اسلامی تاریخ کا خط زمانی:

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
چھٹی صدی عیسوی کی اسلامی تاریخ کا خط زمانی
چھٹی صدی عیسوی 500ء–600ء تخمیناً 126 قبل ہجری تا 23 قبل ہجری پر محیط ہے۔

545ء: پیدائش عبد اللہ بن عبد الطلب، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد (تخمیناً تاریخ)۔
570ء: پیدائش محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (تخمیناً) اور وفات عبد اللہ والد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔
573ء: پیدائش ابوبکر صدیق، پہلے مسلمان خلیفہ (تخمیناً تاریخ)۔
576ء: وفات آمنہ بنت وہب، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ (تخمیناً تاریخ)۔
576ء: پیدائش عثمان بن عفان، تیسرے خلیفہ (تخمیناً تاریخ)۔
578ء: وفات عبدالمطلب، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا (تخمیناً تاریخ)۔
582ء: پیدائش عمر بن خطاب، دوسرے خلیفہ (تخمیناً تاریخ)۔
582ء: محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شام کی طرف اپنے چچا ابو طالب بن عبد المطلب کے ساتھ سفر کیا۔ راستے میں انھوں نے بحیرا نامی مسیحی راہب سے ملاقات کی، بحیرا نے نبوت کی کچھ نشانیاں پائیں۔[1] (تخمیناً تاریخ)۔
594ء: محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدیجہ بنت خویلد کے لیے کام کرنا شروع کیا; آپ مال تجارت کے ساتھ شام گے۔(تخمیناً تاریخ)
595ء: محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدیجہ بنت خویلد سے نکاح کیا (تخمیناً تاریخ)۔
599ء: پیدائش علی ابن ابو طالب۔ محمد کے چچا زاد بھائی۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00


  • 605: پیدائش فاطمہ زہرا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی۔ اور علی ابن ابی طالب کی بیوی۔
    605: محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کعبہ کی جدید تعمیر میں معاونت کی۔[1]
    610: پہلی بار نزول قرآن مجید ہوا۔ غار حرا میں فرشتہ جبرائیل نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا کلام پہنچایا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب سے پہلے اپنی بیوی خدیجہ بنت خویلد کو دعوت دی جنہوں نے اسلام قبول کیا۔[2]
    611ء — 620ء
    613: محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام کی عام دعوت کے لیے کوہ صفا پراعلان نبوت کیا۔
    614: مسلمانوں پرقریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مسلمانوں کی ایک جماعت نے ہجرت حبشہ کی۔
    615: عمر بن خطاب اور حمزہ بن عبد المطلب نے اسلام قبول کیا۔
    616: حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی گئی۔
    617: قریش نے بنو ھاشم اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معاشی بائیکاٹ کیا۔
    619: بائیکاٹ ختم کیا ہوا۔ اسی سال ابو طالب اور خدیجہ بنت خویلد کی وفات ہوئی، جس وجہ سے اسے غم کا سال یعنی عام الحزن کا نام دیا گیا ہے۔​
    620: دعوت اسلام کے لیے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طائف کیا۔ اسی سال واقعہ معراج پیش آیا، جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آسمانوں کی سیر کی اور جنت و دوزخ کے مناظر دیکھے۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
701ء: ابن الاشعث، واقعہ دیر الجماجم کی عراق میں بغاوت۔
703ء: چھٹے شیعہ امام، جعفر الصادق کی ولادت۔
705ء: وفات عبدالملک بن مروان۔ اس کے بعد ولید بن عبد الملک خلافت امویہ کے خلیفہ بنا۔
711ء تا 720ء
711: فتح ہسپانیہ طارق بن زیاد اور ما وراء النہر قتیبہ بن مسلم۔
712: فتح سندھ محمد بن قاسم
713: زین العابدین چوتھے شیعہ امام الاسلام کو زہر در کر شہید کر دیا گیا۔ ان کے بعد محمد باقر امام مانے گئے۔ فتح ملتان۔
715: وفات ولید اول۔ سلیمان بن عبدالملک اموی خلیفہ بن گئے۔
717: آغاز محاصرہ قسطنطنیہ 717ء تا 718ء۔ وفات سلیمان۔ عمر بن عبدالعزیز اموی خلیفہ بن گئے۔ Pact Umar۔
718 : محاصرہ قسطنطنیہ کا اختتام۔
720: وفات عمر بن عبد العزیز۔ یزید بن عبدالملک اموی خلیفہ بن گئے۔
721ء تا 730ء
  • 792: جنوبی فرانس پر حملے۔
  • 796: ہسپانیہ میں ہاشم کی وفات; اس کے بعد ال al-Hakam I خلیفہ بنا۔
  • Please, Log in or Register to view URLs content!
    : نومبر — مشہور زاہد و صوفی مجتہد عبد اللہ ابن مبارک
    Please, Log in or Register to view URLs content!
    میں 61 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
  • 799: خذر پر ایک حملے کو شکست۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں افریقا کا علاقہ جو موجودہ طرابلس، تیونس اور الجزائر پر مشتمل ہے، نیم خود مختار ہو گیا۔ کیونکہ مرکزِ خلافت سے دور ہونے کی وجہ سے اس علاقے کا انتظام مشکل ہو رہا تھا اس لیے ہارون نے یہاں کی حکومت مستقل طور پر ایک شخص ابراہیم بن اغلب اور اس کی اولاد کے سپرد کردی۔ اس طرح افریقہ میں ایک نئی حکومت کی بنیاد پڑی جو اغالبہ یا خاندان اغلب کی حکومت کہلاتی ہے۔ یہ اغلبی حکومت عملاً خود مختار تھی لیکن عباسی خلافت کو تسلیم کرتی تھی اور ہر سال باقاعدگی کے ساتھ خراج دیا کرتی تھی جو اس بات کا ثبوت تھا کہ حکومت عباسی خلافت کا حصہ ہے۔ اغلبی خاندان کی یہ حکومت 800ء سے 909ء تک یعنی ایک سو سال سے زیادہ عرصے تک قائم رہی۔ اس کا دار الحکومت قیروان تھا جس کی بنیاد عقبہ بن نافع نے رکھی تھی۔ اغلبی خاندان کے دور حکومت میں قیروان شمالی افریقہ میں علوم و فنون کا سب سے بڑا مرکز بن گیا تھا لیکن اغلبی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ جزیرہ صقلیہ کی فتح اور بحری قوت کی ترقی ہے۔ اس دور میں نہ صرف یہ کہ جزیرہ صقلیہ فتح کیا گیا بلکہ جنوبی اٹلی پر بھی مسلمانوں کا تسلط قائم ہو گیا تھا۔ اغلبی حکومت کا بحری بیڑا اتنا طاقتور ہو گیا تھا کہ مغربی بحیرۂ روم میں کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ ابراہیم اغلب کے بعد اس کے بیٹے عبداللہ بن ابراہیم نے حکومت سنبھالی۔ بحیرہ روم کا جزیرہ صقلیہ اس کے جانشیں زیادۃ اللہ کے دور میں فتح ہوا جس پر سب سے پہلے امیر معاویہ کے دور میں ناکام فوج کشی کی گئی تھی۔ زیادۃ اللہ نے 100 بحری جہازوں کو اس مہم پر روانہ کیا جس نے کئی معرکوں اور جدوجہد کے بعد یہ عظیم فتح حاصل کی اور جزیرے کو سلطنت اغالبہ کا حصہ بنا لیا۔ ابو مضر زیادۃ اللہ خاندان اغالبہ کا آخری حکمران ثابت ہوا جس کے دوران میں ابو عبداللہ الشیعی نے اغلبی حکومت کا خاتمہ کرکے فاطمی سلطنت کی بنیاد رکھی۔
