا کردے تو غمگین ہوجاتا ہے اور جب مہنگا کردے تو خوش ہوجاتا ہے۔‘‘(رواہ البیہقی) ان تمام ارشادات اور تعلیمات اسلامی کے پیش نظر یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ذخیرہ اندوزی کتنا گھناؤ نا فعل ہے۔ اور پھر اتنا گھٹیا اور برا کام اور وہ بھی رمضان المبارک کے بابرکت دنوں میں،ان مبارک لمحوں کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان اس کے اندر ثواب کمائے روزہ داروں کے روزے کھلوائے، غریبوں کی مدد کرے، روزہ داروں کے لیے سہولت پیدا کرے اور اپنے گناہوں کو دھلوائے، اپنی مغفرت کا سامان کرے۔ آپﷺ نے جبرائیل ؑکی اس بددعا پر آمین بھی فرمائی کہ ’’برباد ہو وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔‘‘ ذخیرہ اندوزی کرنے والے ایسے ملعون تاجر ہیں جو صرف اپنے مسلمان بھائیوں ہی کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرب روزہ داروں کا خون چوستے ہیں اور ایسے تاجروں کو ارشادات نبویﷺ یاد رہنے چاہئیں۔ ان کے مالوں میں برکت نہ رہے گی، اللہ تعالیٰ انہیں محتاجی اور کوڑھ میں مبتلا کردے گا، یہ حرام مال کھائیں گے توارشاد نبویﷺ کے مطابق ان کی دعائیں بھی قبول نہ ہونگی۔ ٭…٭…٭

 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks