لفظ "بابر "یا "ببر"کی تحقیق قسط دوم

Afzal339

Thread Starter
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
Designer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
511
Reaction score
766
Points
595
Gold Coins
72.50
Silver Coins
638.41
Diamonds
0.00
لفظ "ببر "کے معنی اردو زبان میں
نمبر ایک :
وہ شخص جو اونٹ اور گھوڑے کے پانو کے بال کاٹتا ہے
نمبر دو:لفظ "شیر کے ساتھ بطور صفت "ایک طاقت ور جنگلی جانور یعنی "ببر شیر" کے لیےمستعمل ہے اور مطلقا بھی مستعمل ہے جیسا کہ میر کا شعر ہے
جہاں ببر آیا نظر صید تھا
بیاباں اسی پہن سے قید تھا
نمبر تین : بن دم کا ایک صحرائی جانور جس کی نرم بالدار کھال کی پو ستین بنایا جاتاہے۔
جامع حسن اللغات اردو،جہانگیر اردو لغت،رابعہ اردو لغت،فیروز اللغات ،نئی اردو لغت اور (اردو لغت تاریخی اصول پر ) میں "ببر" سے مراد شیر کی وہ قسم مراد لی ہے جو بھورے رنگ کا ہوتا ہے اور نر کے چہرے پر مرد کے مشابہ داڑھی ہوتی ہے جس سے وہ ہیبت ناک معلوم ہوتا ہے ۔
نمبر چار:اگر الف کے ساتھ پڑھا جائے یعنی "ببرا"تو اس سے وہ( کبوتر جس کا رنگ نیلا اور بازوؤں پر کالی کالی چتیاں ہوں )مراد ہوتا ہے۔
نمبر پانچ :اگر یا کے ساتھ پڑھاجائے یعنی "ببری" تو اس سےوہ (بال جو عورتیں خوبصورتی کے لیے چوٹی گوندھنے کے بعد ماتھے پر چھوڑ رکھتی ہیں) ،(سر پر ببریاں چوٹی پٹھے ) ، (گھوڑے کی ابال یا دم جس کے بال کٹ گئے ہوں) ،(چوٹی گوندھتے وقت دوںوں طرف زینت کے لیے کچھ بال بغیر گوندھے چھوڑنا)، (چھوٹی ہوئی لٹ) ، (گھوڑے کے جسم کے بالوں کی خشخشی تراش) ،( گھوڑوں کے بال کاٹنے کا کام) ، (ایک پھول کا نام ، بادرو ، ریحان) ، (اونٹ کے گھونگریالے بال) بھی مراد لیے جاتے ہیں ۔
ملاحظہ کریں کہ اردو زبان میں بھی اس سے زیادہ معنی بالوں والے ہی مراد لیے گئے ہیں جو اس کی اصل پشتو سے ہونے پر ایک بڑی اور واضح دلیل ہے ۔ یہاں پر اردو لغات والوں کی وہ بات بھی نقل کروں گا جو اس لفظ کی اصل کے متعلق اردو انشائیہ والے نے لکھی ہے ملاحظہ کیجیے:-
(سنسکرت میں اصل لفظ 'ورور' ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں "بابر" مستعمل ہے ہندی میں بھی "بابر" ہی مستعمل ہے)
اب لفظ "ورور" سے کتنی تاویلات کرکے لفظ "ببر "بنایا جائے گا نیز کیا زبانوں کے قوانین میں ایسی تاویلات مل پائیں گے ؟ یہ چیز بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے خود ہی فیصلہ کیجیے۔
تتمہ میں ماقبل کے اندر مذکور درندوں کے حوالے سے بھی تھوڑی سی بات ہوجائے تاکہ اس لفظ کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو
"ببر یاببر شیر"