حکمران
ابراہیم بن اغلب
ابو العباس عبد اللہ
ابو محمد زیادۃ اللہ بن ابراہیم
ابو عقال الاغلب بن ابراہیم
ابو العباس محمد
ابو ابراہیم احمد بن محمد بن الاغلب
زیادۃ اللہ ثانی
ابو الغرانیق محمد بن احمد
ابو اسحاق ابراہیم بن احمد
ابو العباس عبد اللہ ثانی
زیادۃ اللہ ثالث


 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
801ء تا 810ء
803ء: برامکہ کو زوال آیا۔ جعفر ابن یحیی برمکی کو قتل کر دیا گیا۔
805ء: خراسان میں رفیع ابن اللیث کی بغاوت کی ابتدا ہوئی۔
806ء: عباسی خلیفہ ہارون الرشید بازنطینیوں کے خلاف بڑی مہم پر روانہ ہوا۔
809ء: 24 مارچ— ہارون الرشید فوت ہو گیا۔ اُس کا بیٹا امین الرشید تخت نشیں ہوا۔
810ء: عرب شاعر، انجنئیر، ہر فن مولا، موجد، طبیب اور ماہر موسیقار عباس ابن فرناس اندلس کے موجودہ شہر روندا میں پیدا ہوا۔ وفات 887ء
811ء: 12 اپریل— شیعوں کے نویں امام محمد تقی پیدا ہوئے۔
811ء: عباسیوں کی عظیم خانہ جنگی کا آغاز ہوا۔
811ء: یکم مئی— جنگ رے، امین الرشید اور مامون الرشید کے درمیان رے کے مقام پر جنگ لڑی گئی جس میں مامون الرشید کو فتح ہوئی۔
815ء: شیعوں نے ابو السرایا السری کی قیادت میں بغداد میں اعلان بغاوت کیا۔ عباسی جرنیل ہرثمہ بن اعین نے بغاوت کو کچل دیا۔
816ء: شیعوں نے مکہ مکرمہ میں بغاوت کا اعلان کیا۔ اسپین میں اُمویوں نے جزیرہ کورسیکا پر قبضہ کر لیا۔ ہرثمہ بن اعین قتل ہوا۔
818ء: 26 مئی — شیعوں نے آٹھویں امام علی رضا مشہد میں اِنتقال کر گئے۔ محمد تقی اُن کے جانشیں ہوئے۔
818ء: اسپین میں اُمویوں نے جزیرہ ابیزا، جزیرہ مایورکا، جزیرہ ساردینیا فتح کرلیے۔
819ء: 11 اگست— عباسی خلیفہ مامون الرشید بغداد میں داخل ہوا۔مامون الرشید نے بغداد کو دار الحکومت قرار دیا۔
820ء: طاہر بن حسین نے خراسان میں آل طاہر کی حکومت کی بنیاد رکھی۔
822ء: 21 مئی — امیر قرطبہ الحکم اول فوت ہوا۔ عبدالرحمن دوم اُس کا جانشین ہوا۔
823ء: خراسان میں طاہر بن حسین فوت ہوا۔ اُس کا جانشین طلحہ ابن طاہر مقرر ہوا۔
825ء: بحیرہ روم میں جزیرہ کریٹ میں امارت کریٹ کی بنیاد ابو حفص عمر بن شعیب اقریتشی نے رکھی۔
826ء: عباسی منجم، ماہر طبیعیات، ریاضی دان اور مترجم ثابت بن قرہ حران میں پیدا ہوا۔
827: ابن الراوندی خراسان میں پیدا ہوا۔
827ء: عباسی خلیفہ مامون الرشید نے معتزلہ کے عقائد کو سرکاری عقیدہ قرار دیا۔
829ء: 8 ستمبر— شیعوں کے دسویں امام علی نقی پیدا ہوئے۔
833ء: 9 اگست— عباسی خلیفہ مامون الرشید شام کے شہر الرقہ میں فوت ہوا۔المعتصم باللہ خلیفہ مقرر ہوا۔
835ء: مسلم صوفی جنید بغدادی بغداد میں پیدا ہوئے۔
835ء: مسلم ریاضی دان احمد بن یوسف بغداد میں پیدا ہوا۔
835ء: 29 نومبر — شیعوں کے امام محمد تقی اِنتقال کر گئے۔ امام علی نقی اُن کے جانشین مقرر ہوئے۔
836ء: المعتصم باللہ نے نئے دار الحکومت سامرا میں منتقلی اختیار کی۔
837ء: جاٹوں کی بغاوت کا آغاز ہوا۔
839ء: مسلم مورخ ابن جریر طبری شہر آمل، طبرستان میں پیدا ہوا۔

842ء: 5 جنوری — عباسی خلیفہ المعتصم باللہ 45 سال کی عمر میں دار الخلافہ سامرا میں فوت ہوا۔
842ء: عباسی شہزادہ الموفق باللہ سامرا میں پیدا ہوا۔ وہ عباسی خلیفہ المتوکل علی اللہ کا بیٹا تھا۔
843ء: عربوں نے بغاوت کی۔ بازنطینیوں نے جزیرہ کریٹ کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔
844ء: جنگ موروپوٹاموس- خلافت عباسیہ اور بازنطینی سلطنت کے مابین ایشیائے کوچک کے موروپوٹاموس کے مقام پر جنگ لڑی گئی۔ جس میں عباسی فتح یاب ہوئے۔
25 اکتوبر — دولت صفاریہ کا بانی یعقوب ابن اللیث الصفار افغانستان کے شہر کرنین میں پیدا ہوا۔
843ء: 6 دسمبر — شیعوں کے گیارہویں امام حسن بن علی عسکری کی ولادت سامرا میں ہوئی۔
845ء: حکومت آل طاہر کے حکمران عبداللہ بن طاہر الخراسانی کا انتقال ہوا۔ طاہر بن عبداللہ دوم امیر آل طاہر کی حیثیت سے تخت نشیں ہوا۔
847ء: 10 اگست— عباسی خلیفہ الواثق باللہ فوت ہوا۔ المتوکل علی اللہ تخت نشیں ہوا۔
852ء: امیر قرطبہ عبدالرحمن دوم فوت ہوا۔ محمد بن عبدالرحم الاوسط تخت نشیں ہوا۔
855ء: عباسی وزیر ابو الحسن علی ابن الفرات بغداد میں پیدا ہوا۔
858ء: مسلم منجم و ماہر فلکیات، ریاضی دان جابر بن سنان البتانی حرانبلاد الشام میں پیدا ہوا۔
858ء: عباسی خلیفہ المتوکل علی اللہ نے نئے شہر الجعفریہ کی بنیاد رکھی۔
858ء: فارسی صوفی اور مصنف حسین بن منصور حلاج شہر صوبہ فارس میں پیدا ہوا۔
860ء: احمد سامان خدا نے ماوراء النہر میں دولت سامانیہ کی بنیاد رکھی۔​
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
871ء: اٹلی کے بادشاہ لوئی دوم نے اٹلی کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع مقام باری پر قبضہ کر لیا۔ جس کے نتیجے میں بربر امارت یعنی امارت باری کا خاتمہ ہو گیا جو ایک قلیل المدتی امارت تھی۔
873ء: مشرقی فارس کا علاقہ خراسان آل طاہر کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ خراسان کو دولت صفاریہ کے حکمران یعقوب ابن اللیث الصفار نے دولت صفاریہ میں شامل کر لیا۔ دولت آل طاہر زوال پزیر ہونا شروع ہوئی۔
872ء: مسلم مفکر و فلسفی فارابی موجودہ قازقستان کے شہر فاراب میں پیدا ہوا۔ وفات 950ء
873ء: سلطنت فاطمیہ کا بانی عبیداللہ مہدی پیدا ہوا۔
873ء: اگست — افریقی اغالبہ نے سسلی کے شہر سرقوسہ، صقلیہ کا محاصرہ کر لیا۔
873ء: 21 مئی — افریقی اغالبہ کا سرقوسہ، صقلیہ پر مکملاً قبضہ ہو گیا۔ سرقوسہ، صقلیہ بازنطینیوں کے ہاتھوں سے ہمیشہ کے لیے نکل گیا۔
874ء: 4 جنوری — شیعوں کے گیارہویں امام حسن بن علی عسکری سامر میں فوت ہوئے۔ محمد بن حسن مہدی ان کا جانشین ہوا۔ جنوبی عراق میں زنج قوم نے بغاوت کے اعلان میں خود مختاری قائم کرلی۔ دولت سامانیہ کا بانی اور امیر احمد سامان خدا فوت ہوا۔ نصر اول اُن کا جانشین ہوا۔
876ء: قاہرہمصر میں طولونی امیر مصر احمد ابن طولون کے حکم سے مسجد ابن طولون کی تعمیر شروع ہوئی۔[1]
879ء:5 جون — دولت صفاریہ کا بانی یعقوب ابن اللیث الصفار فوت ہوا۔
879ء: قاہرہمصر مسجد ابن طولون کی تعمیر مکمل ہو گئی جس کی بنیاد 876ء میں رکھی گئی تھی۔[1]
883ء: دلدل میسوپوٹیمیا اور اہواز کے علاقوں میں زنج قوم کی بغاوت زنج ختم ہوئی۔ عباسیوں کو مکمل فتح ہوئی۔
887ء: عرب شاعر، انجنئیر، ہر فن مولا، موجد، طبیب اور ماہر موسیقار عباس ابن فرناس اندلس کے شہر قرطبہ میں 77 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ پیدائش 810ء
891ء: بحرین میں قرامطہ نے سلطنت قائم کرلی۔
891ء: 2 جون— عباسی ولی عہد شہزادے الموفق باللہ کا بغداد میں اِنتقال ہوا، اُسے الرصافہ عراق میں دفن کیا گیا۔
891ء: جون— عبیداللہ ابن سلیمان عباسی وزیر مقرر ہوا۔
892ء: اگست— دولت سامانیہ کے امیر نصر اول فوت ہوا۔ اسماعیل ابن احمد امیر سامانیہ مقرر ہوا۔
892ء: 15 اکتوبر — عباسی خلیفہ المعتمد باللہ فوت ہوا۔ المعتضد باللہ بحیثیت خلیفہ تخت نشیں ہوا۔
893ء: یمن میں الہادی یحیی ابن الحسین ابن القاسم نے دولت زیدیہ قائم کی۔
894ء: خاندان رستم اسپین کے ماتحت ہوا۔
896ء: 18 جنوری— حاکم مصرو شام خماوریہ بن احمد بن طولون مصر کے دار الحکومت القطائع میں فوت ہوا۔ جیش بن خمارویہ بحیثیت حاکم مصروشام تخت نشیں ہوا۔
896ء: نومبر— فقہائے مصر اور قاضیانِ مصر کے فتویٰ کے مطابق حاکممصروشام جیش بن خمارویہ کو اُس کے وزیر علی ابن احمد المضراعی کے ہمراہ قتل کر دیا گیا۔
898ء: آل بویہ کا بانی رکن الدولہ دیلمی شہر دیلم ملک فارس میں پیدا ہوا۔
898ء: قرامطہ نے بصرہ پر قبضہ کر لیا۔ صدی کے اِختتام تک مسلم آبادی دنیا کی کل آبادی کا تیسرا حصہ تھی۔

 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
901ء: 23 جنوری— مکمل سورج گرہن واقع ہوا۔ یہ بغداد اور مسلم ریاستوں میں دکھائی دیا۔[1]
901ء: 18 فروری— عباسی منجم، ماہر طبیعیات، ریاضی دان اور مترجم ثابت بن قرہ بغداد میں 75 سال کی عمر میں فوت ہوا۔
901ء: اپریل— عباسی وزیر عبیداللہ ابن سلیمان بغداد میں فوت ہوا۔
902ء: 20 اپریل — دولت صفاریہ کا دوسرا امیر عمر بن اللیث الصفاری بغداد میں فوت ہوا۔ اُس نے بحیثیت امیر 879ء سے 901ء تک حکومت کی۔
902ء: 5 اپریل— عباسی خلیفہ المعتضد باللہ بغداد میں فوت ہوا۔ المعتضد باللہ کا بیٹا المکتفی باللہ خلیفہ بنا۔
902ء: 1 اگست— اغالبہ نے سسلی کے علاقہ تاورمینا کا محاصرہ کر لیا اور تاورمینا پر مکمل مسلم قبضہ ہو گیا۔ تاورمینا کی فتح کے بعد سسلیمیں مسلم فتوحات مکمل ہوگئیں۔ یہ فتوحات جون 827ءمیں شروع ہوئی تھی۔ اغالبہنے بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر سسلی پر مکمل قبضہ کر لیا اور سسلی دولت اغالبہ کا حصہ بن گیا۔
902ء: 14 اگست — عباسی وزیر بدر المعتضدی کو بحالت نماز شہر المدائن میں قتل کر دیا گیا۔ وہ 892ء میں عباسی وزیر بنایا گیا تھا۔
902ء: ہسپانیہ کے جزائر بلیبار کا سب سے بڑا جزیرہ مایورکا پر قرطبہ کی اُموی حکومت کا قبضہ ہو گیا۔
903ء: قرامطہ کا بانی ابو سعید حسن الجنابی قتل ہو گیا۔ وہ فارس کے علاقہ شہرستان گناوہ میں پیدا ہوا تھا جو موجودہ دور میں ایران کے صوبہ صوبہ بوشہر کا حصہ تھا۔ ابو طاہر سلیمان الجنابی اپنے باپ کی جگہ قرامطہ کا حاکم مقرر ہوا۔
903ء: 9 دسمبر— مسلم ماہر فلکیات و منجم عبدالرحمن الصوفی فارس کے شہر رے میں پیدا ہوا۔
904ء: 13 فروری— قرامطہ کے سربراہ یحییٰ ابن زکرویہ کو بغداد میں قتل کر دیا گیا۔ اُس نے کئی سال صحرائے شام میں غارت گری پھیلائے رکھی۔
904ء: اکتوبر—عباس ابن الحسن الجرجرائی عباسی وزیر بنا۔
904ء: 30 دسمبر— طولونی امیر مصر ہارون ابن خمارویہ مصر میں فوت ہو گیا۔ وہ 896ء میں امیرمصر بنا تھا۔ اُس کا چچا شیبان ابن محمد ابن طولون امیر مصر بن گیا۔
905ء: 10 جنوری— آخری طولونی امیر مصر شیبان ابن احمد ابن طولون نے عباسی سپہ سالار محمد ابن سلیمان الکاتب کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اِس طرح دولت طولونیہ کا مصر سے بالکل خاتمہ ہو گیا۔
905ء: عباسی سپہ سالار عیسیٰ ابن محمد النوشاری کو گورنر مصر مقرر کر دیا گیا۔ وہ دولت طولونیہ کے بعد پہلا مقرر ہونے والا عباسی گورنر تھا۔تکین الخزاری امیر مصر مقرر ہوا۔
906ء: سامانی امیر نصر الثانی بخارا میں پیدا ہوا۔
908ء: عباسی خلیفہ المتقی باللہ بغداد میں پیدا ہوا۔
908ء: ابو الحسن مؤنس المظفر خلافت عباسیہ کا کمانڈر اِنچیف مقرر ہوا۔
908ء: دولت صفاریہ کا خاتمہ ہو گیا۔ دولت سامانیہ نے تمام صفاری ریاستوں اور علاقوں میں دولت سامانیہ میں شامل کر لیا۔
908ء:13 اگست— عباسی خلیفہ المکتفی باللہ بغداد میں 31 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ المعتضد باللہ کا دوسرا بیٹا المقتدر باللہ خلیفہ بنا۔
908ء: 17 دسمبر— عباسی وزیر عباس ابن الحسن الجرجرائی قتل ہوا۔
909ء: مارچ— سلطنت فاطمیہ کا مصر میں زور و شور سے قیام عمل میں آیا۔ اغالبہ کا اِقتدار اِختتام کو پہنچا۔
910ء: موسمبہار— عباسی سپہ سالار اور گورنر مصر عیسیٰ ابن محمد النوشاری فوت ہوا۔
910ء: 11 اپریل — مسلم صوفی جنید بغدادی بغداد میں اِنتقال کر گئے۔
911ء تا 920ء
911ء: ابن الراوندی 84 سال کی عمر میں فوت ہوا۔
912ء: مسلم ریاضی دان احمد بن یوسف دمشق میں فوت ہوا۔
912ء: 15 اکتوبر— امیر قرطبہ عبداللہ ابن محمد الاموی فوت ہوا۔ عبد الرحمٰن الناصر امیر قرطبہ بنا۔
914ء: 12 جنوری— سامانی امیر احمد بن اسماعیل سامانی قتل ہو گیا۔ اُس کا بیٹا نصر الثانی امیر دولت سامانیہ تخت نشیں ہوا۔
915ء: عرب شاعر المتنبی کوفہ میں پیدا ہوا۔
916ء: 22 جون— امیر حلب سیف الدولہ حمدانی حلب میں پیدا ہوا۔
917ء: عباسی جرنیل اور صوبہ دار گورنر العباس بن عمرو الغنوی فوت ہوا۔
919ء: 3 فروری : بدھ28 شعبان306ہجری— مختصر ترین مکمل سورج گرہن واقع ہوا جس کا سایہ صرف 9 سیکنڈ تک برقرار رہا۔ یہ گرہن بغداد میں اور مسلم ریاستوں میں دکھائی نہیں دیا۔
921ء تا 930ء
921ء: مہدیہ (شہر) سلطنت فاطمیہ کا نیا دار الحکومت بنا۔
921ء: فاطمیوں نے شہر تلمسان موجودہ شمال مغربی الجزائر کا شہر اور مراکش کا شہر فاس سلطنت فاطمیہ میں شامل کرلیے۔
921ء: 21 جون— احمد بن فضلان کو پہلی بار عباسی خلیفہ المقتدر باللہ کی جانب سے وولگا بلغاریہ کے پہلے مسلم امیر المش کی طرف روانہ کیا گیا۔ احمد بن فضلان کی بہترین سفارت سے خلافت عباسیہ اور وولگا بلغاریہ اتحادی بن گئے۔
922ء: 26 مارچ— فارسی صوفی اور مصنف حسین بن منصور حلاج کو بغداد میں شاہی فرمان کے مطابق صلیب پر چڑھا دیا گیا۔
922ء: 12 مئی— احمد بن فضلان بحیثیت عباسی سفیر وولگا بلغاریہ کے دار الحکومت بولغار پہنچا۔
922ء: فارسی ریاضی دان، منجم و ماہر فلکیات النیریزی 57 سال کی عمر میں بغداد میں فوت ہوا۔
923ء: مفکر و فلسفی ابو حیان التوحیدی بغداد میں پیدا ہوا۔
923ء: 17 فروری— مسلم مورخ ابن جریر طبری بغداد میں 86 سال کی عمر میں فوت ہوا۔
924ء: 18 جولائی— عباسی وزیر ابو الحسن علی ابن الفرات کو قتل کر دیا گیا۔
927ء: کُرد سردار ابن ضحاک عباسی گورنر طرسوس ثمل الزلفی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ ابن ضحاک نے اسلام کو چھوڑ کر مسیحیت اخیتار کرلی تھی اور وہ قیصر روم رومانوس اول کے پاس چلا گیا تھا جس نے اُسے طرسوس میں اُسے رہائش کے لیے قلعہ دے دیا تھا۔