ببر شیر کا تعلق "گربہ" خاندان سےہے۔( خاندان گربہ بلیوں کا ایک خاندان ہے۔ اس میں شیر، ببر شیر، تیندوا، جیگوار اورچیتا (اور بعض نے صرف برفانی چیتا لکھا ہے ) شامل ہیں۔ اس کے کسی رکن کو فیلڈ بھی کہا جاتا ہے) افریقہ ،ہندوستان اور افغانستان کے جنگلوں میں پایا جانے والا ایک قسم کا بہت طاقتور اور بہادر شیر جس کی گردن پر مرد کی داڑھی کے مشابہ گھنے بال ہوتے ہیں۔ اس کا چہرہ دنیا بھر کے انسانی ثقافتوں میں سب سے معروف نشان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ صفات میں یہ عام شیر کی طرح ہوتا ہے یعنی اسے بھی جنگل کا بادشاہ کہاجاتا ہے ببر شیر سب سے اعلیٰ شکاری اور ماحول پر اثر کرنے والے شکاریوں میں سے ہے آدم خوری جیسی قباحت میں کم مبتلا ہوتا ہے ۔ طبیعتا سست ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ دن بھر نیند لینے میں مشغول رہتا ہے اور اکثر رات کو شکار کیا کرتا ہے۔ روایتی طور پر موجودہ دور میں ببر شیروں کی بارہ انواع پہچانی گئی ہیں اور اس پہچان کی بنیاد ببر شیروں کے سر اور گردن کے بالوں کی ظاہریت، جسامت اور ان کے جغرافیائی پھیلاؤ کو دیکھ کر کی گئی ہے۔اسے عربی اور پشتو میں "ببر"فارسی میں شیر ،ہندی میں سنگھ ،اردومیں ببر شیر اورانگلش میں لوین کہتے ہیں۔
"شیر"
شیر کا تعلق بھی "گربہ" خاندان سے ہے ایک قوی الجثہ ہلکے پیلے رنگ کا درندہ جس کے جسم پر سیاہی مائل آڑھی ترچھی دھاریاں ہوتی ہیں اس کے دانت اور پنجوں کے ناخن لانبے ہوتے ہیں ، بیشتر ایشیا کے جنگلوں میں پایا جاتا ہے اور اسے جنگل کا بادشاہ کہتے ہیں اپنے مضبوط، طاقتور اور شاندار جسم کی بدولت شیر بہترین شکاری ہوتا ہے ۔
ہندی میں باگھ ،انگلش میں ٹائیگر فارسی میں اسے بھی شیر ،پشتو میں زمرے یا منزرے اورعربی زبان میں اس درندے کے کئی نام ہیں ۔
اسد،اسامہ،البھیس،تاج،جخدب،حرث ،حیدرۃ،دواس، رئبال،زفر،سبع،صعب،ضرغام،ضیغم،طثیار ،عبنس،غضنفر،فراصفۃ،قسورۃ،کھمس،لیث،متانس،متھیب،ھرماس،الورد
"چیتا"
گربہ خاندان سے تعلق رکھتا ہے ، شکل و صورت اور خصوصیات میں بلّی اور کتّے سے مشابہ ہوتا ہے۔ کھوپڑی چھوٹی وگول ، ٹانگیں پتلی و لمبی ، بالوں میں چمک و چکنا پن مفقود، دم باہر کی طرف سرے پر مڑی ہوئی ، بھورا رنگ ، جسم و دُم پر دھبّے ، طول تقریباً ساڑھے چار فٹ ، قد ڈھائی فٹ یا کچھ زائد ، جسم کے بال جھبرے رفتار میں تیز ترین یعنی سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے ۔
عربی میں اسے " نمر " فارسی میں "پلنگ"پشتو میں پڑانگ ،اردو اور ہندی میں اسے "چیتا" کہاجاتا ہے
ایک اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض یہ ہے کہ ایک صاحب نے لکھا ہے کہ پشتو زبان میں لفظ "پڑانگ" فارسی زبان کے لفظ "پلنگ" کی بگڑی شکل ہے
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ فارسی زبان کا لفظ "پلنگ" پشتو زبان کے لفظ "پڑانگ" کی بگڑی شکل ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ پشتوزبان والے لفظ "پڑانگ " اور لفظ "پلنگ" دونوں پر قادر ہیں لہذا اگر یہ لفظ فارسی زبان کا ہوتا تو پشتو ن اسے برحال اداکرتے کیوں کہ اس میں کوئی ثقیل حرف نہیں ہے جو پشتون ادا نہ کرسکے البتہ لفظ "پڑانگ"میں حرف"ڑ" فارسی زبان والوں کے لیے ثقیل حرف ہے لہذا انھیں ثقل سے بچنے کے لیے آسانی کی طرف آنا پڑا ہوگا یعنی انھوں نے لفظ "پڑانگ" سے لفظ "پلانگ"بنایا ہوگا۔پھر کثرت استعمال سے حرف"الف" کے حذف کے بعد "پلنگ" بچ گیا ۔ تو یہ کہنا درست نہیں ہے کہ لفظ "پڑانگ"لفظ "پلنگ" کی بگڑی شکل ہے
"تیندوا"
تیندواگربہ خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا شمار دنیا کی چار بڑی بلیوں میں سے ہوتا ہے۔ یہ وزن میں چیتے سے بھاری ہوتا ہے۔ اس کا سر چیتے سے قدرے بڑا ہوتا ہے۔ چیتے کے برعکس تیندوے کی کھال پر موجود دھبے درمیان سے خالی ہوتے ہیں۔یہ بھی علاقے کے مختلف ہونے کی وجہ سے مختلف انواع کے ہوتے ہیں جیسا کہ کالا تیندوا وغیرہ
عربی میں اسے "فہد"ہندی اور اردو میں "تیندوا" انگریزی میں " لیوپرڈ"اور پشتو میں "ځنګلي پيش" اورچیتے کے ہم شکل ہونے کی وجہ سے اسے " پڑانگ "بھی کہتے ہیں
جیگوار
جیگوار بھی تیندوے کی طرح بڑا اور مضبوط ہوتا ہے مگر یہ کوئی خطرناک جانور نہیں ہے اور انسان پر کم ہی حملہ کرتا ہے ۔چونکہ یہ جانور صرف جنوبی امریکا میں پایا جاتا ہے اس لیے باقی زبانیں اس بابت خاموش ہیں ۔
Please, Log in or Register to view URLs content!

Please, Log in or Register to view URLs content!

Please, Log in or Register to view URLs content!

Please, Log in or Register to view URLs content!

Please, Log in or Register to view URLs content!


 
Top