929ء: 16 جنوری— امیر قرطبہ عبد الرحمٰن الناصر نے قرطبہ میں خلیفہ ہونے کا اعلان کیا۔
929ء: مسلم منجم و ماہر فلکیات، ریاضی دان جابر بن سنان البتانی سامرا میں 71 سال کی عمر میں فوت ہوا۔​
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
931ء: ستمبر— الحسین ابن القاسم کا تقرر بطور عباسی وزیر کیا گیا۔
932ء: مئی— الحسین ابن القاسم کو عباسی وزیر کے عہدہ سے معزول کر دیا گیا۔
932ء: 31 اکتوبر— عباسی خلیفہ المقتدر باللہ 37 سال کی عمر میں بغداد میں فوت ہوا۔ المعتضد باللہ کا تیسرا بیٹا القاھر باللہ خلیفہ بنا۔
933ء: اگست— خلافت عباسیہ کا کمانڈر اِنچیف ابو الحسن مؤنس المظفر فوت ہوا۔
933ء: 16 مارچ— امیر مصر تکین الخزاری فوت ہوا۔
933ء: جولائی— محمد بن القاسم عباسی وزیر مقرر ہوا۔ اُس کا تقرر عباسی خلیفہ القاھر باللہ کے عہد خلافت میں ہوا۔
933ء: اکتوبر— عباسی وزیر محمد بن القاسم معزول کر دیا گیا۔
934ء: 4 مارچ— سلطنت فاطمیہ کا بانی عبیداللہ مہدی 61 سال کی عمر میں فوت ہوا۔محمد قائم بامراللہ اُس کا جانشین تخت نشین ہوا۔
934ء: 19 اپریل—عباسی خلیفہ القاھر باللہ کو معزول کر دیا گیا۔
934ء: 23 اپریل—عباسی خلیفہ راضی باللہ تخت نشیں ہوا۔
934ء: رکن الدولہ دیلمی نے شہر رے کو فتح کر لیا اور یہاں آل بویہ کی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ وہ آل بویہ کا پہلا دیلمی امیر تھا۔
934ء: فارسی اسماعیلی مفکر ابو حاتم احمد ابن حمدان الرازی فوت ہوا۔ وہ اسماعیلیشیعہ جماعت کا داعی مطلق بھی تھا ۔
935ء: ناصر الدولہ حمدانی امیر موصل بنا۔
936ء: مسلم ماہر طبیب اور ماہر جراحی ابو القاسم الزہراوی اندلس کے شہر مدینہ الزہراء میں پیدا ہوا۔
938ء : بغداد پر ابو الحسین بجکم المکانی کا تسلط قائم ہو گیا۔
938ء: ستمبر— ابو الحسین بجکم المکانی عباسی امیر الامراء مقرر ہوا۔
940ء: 10 جون — مسلم ماہر فلکیات و منجم، ریاضی دان ابو الوفا البوزجانی فارس کے شہر بوزجان میں پیدا ہوا۔
940ء: 23 دسمبر— عباسی خلیفہ راضی باللہ 33 سال کی عمر میں بغداد میں فوت ہوا۔المقتدر باللہ کا بیٹا المتقی باللہ خلیفہ بنا۔
941ء: شیعی محدث محمد بن یعقوب الکلینی بغداد میں فوت ہوا۔
941ء: 21 اپریل— عباسی امیر الامراء ابو الحسین بجکم المکانی ایک کُرد کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔
942ء: بانی سلطنت غزنویہ ابو المنصور سبکتگین بمقام بارسغان میں پیدا ہوا۔
943ء: مسلم جغرافیہ دان اور سیاح ابن حوقل مشرقی دنیا کی سیاحت کو روانہ ہوا۔
943ء: اواخرمارچ— سامانی امیر نصر الثانی تپ دق تخت سامانیہ سے دستبردار ہو گیا۔
943ء: 6 اپریل— سامانی امیر نصر الثانی تپ دق کے مرض سے اِنتقال کرگیا۔
944ء: قرامطہ کا حاکم ابو طاہر سلیمان الجنابی مرض چیچک میں مبتلاء ہوکر بحرین میں مرگیا۔ وہ باقاعدہ طور پر 923ء میں قرامطہ کا امیر بن گیا تھا۔
944ء: 26 اگست— عباسی خلیفہ المتقی باللہ کو معزول کر دیا گیا۔ بعد ازاں اُسے اندھا کر دیا گیا۔ المستکفی باللہ خلیفہ بنا۔
946ء: 28 جنوری— عباسی خلیفہ المستکفی باللہ کو معزول کر دیا گیا۔ المطیع باللہ بحیثیت خلیفہ تخت نشیں ہوا۔
946ء: 17 مئی— سلطنت فاطمیہ کا حکمران محمد قائم بامراللہ 53 سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔المنصور باللہ تخت نشیں ہوا۔
949ء: ستمبر/اکتوبر— عباسی خلیفہ المستکفی باللہ 44 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ اُسے 28 جنوری 946ء کو معزول کر دیا گیا تھا۔
950ء: 14 دسمبر950ء سے 12 جنوری951ء کا درمیانی عرصہ— مسلم مفکر و فلسفی فارابی دمشق میں 78 سال کی عمر میں فوت ہوا۔
951ء تا 960ء
953ء: 19 مارچ— سلطنت فاطمیہ کا حکمران المنصور باللہ 40 سال کی عمر میں قاہرہ میں فوت ہوا۔معز لدين اللهتخت نشیں ہوا۔
954ء: اگست— سامانی امیر نوح اول سامانی فوت ہوا۔ اُس کا بیٹا عبدالملک اول سامانی بحیثیت امیر دولت سامانیہ تخت نشیں ہوا۔
961ء تا 970ء
961ء: 15 اکتوبر— امیرقرطبہ اور قرطبہ کے پہلے مسلم خلیفہ عبدالرحمٰن الناصر کا 70 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ الحکم الثانی ابن عبدالرحمن الناصر خلیفہ قرطبہ بنا۔
965ء: 23 ستمبر— عرب شاعر المتنبی 50 سال کی عمر میں النعمانیہ عراق میں فوت ہوا۔
967ء: ناصر الدولہ حمدانی امیر موصل فوت ہوا۔ ابو تغلب امیر موصل بنا۔
967ء: 9 فروری— امیر حلب سیف الدولہ حمدانی بمقام حلب 51 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ اُس کی تدفین موجودہ سیلوان، دیار باقر میں ہوئی۔سعد الدولہ حمدانی جانشین ہوا۔
968ء: ابو تغلب امیرموصل کو جلاوطن کر دیا گیا۔
968ء: جولائی— عباسی خلیفہ المتقی باللہ 60 سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اُسے 26 اگست 944ء کو معزول کر دیا گیا تھا۔
970ء: ہفتہ 2 اپریل— جامعہ الازہر کی تعمیر شروع ہوئی۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
1001ء تا 1010ء
1001ء: سلطان محمود غزنوی نے پشاور میں ہندو شاہی افواج کو شکست دی۔
1003ء: 3 اگست— عباسی خلیفہ الطائع باللہ 71 سال کی عمر میں بغداد میں فوت ہوا۔ اُسے بحیثیت خلیفہ 30 اکتوبر991ء کو معزول کر دیا گیا تھا۔
1004ء: سلطان محمود غزنوی نے بھاٹیہ پر قبضہ کر لیا۔
1005ء: سلطان محمود غزنوی نے ملتان اور غور پر قبضہ کر لیا۔
1008ء: سلطان محمود غزنوی نے راجپوتوں کو شکست دی۔
1009ء: نومبر— مشہور صوفی بزرگ سید علی بن عثمان الہجویری پیدا ہوئے۔
1010ء: ہسپانیہ میں خلیفہ ھشام المؤيد بالله‎‎‎ دستبردار ہو گیا۔ محمد المہدی باللہ تخت نشیں ہوا۔
1010: ماہر طب العین علی ابن عیسیٰ الکحال اِس زمانہ میں بقید حیات تھا۔
1011ء تا 1020ء
1013ء: مسلم ماہر طبیب اور ماہر جراحی ابو القاسم الزہراوی اندلس کے شہر مدینہ الزہراء میں 77 سال کی عمر میں وفات پائی۔
19 اپریل1013ء: قرطبہ کے دوسرے اُموی خلیفہ ھشام المؤيد بالله کا اِنتقال بمقامقرطبہ ہوا۔ اُس کا بیٹا سلیمان المستعین باللہ قرطبہ کا امیر و خلیفہ بنا۔
1023ء: مفکر و فلسفی ابو حیان التوحیدی شیراز میں 100 سال کی عمر میں فوت ہوا۔
1029: 20 جنوری— سلجوقی سلطان الپ ارسلان پیدا ہوا۔
1030ء: 30 اپریل— سلطان محمود غزنوی نے 58 سال کی عمر میں غزنی میں وفات پائی۔ اِن کی تدفین غزنی میں ہوئی۔
1031ء: خلافت قرطبہ کے آخری خلیفہ اندلس ہشام المعتد باللہ کو معزول کر دیا گیا۔ اندلس میں اموی خلافت قرطبہ کا خاتمہ ہو گیا۔
1031ء: 29 نومبر— عباسی خلیفہ القادر باللہ فوت ہوئے۔ القائم بامر اللہ چھبیسویں عباسی خلیفہ کی حیثیت سے تخت نشیں ہوا۔
1036ء: 13 جون— دولت فاطمہ کے ساتویں حکمران علی الظاہر کا انتقال ہوا۔ مستنصر باللہ تخت نشین ہوا۔
1037ء: طغرل بیگ نے خلافت عباسیہ کے دارالحکومت بغداد پر قبضہ کر لیا اور بغداد کو سلجوقی سلطنت کا حصہ بنادیا گیا۔
1040ء: 17 جنوری— غزنوی سلطان مسعود غزنوی کا انتقال ہوا۔ محمد غزنوی تخت نشین ہوا۔
1041ء تا 1050ء
1041ء: مودود غزنوی نے محمد غزنوی کو تخت سے ہٹا دیا اور خود سلطنت غزنویہ کی حکمرانی سنبھالی۔
1042ء: جنوری— بلاد الشام کے فاطمی گورنر اور مبصر شرف المعالی ابوالمنصور انوشتگین قلعہ حلب میں فوت ہو گیا۔
1048ء: 9 دسمبر— مسلم مورخ، ماہر فلکیات، جغرافیہ دان، ماہر طبیعیات، ریاضی دان ابو ریحان البیرونی بمقام غزنی سلطنت غزنویہ میں 75 سال کی عمر میں فوت ہوا۔
1049ء: 30 اگست— فاطمی سپہ سالار افواج ابوالفضل رفق الخادم حلب میں فوت ہوا۔
1051ء تا 1060ء
1061ء تا 1070ء
1063ء: 4 ستمبر— سلجوقی سلطان طغرل بیگ فوت ہوا۔ الپ ارسلان سلجوقی سلطان کی حیثیت سے تخت نشین ہوا۔
1063ء: اکتوبر کے بعد — طغرل بیگ کے مدفن یعنی برج طغرل کی تعمیر شروع ہوا۔
1067ء: نجم الدین نسفی قرشی شہر میں پیدا ہوئے۔
1071ء تا 1080ء
1072ء: 25 ستمبر— مشہور صوفی بزرگ سید علی بن عثمان الہجویری لاہور میں 63 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
1072ء: 15 دسمبر— سلجوقی سلطان الپ ارسلان دریائے جیحوں کے قریبی علاقہ میں 43 سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔ملک شاہ سلجوقی سلجوقی سلطان بن گیا۔
1072ء: مصر میں بدر الجمالی فاطمی وزیر بن گیا۔
1075ء: 2 اپریل— عباسی خلیفہالقائم بامر اللہ فوت ہوا۔ المقتدی باللہ ستائیسویں عباسی خلیفہ کی حیثیت سے تخت نشیں ہوا۔
1077ء: سلجوقی ترکوں نے ترکی میں سلطنت سلجوقی کی بنیاد رکھی۔
1077ء: ترکی شہزادہ اور سلاجقہ روم کا جدِ امجد قتلمش فوت ہوا۔ اُس کا باقاعدہ اختیار حکومت 1060ء میں شروع ہوا تھا۔
1081ء تا 1090ء
1081ء: برکیاروق (سلجوقی سلطان) پیدا ہوا۔
1082ء: الجیریا دولت مرابطین کا حصہ بن گیا۔
1086ء: سلاجقہ روم کا بانی سلطان سلیمان بن قتلمش فوت ہوا۔
1091ء تا 1100ء
1092ء: 19 نومبر— ملک شاہ سلجوقی بغداد میں 37 سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔ تدفین اصفہان میں کی گئی۔محمود اول سلجوقی سلجوقی سلطان کی حیثیت سے تخت نشین ہوا۔
1094ء: فاطمی وزیر بدر الجمالی قاہرہ میں فوت ہوا۔
1094ء: 10 جنوری— مستنصر باللہ الفاطمی کا انتقال ہوا۔ ابو القاسم احمد المستعلی باللہ تخت نشین ہوا۔
1094ء: 3 فروری— عباسی خلیفہ المقتدی باللہ فوت ہوا۔ المستظہر باللہ اٹھائیسویں عباسی خلیفہ کی حیثیت سے تخت نشیں ہوا۔
1094ء: نومبر— محمود اول سلجوقی فوت ہوا۔ برکیاروق سلجوقی سلطان کی حیثیت سے تخت نشین ہو
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
1101ء — 1110ء
1101ء: 12 دسمبر— فاطمی خلیفہ ابو القاسم احمد المستعلی باللہ فوت ہوا۔ وہ دولت فاطمیہ کا نواں خلیفہ اور اسماعیلیوں کا اُنیسواں اِمام تھا۔ ابو علی منصور الآمر باحکام اللہ تخت نشین ہوا۔
1104ء: 2 دسمبر— سلجوقی سلطان برکیاروق 23 سال کی عمر میں بروجرد میں انتقال کرگیا۔
1105ء: سلجوقی سلطان برکیاروق کی وفات ہوئی۔ غیاث الدین محمد اول تخت نشیں ہوا۔
1106ء: دولت مرابطین کا عظیم رہنما اور بانی یوسف بن تاشفین فوت ہوا۔
1107ء:سلاجقہ روم کے چوتھے سلطان قلج ارسلان کا اِنتقال موصل کے قریب خابور دریا کے قریبی جوار میں ہوئی۔ ملک شاہ سلجوقی تخت نشیں ہوا۔
1108ء: افریقا میں دولت زیریون کے حکمران تمیم ابن المعز کی وفات ہوئی۔ یحیی ابن تمیم تخت نشیں ہوا۔
1111ء: 18 دسمبر— مفکر اسلام، حجۃ الاسلام، متکلم و فلسفی امام غزالی فوت ہوئے۔
1116ء: سلجوقی سلطان ملک شاہ سلجوقی کا اِنتقال ہوا۔ رکن الدین مسعود سلجوقی سلطان سلجوقی تخت نشیں ہوا۔
1118ء: بغداد میں سلجوقی سلطان محمد اول فوت ہوا۔ محمد دوم تخت نشین ہوا۔
1118ء: 6 اگست— عباسی خلیفہ المستظہر باللہ فوت ہوا۔ المسترشد باللہ خلیفہ بنا۔ اسپین میں عیسائیوں نے سرقسطہ شہر پر قبضہ کر لیا۔
1121ء — 1130ء
1127ء: امیر حلب، سلطان عماد الدین زنگی نے موصل شہر میں دولت زنگیہ قائم کی اور پہلے حکمران بنے۔
1127ء: خوارزم شاہی سلطنت کے حکمران قطب الدین محمد اول خوارزم شاہ کا اِنتقال ہوا۔ علاء الدین اتسز تخت نشیں ہوا۔
1130ء: 7 اکتوبر— فاطمی خلیفہ ابو علی منصور الآمر باحکام اللہ فوت ہوا۔ وہ دولت فاطمیہ کا دسواں خلیفہ اور اسماعیلیوں کا بیسواں اِمام تھا۔ فاطمی خلیفہ ابوالمیمون عبدالمجید الحافظ الدین حاکم مصر بنا۔
1131ء — 1140ء
1131ء: بغداد کے سلجوقی سلطان محمد دوم کا اِنتقال ہوا۔ طغرل دوم اُس کا جانشین ہوا۔
1135ء: عباسی خلیفہ المسترشد باللہ قتل ہوا۔ بغداد میں سلجوقی سلطان طغرل دوم کا اِنتقال ہوا۔ سلجوقی سلطان غیاث الدین سلجوقی فوت ہوا۔
1135ء: 29 اگست — عباسی خلیفہ راشد باللہ خلیفہ مقرر ہوا۔
1136ء: 15 اپریل— صاحب الہدایہ برہان الدین مرغینانی رشتون میں پیدا ہوئے۔
1138ء: 27 مئی — عباسی خلیفہ راشد باللہ کو معزول کر دیا گیا۔ المقتفی باللہ عباسی خلیفہ مقرر ہوا۔
1138ء: 6 جون — عباسی خلیفہ راشد باللہ اصفہان میں قتل ہوا۔
1141ء — 1150ء
1142ء: فقہ حنفی کے عالم نجم الدین نسفی 75 سال کی عمر میں سمرقند میں فوت ہوئے۔
1142ء: 12 فروری— ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کے بانی معین الدین چشتی سیستان میں پیدا ہوئے۔
1144ء: 28 نومبر — سلطان عماد الدین زنگی نے شہر الرہا کا محاصرہ کر لیا۔ محاصرہ الرہا کی ابتدا۔
1144ء: 24 دسمبر — الرہا کا محاصرہ ختم ہوا ۔
1144ء: دوسری صلیبی جنگ کی ابتدا ہوئی۔
1145ء: سلسلہ سہروردیہ کے بانی شیخ شہاب الدین عمر ابوحفص سہروردی سہرورد میں پیدا ہوئے۔
1146ء: 14 ستمبر— امیرحلب سلطان عماد الدین زنگی فوت ہوئے۔
1147ء: دولت موحدین کے حکمران عبدالمومن نے دولت مرابطین کا تختہ اُلٹ دیا۔ دولت مرابطین کا آخری حکمران اسحاق بن علی قتل ہوا۔
1149ء: 8 اکتوبر— فاطمی خلیفہ ابوالمیمون عبدالمجید الحافظ الدین فوت ہوا۔
1149ء: دوسری صلیبی جنگ کا خاتمہ ہوا۔
1151ء — 1160ء
1159ء: 23 مارچ — عباسی خلیفہ المکتفی باللہ بغداد میں فوت ہوا۔ مستنجد باللہ خلیفہ بنا۔
1161ء — 1170ء
1163ء: دولت موحدین کے حکمران عبدالمومن کا انتقال ہوا۔
1169ء: 18 جنوری— فاطمی وزیر شاور کو قتل کر دیا گیا۔
1169ء: 22 فروری— اسد الدین شیرکوہ فوت ہوا۔
1170ء: سلسلہ سہروردیہ کے بزرگ بہاؤ الدین زکریا ملتانی پیدا ہوئے۔
1170ء: 18 دسمبر— عباسی خلیفہ المستنجد باللہ فوت ہوا۔ المستضی بامر اللہ بحیثیت عباسی خلیفہ تخت نشیں ہوا۔
1171ء — 1180ء
1171ء: دولت فاطمیہ کے حکمران العاضد فوت ہوا۔ دولت فاطمیہ کا خاتمہ ہو گیا۔
1171ء: مصر میں صلاح الدین ایوبی کی حکومت قائم ہو گئی۔ ایوبی سلطنت کی بنیاد صلاح الدین ایوبی نے رکھی۔
1174ء: صلاح الدین ایوبی نے بلاد الشام کو ایوبی سلطنت میں شامل کر لیا۔
1175ء: اپریل — محدثہ خدیجہ نہروانیہ کا بغداد میں انتقال ہوا۔
1175ء: غوری خاندان نے ترکوں کو غزنی میں شکست دے کر غزنی غوری سلطنت میں شامل کیا۔
1179ء: شہاب الدین غوری نے پشاور فتح کر لیا۔
1180ء: 27 مارچ— عباسی خلیفہ المستضی بامر اللہ فوت ہوا۔ الناصر لدین اللہ تخت نشین ہوا۔
1181ء — 1190ء
1186ء: غوری خاندان نے سلطنت غزنویہ کے آخری جانشینوں کو خطۂ پنجاب میں دھکیل دیا۔
1187ء: 20 ستمبر تا 2 اکتوبر— فتح بیت المقدس، صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کو شکست دے کر یروشلم کو ان کے قبضے سے آزاد کروا لیا۔
1189ء: تیسری صلیبی جنگ کی ابتدا ہوئی۔
1191ء — 1200ء
1191ء — 1192ء: ترائن کی جنگیں
1192ء: تیسری صلیبی جنگ ختم ہو گئی۔
1193ء: 4 مارچ — سلطان صلاح الدین ایوبی دمشق میں انتقال کر گئے۔ العزیز عثمان بحیثیت سلطان ایوبی سلطنت تخت نشین ہوا۔
1194ء: دہلی سلطنت غوریہ کا حصہ بن گیا۔
1197ء: 28 اکتوبر— صاحب الہدایہ برہان الدین مرغینانی 61 سال کی عمر میں سمرقند میں فوت ہوئے۔
1198ء: 29 نومبر— سلطان مصر العزیز عثمان فوت ہوا۔ المنصور ناصر الدین محمد بحیثیت سلطان ایوبی سلطنت تخت نشین ہوا۔
1200ء: فروری— المنصور ناصر الدین محمد کو مصر کی حکومت سے معزول کر دیا گیا۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
1201ء - 1210ء
1202ء: محمد بن بختیار خلجی نے بنگال کے کثیر علاقوں کو فتح کر لیا۔
11 فروری 1203ء: سلطان سلطنت غوریہ غیاث الدین محمد غوری نے ہرات میں وفات پائی۔ شہاب الدین غوری جانشین ہوا۔
1204ء: شہاب الدین غوری نے غز ترکوں کو شکست دی۔
15 مارچ 1206ء: سلطان شہاب الدین غوری کو ضلع جہلم میں شہید کر دیا گیا۔
20 جون 1206ء: سلطان قطب الدین ایبک لاہور میں بحیثیت سلطان سلطنت دہلی تخت نشیں ہوئے۔
1210ء: نومبر/دسمبر– سلطان قطب الدین ایبک لاہور میں چوگاں کھیلتے ہوئے زخمی ہونے کے باعث فوت ہو گئے۔آرام شاہ سلطان دہلی بن گیا۔
1211ء - 1220ء
1211ء: مئی— التتمش نے آرام شاہ کو شکست دے کر خود سلطان دہلی بن گیا۔
1221ء - 1230ء
5 اکتوبر 1225ء: عباسی خلیفہ الناصر لدین اللہ فوت ہوا۔ الظاہر بامر اللہ عباسی خلیفہ بنا۔
10 جولائی 1226ء: عباسی خلیفہ الظاہر بامر اللہ فوت ہو گیا۔ المستنصر باللہ عباسی خلیفہ بنا۔
1223ء: 28 اکتوبر — فقہ حنبلی کے عالم شیخ الاسلام ابن قدامہ 79 سال کی عمر میں دمشق میں فوت ہوئے۔
1231ء - 1240ء
15 اگست 1231ء: خوارزمی سلطان جلال الدین مینگوبردی فوت ہوا۔
اگست 1231ء: خوارزمی سلطان جلال الدین مینگوبردی کی وفات پر خوارزم شاہی سلطنت ختم ہو گئی۔
1234ء: 25 ستمبر— سلسلہ سہروردیہ کے بانی شیخ شہاب الدین عمر ابوحفص سہروردی بغداد میں 89 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
1236ء: 15 مارچ — ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کے بانی معین الدین چشتی اجمیر میں فوت ہوئے۔
1236ء: 28 اپریل — خاندان غلاماں دہلی کے تیسرے سلطان التتمش کا دہلی میں انتقال ہوا۔ رکن الدین فیروز شاہ سلطان دہلی بنا۔
1236ء: 10 نومبر— رکن الدین فیرز شاہ کی معزولی کے بعد رضیہ سلطان سلطان دہلی بن گئی۔
1240ء: 13 اکتوبر— رضیہ سلطان کو قتل کر دیا گیا۔ معز الدین بہرام شاہ سلطان دہلی بن گیا۔
1241ء - 1250ء
1242ء: 10 مئی— معز الدین بہرام شاہ کو بحیثیت سلطان دہلی معزول کر دیا گیا۔ علاؤ الدین مسعود شاہ سلطان دہلی بنا۔
5 دسمبر 1242ء: عباسی خلیفہ المستنصر باللہ فوت ہوا۔ المستعصم باللہ عباسی خلیفہ بنا۔
1245ء: 10 جون— علاؤ الدین مسعود شاہ انتقال کرگیا۔ ناصر الدین محمود شاہ سلطان دہلی بن گیا۔
31 جولائی 1250ء: عزالدین ایبک مملوکی سلطان بن گیا۔
1251ء - 1260ء
1251ء: 24 نومبر— ملتان کے مشہور صوفی بزرگ شاہ رکن عالم پیدا ہوئے۔
20 فروری 1258ء: ہلاکو خان کے تاتاری فوجیوں نے آخری خلیفہ عباسی المستعصم باللہ کو قالین میں لپیٹ کر ڈنڈے مار مار کر زخمی کر دیا جس سے خلیفہ کی موت واقع ہو گئی۔
نومبر 1259ء: سیف الدین قطز مملوکی سلطان بن گیا۔
24 اکتوبر 1260ء: الملک الظاہر رکن الدین بیبرس بندقداری مملوکی سلطان بن گیا۔
1261ء - 1270ء
1262ء: 21 دسمبر— سلسلہ سہروردیہ کے بزرگ بہاؤ الدین زکریا ملتانی ملتان میں 92 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
1266ء: 18 فروری— سلطان دہلی ناصر الدین محمود شاہ انتقال کرگیا۔ اُس کا نائب غیاث الدین بلبن سلطان دہلی بن گیا۔
1271ء - 1280ء
اگست 1279ء: مملوکی سلطان بدرالدین سلامش تخت نشین ہوا۔
10 نومبر 1279ء: مملوکی سلطان بدرالدین سلامش کو سیف الدین قلاوون نے مملوکی سلطنت کے تخت و تاج سے معزول کرتے ہوئے حکومت خود سنبھال لی۔
1281ء - 1290ء
1285ء: 24 مارچ— الناصر الدین محمد بن قلاؤون پیدا ہوا۔
1287ء: جنوری— سلطان دہلی غیاث الدین بلبن انتقال کرگیا۔
1287ء: 14 جنوری— معز الدین کیقباد سلطان دہلی بن گیا۔
1290ء: یکم فروری— سلطان دہلی معز الدین کیقباد انتقال کرگیا۔ نو عمر شمس الدین کیومرث کو سلطان دہلی تسلیم کر لیا گیا۔
1290ء: 13 جون— نوعمر سلطان دہلی شمس الدین کیومرث کو قتل کر دیا گیا۔ جلال الدین خلجی سلطان دہلی بن گیا جس سے سلطنت دہلی کے دوسرے خاندانِ حکومت خلجی خاندان کی حکومت شروع ہوئی۔
1290ء: 10 نومبر— مملوکی سلطان مصر سیف الدین قلاوون انتقال کرگیا۔ صلاح الدین خلیل مملوکی سلطان بن گیا۔
1291ء - 1300ء
1291ء: معزول کردہ مملوکی سلطان بدرالدین سلامش قسطنطنیہ میں فوت ہو گیا۔
1293ء: 14 دسمبر— مملوکی سلطان مصر صلاح الدین خلیل انتقال کرگیا۔الناصر الدین محمد بن قلاؤون مملوکی سلطان بن گیا۔
1296ء: 19 جولائی— سلطان دہلی جلال الدین خلجی انتقال کرگیا۔ علاء الدین خلجی سلطان دہلی بن گیا۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
1301ء تا 1310ء
1301ء: سلطانِ بنگال رکن الدین کیکاؤس فوت ہوا۔ شمس الدین فیروز شاہ تخت نشیں ہوا۔ وہ 1322ء تک حکمران رہا۔
8 اپریل 1302ء: امیر غرناطہ ابو عبداللہ محمد دوم الفقیہ کا اِنتقال ہو گیا۔ اُس کا بیٹا ابو عبداللہ محمد سوم تخت نشیں ہوا۔
1308ء: 18 جنوری— سلسلہ سہروردیہ کے بزرگ جلال الدین جہانیاں جہاں گشت اوچ میں پیدا ہوئے۔
1310ء: علاء الدین خلجی نے دکن فتح کر لیا۔
1311ء تا 1320ء
1316ء: 4 جنوری—علاء الدین خلجی انتقال کرگیا۔ شہاب الدین عمر شاہ خلجی سلطان دہلی بن گیا۔
1316ء: 13 اپریل— شہاب الدین عمر شاہ خلجی انتقال کرگیا۔
1316ء: 14 اپریل— قطب الدین مبارک شاہ خلجی سلطان دہلی کی حیثیت سے تخت نشین ہوا۔
1316ء: مئی— ناصر الدین خسرو خان سلطان دہلی کی حیثیت سے تخت نشین ہوا۔
1321ء تا 1330ء
1321ء: 8 ستمبر— غیاث الدین تغلق نے ناصر الدین خسرو خان کو معزول کرتے ہوئے سلطنت دہلی کی زمام اپنے ہاتھوں میں لے لی۔ تغلق خاندان برسر حکومت آگیا۔
1321ء: اکتوبر— غیاث الدین تغلق نے ناصر الدین خسرو خان کو قتل کروا دیا۔
1336ء: 13 دسمبر— ملتان کے مشہور صوفی بزرگ شاہ رکن عالم 85 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
1361ء: 30 جولائی— علامہ بدرالدین العینی پیدا ہوئے۔
1384ء: 3 فروری— سلسلہ سہروردیہ کے بزرگ جلال الدین جہانیاں جہاں گشت اوچ میں 76 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
1393ء: 18 مئی — مفسر، محدث، فقہ حنبلی کے عالم ابن رجب حنبلی 57 سال کی عمر میں دمشق میں انتقال کرگئے۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
1401ء — امیر تیمور نے بلاد الشام پر لشکر کشی کی اور بلاد الشام برجی مملوک سلطنت مصر کے ہاتھوں سے نکل گیا۔
20 جولائی 1402ء— جنگ انقرہ، عثمانی سلطان بایزید اول اور بانی مغل سلطنت امیر تیمور کے درمیان انقرہ کے مقام پر جنگ لڑی گئی جس میں امیر تیمور کو فتح ہوئی اور بایزید اول کو گرفتار کر لیا گیا۔
19 فروری 1405ء— تیموری سلطنت کا بانی امیر تیمور 68 سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔ شاہ رخ تیموری تیموری سلطنت کا حکمران بنا۔
1451ء: 14 دسمبر— فقہ حنفی کے عالم اور فقیہ علامہ بدرالدین العینی 90 سال کی عمر میں قاہرہ میں فوت ہوئے۔
1492ء: 2 جنوری — غرناطہ میں مسلم حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ اندلس (امارت غرناطہ ) پر 780 سالہ کا خاتمہ ہو گیا۔
1495ء: پیر21 ستمبر یکم محرم901ہجری— دسویں صدی ہجری کا آغاز ہوا۔
1498ء: مؤرخ میر خواند ہرات میں فوت ہوئے۔
1551ء: جنوری— شیخ عبدالحق محدث دہلوی دہلی میں پیدا ہوئے۔
1563ء: سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ حضرت ایشاں بخارا میں پیدا ہوئے۔۔
1592ء: جمعرات8 اکتوبر یکم محرم1001ہجری— گیارہویں صدی ہجری کا آغاز ہوا۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
1601ء تا 1610ء
1601ء: خاندیش مغلیہ سلطنت میں ضم کر لیا گیا۔
1605ء: 27 اکتوبر — مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کا فتح پور سیکری میں 63 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
1605ء: 8 نومبر — نورالدین جہانگیر بحیثیتِ مغل شہنشاہ تخت نشیں ہوا۔
1606ء: 30 مئی— سکھ مت کے پانچویں گرو ارجن دیو کو لاہور میں مغل شہنشاہ جہانگیر کے حکم سے قتل کر دیا گیا۔
1607ء: احمد نگر کا الحاق مغلیہ سلطنت سے ہوا۔
1611ء تا 1620ء
1611ء: کوچ بہار مغلیہ سلطنت میں شامل ہوا۔
1612ء: کامروپ مغلیہ سلطنت میں شامل ہوا۔
1618ء: تیپیرہ مغلیہ سلطنت میں شامل ہوا۔
1617ء: 22 نومبر— مصطفیٰ اول پندرہویں عثمانی سلطان کی حیثیت سے تخت نشین ہوا۔
1618ء: 26 فروری— مصطفیٰ اول کو معزول کر دیا گیا۔
1621ء تا 1630ء
1627ء: 28 اکتوبر — مغل شہنشاہ نورالدین جہانگیر کا 58 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔شہریار مرزانے خود مغل شہنشاہ ہونے کا دعویٰ کر دیا۔
1628ء: 19 جنوری— شاہ جہاں مغل شہنشاہ ہندوستان بن گیا۔
1628ء: 23 جنوری— شہریار مرزا کو شاہ جہاں کے حکم سے لاہور میں قتل کر دیا گیا۔
1628ء: 14 فروری— شاہ جہاں کی آگرہ میں رسم تخت نشینی اداء کی گئی۔
1629ء: 19 جنوری — صفوی سلطنت کے حکمران شاہ عباس اول صفوی کا انتقال ہوا۔
1631ء تا 1640ء
1631ء: 17 جون — مغل ملکہ ارجمند بانو بیگم المشہور ممتاز محل 38 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔
1636ء: 27 دسمبر— سلطان سلطنت آچے سکندر مودا فوت ہوا۔
1640ء: 8 فروری — عثمانی سلطان مراد رابع 27 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
1640ء: 9 فروری — ابراہیم اول بحیثیتِ سلطان سلطنت عثمانیہ تخت نشیں ہوئے۔
1641ء تا 1650ء
1642ء: 19 جون — شیخ عبد الحق محدث دہلوی 91 سال کی عمر میں دہلی میں فوت ہوئے۔
1642ء: 4 نومبر— سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ حضرت ایشاں 79 سال کی عمر میں لاہور میں فوت ہوئے۔
1651ء تا 1660ء
1656ء: 15 ستمبر— کوپرولو محمود پاشا وزیراعظم سلطنت عثمانیہ مقرر ہوا۔
1657: 26 اپریل— مشیر شاہجہانی اور گورنر پنجاب علی مردان خان انتقال کرگئے۔
1657: 26 ستمبر— عثمانی مؤرخ کاتب چلبی حاجی خلیفہ قسطنطنیہ میں فوت ہو گئے۔
1661ء تا 1670ء
1661ء: 31 اکتوبر— کوپرولوزادے فاضل احمد پاشا وزیراعظم سلطنت عثمانیہ مقرر ہوا۔
1666ء: 22 جنوری— شاہ جہاں 74 سال کی عمر میں آگرہ میں فوت ہوا۔
1671ء تا 1680ء
1676ء: 19 اکتوبر— قرہ مصطفیٰ پاشا وزیراعظم سلطنت عثمانیہ مقرر ہوا۔
1679ء: 2 اپریل کو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے حکم سے ہندوستان میں جزیہ نافذ العمل ہوا۔
1681ء تا 1690ء
1683ء: 25 دسمبر— قرہ ابراہیم پاشا وزیراعظم سلطنت عثمانیہ مقرر ہوا۔
1689ء: ہفتہ15 اکتوبر یکم محرم1101ہجری— بارہویں صدی ہجری کا آغاز ہوا۔
1691ء تا 1700ء
1692ء: 19 نومبر— سندھ کے جلیل القدر فقیہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی پیدا ہوئے۔
1700ء: مرشد قلی خان خود مختار نواب بنگال بن گیا۔ دار الحکومت مرشد آباد قرار پایا۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
1701ء — 1710ء
1703ء: 21 فروری کو شاہ ولی اللہ دہلی میں پیدا ہوئے۔
1703ء: وہابی تحریک کے بانی محمد بن عبدالوہاب العيينہ میں پیدا ہوئے۔
1707ء: 3 مارچ کو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے 88 سال کی عمر میں احمد نگر میں انتقال کیا۔
1703ء: 22 اگست کو احمد ثالث بحیثیتِ سلطان سلطنت عثمانیہ تخت نشیں ہوئے۔
1711ء — 1720ء
1713ء: 11 جنوری کو فرخ سیر مغل شہنشاہ بن گیا۔
1717ء: مرشد قلی خان نے بنگال کی خود مختاری و آزادی کا باضابطہ اعلان کر دیا۔
1719ء: 28 فروری کو فرخ سیر کو معزول کر دیا گیا۔ رفیع الدرجات کو مغل شہنشاہ مقرر کر دیا گیا۔
1719ء: 6 جون کو مغل شہنشاہ رفیع الدرجات بوجہ علالت معزول ہو گیا۔ شاہجہان ثانی مغل شہنشاہ بن گیا۔
1719ء: 13 جون کو مغل شہنشاہ رفیع الدرجات 19 سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔
1721ء — 1730ء
1723ء: 13 اگست— سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ سید نور محمد بدایونی دہلی میں فوت ہوئے۔
1725ء: کٹڑہ مسجد، مرشد آباد مکمل ہو گئی۔
1727ء: 30 جون— نواب بنگال مرشد قلی خان مرشد آباد میں فوت ہوا۔
1731ء — 1740ء
1741ء — 1750ء
1743ء: سلسلہ نقشبندیہ کے جلیل القدر بزرگ شاہ غلام علی دہلوی دہلی میں پیدا ہوئے۔
1745ء: یکم اپریل— صوبیدار و ناظم لاہور خان بہادر زکریا خان لاہور میں انتقال کرگئے۔
1747ء: 5 اپریل— احمد شاہ ابدالی شاہِ افغان کی حیثیت سے تخت نشین ہوا۔ افغانستان میں درانی سلطنت کا قیام عمل میں آیا۔
1751ء — 1760ء
1761ء — 1770ء
1761ء: 14 جنوری— پانی پت کی تیسری لڑائی، شاہِ افغان احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو پانی پت کے مقام پر شکست دی۔ پنجاب سے مرہٹوں کا خاتمہ ہو گیا اور شمالی ہند درانی سلطنت میں شامل ہو گیا۔
1761ء: 11 فروری— سندھ کے جلیل القدر فقیہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی 68 سال کی عمر میں ٹھٹہ میں فوت ہوئے۔
1762ء: 20 اگست کو شاہ ولی اللہ 59 سال کی عمر میں دہلی میں انتقال کر گئے۔
1771ء — 1780ء
1772ء: 16 اکتوبر— شاہِ افغان احمد شاہ ابدالی 50 سال کی عمر میں ہرات میں فوت ہوا۔تیمور شاہ درانی شاہِ افغان بن گیا۔
1781ء — 1790ء
1786ء: منگل24 اکتوبر یکم محرم1201ہجری— تیرہویں صدی ہجری کا آغاز ہوا۔
1791ء — 1800ء
1793ء: 18 مئی— شاہ افغان تیمور شاہ درانی 45 سال کی عمر میں کابل میں فوت ہوا۔
1799ء: 7 جولائی کو رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کر لیا۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
1801ء تا 1810ء
12 نومبر 1803ء: پہلی سعودی حکومت کے حکمران عبد العزیز بن محمد بن سعود کو قتل کر دیا گیا۔
29 مئی 1807ء: ینی چریوں نے سلطان سلیم ثالث کو معزول کر دیا۔
1811ء تا 1810ء
1811ء: اگست/ستمبر— برطانیہ نے انڈونیشیا پر قبضہ کر لیا۔
1818ء: ہندوستان کے مشرقی علاقہ بنگال میں فرائضی تحریک کا آغاز ہوا۔
1821ء تا 1820ء
جون 1828ء: روس نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف جنگ شروع کی۔
1824ء: 16 اکتوبر— سلسلہ نقشبندیہ کے جلیل القدر بزرگ شاہ غلام علی دہلوی 81 سال کی عمر میں دہلی میں فوت ہو گئے۔
1831ء تا 1830ء
1841ء تا 1840ء
1845ء: 10 ستمبر— شہنشاہ افغانستان زمان شاہ درانی فوت ہوا۔
1849ء: 2 اگست — جدید مصر کے بانی محمد علی پاشا کا انتقال ہوا۔
1850ء تا 1860ء
9 جولائی 1850ء: سید علی محمد باب کو شہنشاہ ایران ناصر الدین شاہ قاجارکے حکم پر تبریز میں پھانسی دے دی گئی۔
16 اکتوبر 1852ء: عبدالقادر الجزائری کو نپولین سوم کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔
1861ء تا 1860ء
1861ء: 14 جنوری— محمد سادس استنبول میں پیدا ہوا۔
1871ء تا 1870ء
1876ء: 31 اگست— عبدالحمید ثانی سلطان سلطنت عثمانیہ بنا۔
1881ء تا 1880ء
1883ء:جمعہ2 نومبر یکم محرم1301ہجری— چودہویں صدی ہجری کا آغاز ہوا۔
1891ء تا 1900ء
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,414
Reaction score
3,351
Points
1,937
Location
Manchester U.K
Gold Coins
334.32
Silver Coins
7,271.20
Diamonds
1.00
1ء تا 1910ء
13 جنوری 1902ء: جنگ ریاض (1902ء)، عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود نے ریاض پر قبضہ کر لیا۔
24 ستمبر 1902ء: انقلاب ایران کے رہنما روح اللہ خمینی پیدا ہوئے۔
25 ستمبر 1903ء: جماعت اسلامی پاکستان کے بانی ابو الاعلیٰ مودودی پیدا ہوئے۔
1904ء: مراکش فرانسیسی تسلط میں چلا گیا۔
1905ء: پیرس میں سلفی تحریک کا آغاز ہوا۔
14 اکتوبر 1906ء: اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا پیدا ہوئے۔
30 دسمبر 1906ء: ڈھاکا میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔
1909ء: 27 اپریل— عبدالحمید ثانی کو معزول کر دیا گیا۔ محمد خامس سلطان سلطنت عثمانیہ بنا۔
1911ء تا 1920ء
1913ء– محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔
جون 1916ء– سلطنت عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کا آغاز ہوا۔ تھامس لارنس کی قیادت میں عرب باغی قبیلوں نے حجاز ریلوے کو اکھاڑ دیا۔
23 نومبر 1917ء– سائیکس پیکو معاہدہ
15 جنوری 1918ء– جمال عبدالناصر پیدا ہوئے جو 1956ء سے 1970ء تک مصر کے صدر رہے۔
1918: 3 جولائی— محمد خامس نے بحیثیتِ خلیفہ اسلام اور سلطان سلطنت عثمانیہ استعفا دیا۔ محمد سادس سلطان سلطنت عثمانیہ بنا۔
1918ء: 10 فروری— عبدالحمید ثانی کا 75 سال کی عمر میں استنبول میں انتقال ہوا۔
اکتوبر 1918ء– سلطنت عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت ختم ہو گئی۔
19 مارچ 1919ء – 11 اکتوبر 1922ء: ترک جنگ آزادی
1921ء تا 1930ء
19 مارچ 1919ء – 11 اکتوبر 1922ء: ترک جنگ آزادی
1922ء: یکم نومبر— سلطنت عثمانیہ تحلیل ہو گئی اور محمد سادس کو معزول کر دیا گیا۔ البتہ عبد المجید ثانی کو خلافت کا عہدے پر برقرا رکھا گیا۔
1922ء: 19 نومبر— عبد المجید ثانی خلیفہ اسلام بنا۔
3 مارچ 1924ء: ترکی قومی اسمبلی نے عہدہ خلافت ختم کر دیا۔خلافت عثمانیہ کو ختم کر دیا گیا۔ آخری عثمانی خلیفہ عبد المجید ثانی کو برطرف کر دیا گیا اور اُنہوں نے فرانس میں پناہ لی۔
1926ء: 16 مئی— محمد سادس فوت ہوئے۔ عبد المجید ثانی جلاوطن کردیے گئے۔
1931ء تا 1940ء
3 اکتوبر 1958ء: عراق آزاد ہو گیا۔
1941ء تا 1950ء
23 اگست 1944ء: آخری عثمانی خلیفہ عبد المجید ثانی پیرس میں انتقال کر گئے۔
11 ستمبر: بانی پاکستان محمد علی جناح کراچی میں فوت ہوئے۔
1951ء تا 1960ء
1961ء تا 1970ء
28 ستمبر 1970ء: مصر کے صدر جمال عبدالناصر فوت ہو گئے۔
1971ء تا 1980ء
1980ء:پیر10 نومبر یکم محرم1401ہجری— پندرہویں صدی ہجری کا آغاز ہوا۔
2001ء — 2010ء
2002ء: فروری تا مارچ— بھارت میں گجرات ہندو مسلم فسادات ہوئے جس میں غیر سرکاری طور پر 1900 سے 2000 افراد ہلاک ہوئے۔
2002ء: 10 اکتوبر— پاکستان میں مارشل لاء 1999ء کے بعد پہلی بار عام انتخابات منعقد ہوئے جس میں پاکستان مسلم لیگ (ق) نے کامیابی حاصل کرلی اور میر ظفر اللہ خان جمالی وزیراعظم پاکستان بن گئے۔
2002ء: 12 اکتوبر— بالی بم دھماکہ جس میں 200 افراد ہلاک ہو گئے۔
2002ء: 23 نومبر— میر ظفر اللہ خان جمالی نے بحیثیتِ وزیراعظم پاکستان حلف اٹھایا۔
 
Top